والدین کی غلامانہ فرماںبرداری اور اسلام: ڈاکٹر عرفان شہزاد

5
  • 271
    Shares

والدین اور بزرگوں کی غلامانہ فرماںبرداری کا تصور مشرقی ممالک خصوصا برصغیر میں پائے جانے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں اور ان کے کلچر کا حصہ ہے، یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں۔ یہ تصور، اسلام سے نہیں، بلکہ جاگیر دارانہ معاشرت سے پیدا ہوا ہے۔ ہمارے سماج میں نہ صرف جاگیرداری زندہ ہے، بلکہ جہاں یہ عملا موجود نہیں، وہاں بھی اس کا پیدا کردہ کلچر اب بھی اتنا ہی توانا ہے۔

جاگیردارانہ معاشرت میں ہر ماتحت چیز کو جاگیر سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو بھی ملکیت میں آئی ہوئی ایک چیز کی طرح برتا جاتا ہے، اور اولاد تو ہوتی ہی اپنی ہے، جس کی پرورش پر خرچ بھی کیا گیا ہوتا ہے، اس کے پراپرٹی ہونے میں تو کوئی شبہ نہں ہوتا۔

اس آمرانہ رویے کا اظہار ہماری زبان کے ان محاروں اور تعبیرات میں بہت نمایاں ہے جو اولاد کی مثالی فرماںبرداری کے لے وضع کیے گئے ہیں۔ مثلا کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے، تاکہ باپ کو دیکھتے ہی بچے کا دم نکل جایا کرے۔ فرماں بردار بیٹی کے لیے بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ ہم نے اسے جس کھونٹے سے باندھا وہ بندھ گئی، گویا بیٹی نہ ہوئی کوئی بکری یا گائے ہوئی۔ جس عورت، بیوی یا بیٹی کی اپنی کوئی رائے نہ ہو، وہ مثالی سمجھی جاتی ہے اور وہ دیگر لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بنا دی جاتی ہے۔

جاگیردارانہ مزاج کے مطابق ماں باپ اور برزگوں کی ایسی عزت و فرماںبرداری کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے جس میں ان کے ڈر کا عنصر موجود ہو۔ اولاد میں پائے جانے والے اس ڈر کو والدین اور بزرگوں کی عزت و احترام کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ جو اپنے بڑوں سے جتنا زیادہ ڈرتا ہے اتنا ہی سعادت مند سمجھا جاتا ہے۔ جن خاندانوں میں تعلیم یا بیرونی کلچر کے اثر سے والدین یا بزرگوں سے ڈر کے رویے میں کمی آئی ہے، اس تبدیلی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا, اور اسے احترام میں کمی سمجھا جاتا ہے۔ والدین اور بڑے بوڑھے اپنی اولاد کو ان کے اپنے بچوں سے اٹھکیلیاں کرتے دیکھ کر ناگواری محسوس کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ اس طرح والدین کا رعب ختم ہوتا ہے۔ والدین کے رعب کا یہ تصور ہے جاگیردارانہ معاشرے کی خصوصیت ہے۔ یہ خصوصیت ایک روایت بن کر اب تک چلی آ رہی ہے۔

اس جاگیردارنہ فرماں براری میں ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اولاد اپنی رائے، خواہشات اور خوشی کو والدین کے لیے قربان کر دیا کرے۔ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کہ اولاد خصوصًا بیٹی کی شادی وہاں نہ کی جائے جہاں اس کی مرضی کا اظہار ہو گیا ہو۔ والدین کو یہ احساس طمانیت اور افتخار دیتا ہے کہ ان کی اولاد اپنی خواہش کو قربان کر کے ان کے ناگوار فیصلوں کے آگے سر تسیم خم کر دے۔ انھیں یہ دیکھ کر ایک چھپا ہوا فخر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کسی ٖغلط فیصلے کے زبردستی مسلط کیے جانے سے ان کی کوئی اولاد ایک بے چین اور بے سکون زندگی صبر و شکر سے گزار رہے ہیں، وہ ان کے لیے دکھ بھی محسوس کرتے ہیں کہ لیکن کبھی نہیں چاہتے کہ ان کے فیصلے کو ریورس کر دیا جائے۔ دین نے ایسی کسی فرماں برادری کا تصور نہیں دیا جس میں اپنی جائز خواہشات کو بزرگوں کے لیے قربان کرنا ضروری یا اچھا سمجھا گیا ہو۔

طرّہ اس پر یہ ہوا کہ اس غلامانہ فرماں برداری کے تصو کو مذہبی طبقے کی طرف سے اسلام کا لبادہ بھی پہنا دیا گیا۔ والدین کی فرماںبرداری سے متعلق اسلامی تعلیمات کو اس غلامانہ اطاعت پر منطبق کر دیا گیا۔ اولاد کے حقوق سے متعلق اسلامی تعلیمات پر زور بھی اسی وجہ سے نہیں دیا گیا۔ قرآن کی ہدایت کے اولاد کو بھوک کے ڈر سے قتل نہ کرو، کے باوجود کم وسائل کے ہوتے ہوئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اسے خدا پر توکل بتایا گیا۔ مذکورہ آیت پیدا شدہ بچوں کے قتل سے روک رہی تھی، نہ کہ یہ کہ اپنے حالات کو نظر انداز کر کے خدا کے بھروسے پر بچے پیدا کرتے چلے جائیں اور پھر انھیں مناسب خوراک اور مناسب علاج معالجہ نہ ہونے کے سبب جلد یا بدیر بیماری یا موت کے منہ میں دھکیل کر اسی آیت میں دی گئی ہدایت کی خلاف ورزی کر کے اپنی اولاد کے قاتل اور مجرم بن جائیں۔

سماج کے جبری ارتقا کے نتیجے میں اس غلامانہ فرماں برداری کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے، مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے پیدا ہو رہی ہے، جو اس کو مذہبی جواز عطا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث سے تو والدین کی عمومی اطاعت ہی کی تعلیم نکل سکتی ہے، جس سے غلامامہ ذہنیت پیدا کرنا پوری طرح ممکن نہیں، چنانچہ اس کے لیے مذہبی نوعیت کے قصے کہانیوں سے مدد لی گئی۔ مثلا بتایا جاتا ہے کہ ایک والدہ یا والد نے رات کو پانی مانگا۔ بیٹا یا بیٹی پانی پلانے کو اٹھی لیکن والدہ سو چکی تھی۔ وہ ساری رات پانی لیے سرہانے کھڑی رہی۔ اس پر اسے جنت کی بشارت ملی۔ فرماںبرداری کا یہ یہ مثالی کوہ ہمالیہ اس لیے پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کو سر کرنے کی کوشش میں اولاد زیادہ سے زیادہ فرمابردار بنائی جا سکے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ دین اسلام جو والدین کی نافرماںی سے منع کرتا ہے اور اسے کبیرہ گناہوں میں سے شمار کرتا ہے اس سے مراد معروف اخلاقی تقاضوں میں والدین کی نافرماںی ہے۔ یعنی والدین کسی ایسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا بجا لانا اخلاقی لحاظ سے مسلّمہ اور ضروری ہو یا وہ کسی ایسے حق کا مطالبہ کرتے ہیں جو اخلاقی لحاظ سے اور جائز طور پر ان کا بنتا ہو۔ اولاد ایسے بدیہی حق سے انکار کرتی ہے تو یہ نافرماںی انھین گناہ گار بناتی ہے۔ دین یہ بتاتا ہے کہ والدین کو جب ان کے بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت ہو تو ناگواری کے مواقع پر ناگواری کو مظاہرہ نہیں کرنا چاہییے اور صبر اور شفقت کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہیے۔ لیکن اسلام کہیں یہ نہیں کہتا کہ والدین کو اپنی والدینی کے زعم پر اولاد کی رائے پر کوئی مطلق برتری حاصل ہے، اور اولاد کی جنت تب ہی ممکن ہے جب وہ والدین کے ناجائز مطالبات کے سامنے اپنے جائز حقوق سے بھی دست برادر ہو جائیں۔ اسلام انسان کو بطور انسان کبھی کسی کا غلام بننے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ یہاں مائیں، اپنا دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دے کر بیٹے سے اس کی بیوی کو نا حق طور پر طلاق تک دلوا دیتی ہیں، اور اولاد اس ڈر سے کہ گناہ گاہ نہ ہو جائیں، اپنی جنت نہ کھو بیٹھیں جو ماؤں کے قدموں تلے ہے، ایسے ظلم کر کے قصور اور اطمینان کی ملی جلی کیفیت میں زندگی گزار دیتے ہیں۔

معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی نافرماںی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ خدا نے ظلم و زیادتی کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور کسی کے بھی حکم پر اس پر عمل کرنا گناہ گاری ہی ہے۔

تاہم، والدین اپنے تجربے کی بنا پر ناتجربہ کار اولاد کا کوئی مطالبہ تسلیم نہ کریں تو یہ ان کی بطور والدین خیر خواہی کا تقاضا ہے۔ لیکن والدین کے اس انکار کی وجہ کوئی مصلحت ہونی چاہیے نہ کہ محض اپنی انانیت۔ اس کا فیصلہ ان کا ضمیر کر سکتا ہے۔

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ والدین کی ہر نافرماںی کبیرہ گناہ نہیں۔ ان کی معمولی قسم کی باتوں میں نافرماںی کر جانا کبیرہ گناہوں میں شامل نہیں، یہ البتہ ناپسندیدہ ہو سکتا ہے۔ والدین اگر کسی منکر کا حکم دیتے ہیں، کوئی ایسی بات منوانا چاہتے ہیں جو ان کا حق نہیں، کسی ایسی بات کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے اولاد کی حق تلفی ہوتی ہے تو ایسے حکم سے انکار گناہ بھی نہیں ہے۔ خدا نے ہر انسان کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ اور اس پر اصرار کر سکتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ اولاد کو دین کے نام پر بلیک میل مت کریں اور ہمارے مذہبی پیشواؤں کو بھی چاہیے کہ دین کے کسی بھی حکم کے اطلاق میں یہ مد نظر رکھیں کہ کسی فریق کے ساتھ زیادتی یا اس کی حق تلفی تو نہیں ہو رہی۔ کسی بھی حق تلفی اور زیادتی کو دین سے جواز مہیا کرنا کبیرہ گناہ البتہ ہو سکتا ہے۔ جو فریق زیادتی یا حق تلفی کر رہا ہو، اسی فریق کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس کے دین کا اس سے کیا تقاضا ہے، چاہے وہ والدین ہوں یا اولاد۔

Leave a Reply

5 تبصرے

  1. ڈاکٹر عرفان شہزاد
    آپ نے انتہائی حساس موضوع پہ انتہائی عمدہ بات کی ھے
    یہ ھمارا مذھبی اور معاشرتی Taboo ھے جس پہ بات کرنا بہت ھی برا سمجھا جاتا ھے اور صرف بات کرنے سے ھی جہنم کا ٹکٹ تھما دیا جاتا ھے،میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات سے گزر رھا ھوں لیکن کسی ایک نے بھی میرے کسی حق کی بات نہیں کی ،
    جسکی وجہ سے میں مذھب سے بھی دور ھوتا جا رھا ھوں ،

  2. یہ ایک حساس موضوع ہے۔ تحریر کا لب لباب درست سمت اشارہ کرتا ہے کہ والدین کی فرماں برداری کا مطلب اپنی شخصیت مسخ کرنا اور اپنی
    نفسیات کا قتل نہیں ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ یہ فیصلہ آپ بلوغت کے بعد ہی کریں تو بہتر ہے کہ آپ کی شخصیت کے تقاضے کیا ہیں اور آپ کی نفسیات کیا ہے۔
    میرے خیال میں یہاں کم سن بچوں کیے طرز عمل سے زیادہ بالغ یا شادی شدہ اولاد کے والدین کی نسبت رویے پر بات کرنا زیادہ اہم ہو گا جس کے لئے مذہب نے ایک سہل اور واضع اصول دیا ہے کہ شرعی احکامات کے خلاف والدین کی بات نہ مانو باقی کسی بات میں اف تک نہ کرو لیکن یہاں نام نہاد علمائے کرام کا کردار تھا کہ وہ شرعی کاموں یا احکامات کے دائرہ کار کا تعین کرتے جیسے کہ وہ چندہ لینے یا خود دخل در معقولات کے معاملات میں کرتے ہیں جبکہ یہاں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شرعی کام سے مراد فقط شرک ہے باقی ہر امر میں والدین کی مکمل فرماں برداری فرض ہے جبکہ دیکھا جائے تو بیوی سے احسن سلوک کرنا اولاد کی آزادانہ تربیت کرنا اہل و ایال کو پیار دینا بہتر زندگی کے مواقع دینا سماج کی مروجہ طریق کی مطالبقت میں رہن سہن کرنے کی اجازت دینا یہ سب ہی شرعی کام ہیں اور یہاں آپ کی بیوی یا اولاد سے متعلق آپ کے والدین کی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن حکم نہیں۔

  3. بہت شکریہ سر، ہم سب ایسے حالات سے گزرتے ہیں۔ جذبات ، عقل ، دین اور حقیقت سب کڈمڈ ہو جاتا ہے۔ تاہم ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ حقائق جان کر جیئیں ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: