رشتوں کی نیشنلائزیشن: محمد عثمان جامعی

0
  • 43
    Shares

یہ اپنا شریف خاندان بھی عجیب ہے، اب تک قومی املاک کو اپنا بناتا رہا، اور اب خود کو قومیا رہا ہے۔ پہلے مریم نواز قوم کی بیٹی قرار پائیں، پھر کلثوم نواز ”آپ کی ماں“ ٹھہرادی گئیں۔ اس طرح بجلی، صاف پانی، زندگی کی دیگر ضروریات اور تحفظ سے محروم پاکستانیوں سے جب کسی اور ملک کے شہری خود کو میسر سہولتیں اور آسائشیں بیان کرتے ہوئے پوچھیں کہ میاں تمھارے پاس کیا ہے، تو پاکستانی سینہ پُھلا کر کہہ سکتے ہیں، ”ہمارے پاس ماں ہے۔“

رشتوں میں قومی شراکت کا یہ سلسلہ بڑھتا رہا تو حسن اور حسین نواز قومی بیٹے، شہباز شریف چاچائے قوم اور میاں شریف دادائے ملت کہے جائیں گے۔ ویسے کلثوم نواز کے قوم کی ماں قرار دیے جانے کے بعد ”تیکنیکی طور پر“ نوازشریف پاکستانیوں کے ابو جی بن چکے ہیں۔ بن بلائے مہمان کی طرح یہ بن بنائے ابّا کا حال اب وہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے ”ابا تو اُس گھر میں بس اک چلتا پھرتا ڈبا تھا۔“ لگتا یوں ہے کہ ناخلف اولاد ابو جی کو اولڈ ہوم میں پہنچا کر دَم لے گی۔ بھیا بات یہ ہے کہ قوم کسی کو اپنا بابا بنائے اور اپنے منہہ میاں مٹھو کی طرح کوئی اپنے منہہ ابا میاں، قومی بٹیا یا جنتا کی بے بے بن بیٹھے، تو ان دونوں میں بہت فرق ہے، یہ فرق بس اس مثال ہی سے واضح ہوجاتا ہے کہ قوم اسے بابا بناتی ہے جو قوم کے بُرے وقت میں لندن چھوڑ کے وطن آیا ہو اور جو ”رشتے میں ہم تمھارے باپ ہوتے ہیں“ کہہ کر ابا ہونے کا دعویٰ کرے وہ بُرا وقت آنے پر لندن کی راہ لیتا ہے۔

جس کا جو دل چاہے کہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شریف خاندان کی اپنائیت ہے کہ وہ پوری قوم کو اپنا ٹبر سمجھتا ہے، چناں چہ اپنے اس وسیع خاندان کی دولت، جسے عرف عام میں قومی خزانہ کہا جاتا ہے، کا استعمال بھی ”یہی تو ہے وہ اپنا پن“ کہتے ہوئے کرتا رہا ہے۔ ناقدین اس اپنے پن کو کوئی اور ”پَن“ سمجھیں تو اُن کی مرضی۔ اس خاندان کے سب سے جوشیلے رُکن شہبازشریف تو قوم سے رشتے بنانے کے لیے باقاعدہ رشتہ بھیج دیتے ہیں۔ وہ عملی آدمی ہیں، اس لیے باپ، بھائی، بیٹا جیسے غیردستاویزی رشتے نہیں بناتے، بل کہ دو بول پڑھوا کے رشتے میں باندھ لیتے ہیں۔

رشتوں کی نیشنلائزیشن شریف خاندان تک محدود نہیں۔ عوام کو اپنا بنانے بل کہ گود لینے کا جنون اوروں کو بھی لاحق رہا ہے۔ جیسے ہمارے الطاف بھائی، جو آٹھ سے لے کر اسی سال تک کے ہر شخص کے بھائی کہے جاتے تھے۔ اردو بولنے والوں کے تو وہ اس شدت سے بھائی تھے کہ انھیں طویل عرصہ کنوارپن میں گزارنا پڑا اور آخرکار ایک غیر مہاجر سے شادی کرکے گھر بسایا، افسوس کہ اس رفاقت کو وہ اپنی تقریر کی طرح طوالت نہ دے سکے۔ حالاں کہ اب الطاف بھائی اپنی تقریروں کی نشرواشاعت پر پابندی اور ایم کیوایم کی قیادت سے علیحدہ کیے جانے کے بعد دور کا وہ پھٹا ڈھول بن چکے ہیں، جو نہ سُہانا ہے اور نہ بج رہا ہے، پھر بھی ”بھائی“ کہتے ہی بس ان کا چہرہ، بڑی مشکل سے، نظروں میں گھوم جاتا ہے۔ البتہ بھائی بندی، بھائی چارہ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایسا بالکل نہیں ہوتا۔

عمران خان فخریہ کہتے ہیں کہ دوسرے سیاست داں پاکستان سے دولت لوٹ کر لے گئے، لیکن میں باہر سے پیسہ پاکستان لایا۔ انھیں بیویوں کے معاملے میں بھی یہی فخر حاصل ہے۔ تاہم یہ فخر انھیں زیادہ دیر حاصل نہیں رہا۔ اب تو مصیبت زدہ خاوند ان سے پوچھتے کہ خان صاحب! ہمیں بھی بتادو بیوی سے اتنی جلدی نجات کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اب خان صاحب پر ہے کہ وہ ان ستم اور بیگم کے مارے شوہروں کو وہ طریقہ بتاتے ہیں یا نہیں، ہم تو صرف یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی دوسری بیگم تحریک انصاف کی طرف سے قوم کی بھابھی بنادی گئیں، جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ساٹھ سال سے زیادہ ہونے کے باوجود عمران خان عوام کے ”بھائی“ ہی ہیں۔ افسوس کہ ہم بہت جلد قومی بھابھی سے محروم ہوگئے۔

پاکستانی سیاست میں قوم سے ناتے جوڑنے کا یہ چلن ہمارے سیاست دانوں کی عوام سے محبت کا برملا اظہار ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ قوم کو ماں، باپ، بہن، بھائی اور بھابھی کے علاوہ بھی رشتوں کی ضرورت ہے، تاکہ پورا ملک ایک گھرانے کا منظر پیش کرنے لگے اور پوری قوم فاطمہ ثریا بجیا کے ڈراموں کا کوئی خاندان دکھائی دے۔ اس طرح وہ بے شمار پاکستانی جو کئی رشتوں سے محروم ہیں ان کی یہ محرومی بھی دور ہوجائے گی۔ خود ہماری کوئی پھپھو نہیں، جب بھی کسی سے پھپھو کا ذکر سُنتے ہیں کلیجہ منہہ کو آتا ہے۔ کیا اچھا ہو کہ فردوس عاشق اعوان، مریم اورنگزیب یا کوئی اور خاتون سیاست داں خود کو قوم کی پھپھو قرار دے دیں، ہماری دلی مُراد بر آئے گی۔ ہم تو اس رشتے کے ایسے ترسے ہوئے ہیں کہ یہ خواتین تو کیا اگر مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق اور شیخ رشید کسی دن اپنی تقریر یوں شروع کریں، ”میرے بھتیجوں اور بھتیجیو! میں تمھاری پھپھو ہوں، مجھے ووٹ دو گے ناں،“ تو قسم سے ووٹ کیا ہم تو ناچتے ہوئے گھر سے نکلیں اور پھپھو! سر مانگو گی سر دیں گے، دھڑ مانگو گی دھڑ دیں گےکا نعرہ لگاتے ان کے پاس پہنچ کر سیدھے گلے سے جالگیں۔

امید ہے کہ سیاست داں ہماری درخواست پر توجہ دیں گے اور پھر اس ملک میں ماموئے مِلت، خالوئے قوم، نانیے عوام کے نعرے گونجا کریں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: