​پاکستان کے شیکسپئیر نے اب لکھنا چھوڑ دیا! محمد شہزاد

3
  • 609
    Shares

پاکستان میں انگریزی میں سٹائل کے ساتھ جملہ لکھنے کے فن کا اگر کوئی بادشاہ ہے تو وہ ایاز امیر ہے۔ ان سے میرا رشتہ بیس سال پر محیط ہے۔ ابتدا میں ان کا مداح تھا اور جلد ہی دوست بن گیا۔ ان کا کالم پڑھ کر انہیں ای میل کی اور ان کا جواب بھی آگیا۔ اس پر دوستوں نے کہا کہ میں خوش نصیب ہوں ورنہ یہ صاحب تو مغرور ہیں۔ ای میل کا جواب تو ہر گز نہیں دیتے۔ لیکن ایسا بالکل نہیں تھا۔ دراصل میرے دوست ایسے تھے جن کے ہوتے کسی دشمن کی ضرورت نہ تھی!

محمد شہزاد

دوستی کے آغاز میں ہی دی نیوز کے لئے ان کا مفصل انٹرویو کرنے کا اتفاق ہوا۔ جان بوجھ کر عوامی سواری یعنی بس پر گیا یہ دیکھنے کے لئے کہ لوگ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ سارے راستے لوگوں سے ان کی تعریف ہی سنی۔ سب نے کہا انہوں نے اپنے علاقے میں بہت کام کروایا۔ سن ننانوے تک ان کے گاؤں بھگوال اور چکوال کے درمیان فون کی سہولت موجود نہ تھی۔ لوگ چکوال بھون چوک آ کر بھگوال جانے والوں کو خط یا پیغام دیا کرتے تھے کہ فلانے تک پہنچا دینا۔ انہوں نے بجلی، فون اور انٹرنیٹ تک بھگوال پہنچا دیا۔ ان کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ۔ پرانی حویلی میں ہی رہتے ہیں۔ انہیں آج تک بدیسی پہناوے میں نہیں دیکھا۔ ان دنوں یہ حال ہی میں پنجاب کے ایم پی اے کی نشت سے مستعفی ہوئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ یہ فائلیں ہاتھ میں لئے شہباز شریف کے دفتر کے چکر نہیں کاٹ سکتے تھے۔ علاوہ ازیں ڈان اخبار میں ہر جمعہ کالم بھی لکھا کرتے تھے جس میں یہ اپنی ہی حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے تھے۔ خوشامد نہیں کر سکتے تھے۔ ظلمت کو ضیا، صر صر کو صبا اور بندے کو خدا لکھنے کے فن سے نا آشنا تھے۔ انٹرویو کے دوران پتہ چلا کہ انہیں کلاسیکل موسیقی سننے کا بہت شوق ہے۔ ان ہی کے گھر پہلی بار کشوری امونکر کو سنا اور دیوانہ ہو گیا۔ موسیقی کا مشترکہ شوق ہمیں مزید قریب لے آیا۔

اس کالم کی وجہ ان کا انگریزی میں کالم لکھنا چھوڑ دینا ہے۔ یہ جب قومی اسمبلی کے رکن بنے تو ڈان نے ہفتہ وار کالم چھاپنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دی نیوز کے لئے لکھنا شروع کر دیا۔ انگریزی والا کالم اگلے دن اردو میں جنگ میں چھپا کرتا تھا۔ یہ نون لیگ کے ممبر ہونے کے باوجود پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے۔ نتیجتاً سن تیرہ کے انتخابات میں انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ یہ سچ لکھنے کی قیمت تھی! لیکن ان کا قلم رکا نہیں۔ کچھ سخت کالم جب دی نیوز کو بھی ہضم نہیں ہوئے تو ایاز نے انہیں چھوڑ دیا اور روزنامہ دنیا کی ویب سائٹ کے لئے انگریزی کالم شروع کر دیا جو کہ اگلے دن اردو میں اخبار میں چھپتا تھا۔ کچھ ہفتوں سے انگریزی والا کالم غائب ہو گیا۔ آج فون کیا تو بتایا کہ انگریزی میں لکھناچھوڑدیا ہے۔ یہ خبر صدمے سے کم نہ تھی!

یہ پاکستانی صحافت کی بدقسمتی ہے کہ اس پائے کا لکھاری جسے ہندوستان کے بڑے بڑے دانشوروں اور لکھاریوں نے پاکستان کا شیکسپئر قرار دیا لکھنا چھوڑ دے۔ وجہ صاف تھی۔ کوئی بھی دنیا ٹی وی کی ویب سائٹ پر جانے کا تکلف نہیں کرتا تھا۔ ان کا کالم پاکستان کے علاوہ بھارت میں بہت شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ مجھے تین بار بھارت جانے کا اتفاق ہوا اور نامی گرامی صحافیوں اور لکھاریوں سے ملاقاتیں ہوئی۔ سب کے سب ان کے مداح تھے اور نخرے کے ساتھ انگریزی لکھنے کے فن میں ایم جے اکبرکو بھارت کا ایاز امیر مانتے تھے۔ ایاز خود بھی ایم جے اکبر کے بارے میں اعلی رائے رکھتے ہیں۔ یہ سب لوگ ان کیلئے ڈان یا دی نیوز کی ویب سائٹ دیکھتے تھے۔ ان لوگوں کیلئے غیر معروف ٹی وی ویب سائٹ پر جا کر ان کا کالم پڑھنا ممکن نہ تھا۔ پھر ایاز سوشل میڈیا پر سرے سے موجود ہی نہیں کہ مداح ان کے صفحے پر جا کر کالم پڑھ لیں۔ جب انہیں انگریزی کالم کا ردعمل ملنا بند ہو گیا تو ان کا دل اچاٹ ہونا شروع ہو گیا۔ اب کی بار بولے کہ کوئی پڑھتا ہی نہیں انگریزی کالم سوائے آپ کے!

ایاز امیر کا انگریزی میں کالم لکھنا ترک کرنا ایسا ہی ہے جیسے استاد ولایت خان یہ کہیں کہ آج سے میں ستار بجانا چھوڑ رہا ہوں! پاکستانی انگریزی صحافت ان کے کالم کے بغیر ایسی ہے جیسے بھارت بڑے غلام علی خان کے بغیر! میں دوسروں کی بات نہیں کرتا صرف اپنے تجربے میں قارئین کو شامل کرنا چاہتا ہوں۔ ایاز کے کالم پڑھ پڑھ کر میں نے اپنی انگریزی لغت میں سترہ ہزار الفاظ کا اضافہ کیا۔ شیکسپیر نے اپنے کام میں 31,534 الفاظ استعمال کیے۔ ایک عام انسان جس کی مادری زبان انگریزی ہو کی لغت قریب دس ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایاز نے انگریزی زبان کو ایسے استعمال کیا جیسے موزارٹ نے سروں کو استعمال کیا۔ جیسے موزارٹ کی موسیقی انتہائی تخیلاتی ہے اور بہت مضبوط اور باتیرتیب سروں کی بڑھت پر مشتمل ہے ایسے ہی ایاز کی انگریزی ہے۔ میں موسیقی کا آدمی ہوں۔ اس دنیا کی کئی چیزیں اپنے محدود موسیقی کے علم کی بدولت با آسانی سمجھ لیتا ہوں۔ اچھے برے میں تمیز موسیقی اور تال کی مدد سے کر لیتا ہوں۔ ایاز کا کالم پڑھ کر وہی لطف اور سرور آتا ہے جیسے موزارٹ کی موسیقی سن کر۔ کیا کیا جملہ لکھا ہے انہوں نے۔ طنز اور حسن سے بھرپور۔ الفاظ کے مجموعے سے باکمال محاورے بنائے۔ کچھ جملے دھرا رہا ہوں ان کے:

1. A change of government only means replacing one form of infallibility with another. The kind we saw earlier was dressed in shalwar-kameez.

2. If present trends continue we will soon have more air marshals than squadrons in the air force.

3. On retiring they do not take to gardening or bird-watching but expect to be reincarnated in another form of service.

4. The colonial legacy does not mean aping foreign manners, something at which we excel.

جب تک ایاز ہفتے میں صرف ایک کالم لکھتے رہے ان کے کام میں آمد اور تخیلاتی سوچ عروج پر نظر آئی۔ لیکن جب ہفتے میں دو کالم ہوئے تو سوچوں نے اپنے آپ کو دھرانا شروع کر دیا۔ لیکن جہاں تک انگریزی لکھنے کی بات ہے اس میں کوئی کمی نظر نہ آئی۔ اس بات کو میرے دوست علی توقیر شیخ نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔ بقول ان کے ہم لوگ کالم زبان کے چسکے کے لئے پڑھتے ہیں۔ معلومات میں اضافہ کے لئے نہیں۔ اگر ایسا مقصود ہو تو مضامین یا ڈاکومنٹری ٹائپ چیزیں پڑھی جائیں۔ پھر علی نے مجھ سے سوال کیا کہ پاکستان کے انگریزی میں بہترین باقاعدگی سے لکھنے والے کالم نگار کتنے ہیں۔ میری گنتی تو پانچ تک نہ پہنچ سکی۔ میں نے کہا ایاز امیر، فقیر اعجازالدین اور عرفان حسین۔ جاوید نقوی اسی پائے کے ہیں مگر وہ بھارتی ہیں! علی نے اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ یہ تین ایسے ہیں جو انگریزی میں لکھتے ہیں۔ باقاعدہ لکھتے ہیں اوران کا اپنا انداز ہے۔ ایاز اور فقیر اعجاز مشکل پسند ہیں۔ عرفان کے کام میں حسین سادگی ہے۔ اعجاز فقیر پندرہ دن میں ایک کالم لکھتے ہیں اور کیا کمال کا لکھتے ہیں۔ اگر ایاز کو پڑھ کر موزارٹ کا مزہ آتا ہے تو اعجاز فقیر کو پڑھ کر استاد امیر خان کا مزہ آتا ہے۔ دونوں کا لکھنے کا انداز ایسا ہے کہ جیسے کوئی عظیم استاد راگ کی بڑھت کر رہا ہو!

ایاز سمجھتے ہیں کہ ان کا بہترین کام دی مسلم اور ویوپوائنٹ کے وقت کا ہے۔ تقریباً بیس برس سے وہ یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے کالم کتابی شکل میں اکھٹے ہو جائیں۔ مگر پہلے سیاست نے دم نہ لینے دیا۔ میری رائے میں اب یہ بہترین موقع ہے۔ جو وقت انگریزی کالم لکھنے میں لگتا تھا وہ کتاب لکھنے میں صرف کیا جا سکتا ہے۔ ایاز کے کالم صرف کالم نہیں بلکہ انگریزی ادب کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں پاکستان کی تاریخ بھی ملتی ہے۔ ان میں پاکستان کے تاریخی حالات کا موازنہ دنیا کی تاریخ سے ہوتا بھی نظر آتا ہے۔ آج کل کے اخباری کالم میں صرف چند کو چھوڑ کر باقی سب بھاڑ جھونکتے ہیں اور مدیر کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اسی قسم کے کالم نویسوں کو آگے لایا جائے جن کی تحریر میں کام کی کوئی بات نہ ہو۔ جس طرح پاکستان بڑے غلام علی خان کی قدر نہ کر سکا اور انہیں ملک چھوڑ کر بھارت جانے پر مجبور کر دیالگتا ہے ایسے ہی آج کا جید جاہل میڈیا ایاز امیر کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس سے پہلے کہ ایاز ہندوستان کے کسی بڑے اخبار میں لکھنا شروع کردیں، پاکستانی اخبارات کو کچھ کرنا چاہیے!

About Author

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. I have read Ayaz mir several time. but truly i would say, i could not comprehend his level and approach of mind and ultimately stopped following him. but continued reading his Urdu columns. No doubt hi is very good and having deep knowledge.

  2. ایاز امیر کے اردو کالم کا قاری رہا ہوں یقین کیجئے انگریزی جملے کا تاثر لیےوہ اردو کا کالم پڑھنا لطف آجاتا صاحب

Leave A Reply

%d bloggers like this: