کیا ایک اور این آر او کی آمد ہے؟ محمد خان قلندر کا کالم

0
  • 135
    Shares

سابق وزیراعظم کا نااہل قرار دیئے جانے کے بعد اسلام آباد سے رخصتی کے وقت کیا جانے والا اعلان کہ میرے سینے میں راز ہیں جنہیں اب میں کھول دوں گا، اور انکی کابینہ کے سابق وزیر داخلہ کا یہ فرمان کہ، ملکی سلامتی کو اندرونی اور بیرونی شدید خطرات لاحق ہیں، وہ الارم ہیں جو ہمیشہ اس وقت بجائے جاتے ہیں جب سیاسی اور انتظامی معاملات بدترین انتشار کا شکار ہو چکے ہوں۔ اومزید ان کو حل کرنے کے لئے پس پردہ فیس لیس بروکرز کسی ماورائے آئین و قانون حل کے لئے کسی سمجھوتے کی کوششیں شروع کر چکے ہوں۔
عوام میں دانستہ طور پر بے چینی، خوف، اور بے یقینی کی فضا پیدا کر کے کسی بھی ایسے سمجھوتے کو، وسیع تر قومی مفاد میں، قبول کرانے کا ماحول بنانا مقصود ہوتا ہے۔

ملک میں جب سابقہ قومی مصالحتی آرڈنینس یا این آر او کا نفاذ کیا گیا تو اس سے پہلے بھی اسی طرح یہی حربے استعمال کئے گئے تھ۔ جو اگرچہ بعد میں عدالت عالیہ نے کالعدم قرار دے دیا، لیکن اس کے مقاصد حاصل کر لئے گئے تھے۔ اس وقت کے اور موجودہ حالات کے انتشار میں تو مماثلت ہے البتہ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ اس وقت نواز شریف اور بینظیر بھٹو ایک طرح سے جلا وطن تھے ملک میں جنرل پرویز مشرف مطلق العنان تھے ۔اگرچہ دہشت گردی، لال مسجد آپریشن، عدلیہ سے محاذ آرائی اور اپنے آرمی چیف کے عہدے کو بارہا توسیع دینے کی وجہ سے اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہو چکی تھی اور ہر صورت میں باوردی صدر رہنے کی خواہش ایک ضد بن چکی تھی۔ لندن میں میثاق جمہوریت ہونے سے بظاہر وہ بڑی سیاسی قوتوں کی باہمی مناقشت سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔ پھر بھی انہیں ایم کیو ایم اور قاف لیگ کی کھُلی اور غیر مشروط حمایت حاصل تھی ساتھ پہ فوج کے سربراہ بھی وہ خود تھے، دیگر سیاسی اور مذہبی عناصر بھی اپنے اپنے مفاد کے حساب سے ان کے دست نگر تھے، یوں وہ این آر او، نافذ ہو گیا تھا۔

آج کی صورت حال بہت زیادہ مخدوش ہے۔ عدلیہ سے نُون لیگ براہ راست محاذ آرائی کر رہی ہے۔ دیکھا جائے تو مرکز و پنجاب میں ان کی حکومت بدستور قائم اور فعال ہے، پیپلز پارٹی مکمل منتشر الذہن ہے، سندھ کی حکومت ہی چلانا اس کے لئے مشکل امر رہتا ہے۔ دیگر سیاسی قوتیں بھی بےسمتی کا شکار ہیں۔ پنامہ لیکس سے زیادہ سنگین اور سنجیدہ معاملہ ڈان لیکس کا ہے، جسے ایک عبوری انڈر سٹینڈنگ اور بین الاقوامی مضمرات کی وجہ سے وقتی طور پر لپیٹ دیا گیا ہے۔ نُون لیگ بظاہر متحد نظر آتی ہے لیکن پاور پالیٹیکس، خاندانی حکومت، اور اب نیب کے ریفرنس کی وجہ سے دھڑے بندی کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔

نواز شریف کی نااہلی حتمی ہونے کے بعد جانشینی کی جنگ شروع ہو چکی ہے، ان حالات میں پورے شریف خاندان کو اجتماعی طور پر عدالت سے بریت کی شرط اگر مشترکہ طور پر رکھی جائے تو اس کی قیمت دوبارہ ممکنہ طور پر کم ازکم دس سال تک سیاست سے دستبرداری ہو گی۔ یہ اشتراک عمل اگر مذکورہ مصالحتی عناصر پیدا کرا بھی لیں، تو بھی مقتدرہ قوتیں، نواز شریف کے سابقہ معاہدہ خلافی کے ریکارڈز کو مد نظر رکھیں گے۔

ایک اور اہم پہلو بیرونی ضمانت کاروں کا ہے، این آر او میں امریکی انتظامیہ کا رول بہت ایکٹیو تھا، شنید ہے کِہ کچھ زعماء نیو یارک جا رہے ہیں۔ لندن میں اب تک ہونے والے مذاکرات میں تاحال کسی بیرونی طاقت کی آشیر باد شامل نہیں ہے، شہباز شریف ترکی ہو کے آئے ہیں، لیکن ابھی تک وہاں سے بھی کوئی اشارہ نہی مل سکا۔ کسی بھی وسیع تر قومی مصالحت کے نام پر پارلیمان میں قانون پاس کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس پر بظاہر پوری اپوزیشن، حالیہ لندن کی یاتراؤں کے بعد رضامند نظر آتی ہے۔

اگر پس پردہ قوتوں کی کوشش بار آور ہوتی ہے تو عدالتی معاملات میں لچک نظر آ جائے گی، کیونکہ ادارے ریاستی نظام کو متزلزل کرنے کے حق میں کبھی بھی نہی ہو سکتے۔ اب یہ مکمل طور پر شریف خاندان پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک حالات کا کتنی جلدی ادراک کرتے ہیں۔ لاہور کے نمائشی میچ کی وجہ سے انہیں وقت مل گیا ہے۔ اس سے آگے یہ جمہوریت اور ووٹ کی حرمت اور عوام کی عدالت کے کھو کھلے نعرے نہ کام آ سکیں گے نہ ان سے فائدہ حاصل ہو گا۔

جمہوریت کا اہم ترین ستون ہمیشہ اپوزیشن ہوتی ہے۔ یہ اگر نہ ہو یا بہت کمزور یا نمائشی ہو تو حکمران بلنڈر کرتے ہیں جن کی تادیب کے لئے پھر دیگر ریاستی ادارے مداخلت پر مجبور ہوتے ہیں۔ نُون لیگ کے بزرجمہر یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے آگے محاذ آرائی سے نقصان شریف خاندان اور پارٹی کا ہی ہو گا، اگر ان مصالحت کاروں سے تعاون نہی کرتے، تو انجام پیپلز پارٹی سے بڑھ کر بھیانک ہو سکتا ہے۔ نُون کے اندر تو پارٹی بدل لیڈروں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔

میڈیا پہ عمران خان کو فرضی مخالف، عدلیہ اور افواج کو حقیقی سازشی کہہ کر شور مچانے سے مزید وقت گزارنا اب ممکن نظر نہیں آتا۔

دعا کرتے ہیں کِہ عوام کی اس ذہنی تشدد سے جان جلد چھُوٹ جائے، عقل سلیم۔ ضد، انا، دولت اور ذات کے فخر کو مسخر کر کے حاوی ہو جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: