اردو زبان: متبادل الفاظ یا متروک الفاظ، مسئلہ کیا ہے؟ عزیز ابن الحسن

1
  • 127
    Shares

ہم آئے روز کسی نہ کسی طرف سے ’’اردو میں بعض الفاظ کے متبادل نہ ہونے‘‘ کے مسئلے پر کچھ نہ کچھ سنتے رہتے ہیں۔

لیکن معلوم نہیں ایک اس سے بھی زیادہ بڑے اور سنگین مسئلے کی طرف اہلِ دانش توجہ کیوں نہیں فرماتے اور اگر فرماتے ہیں تو اس پر اتنی بھی کُڑھن کیوں کہیں نظر نہیں آتی جتنی مہنگائی یا لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر ہوتی ہے، حالانکہ یہ مسئلہ بھی کم سنگینی نہیں رکھتا۔

  1. یہ درست ہے کہ دنیا کی اکثر زبانوں کی طرح اردو میں بھی بعض مطالب کےلیے کچھ متعین الفاظ کا نہ ہونا بعید از امکان و قیاس نہیں ہے۔ اردو کی اس کمی کو انگریزی سے لفظ لے لینے (جو کہ عیب نہیں) سے پہلے اپنی مقامی زبانوں کے ذخیرۂ الفاظ سے پورا کرنا چاہیے۔
  2. لیکن دوسرا اور سنگین مسئلہ، جو علمی سے زیادہ نفسیاتی ہے، یہ ہے کہ ہماری زبان میں بے شمار الفاظ ایسے بھی ہیں جو ابھی چند دہائیاں پہلے تک ہماری روز مرہ زندگی میں بلاتکلف مستعمل تھے اور ہماری ہر ضرورت کو پورا کررہے تھے مگر پھر اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ انکی جگہ منوں کے حساب سے انگریزی الفاظ و مرکبات ہمارے منہ اور زندگی میں داخل ہونا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے ہمارے خوبصورت الفاظ کو ایک طرح سے زندگی باہر کردیا۔

یوں تو اسکی مثالیں ہمارے ہر گوشۂ حیات میں بے حدوحساب ہیں مگر ہم صرف اپنے گھر باہر، باورچی خانوں اور رسوئی گھروں میں کھانے پینے کی اشیا کے ناموں اور ان سے زیادہ اپنے پکوانوں کی تراکیبِ و پکوائی کیلیے مروج الفاظ پر ہی ایک سرسری سی نظر ڈال لیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ہم اپنے کتنے ہی مقامی و دیسی الفاظ سے بہ سرعت محروم ہوتے جارہے ہیں۔ اسمیں تو چلیے ہم اپنے معاشرے میں جنگلی کھمبیوں کی طرح اُگے ٹی وی چیلنز کو قصور وار ٹھہرا دیں گے کہ جنکے صبح کے پروگراموں میں کھانے پکانے کی “ریسیپیز” نے ہمیں چمچ کو سپون نمک کو سالٹ اور لہسن کو گارلک کہنے پر لگا دیا ہے مگر اس بات کے لیے ہم کسے دوشی ٹھہرائیں گے کہ اب گلی محلے اور بازاروں کی دکانوں تک پہ ہمیں ملک اینڈ دہی شاپ، بوٹ اینڈ چپل ہاؤس لکھا نظر آتا ہے۔ حجام کی دکان اب باربر شاپ ہے قصائی بیف اینڈ مٹن فروش اور موچی شُومیکر ہے۔
اور آگے بڑھیے تو تعمیرات سے متعلق دکانیں تعمیراتی سامان/مسالہ فروش کے بجائے کنسٹرکشن میٹیریل سیل کرتی نظر آئیں گی۔ اب تو نہایت کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ مستری مزدور بھی میسن اور لیبر کہلاتے ملتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے عام کرخنداروں نے بیسیوں انگریری آلات کو “اُردوا” کر plier کو پلاس اور wrench کو پانا بنا کر وہ کام کر دکھایا جس کیلیے بعد میں مقدرہ قومی زبان جیسے ادارے بنانے پڑے تھے۔ مگر اب گاڑیوں کی مستری موٹر میکینک “چِپ کش” ڈنٹر اور’’ رنگ کار‘‘ پنٹر کہلانے لگے ہیں۔

اردو میں بعض اشیا و تصوارت و مطالب کی ادائیگی کیلیے الفاظ کے فقدان کا گلہ ضرور کرنا چاہیے مگر پہلے اس المیے کے اسباب کو تو کھوج لیں کہ اردو میں موجود سیکڑوں روز مرہ کے الفاظ کو ہم کیوں اور کس مجبوری کے سبب بھولتے جا رہے ہیں؟

شان الحق حقی کے بعد مشتاق احمد یوسفی ہمارے اس المیے پر رونے والے آخری ایسے نثرنگار رہ گئے ہیں جو ہماری اردو کے مرتے گمشدہ ہوتے زخیرہ الفاظ پر نوحہ گری کیا کرتے تھے۔ یوسفی صاحب نے آبِ گم میں رنگوں کیلیے اردو کے بیسیوں ایسے الفاظ کی فہرست دی ہے جن میں سے اکثر اب ہمارے لیے اجنبی ہوچکے ہیں اور ان کیلیے اب ہم بے کسی شہابی احساس کے بغیر انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ قرمزی نارنجی شربتی رنگوں کو آج کون جانتا ہے؟ اودے پیلے نیلے رنگ سے بھی، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو بہت جلد اقبال کا شعر
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
پڑھنے والے پریوں کے عاشق ہی واقف رہ جائیں گے۔

مقصد اس ساری دراز نفسی سے یہ ہے کہ اردو میں بعض اشیا و تصوارت و مطالب کی ادائیگی کیلیے الفاظ کے فقدان کا گلہ ہمیں ضرور کرنا چاہیے مگر پہلے ہم اس المیے کے اسباب کو تو کھوج لیں کہ اردو زبان میں موجود سیکڑوں ہزاروں روز مرہ کے الفاظ کو ہم کیوں اور کس مجبوری کے سبب بھولتے جا رہے ہیں؟

راقم کے نزیک اسکی صرف اور محض ایک وجہ ہے اور وہ ہے اپنی زبان کیلیے احساسِ کمتری اور انگریزی کے الفاظ اور جدید لائف اسٹائل کے مقابل اپنے مقامی و دیسی اسلوبِ حیات و ثقافتی اقدار کیلیے احساسِ ندامت و شکست۔
جب افراد و اقوام میں اپنے تہذیبی ورثے اور اقدار سے جُڑی علامات کیلیے ایک خاص طرح کی “عصبیت”(یاد رہے میں یہ لفظ مثبت معنی میں استعمال کر رہا ہوں) باقی نہ رہے تو اس قوم کی حیثیت گردابِ وقت میں تھپیڑے کھاتی بن مانجھی کی ناؤ جیسی رہ جاتی ہے جسکی ناغرقابی ایک معجزہ ہی سمجھیے۔

دوسری زبانوں سے نت نئے الفاظ کو تخلیقی مہارتوں کے ساتھ اپنانے اور اور اپنے روایتی ذخیرۂ الفاظ کو مردہ ہونے سے بچانے کیلیے اگر ہم میں وہ خاص عصبیت اور خوابوں کو حقیقت بنانے والے فولادی عزم کی کمی رہے گی تو یقین جانیے کہ اپنا کوئی لفظ و علامت ہماری روز مرہ زندگی میں کبھی چلن نہیں پاسکتا۔ الفاظ و اشیا کے پیچھے اگر انکو عمل میں مروج رکھنے اور چلن میں برقرار رکھنے کا اردہ کمزور پڑ جائے تو دنیا بھر کے دائرۃالمعارف اور لغت ہائے مشرق و مغرب بھی ہمیں گونگا ہونے سے نہیں بچا سکیں گے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: