ہایڈروجن بم کی ضرورت نہیں ہے۔ دانش ڈیسک

0
  • 37
    Shares

ڈیلی ٹیلی گراف لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کو ہولناک ایٹمی جنگ سے بچانے والا روسی فوجی افسر اسٹینسلے پیٹروف ستتر سال کی عمر میں انتقال کر گیا ۔ اسٹینسلے پیٹروف نے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان ایٹمی جنگ روکنے میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا تیسری عالمگیر جنگ سے بچ گئی تھی۔

امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ جاری تھی۔ 26 ستمبر 1986 کو اسٹینسلے پیٹروف ایک Early Warning Centre میں ڈیوٹی افسر تعینات تھے کہ ایک روز اچانک الارم بج اٹھا کہ امریکا نے روس پر متعدد ایٹمی میزائل داغ دیے ہیں۔ اسٹینسلے کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند منٹ تھے اور وہ موصول اطلاع کے مستند ہونے کے حوالے سے شش و پنج کا شکار تھے۔ اسٹینسلے کو سسٹم پر سرخ رنگ کا سٹارٹ کا میسیج نظر آرہا تھا جس کا مطلب تھا کہ جوابی حملہ کا سسٹم آن کر دیا جائے۔ امریکہ اور روس کے ایٹمی تصادم کے خطرے کے پیش نظر روس کی پالیسی یہ تھی کہ اگر امریکہ حملہ میں پہل کرتا ہے تو نقصان دونوں ظرف برابر ہونا چاہیے ۔ اس اصول کی موجودگی میں اسٹینسلے کے لئے سسٹم آن نہ کرنا ایک بڑے حوصلے کا کام تھا ۔ بالاخر اس نے الارم کو غلط قرار دے کر آگے اطلاع نہیں کی۔ جس کے نتیجے میں سوویت یونین نے اپنے میزائل امریکا پر فائر نہیں کئے اور یوں دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی۔

اگر اسٹینسلے اپنے کمانڈرز کو امریکی ایٹمی حملے کی خبر دے دیتے تو سوویت یونین لازما جواب میں اپنے ایٹمی میزائل امریکا پر داغ دے دیتا۔ تاہم انہوں نے سسٹم میں ممکنہ خرابی کی اطلاع دی ۔ یہ انتہای مضبوط اعصاب کا فیصلہ تھا ۔ اس وقت ان کی عمر 44 سال تھی اور وہ لیفٹننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ بعد ازاں انکو وارننگ سسٹم کی خرابی کی نشاندہی کرنے پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بددل ہو کر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور باقی ماندہ زندگی خاموشی سے گزارنے کو ترجیح دی۔

یہ واقعہ دنیا کے سامنے نہیں آسکا اور سوویت فوج کے ریکارڈز میں خفیہ رہا۔ تاہم سوویٹ فوج کے ہی ایک افسر نے اپنی یادداشتیں تحریر کیں تو دنیا کو اس واقعے کا علم ہوسکا اور لوگوں کو یہ سوچ کر ہی جھرجھری آگئی کہ اگر اس روز دونوں عالمی طاقتوں میں ایٹمی جنگ چھڑ جاتی تو کیا حال ہوتا؟

اس کارنامے پر انہیں متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا اور ان پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی جس کا نام ’دا مین ہو سیوڈ دا ورلڈ“ یعنی دنیا کو تباہی سے بچانے والا شخص ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود انکا اپنا کہنا یہ تھا کہ انہوں نے کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ یہ انکی ڈیوٹی تھی۔ دنیا کو ہایڈروجن بمز کی نہیں اسٹینسلے پیٹروف جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔

http://www.telegraph.co.uk/news/2017/09/18/man-saved-world-dies-77/

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: