طلاق کے نفسیاتی عوامل: جمال عبداللہ عثمان

0
  • 43
    Shares

معاشرے میں ایک اہم ترین ادارہ خاندان ہماری توجہ کا متقاضی ہے۔ خاندان سے متعلق بہت سے معاملات خاص طور سے خاندان کے ٹوٹنے پر دوسرے الفاظ میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر اسے مختلف حساس زاویوں کی وجہ سے ڈسکس نہیں کیا جاتا ہے روایتی طورسے عورت پرہی تمام ملبہ ڈالنے کا رجحان عام ہے۔ پھرکچھ زیادہ سوچ لیا جائے تو مرد کے مظالم بیان کر کے اپنے اور خاندان کے دلوں کوبہلاوا دے دیا جاتا ہے۔ ان دو انتہاؤں سے ہٹ کر دیکھا جائے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہر دو فریقین کے عوامل کا تجزیہ کرتے ہوئے نفسیاتی اسباب کا بیان از حد اہم ہے۔

طلاق کی بہت سی نفسیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سب سے اہم ترین اور بنیادی وجہ خاندان میں والدین کا اپنی اولاد خاص کر بیٹی کی تربیت نہ کرنا ہے ۔ بیٹیوں کوشادی کے لئے ذہنی طور سے تیار نہیں کیا جاتا ہے۔ شادی کے موضوع پر لڑکیاں تو دور کی بات، لڑکے تک لب نہیں کھول سکتے۔ اگر کسی نے کوئی بات کی تو اسے فورا ڈانٹ پڑتی ہے کہ ایسے سوال جواب کو شرم و حیاء کے متصادم سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ والدین خصوصا والدہ کا فرض بنتا ہے کہ اپنی بیٹی کو گھریلو امور سکھانے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہن سازی کرے اسے بتائے کہ ایک نیا ماحول اور نئے حالات پیش آئیں گے اس کے سامنے ان حالات کی نقشہ گری کی جائے۔ اسی طور بیٹی کو بھی یہ حق ہو کہ وہ اس حوالے سے سوالات کرسک۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے خود راستے بند کر دیئے ہیں بیٹی یا بیٹے کی تربیت نہیں کرتے اور پھر مسائل بڑھ جائیں تو گلہ کرتے ہیں۔ والدین بیس پچیس برس تک بیٹی کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اس کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتے ہیں لیکن اس کی زندگی کی اہم ترین ضرورت کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ اب اچانک سے بیٹی کے سر پر پڑتی ہے تو اس یکسر بدلے ہوئے ماحول میں انسانوں کے مزاج کو سمجھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ ناز و نعم میں پلی بیٹی کو اب کسی قدر گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اب اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کچھ نہیں۔ والدین اگر کچھ نہ کر سکیں کم از کم اچھا مشورہ تو دے سکتے ہیں۔ والدین کی سپورٹ میں کمی نہیں آنی چاہیئے۔ بیٹی کی بات سن کر صلاح مشورہ دیتے رہنا چاہیئے۔ ہماری طرف یہ سوچ بہت پختہ ہو گئی ہے کہ جو صورتحال درپیش ہے بیٹی اس سے خود نمٹے۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ایک لڑکی اگر ماں باپ کے سامنے اپنے مسئلے نہ رکھے تو اور کون اس کے دکھڑے سنے گا؟

تربیت پر بات آئی ہے تو کہنا پڑتا ہے کہ خود والدین کی تربیت تک نہیں ہوسکی۔ انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ بیٹی کے معاملات کو کس طور سے ہینڈل کرنا ہے؟

ان کی بیٹی شادی کے بعد کس طرح ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار سکتی ہے؟ ٰایک لڑکی پر مظالم میں صرف سسرال والے ہی نہیں بلکہ اس کے اپنے والدین، اور قریبی عزیز بھی شامل ہوتے ہیں۔ کہ سب بغیر اکثر بغیر تحقیق کے بیٹی کا ہاتھ کسی اجنبی کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر جو گزرے اف تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چاہے قیامت ٹوٹ پڑے، کھانے پینے کو نہ ملے یا فرد کے طور سے اس کے حقوق پورے نہ ہو سکیں یہی کہا جاتا ہے کہ بیٹی اب تمہاری شکایت نہیں آنی چاہیئے۔

کبھی تو حیرت ہوتی ہے کہ ایسے والدین بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی جگر کے ٹکڑے کو ایسے بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔ بس یہی تسلی دے دیتے ہیں کہ اللہ مدد کریں گے۔ یا ایسے ہی تاکید کر دی جاتی ہے کہ اب یہاں سے تمہارا جنازہ ہی اٹھنا چاہیئے۔ کیا اس سے دوسرے فریق کو مزید شہ نہیں ملتی ہے کیا اس بات سے طلاق کی شرح میں اضافہ نہیں ہوگا؟

البتہ یہ بات اہم ہے کہ طلاق کی بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ والدین اور لڑکیاں بھی سمجھ رہی ہیں کہ یہ کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے۔ اگرکہیں ظلم ہو رہا ہے تو طلاق کی صورت میں نجات دلائی جارہی ہے۔ یہ ایک مثبت بات ہے۔ جس کی اجازت خود دین اور شریعت نے دی ہے۔ حضوراکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہیں مگر مجھے اس کی شکل پسند نہیں ۔حضور ﷺ اس کو علیحدگی کی اجازت دیتے ہیں ۔ اس حد تک تو اسلام نے گنجائش رکھی ہے۔ طلاق کا جو اصل فلسفہ ہے، اسے کچلنا نہیں چاہیئے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ لڑکی یا مر جائے یا مار دی جائے لیکن طلاق کی بات نہیں کرنی۔ا ور کہیں ناک نہ کٹ جائے۔ شادی اس لیے کی جاتی ہے کہ میاں بیوی خوش و خرم زندگی گزاریں۔ اب اگر وہ آپس میں ایڈجسٹ نہیں، خوش نہیں تو شادی کا فائدہ کیا ہے؟ علیحدگی سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔ کہیں اور انتظام ہو جائے گا، مگر ہمارے ہاں لوگوں کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ ایک بار شادی ہوئی، اب اسے آخر تک نبھانا ہے۔ چاہے شوہر اور بیوی کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہو۔ وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہ کرتے ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ طلاق کا حق اتنا عام ہو جائے تو ہمارا معاشرہ مغرب کی طرح ہو جائے گا۔ امریکا میں تو طلاق کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ وہاں شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ کہتے ہیں پارٹنر شپ کر لی جائے یعنی اکٹھے رہو یا ان کے پاس کا تصور ہے۔ جس سے وہ کچھ وقت ہنسی خوشی ساتھ گزار لیتے ہیں ۔ Living Together طلاق کی صورت میں آدھی جائیداد عورت کے پاس چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے وہاں شادیاں نہیں ہوتیں تو طلاق کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وہاں شادی نہیں ہوتی اور یہاں یہ حال ہے کہ لڑکی کو بالکل ایک شکنجے میں جکڑ دیتے ہیں۔ یہ دو انتہائیں ہیں۔ دین اسلام اعتدال کا نام ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک ادھیڑ عمر خاتون کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان محترمہ کے بیٹے کی شادی ایک ڈیڑھ سال قبل ہوئی ہے۔ حالانکہ بیٹے نے اسی وقت صاف منع کر دیا تھا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کروں گا۔ لیکن ماں باپ نے زبردستی شادی کر دی۔ اب شادی تو ہو گئی، مگر بیٹے نے بیگم کی شکل تک دیکھنا گوارا نہ کی۔ ایک یہ ستم ہوا، اب اس سے بڑا ظلم اور ڈھایا جا رہا تھا۔ جب خاتون سے کہا گیا بڑی طویل زندگی ہے، لڑکی کو طلاق دلوا دیں۔ کیوں آپ لوگ دونوں کی زندگی تباہ کر رہے ہیں؟ ابھی دونوں کے لیے مواقع موجود ہیں۔ کہنے لگیں: ’’نہیں نہیں! یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔ ہمارے خاندان میں کبھی طلاق نہیں ہوئی۔ ہماری ناک کٹ جائے گی۔ ہم بیٹے کی دوسری شادی کرائیں گے، مگر اسے بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘اب آپ بتائیں اس بچی نے آخر کیا قصور کیا ہے؟ سسرال والے جو کر رہے ہیں، سو کر رہے ہیں۔ اس بچی کے والدین نے بھی شادی سے پہلے یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ لڑکے کے بارے میں چھان بین کرتے، اس کے خیالات کیا ہیں؟ وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی لخت جگر کا ہاتھ دے رہے ہیں جو اس کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اور یہ چند دنوں کے لیے نہیں، پوری زندگی کے لیے۔ والدین اتنی آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو سبکدوش کر دیتے ہیں۔

غیر محسوس نفسیاتی بیماریاں کس طور سے گھر توڑتی ہیں ۔ جیسا کہ ھم سب جانتے ہیں ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خاندانوں میں شادیاں ہوتی ہیں۔ کوئی بھائی کا بیٹا ہے، کوئی بہن کی بیٹی ہے۔ اب ایسی صورت میں لڑکی اور لڑکے دونوں کے بارے میں مکمل معلومات ہوتی ہیں۔ چونکہ ایسے لڑکے اور لڑکیوں کا بچپن سامنے گزرتا ہے۔ ان کی عادات کا پتا ہوتا ہے۔ کوئی نفسیاتی عارضہ ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو، معلوم ہوتا ہے۔ گھروں اور خاندانوں میں باتیں ہوتی ہیں۔ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو، وہ چھپا نہیں رہتا۔ البتہ جہاں ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں۔ یعنی خاندان سے باہر کے لوگ ہوں، وہاں بعض اوقات ایسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور یہ مسائل مرد اور عورت دونوں میں ہوتے ہیں۔ اب بد قسمتی یہ ہے کہ دونوں طرف سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ نہیں کرتے کہ اس کا علاج کروائیں یا اس دوسرے فریق کے سامنے اس کا اظہار کریں، بلکہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جائے گا یا ہو جائے گی۔ حالانکہ ماہر نفسیات کے مطابق یہ بالکل غلط نظریہ ہے۔ شادی کے بعد ایسی بیماریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔شک، بد گمانی ، جنسی صلاحیت میں کمی کے باعث خود اعتمادی کی کمی ، شخصیت کی کچھ اور کجی گھر بسنے نہیں دیتی.

ایک مسئلہ یہ ہے کہ شادیوں کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ساری زندگی کے مقروض بن جاتے ہیں۔ مثلاسوچا جاتا ہے کہ تقریب بڑی ہونی چاہیے، بینڈ باجے ہوں، کسی بڑے لان میں ہو، کئی ڈشیں ہوں، بڑی تعداد میں لوگ مدعو ہوں۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کریں گے تو ناک کٹ جائے گی۔ اس لیے پھر قرض بھی لیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ بھی پھیلاتے ہیں اب ظاہر سی بات ہے ایسے قرض کو اُتارنے کے لیے ہاتھ تنگ رکھنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کے پاس گنجائش نہیں ہوتی، وہ سوچتے رہتے ہیں۔ شوہر بیوی کو الزام دیتا ہے، بیوی شوہر پر ملبہ ڈالتی ہے۔ اس طرح ذہنی پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگردونوں فریقین کو جاب کرنا پڑے تو تھکاوٹ اور بیزاری بھی شکایات بڑھا دیتی ہیں۔

لو میرج ایک نفسیاتی احتیاج سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی کہ ہمارے ہاں اس قسم کی شادیاں اکثر ناکام ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت’’جنسی آسودگی‘‘ کے علاوہ ہر چیز ذہن سے محو ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ ’’محبت‘‘ کرتا ہے، اس کا مقصد صرف سطحی ہوتا ہے۔ وہ اس وقت نہ لڑکی کے اخلاق کو دیکھتا ہے نہ کردار کے بارے میں اسے فکر ہوتی ہے۔ اس کے خاندان کو دیکھتا ہے نہ ہی اپنے اور اس کے اسٹیٹس پر نظر ہوتی ہے۔ وہ اس وقت ایک خاص مقصد کے حصول کی خاطر لگا ہوتا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے زندگی کا مقصد صرف جنسی آسودگی تو نہیں ہوتا۔ زندگی گزارنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے جب ’’لو میرج‘‘ کے نتیجے میں شادی ہوتی ہے، جنسی آسودگی تو کچھ دنوں تک مل جاتی ہے، مگر اس کے بعد جب باقی پہلوؤں پر نظر پڑتی ہے تب مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں لڑکا یا لڑکی اپنے والدین اور رشتہ داروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہاں سے کوئی خاص حمایت حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ وہ پہلے ہی ان کی مخالفت مول لے چکے ہوتے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کو الزام دیتا ہے اور لڑکی لڑکے کو قصوروار ٹھہراتی ہے۔ لہٰذا تنازعات شروع ہو جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ بالآخر ناکامی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ اس کا بہترین راستہ وہی ہے جو ہمیں ہمارا دین اور ہماری شریعت دکھاتی ہے۔ یعنی والدین بھی حدود میں رہیں اور اولاد بھی اپنے جامے سے نہ نکلے۔

جنسی کمزوری طلاق کا سبب اس لئے نہیں ہے کہ ہمارے ہاں اس وجہ سے بہت کم طلاقیں ہوتی ہیں، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مردوں میں جنسی خواہش بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن خواتین اس سلسلے میں اپنے اوپر کنٹرول رکھ سکتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے پاس عموما ایسی خواتین آتی ہیں کہ جن کے شوہروں میں جنسی کمزوری ہوتی ہے یا وہ مکمل بیمار ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار دیتی ہیں۔ ایسی بھی ہیں جن کوئی کئی کئی سال بیت جاتے ہیں اور کسی کو شوہر کی کمزوری کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا مشرق میں ایسے کیس نہ ہونے کے برابر ہیں کہ جنسی کمزوری کی وجہ سے طلاق ہوئی ہو۔ یہ طلاق کا بہانہ ضرور بن سکتا ہے، مگر صرف اس وجہ سے طلاق واقع ہونے کی شرح بہت کم ہے۔

بانجھ پن بھی طلاق کا اہم سبب ہے لیکن ایسی صورت میں طلاق کم ہوتی ہے۔ کیونکہ جن مردوں کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، پہلے وہ کچھ برس انتظار کرتے ہیں۔ اگر ان کی آرزو پوری نہ ہو، تب وہ دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلی بیوی ہی اپنی مرضی سے دوسری شادی کرا دے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں پتا چلتا ہے اصل مسئلہ مرد میں ہے، عورت میں نہیں۔ اس لیے بعض اوقات مرد بھی زیادتی کرتے ہیں، وہ اپنا علاج نہیں کراتے اور بیویوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

شادی کی عمر میں تاخیر سے کس قسم کے مسائل جنم لیتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کم عمری میں ہونے والی شادیاں زیادہ کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو مسائل زیادہ جنم لیتے ہیں۔ ان کے اندر کمپرومائز کی قوت کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ پروفیشنل لائف میں آ جاتی ہیں، ان کی ساخت کچھ اس طرح بن جاتی ہے کہ اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اسی طرح جب نوجوان لڑکوں کی شادی وقت پر نہیں ہوتی، وہ غلط راستے تلاش کرتے ہیں۔ آپ اگر کسی کو حلال کھانا نہیں دیں گے تو وہ حرام ہی کھائے گا۔ ہمارے ہاں سوچا یہ جاتا ہے کہ جناب! پہلے ایم بی بی ایس ہو جائے ، ڈاکٹر بن جائے، ملازمت پر لگ جائے ، کچھ کما لے، اپنا مکان ہو جائے، اس کے بعد شادی کریں گے۔ آپ خود سوچیں عمر کہاں تک پہنچ گئی ہو گی؟ اب ایک نوجوان جوانی کے زمانے میں کیا کرے گا؟ 18 سے 20 سال کے نوجوان پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ بعض اوقات اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے آخری حدوں کو پار کر جاتا ہے۔

ایک نوجوان کی مثال ہے کہ اس کی عمر 23 سال تھی۔ بی کام سال دوم کا طالب علم تھا۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسے محلے کی کوئی لڑکی پسند آئی۔ والدہ نے منع کیا۔ چند ماہ بعد پھر خواہش کا اظہار کیا، تب بھی منع کر دیا گیا۔ وہ اس بات سے بہت افسردہ ہوا۔ اس نے نشہ شروع کر دیا۔ چرس پینے لگ گیا۔ آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کرنے لگا۔ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ والدین کو ان کیفیات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ خواتین کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ان میں اتنی شدت نہیں ہوتی، لیکن نوجوانوں کا معاملہ کافی مختلف ہے۔ اس لیے اسلام کا جو اصول ہے کہ معاشرے کو بگاڑ سے بچانا ہے تو شادیوں کو آسان کر دو اور جلدی کرو، چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، بلو غت کی عمر میں نکاح کی تاکید کی گئی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم لوگ اپنے بچوں کو کپڑے اچھے پہناتے ہیں، کھانے پینے پر بہت خرچ کرتے ہیں، لیکن ان کی جنسی ضرورت حلال طریقے سے پوری کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ جب زندگی کا طویل عرصہ بیت جائے، تب انہیں دُلہا اور دُلہن بنا دیتے ہیں اور اس وقت ان کی جوانی کو گہن لگ چکا ہوتا ہے۔
الحرض ان تمام نفسیاتی عوامل کے باعث طلاق کی وجہ سے گھر بسنے کے بجائے ٹوٹ رہے ہیں۔ خاندان اپنی اولادوں کی تربیت پر توجہ دیں تو اس سے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: