ایموشنل مینجمنٹ: غصہ نعمت بھی مصیبت بھی ۔۔۔۔ سید اسرار احمد بخاری

0
  • 88
    Shares

جذبات ذندگی کا ایندھن ہیں، اگر آپ کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں بہت غصہ آتا ہے، یا اُن لوگوں میں جو بہت حساس و جذباتی ہیں تو آپ کو خوشخبری ہو کہ خُدا نے آپ کو کامیاب ہونے کےلیے بےپناہ فیول دےکر بھیجا ہے. غصے کے حرام ہونے اور غصہ آنے کی صورت میں اسے پی جانے یا دبادینے کی تعلیم ہمیں بچپن سے لےکر پچپن تک اس تسلسل سے دی جاتی رہی ہے کہ قلب و زہن کے کسی کونے میں معمولی خیال تک نہیں گزرتا کہ غصے کے بےشمار مثبت پہلو بھی ہوسکتے ہیں، اس سے پہلے کے ہم غصے کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کریں پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ غصے کو ”پی لینا” ہمارے ہاں کہاں سے آیا ہے؟

اس کی وجہ سورہ آلِ عمران، آیت ۱۳۴کا فہم ہے جس میں اللہ رب العزت نیک بندوں کی خصوصیات بتاتے ہوئے فرماتے ہیں والکاظمین الغیظ یعنی: ”اور جو غصّے کو پی جاتے ہیں ”. اور غصہ پی جانے سے ہمارے ہاں یہ مرادی لی جاتی ہے کہ غصے کو دبا دیا جائے ایک تحقیق کے مطابق ’’کاظمین‘‘ کے ماخذ کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عرب لوگ بھرے ہوئے کنوئیں کوایک مخصوص پراسیس Process کے ذریعے خالی کنوئیں کے ساتھ جوڑتے تھے جس سے خالی کنواں بھی بھرجاتا تھا. یعنی بھرے ہوئے کنوئیں کو خالی کنوئیں سے جوڑنے کے عمل کو ’’کاظمت‘‘ کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے. لیکن اُردو میں کاظمت کا کوئی مناسب متبادل نہیں ہے ۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ کسی زبان میں اگر مروجہ لفظ موجودنہ ہو تو قریب ترین لفظ استعمال کیا جاتاہے۔ چنانچہ کاظمین کے معانی کے طورپر اُردو میں جو قریب ترین لفظ ملا وہ ’’پی جانا‘‘ لیا گیا۔ لہٰذا، اسی معانی کے تناظر میں ہمیں یہ سکھایا گیا کہ جب بھی غصہ آئے تو اسے پی جاناچاہیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مترجمین کی بڑی تعداد نے اگرچہ اسے ” پی جانے” کے معنوں میں لیا ہے البتہ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا احمد علی رحمہ اللہ عنہما نےکاظمین کا ترجمہ ’’غصے کو ضبط کرنے والے ‘‘ کیا ہے جو انگریزی کے لفظ to manage کے زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح علامہ آلوسی السید محمود بغدادی رحمہ اللہ نے تفسیر روح المعانی میں عربوں کا محاورہ نقل کیا ہے کہ کظم عرب اس وقت بھی بولتے تھے جب مشک بھر کر پانی اُبلنے لگتا تو لوگ رسّی سے اس کا منہ باندھ دیتے، لہٰذا کظم کے معنی ہیں: ’’شَدُّ رَأسِ الْقِرْبَۃِ عِنْدَ اِمْتِلَائِ ہَا‘‘ مشک کا منہ باندھ دینا جب پانی بھر کر اس کے منہ سے نکلنے لگے۔ گویا کاظمت کے مفہوم کے اندر اتریں تو غصے کو ضبط یعنی Manage کرنا ، روک لینا یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا لیا جانا چاہیے.

اور یہی مفہوم ایموشنل مینجمنٹ کے محققین اپنی تحقیق کے لیے بیان کرتے ہیں، یعنی غصے کو پینا درست نہیں ہے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اسے کسی مثبت یا تعمیری مقصد کی طرف موڑ دیا جائے ۔ حال ہی میں (یعنی نوے کی دہائی میں) ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق کسی بھی انسان کی کامیابی میں آئی کیو (یعنی ذہانت ) کا کردار صرف پندرہ سے بیس فیصد تک ہے جبکہ اسی سے پچاسی فیصد کامیابی کا انحصار آدمی کی جذباتیت پر ہوتا ہے. یہیں سے ایک نئی اصطلاح Emotional Intelligence یعنی جذباتی ذہانت متعارف کرائی گئی.

یوں تو ایموشنل انٹیلیجنس ایک وسیع سبجیکٹ ہے جس کے تحت بہت سے جذبات کی تہذیب کرنا سکھایا جاتا ہے ، تاہم فی الوقت چونکہ موضوع غصے کا ایموشن ہے، لہٰذا فی الحال ہم اسی پر فوکس کریں گے. آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ طبیعتا” ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیںِ انہیں غصہ زرا دیرسے یا بہت کم آتا ہے لیکن روز مرہ ذندگی میں بہت سے ایسے لوگوں سے بھی ہمارا پالا پڑتا رہتا ہے جو چہرے سے بہت غصیلے لگتے ہیں، ناک منہ پر مسلسل بارہ بجے ہوتے ہیں. یہ زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے غصے کو دبایا ہوا ہوتاھے اور غصہ چونکہ فطری طور پر کہیں نا کہیں اظہار چاہتا ہے، چنانچہ جب اسے اظہار یا ریلیز کرنے کے مواقع میسر نا ہوں تو غصے کے اثرات ان کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے ہیں جس کے سبب انکی شخصیت کے گرد ایک غیر مرئی سی کانٹوں کی دیوار قائم ہوجاتی ہے جسے دیکھ کر لوگ رستہ بدل لینے ہی میں عافیت جانتے ہیں.

بات بات پر نکتہ چینی کرنا، تنقید کرنا اور موقع بے موقع جھڑکیاں دینا انکی عادت بن جاتا ہے، بالخصوص بڑھاپے میں انکا چڑچڑا پن عروج پر ہوتا ہے، طبیعت و مزاج میں یہ تمام تر خامیاں اکثر غصے کو غیرفطری طور پر اور زبردستی زبادینے یا ” پی لینے” کی کوشش کے سبب پیدا ہوتی ہیں، حقیقت یہ ہےکہ غصے کو جتنا دبایا جائے گا، وہ اتنا ہی شخصیت کو متاثر کرے گا۔ یہی معاملہ دیگر بہت سے جذبات کےساتھ بھی ہے مثلا” محبت کا جذبہ، یا اِس سے ایک قدم اور آگے بڑھئیے جنسی تسکین کا جذبہ ، ان تمام جذبات کا ہمارے اندر موجود ہونا درحقیقت ہمارے انسان ہونے کی علامت ہے، مسئلہ ان جذبات کے ہونے کا نہیں کیونکہ یہ تو خود خدا نے ہمارے اندر رکھے ہیں مسئلہ درحقیقت ان جذبات کے بےقابو ہونے یا بےلگام ہونے کا ھے.

غصے کی مثال کسی سیلابی ریلے کی مانند ہے آپ کے پاس سیلابی پانی کو روکنے اسے محفوظ کر کے کارآمد بنانے کے لیے اگر ڈیمز موجود ناہوں تو یہ سیلاب بستیوں اور کھیت کھلیانوں کو اجاڑ کر رکھ دے گا لیکن اگر ڈیمز موجود ہوں تو جو سیلاب تباہی و بربادی کا موجب تھا اسی کو محفوظ کرکے بجلی جیسی انتہائی کارآمد اور مفید چیز بنائی جاسکتی ھے نہری نظام کی بحالی کے زریعے دور دراز کے علاقوں تک پانی پہنچانے اور کھیتوں کے سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے. عین یہی معاملہ غصے کے ساتھ بھی ہے، غصہ درحقیقت ایک انرجی ہے ایک اندھی قوّت ہے جسے اگر منضبط کرکے کسی مثبت اور تعمیری مقصد کے لیے استعمال کرلیاجائے تو یہی ایموشن جو آپ کو مصیبت معلوم ہوتا ہے آپ کےلیے ذندگی میں کامیابی کا عنوان بن جائے گا۔ یعنی کمال یہ نہیں کہ آپ نے غصے کو پی لیا، کمال یہ ہے کہ آپ غصے کو چینلائز Channelize کرنا سیکھ لیں اس حوالے سے واصف علی واصفؒ کا یہ قول معنویت سے بھرپور ہے :

’’کم ظرف کا غصہ اسے کھا جاتاہے اور اعلیٰ ظرف کا غصہ اسے بنا جاتا ہے۔‘‘

اور یہ اعلیٰ ظرفی پیدا ہوتی ہے مقصدیت کے شعور سے یعنی جس انسان کی ذندگی میں کوئی برتر اور اعلیٰ مقصد ہوگا وہ اپنے غصے کو اس مقصد میں کامیابی کے لیے استعمال کرےگا.

آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ کسی خاص شعبےمیں صرف اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ انہیں ذندگی میں کسی نے یہ طعنہ دیا کہ تُم فلاں کام نہیں کرسکتے ، اور انہوں نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے اُس کام میں مہارت حاصل کی اور طعنہ دینےوالوں کو غلط ثابت کردکھایا.

آپ کو محسوس ہوتا ہے کسی نے آپ کی قدر نا پہچانی، آپ کو کہیں بلاجواز اور بے قصور ذلیل و رسوا کردیا گیا ہے، کسی ادارے نے باوجود اہلیت کے آپ کی اہلیت تسلیم نہیں کی اور آپ غصے سے بےقابو ہورہے ہیں تو ٹھہر جائیے آپ کا غصہ بالکل ٹھیک ہے اسے ضائع نا ہونے دیجئے بعض اوقات اس قسم کے منفی واقعات ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ قدرت آپ کے اندر چھپی مخفی صلاحیتوں کو باہر لانا چاہتی ہے حالات و واقعات کی ٹھوکر آپ کو آپ کے اندر کے خزانے کا وہ نقشہ دکھا دیتی ہے جو عام حالات میں دکھائی نہیں دیتا لہٰذا غصے کو ضبط Manage کیجئے. اپنی ذندگی کے لیے کوئی اعلیٰ مقصد ڈھونڈیے اور وقت و صلاحیت کو جھونک دیجیےاپنی توانائیوں کو کسی بامقصد کام کےلیے وقف کردیجے، اور اپنے کام سے ثابت کر دکھائیے ک آپ کسی سے کم نہیں!

یاد رکھیے عمل کا تعلق حقیقتا” جذبے سے ہے نا کہ صحت و طاقت سے، مواقع آپ کے منتظر ہیں اگر انسان کے اندر کسی کام کے کرنے کی آگ بھڑک اُٹھے تو وہ ہرحال میں اُس کام کو کرڈالتا ہے خواہ حالات کیسے ہی ناموافق کیوں نا ہو خواہ وہ بسترِ مرگ پر پڑا ہو۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: