پاکستانی موسیقی اور تشہیری کمپنیاں: خرم سہیل

1
  • 124
    Shares

پاکستان میں موسیقی کے فروغ کے کئی دریچے وا رہے ہیں، جن میں سے ایک دریچے کو تجارتی دریچہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ دریچہ بھی کھلا ہوا ہے، جس سے موسیقی کبھی مدھردُھن اور کبھی شوربن کر داخل ہوتی ہے۔ 90 کی دہائی میں پوپ میوزک کو بام عروج ملا، تو کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں متحرک ہوئیں، جنہوں نے پاکستان کے نئے ٹیلنٹ کو اپنا تعاون پیش کیا، ظاہر سی بات ہے، یہ تعاون غرض سے خالی نہیں ہوتا، اشتہاری کمپنیوں کے خلوص میں، ان کی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کا مقصد پنہاں ہوتا ہے۔

اُس دور میں پوپ میوزک کو اپنا تعاون پیش کرنے والی کمپنیوں میں سرفہرست ’’پیپسی کولا‘‘ تھی، جس نے ایک عرصے تک پاکستان میں موسیقی کے نئے ٹیلنٹ کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ پوپ میوزک کے تمام نمایاں بینڈز اور گلوکاروں کی البم ریلیز کرنے میں یہ تجارتی ادارہ پیش پیش رہا، مگر جب یہ معاملہ خسارے کے سودے میں تبدیل ہونے لگا، تو پیپسی کولا نے کرکٹ کے کھیل کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا اور میوزک والے اپنا سا منہ دیکھتے رہ گئے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک، کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے، موسیقی کے منظر نامے پر خاموشی رہی۔

اکیسویں صدی کی ابتدا میں دنیائے موسیقی میں ایک نیا رجحان متعارف ہوا اور لاطینی امریکا کے ایک ملک ’’برازیل‘‘ میں کوک اسٹوڈیو کا تجربہ کیا گیا۔ جس میں ایک ہال کے اندر موسیقاروں اور گلوکاروں کی باہمی فنکارانہ صلاحیتوں سے نئی اور پرانی دھنوں کو گانے کی روایت ڈالی گئی۔ اس کی مقبولیت نے خیال کو وسعت دی اور پھر مختلف ممالک میں اس تجربے کودہرایا گیا، جس میں کئی افریقی، یورپی اور عرب ممالک شامل ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں بھی اس خیال کو پیش کیا گیا۔ پاکستان میں اس کی ابتدا 2007 میں ہوئی اور اس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز توڑ دیے۔ اب پاکستانی موسیقی کا نیا سرپرست کوکا کولا تھا، جس میں کلاسیکی اور لوک موسیقی کے لیے توجہ خاص تھی۔ پاکستانی موسیقی کا یہ سفر شروع ہوا، اب 10ویں سال تک آتے آتے اس کی چولیں کافی ڈھیلی ہوگئی ہیں، جس میں بے سُروں کی تعداد زیادہ ہے۔ لنک

2012میں’’نیس کیفے بیسمنٹ‘‘ کے نام سے ایک اور میوزک پروجیکٹ شروع ہوا۔ یہ کافی بنانے والی ایک تجارتی کمپنی کی طرف سے شروع کیا گیاتھا، جس میں ایک نئی نسل کے گلوکار اور موسیقار’’زلفی‘‘ پروجیکٹ ہیڈ کے طور پر نظر آئے۔ نئی نسل کے اور جونیئر سطح کے لڑکے لڑکیوںکو اس میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا گیا۔ چار سال تک یہ پروجیکٹ چلایاگیا، ان کا اپنا کوئی وژن نہیں تھا، کوک اسٹوڈیو کی نقالی کرنے کی کوشش کی تھی، کچھ گیت بہت اچھے بھی تخلیق ہوئے، مگر بنیادی طورپر کوئی نئی چیز پیش نہ کرنے کی وجہ سے جلد منظرنامے سے غائب ہوگئے، ویسے بھی اگر ان کی پروڈکٹ زیادہ فروخت نہ ہوسکے، تو پھر ایسے منصوبے کوتوبند کرنا یا ہونا ہی تھا۔ لنک:

2016 میں’’برادری براڈ کاسٹ‘‘ کابھی ایک میوزک پروجیکٹ شروع ہوا، جس کے پروڈیوسر حمزہ جعفری تھے، جو کراچی میں ایک این جی او نیٹ ورک کا اہم ستون ہیں۔ انہوں نے اس میوزک پروجیکٹ کو پیش کیا اور چند اقساط نشر ہوئیں، اس کے بعد یہ منصوبہ بھی بند ہوگیا، کیونکہ اس کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسی کے پیسے مہیا کیے گئے تھے اور حمزہ جعفری کی دیسی میوزک کے معاملے میں معلومات محدود ہیں، وہ اس کو باقاعدہ طورپر چلانہ پائے اور یوں ایک محدود پیمانے پر ہونے والا میوزیک پروجیکٹ بند ہوگیا۔ اس میں پاکستان کی مقامی زبانوں اورسازوں کے ذریعے، میوزک کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی تھی، خیال اچھا تھا، مگر پنپ نہ سکا۔ لنک:

2012میں پیپسی کولا نے جب کوکا کولا کو موسیقی کے ذریعے کمائی کرتے دیکھا، تو انہوں نے سوچا، انہیں دوبارہ اس میدان میں قسمت آزمانی چاہیے، لہٰذا وہ اپنے پرانے وژن، مگر نئے طریقے سے نمودار ہوئے۔ 2002میں’’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘‘ کے نام سے ایک مقابلے کا اہتمام کیا تھا، مگر وہ زیادہ طول نہ پکڑ سکا، اس میں آرو بینڈ نے اول پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ میکال حسن بینڈ اور مضمار نے بالترتیب دوم اور سوم درجہ حاصل کیا تھا۔ یہ خیال اچھا تھا مگراب وقت بدل چکا ہے، 2017میں دوبارہ کوک اسٹوڈیو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان میں بینڈز کی موسیقی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی، اکثربینڈز بکھر گئے، جنون، وائٹل سائنز، جل اور دیگر کی مثالیں سامنے ہیں۔ اب اس مقابلے کے ذریعے اس رجحان کو دوبارہ متعارف کروانے کی کوشش ہورہی ہے، جس میں وہ زیادہ کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے، ایک طویل مرحلے کے بعد آٹھ بینڈز منتخب کیے گئے، فائنل میں دو بینڈز’’بدنام‘‘ اور ’’کشمیر‘‘ پہنچے، ان میں سے بھی فائنل کشمیر بینڈ نے جیتا اور یوں یہ پہلاسیزن حال ہی میں ختم ہوا ہے۔ بے سُرے بینڈز اور ایک بے ہنگم موسیقی، جس کو کئی ہفتے پاکستانی چینلز پر سنایا اور دکھایا گیا، موسیقی کی خدمت تو خیر پیپسی کولا کیا کرے گی، البتہ کولڈ ڈرنک کی فروخت پر اچھا اثر نہ پڑا، تو پہلے کی طرح یہ پھر اپنی راہ لے لیں گے۔ لنک:

یہاں ان کاذکر ہوا، جنہوں نے بڑے پیمانے پر موسیقی کے نئے رجحانات میں اپنا حصہ ڈالا، لیکن اس میں تجارتی سرگرمیوں سے باہر کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کومل رضوی یا نوری بینڈ کی طرح کارپوریٹ ورلڈ میں اچھی جان پہچان رکھتے ہیں تو آئسکریم بیچنے والا بھی آپ کی ویڈیو یا البم کو اپنا مالی تعاون پیش کر سکتا ہے، کوئی سیلولر فون کی کمپنی یا چائے کی پتی بنانے والا، آپ کا پورا گانا ٹیلی وژن کی اسکرین پر چلوا سکتا ہے، لیکن آپ کو یہ گُرنہیں آتے، تو پھر انتظارکریں شاید کبھی قسمت آپ پر مہربان ہوجائے۔

پاکستان کے ایک معروف موسیقار سے بات ہورہی تھی کہ اشتہاری کمپنیوں کے ذریعے موسیقی کی خدمت کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ خدمت تو خیر کیا ہوگی البتہ ان تجارتی کمپنیوں کے مینجرز کی پسند یا ناپسند کسی کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ہرچند کہ اس طرح کے فورمز سے کچھ فنکار دریافت ہوئے، مگر ان کی تعداد انتہائی کم ہے، البتہ فضول اور پرچی والے نام نہاد فنکاروں کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان کے کتنے ہنرمند اور باصلاحیت فنکار ایسے ہیں، جن میں سینئر اور نئے دونوں شامل ہیں، جن کو موقع ہی نہیں دیا گیا، وہ گھر بیٹھے گمنامی کی نذر ہوگئے اور مالی پریشانیاں ان کا ہنر کھا گئیں، مگر یہ کارپوریٹ سیکٹرکا مسئلہ نہیں، کیونکہ اس کے لیے ایک درد مند دل چاہیے، مگر ان اشتہاری کمپنیوں کے پاس صرف دماغ ہوتا ہے، جو صرف خرچ ہونے والے سرمایے کا حساب کتاب رکھ سکے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. پاکستان میں مرتی ہوئی کلاسیکی نیم کلاسیکی اور لوک موسیقی کا نوحہ ہے.. شکریہ سہیل صاحب..!!

Leave A Reply

%d bloggers like this: