معاوضہ: ابنِ فاضل

0
  • 67
    Shares

میں اکثر یہ سوچا کرتا تھا کہ مادیّت اور روحانیّت میں جو واضح فرق ہے وہ ہے نقد اور ادھار کا- میرا کہنے کا مطلب ہے کہ مادیّت کے متعلق جتنے بھی عوامل ہیں انکے نتائج نقد یعنی فوری نوعیت کے ہوتے ہیں، مثال کے طور پر آپکو زوروں کی پیاس لگی ہے پانی کا ایک گلاس لیجئے اور فوری تسکین، گویا عمل کا نقد صلہ! اسی طرح بلا کی بھوک ہو، کسی معروف غذا کے چند نوالے لیں اور بھوک غائب، گویا عمل کا نقد صلہ! سردی لگے تو گرم کپڑے، گرمی لگے تو پنکھا، سر درد ہو تو ایک گولی اور درد ہوا گویا عمل کا نقد صلہ!

سو ہم دنیاداروں کو تو گویا نقد کی لت لگ گئی ادھر محنت کی ادھر محنتانہ وصول کیا اور اسباب ہائے آسائشِ زندگی مہیا-
اب اسکے برعکس جتنے بھی روحانی عوامل ہیں مثلاً عقیدہ، نماز، ذکر اذکار، روزہ، صبر، خیرات، زکواۃ، اور صلہ رحمی وغیرہ سب کا صلہ ادھار…..
نہ ذکر سے دل کو فوری سکون، نہ نماز سے آنکھوں کو فوری ٹھنڈک، نہ خیرات سے فوری نفع… علیٰ ھذالقیاس، یعنی سب روحانی اعمال کا صلہ گا گے گی کی گردان سب ادھار..
مجھ ایسے گنہہ گار پر ہمیشہ یہ بات کَھلتی رہی کہ وائے خدایا یہ کیا ماجرا کہ دنیا کے آجر تیرے در کے فقیر لیکن اجرت نقد, تو شہنشاہوں کا شہنشاہ اور سب ادھار….

بہت سوچا جواب نہ ملا، اہلِ علم سے پوچھا جواب ملا مشیتِ ایزدی, صاحبانِ رائے سے رائے لی بولے حاکم کا نظام ہے حکمت سے خالی نہ ہو گا، تشّفی مگر دل کی کسی طور نہ ہوئی, اسی ادھیڑ بن میں ایک روز گھٹنوں پہ سر رکھے بیٹھا تھا کہ کسی نے دائیں کان میں سرگوشی کی “اے بھلے مانس حساب داں, تیرا حساب بجا پر تو یہ تو بتا کہ تیری اس مادی دنیا میں اس محنت کش کو بروزِ تنخواہ کیا معاوضہ ملتا ہے جو پورے مہینے کا معاوضہ ایڈوانس میں لیجائے؟ اور اسکا کیا جو سال بھر کا سال کے شروع میں لیجائے؟ اور پھر اسکا کیا جو عمر بھر کا معاوضہ آغازِ حیات پر ہی وصول کرلے ؟بات ابھی کانوں کے پردوں سے ہوتی ہوئی ادراک کے در پہ دستک ہی دے رہی تھی کہ میرے ضمیر نے سرگوشی والے کی وکالت شروع کردی, اندر سے آواز آئی کہ تیرے اس تشکیک بھرے ایمان کا، اور تیری عمر بھر کی کھوکھلی نمازوں کا، بےدلی کے اذکار اور ریا کاری کی ماری فیاضی کا, کہ جن پہ تو بڑا اتراتا ہے، اور معاوضہ معاوضہ کرتا پھرتا ہے کل ملا کر اتنا بھی نہیں کہ تیری ایک آنکھ کی قیمت ہی چکائی جا سکے، اس آنکھ کی کہ جن سے تو قریباً نصف صدی سے حلال وحرام تکتا رہا ہے, تو پھر دوسری آنکھ کی قیمت کا کیا, اور پھر تیری پیدائش سے لیکر اب تک دھڑکنے وال دل کا کیا, اور تیری ہزاروں کلومیٹر لمبی شریانوں کا، اور تیرے ذہن کا اور تیرے نروس سسٹم کا اور…اور….اور…اور…

بات کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گئی اور ساتھ ہی اپنی کج فہمی اور کوتاہ فکری کا احساس بھی ہوا, وہ بولتا رہا کہ آنکھ،  کان، ناک ,بازو ٹانگیں وغیرہ تو چھوڑ، تیری ساری متاع تو تیری ماں کی ایک پیار بھری پچکار، تیرے باپ کے ایک ماتھے پہ ثبت پُر شفقت بوسے کا مول نہیں، اور جو ساری زندگی محبتیں سمیٹیں انکا کیا ؟ اور پھر جو ہزاروں نعمتیں نصف صدی سے بیدریغ سرف کیں انکا کیا؟ اور ان نعمتوں کو بھی چھوڑ ہر ہر گناہ کے بنکوں میں اکاؤنٹوں کے اکاؤنٹ بھرے انکا بتا، جو تیری بے رحم زبان درازی نے ہزاروں دل فگار کئے انکا معاوضہ، اور اسکا کیا جو سینکڑوں لوگوں کے حق کو سیڑھی بنا کر عروج کمایا؟ اور جو تیری بے حیا نظروں نے ہزاروں بہنوں بیٹیوں کے پاک جسم ادھیڑے…… اور…..اور…..اور…….

وہ کہتا رہا اور مجھ پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا- وہ واقعی سچ کہ رہا تھا اور میری ندامت اب عروج پر تھی، اسی ندامت میں جانے کب بے رحم بنجر آنکھ میں نمی ابھری اور جمع ہوتی ہوتی گال پہ پھسلی اور ایک قطرہِ آنسو کی صورت دائیں ہاتھ کی پشت پر گری-

سرگوشی کرنے والے نے پھر دائیں کان میں سرگوشی کی، او نقد معاوضہ کے طالب تیرے اس آنسو کا تجھے نقد معاوضہ دیا جاتا ہے، جا تیرے پچھلے سارے گناہ ختم آئندہ احتیاط کرنا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: