ماہرین اقبالیات اور فلاحی ریاست ۔۔۔۔ نعمان علی خان

4
  • 51
    Shares

اقبال اور فکر اقبال کی تفہیم ہمیشہ جاری رہنے والا موضوع ہے اور دانشور اور نقاد اس پہ ہمیشہ لکھتے آئے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں بھی نعمان علی خان اقبال کی فکر پہ اپنے مخصوص زاویہ سے کلام کررہے ہیں۔ اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر، ہم یہ تحریر دانش کے قارئین کے لئے پیش کررہے ہیں، امید ہے کہ مکالمہ اور تفہیم اقبال کے ضمن میں ایک نئی تعمیری بحث کا آغاز ہوگا اور ملک و قوم کے حق میں مثبت سمت میں قدم آگے بڑہیں گے۔ اس حوالے سے کسی بھی تنقیدی یا اثباتی تحریر کی اشاعت کے  لئے یہ پلیٹ فارم بلاتفریق دستیاب ہے۔


حکیمِ ملت علامہ اقبال رح نے مغربی تہذیب کے آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرنے کی جو پیشن گوئی کی تھی وہ آج تک پوری نہیں ہو سکی اور ہم سیدھے سادے مسلمانوں کو ہمارے کچھ “ماہرینِ اقبالیات”، فرموداتِ اقبال کی غلط تشریح کے ذریعے، آج تک مغرب کی خود کشی کے انتظارمیں غلطاں کئے ہوئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان “ماہرینِ اقبالیات” نے مغرب کی خودکشی کی تمنا کو ہماری اجتماعی سوچ پر اس قدرغالب کیا ہوا ہے کہ ہم خود اپنی تباہی اور گراوٹ کا ادراک کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ ہمارے ان ماہرینِ اقبالیات کے کھڑے کئِے ہوئے فکری نان ایشوز کے گرد و غبار میں ہمارے اپنے اصل ایشوز انتہائی سنگ دلی اور سفاکی سے دبا دیئے گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال کا خیال بالکل درست تھا کہ مغرب کا کیپیٹلسٹ استحصالی نظام واقعی مغرب کی تہذیب کو خودکشی کے راستے پر ڈال چکا تھا۔ اور مغربی تہذیب بیسویں صدی میں عظیم جنگوں کے بعد ہی حقیقتاً تباہ ہوچکی ہوتی۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مغربی تہذیب ان جنگوں کے بعد زیادہ طاقتور ہو کے ابھری۔ ہمارے ماہرین اقبالیات اسی طرح مغربی تہزیب کے تباہ نہ ہونے پر خاموشی اختیار کرتے ہیں جیسے مخصوص مارکسسٹس، مارکس کی پیشن گوئیوں کہ مارکسزم زندہ رہے گا اور کیپیٹلزم ختم ہوجائے گا، کے پورا نہ ہونے یعنی سوویت یونین کی تباہی اور کیپیٹلزم کے مزید طاقتور ہو کر ابھرنے پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ حضرت اقبال کی فکر میں دور دور تک اس امکان پر غور و فکر کرنے کا شائبہ تک نہیں نظر آتا کہ کچھ ایسا اختصاص بھی مغربی تہذیب میں موجود ہے کہ یہ ان کی پیشن گوئی کے باوجود تباہ نہ ہوئی۔

کاش حضرت علامہ کو مغربی تہذیب کا وہ اختصاص نظر آجاتا جس نے اس تہزیب کو تباہ نہیں ہونے دیا اور یہی وہ اختصاص ہے جو ماہرین اقبال پاکستان کے حوالے سے زیر بحث نہیں لاتے۔ اِس کی وجہ؟ وجہ یہی ہے کہ نہ تب حضرت اقبال کی فکر میں خود مسلمانانِ برصغیر کے لئے وہ اختصاص تھا اور نہ ہی ہمارے آج کے ماہرین اقبالیات کے ضمیر اس اختصاص سے روشن ہیں۔ وہ فکری اختصاص ہے، طاقتوروں اور قلیل اقلیت پر مبنی مڈل کلاس کے درمیان موجود انسانوں کی اس اصل آبادی کے حقوق کا شعور جن کی فلاح کے حصول کیلئیے جدید ریاست قائم ہوتی ہے اور جس کا ذکر اقبال اور ماہرینِ اقبالیات کے تفکرات میں دور دور تک نہیں۔ یہ فکری اختصاص ہی ایک عام انسان کے لئے ریاست کی جانب سے شرفِ انسانی کی ضمانت مہیا کروانے کا شعور پیدا کرتا ہے۔

ہمارے آج کے ماہرینِ اقبالیات کے نزدیک تو فکر کی انتہاء بس یہ ہے کہ مڈل کلاس کو نان ایشوز کے دھندلکے میں ورغلائے رکھ کر، رولنگ ایلیٹ کو طاقت کے زور پرملک کی کروڑوں عام انسانوں پر مشتمل اصل اکثریتی آبادی کے تمام آئینی حقوق دبائے رکھنے میں مجرمانہ فکری سہولت فراہم کرنا۔ اقبال نے اپنے قیامِ یورپ کے دوران مغرب کی فقط سرمایہ دارانہ جمہوریت کی شاخِ نازک پر بنائے گئے ناپائیدار آشیانے پر توجہ کی زحمت کی تھی۔ باوجود یکہ اقبال برطانیہ اور جرمنی سمیت یورپ میں سوشل ڈیموکریسی اور فلاحی ریاست کے نظریات سے جنم لینے والی روح عصر کی بلندی کے دور میں یورپ میں اپنی اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے۔ برطانہ اور جرمنی دونوں میں ریاست فلاحی اصول اپنا رہی تھی لیکن مجال ہے جو ان کی توجہ اس جانب گئی ہو۔ انہیں تو بس مغرب کے خودکشی کرنے کے نظریات کی تبلیغ سے دلچسپی تھی یہ سمجھنے کی کوشش کئے بغیر کہ بہت کچھ ایسا بھی ہے جو اس مغرب کو تباہی سے بچالے گا۔

اے ماہرینِ اقبالیات! مغربی تہزیب کو تو “ویلفئیر سٹیٹ” نے بچالیا، ورنہ اقبال کی پیشن گوئی بیسویں صدی میں واقعی پوری ہو جاتی۔ تم بتاوٰ پاکستان کی اِس لٹیری جمہوریت کو اقبال کے نظریات کی غلط تعبیرات کے ذریعے کب تک اس ملک کو برباد کرنے کی فکری سہولت دیتے رہوگے؟ پاکستان کے آئین کی پہلی چالیس شقوں کے مطابق یہ ملک آئینی طور پر فلاحی ریاست ہی ہے۔ لیکن تمہاری یہ رولنگ ایلیٹ ان فلاحی شقوں پر چنداں عمل نہیں کررہی اور عوام کے فلاحی حقوق کو غصب کئیے بیٹھی ہے۔ جس طرح مغرب کو “فلاحی ریاست” نے خود کشی سے بچایا ہے، پاکستان کے آئین کی فلاحی شقوں کی معطلی ختم کر کے اس ملک کو بھی اس کا حقیقی فلاحی ریاست ہونے کا کردار واپس کرکے، خود کشی سے بچایا جاسکتا ہے۔ ہے کوئی مفکر جو اس قوم کے جسد میں “اسلامی فلاحی ریاست” کی روحِ عصر پھونک دے۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. اقبال نے یہ جو کلام اقبال میں سے ایک شعر کے ایک مصرعے کو بڑے جذباتی انداز میں پکڑا اور فکر اقبال کے رد کی کوشش کی یہ وہی جذباتی انداز ہے جس سے ہم یہی شعر دہراتے، پڑھتے اور پڑھاتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ صاحب تحریر کے ہاں تہذیب کا کیا مفہوم ہے اور اقبال نے یہ اصطلاح کس مفہوم میں استعمال کی تھی اس کا جائزہ لہنا صروری ہے۔ محض معاشی تفوق اور عسکری قوت اور دنیا کے اندر ادا ہونے والا منفی کردار جس کے نتیجے میں خود اس تہذیب کے گھر میں دو ہولناک عالمی جنگیں ہوئیں اقبال جیسا مرد دانا اسے تہذیب سے تعبیر نہیں کر سکتا تھا۔ اقبال کو چھوڑیں کسی بھی ڈکشنری میں تہذیب کی تعریف ڈھونڈ لیں یہ اصطلاح حیات انسانی کے بے شمار گوشے کور کرتی ہے۔ روحانی اور اخلاقی اقدار اور دین و مذہب کا نقطہ نظر اس کے دائرے میں آتا ہے۔ ایک تہذیب کی ھامل اقوام کا دوسری اقوام کے بارے میں طرز عمل بھی تہذیب کے دائرے میں آنے والی چیز ہے۔ مادی ترقی تاریخ میں اور بھی بہت قوموں نے ھاصل کی تھی لیکن چونکہ اس کے کیسے میں عالم انسانیت کو دینے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا اس لیے تباہ ہوئیں۔ یہاں میں مولانا مودودی ر ح کی ایک رائے کا حوالہ دے دوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اخلاق کے دو پہلو ہیں۔ ایک عام انسانی پہلو اور ایک وہ پہلو جو اسلام نے متعین کیا۔ اس اخلاق کے جانچنے اور دیکھنے کے لیے ہمیں قران اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں دیکھنا ہو گا۔ ایک قوم جب تک بناو اور افادیت کا باقی قوموں کے نقابلے کام زیادہ کر رہی ہو تو اللہ تعالی اس کو تباہ کرنے میں کچھ مہلت دیتا ہے۔ اقبال نے جس پہلو سے خود کسی کی بات کی تھی غور کیا جائے تو حقیقت یہ ہے مغرب دھیرے دھیرے وہ خود کشی کر رہا ہے۔

  2. نعمان علی خان on

    عزیز ابن الحسن صاحب کے نکات قابلِ توجہ ہیں۔ اس حوالے سے چند سال پہلے علامہ اقبال کی فکر میں عام مسلمانوں کے معاشی مسائل کے حوالے سے ایک مباحثہ “انحراف” پر منعقد کروا چکا ہوں۔ وقت ملا تو اس مباحثے میں اپنی رائے کا خلاصہ پیش کروں گا۔
    ہمارے دانشوروں نے عمران شاھد بھنڈر صاحب سے مغز ماری کرکرکے بہت سا وقت یقیناً ضائع کیا ہوگا لیکن ایک بات بہت عمدگی سے سیکھ لی ہے۔ اور وہ یہ کہ جب بھی مقابل کی بات کا جواب نہ بن پڑ رہا ہواور اسے اور باقی قارئین کو اپنے علم کے تبحر سے ہکا بکا کرکے مقابل کوسر پہ پاوٰں رکھ کر بھاگنے پر بھی مجبور کرنا ہو تو بہت معتبر بن کر مقابل کو مشورہ دے دو کہ میاں جاوٰ اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کرکے آوٰ۔ مجھے جب بھی ایسا مشورہ دیا جاتا ہے میں خاموشی اختیار کرتا ہوں اور اس موضوع پر واقعی مزید مطالعہ شروع کردیتا ہوں۔ لیکن جب ایسا مشورہ کوئی بہت پڑھا لکھا آدمی دے دے تو میں کبھی کبھی یہ مطالبہ بھی کربیٹھتا ہوں کہ محترم آپ پہلے یہ واضع کریں کہ آپ نے میری معلومات پر جو تبصرہ کیا ہے اس کیلئیے آپ کے پاس کیا دلائل ہیں۔ پڑھے لکھے ہونے کے دعوےداروں کو میرا مشورہ ہے کہ نیچے منیر احمد خلیلی صاحب کا تبصرہ پڑھیں ۔ گو انہوں نے میرے اس مضمون کو مکمل طور پر ریجکٹ کیا ہے لیکن اپنے علمی معیار سے وہ نیچے نہیں گرے اور نہ میری معلومات پر کو ئی ذاتی تبصرہ کیا ہے۔ تمام ایسے علما سے کہ جو میر ے دلائل سے مختلف رائے رکھتے ہیں گذارش ہے کہ خلیلی صاحب سے مکالمے کا یہ پہلا اصول سیکھیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: