قومی بیانیہ کسے کہتے ہیں! قاسم یعقوب

0
  • 190
    Shares

عموماً بیان اور بیانیہ کو ایک ہی معنی میں لے لیا جاتا ہے۔ بیان (Statement) کسی بھی شخص کا اظہارِ خیال ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ پالیسیاں وغیرہ بھی اسی زُمرے میں آ سکتی ہیں مگر بیانیہ بہت مختلف چیز ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ غلطی زیادہ تر ہمارے ’’صحافی دانش ور‘‘ حضرات سرزد فرما رہے ہیں۔ قومی بیانیہ سے مُراد قوم کا اجتماعی طرزِ اظہار ہوتا ہے جو اُن کے رویوں، فکروں اور قومی معاملات کی پالیسیوں سے نظر آتا ہے۔ یہ قوم کا ورلڈ ویو ہوتاہے جس میں قوم اپنی طرزِ زندگی پیش کرتی ہے۔ کسی بھی قوم کو سمجھنے کے لیے اُس قوم کے مجموعی بیانیے کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیانیہ قوم کے مجموعی رویوں کو بیان کر رہا ہوتا ہے۔ ہر قوم، اجتماع اور گروہ کا کوئی نہ کوئی بیانیہ ہوتا ہے جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کی تشریح کرتے یا اُس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بیانیے ہی افراد کو تخلیقی وسعت عطا کرتے ہیں اور انھی وجہ سے قوموں میں سماجی، معاشرتی اور فکری تحدید (Limitation) پیدا ہوتی ہے۔

پاکستانی قوم کو اس وقت اپنے قومی بیانے کی تبدیلی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ہم نے پہلی دفعہ بطور قوم یہ سوچا ہے کہ ہمارا بیانیہ ہے کیا؟ اور کس نے ہمیں یہ جہاں بینی (World View) عطا کی۔ ہم کس بیانیے کے زیرِ اثر اپنی فکری، جذباتی، نصابی اور معاشرتی زندگیوں کو تیار کرتے رہے اور اُس کے نتائج پر عدم طمانیت کا شکار رہے۔ واقعی ہم نے اس بحث کے آغاز میں کچھ نیا بنانے کی بجائے اپنے ماضی کے بیانیے کو زیادہ تلاش کیا ہے۔ ماضی پر تنقید اصل میں مستقبل کی بہتری کی نوید ہوتی ہے۔ یہ بہت اچھا ہُوا کہ ہم نے اپنے حال کو ماضی کے گہرے گڑھے میں گرانے کی بجائے مستقبل کی طرف سفر کرنے پر مائل کیا ہے۔

ہمارا طرزِ زندگی یا بیانیہ کیاتھا؟ کیا ہم اور ہمارا بیانیہ دو مختلف سوچیں کے حامل ہیں؟ میں شدت سے اس بات پر سوچتا رہا ہوں کہ بطور فرد میں ریاستی یا قومی بیانیے سے الگ کیوں ہوں؟ یا ریاستی بیانیوں کو افراد (Individuals) ہمیشہ ایک فاصلے پر کیوں رکھتے آ رہے ہیں۔ اصل میں ہمارا قومی بیانیہ ہمارا مجموعی طرزِ زندگی ہے ہی نہیں۔ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ کسی بھی پُرامن اور باشعور قوم اس طرز کے قومی بیانیے کو قبول کر ہی نہیں سکتی۔ پہلے اس قومی بیانیے کے موٹے موٹے نکات سمجھ لیجئے:

۱۔ پاکستان ایک اسلامی تجربہ گاہ ہے، اسے ہر حال میں تجربات کے نتائج سے گزارا جائے اور ہر حال میں ایک اسلامی نظریاتی ملک بنایا جائے۔ تجربہ گاہ میں اشیاء تیار کی جا سکتی ہیں لہٰذا اسلامی دینیاتی بیانیے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
۲۔ ہمارا ہمسائیہ ہمارا ازلی دشمن ہے جو ہمارے مذہب کا مخالف ہے۔ جو ہمیں تباہ و برباد کر دے گا۔ خود کو اور اپنے مذہب کو بچاؤ۔ دشمن کو تباہ کردو اور اپنی دنیا و آخرت کو محفوظ کرلو۔
۳۔ ریاست اور عوام دو الگ الگ مقتدرہ ہیں۔ وہی جیتے گی جس کے پاس بندوق یا باردو کی طاقت ہے۔
۴۔ مذہب ریاست کا ایک لازمی حصہ بلکہ وہ چھلنی ہے جہاں سے ہر قومی فکرکو گزارا جائے گا۔
۵۔ جہاد النفس کی بجائے جہاد فی القتال کو اولیت دی جائے گی۔
۶۔ پورے ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کو غلبہ ہونا چاہیے۔’’مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘۔
۷۔ ہم دنیا بھر سے مختلف قوم ہیں۔ ہم مسلمان’ ملتِ بیضا‘ کا حصہ ہیں جب کہ دنیا کافر ہے۔
۸۔ طاقت ہر قومی مسئلے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ طاقت خواہ گروہ کی ہو، ادارے کی یا ریاست کی۔ مسائل کے حل کے لیے طاقت ہی اولین اصول قرار پائے گی۔ لہٰذا گروہوں، اداروں اور ریاست کی طاقت درست ہے۔
۹۔ اصول و فقہ کی تشریح و توضیح صرف مذہبی علامتی افراد کے پاس ہے۔ مذہب کے معاملے میں فہم و فراست کسی ’’غیر علامتی‘‘ افراد کے پاس نہیں۔ مذہبی علامتی افراد خواہ کسی بھی علمی وذہنی سطح کے ہوں مگر مذہبی تشریح و تعبیر کا حق صرف انہی کے پاس ہے۔
۱۰۔ قومی معاملات میںمذہبی روایات و فکریات کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے یا لازمی کیا جانا چاہیے۔جس کے لیے نصاب اور علمی سرگرمیوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے جو بچوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کا محفوظ راستہ ہے۔

یہ اور اس طرح کے بیسیوں بیانیے ہیں جن کے باہمی اشتراک سے ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جو ہماری زندگیوں کو غیر معمولی طور پر متاثر کر رہا ہے۔جس کی تبدیلی کی طرف پہلی دفعہ ریاستی سطح پر بات کی جا رہی ہے۔
گذشتہ دنوں سپہ سالار جناب قمر جاوید باجوہ نے چھ ستمبر کی تقریب میں جہادی بیانیے کو تبدیل کرنے کا کہا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک سپہ سالار اپنے گذشتہ بیانیے سے انحراف کر رہا ہے یا دوسرے لفظوں میں اپنے بیانیے کے غلط ہونے کا اعتراف کر رہا ہے۔ سپہ سالار نے کہا:’’جہاد کسی فرد کا ذاتی فعل نہیں ہوسکتا۔ جہاد کا حکم صرف ریاست کے پاس رہنا چاہیے۔‘‘

جب کہ ضیااءلحق کا بیانیہ قوم کو انفرادی سطح پر تصورِجہاد دے رہا تھا۔ ضیاء الحق کے بیانیے کی تبدیلی کا آغاز بھی مذہبی فکر کے ذریعے کروایا جا رہا ہے۔ مدرسہ فکر اس میں کلیدی کردار اداکرنے لگی ہے۔بہت سے علمائےکرام میدان میں اتارے جا رہے ہیں۔کچھ لوگوں نے کہا کہ’’ بیانیے کو تشکیل دینے والے،اُس پر ’’روزی رزق ‘‘کمانے والے، اُسے سینچ کر بڑا کرنے والے، بھلا اب اپنا بیانیہ تبدیل کر لیں گے؟ یہ ریاست کی انتہا درجے کی بیوقوفی ہے کہ بیانیہ بھی انھی سے تبدیل کروا رہی ہے جو اسی تصور کو رائج کرنے والے ہیں اور اُسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔‘‘یہاں اہم بات یہ ہے کہ اُن لوگوں کو احساس دلانا ہے جو مذہبی بیانیے کے سہارے اپنی مقتدرہ قائم کیے ہوئے ہیں اور ہر دفعہ مذہبی بیانیہ انھیں طاقت مہیاکر دیتا ہے۔ میں نے آغاز میں کہا کہ ہم اور ہمارا بیانیہ دو مختلف دھاروں میں بہہ رہے ہیں۔ گویا کہ ایک فرد پر بیانیہ لاگو ہے اور وہی اس کی تجدید کر رہا ہے۔ مگر وہ فرد اپنے عملیات (Practices) میں اس بیانیے کو نہیں مانتا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قوم کسی اور سمت سوچتی ہے۔کچھ اور عمل کرنا چاہتی ہے مگر بیانیہ اُسے موڑنا چاہتا ہے، محدود رکھنا چاہتا ہے، قابو میں لانا چاہتا ہے اور ڈرا دھمکا کے قیدی بنانا چاہتا ہے۔ مجھے بتایئے کتنے لوگوں نے مارشل لاؤں کو سپورٹ کیا؟ محض چند مفاد پرستوں نے؟

طاقت ور اشرافیہ شروع دن سے اشرافیہ کے ’’تقدس‘‘ اور ’’قومی دفاع‘‘ کا رونا رو رہی ہے مگر قوم یونہی اس اشرافیہ کو طاقت کے نشے میں دیکھتی ہے، اسے رَد بھی کرتی ہے بلکہ عملی انکار کا آغاز بھی کر تی ہے۔ دوسری طرف جہاد کے بیانیے کو کتنے لوگوں نے عملی زندگی کا شیوہ بنایا۔ یہ مخصوص مذہبی افراد کا ہی مسئلہ رہاہے جو آج تک ’’ورغلانے‘‘ کے قبیح عمل کے ذریعے ہی اس بیانیے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔عام آدمی اس قسم کے بیانیے کو مان بھی لیتاہے، تسلیم کر لیتا ہے۔ اپنی فکر میں لاگو بھی کر لیتا ہے مگر عملی طور پر کبھی حصہ نہیں لیتا۔ا فراد کی قومی زندگی مجموعی طور پر اس ’’جہادی تصور‘سے ماورا ہی ہے۔ اب آئیے مذہبی اشرافیہ کی طرف دیکھئے کہ کتنے افراد ان ملاؤ ں کو ووٹ دیتے اور حکومت دیتے نظر آتے ہیں؟ ملّا ہمیشہ کسی ’’طاقت‘‘ کے سہارے سامنے آیا ہے۔ عوام نے کبھی ان ملّاؤں کو طاقت نہیں دی۔ جب بھی عوام کو فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا، ہمیشہ لبرل اور جمہوری سوچ والی جماعتیں ہی سامنے آئیں۔

غامدی صاحب نے اپنے مضمون’’اسلام اور ریاست:ایک جوابی بیانیہ‘‘ جو ۲۰۱۵ میں’’ اشراق‘‘ پر شائع ہُوا، میں ریاست اور مذہب کو الگ کرنے پر زور دیا ہے۔غامدی صاحب سارا زور علمائے کرام پر ڈالتے آرہے ہیں۔ وہ علمائے کرام کو بیانیہ تبدیل کرنے کا کہتے ہیں۔ مگر یہ ’جڑ ‘ کا معاملہ ہے جو علمائے کرام کے ساتھ عوامی سطح پر اور عوامی نمائندگان کی سطح سے شروع ہونا چاہیے۔ ہر قومی فورم پر بیانیے کو زیرِ بحث لانا چاہیے اور اسے تبدیل کرنے پر زور دینا چاہیے۔ت دریسی نصابات اس کے لیے اندھے کو بینائی والا کام کر سکتے ہیں۔ ہمیں بیانیے کو تبدیل کرنے سے پہلے اُن افراد اور طاقتوں کی نشان دہی بھی کرنی چاہیے جو بیانیے کو بطور ایک ڈھال استعمال کرتے آ رہے ہیں اور اب پھر کمر بستہ ہو کے نکل پڑے ہیں اور کسی تبدیلی کے خواہاں نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: