دانش daanish.pk پر ہی کیوں؟ چوہدری محمدخان قلندر

0

ہائی سکول میں پڑھایا جانے والا مضمون، واقفیت عامہ، پچھلی چھ دہائیوں میں ہمارے سامنے، ایک اہم ترین اقتصادی عمل، ابلاغ عامہ بن گیا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کے محکموں میں پبلک ریلیشن ونگ، وزارت اطلاعات، ریڈیو اور سرکاری ٹی وی کی ذرائع ابلاغ ہونے کی اجارہ داری بھی ختم ہو گئی، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کی کی برتری بھی سوشل میڈیا کے آگے سر نگوں ہو گئی تو ہر ذی شعور کا اس طاقتور ترین نیٹ ورک کا حصہ بننا ناگزیر ٹھہرا۔

میڈیا نے مجموعی طور پر نہ صرف ایک اہم عامل پیدوار کی جگہ لی ہے اور مارکیٹ اکانومی میں سب سے اہم عنصر بناہے بلکہ ریاست کے چوتھے ستون کا کردار بھی سنبھال لیا، ساتھ میڈیا ہی سب سے بڑی انڈسٹری بن کے اُبھرا۔ سماجی روایات و اقدار بھی اس کی لپیٹ میں آ گئیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی بغیر کسی باقاعدہ تعلیمی نظام کے عام لوگ بھی حسب ضرورت سمجھنے لگے۔ یوں معاشرے میں آج سوشل میڈیا آکسیجن کے بعد سب سے بڑی ضرورت ہے، اس کی رسائی کی کوئی قیود و حدود نہ متعین ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ مارکیٹ میں نیٹ ورکس باہم مقابل ہیں، تا حال فیس بُک کی برتری قائم ہے، اب اس میں کاروباری پہلو تو بنیاد ہے ہی، کہ موجودہ اقتصادی نظام، اشتہاری صنعت پر ہی چل سکتا ہے۔ یوں ہمارے ہاں بھی پیجز، گروپس اور کمرشل سائیٹس بننے لگیں، ابتدا میں تو الیکٹرانک میڈیا کی مشہور شخصیات نے ان میں لیڈ لی، پھر یہ پھیلاؤ وسیع ہو گیا۔ اس میں بہتر ماہر اور پروفیشنل شامل ہونے لگے۔ نہ صرف افراد بلکہ اداروں تک نے اپنے اپنے پیجز اور گروپس بنالئے فیس بُک کے ہر صارف کو اپنی پسند اور ضرورت کے گروپ جوائن کرنے کے مواقع میسر ہو گئے۔

یہاں میڈیا کی ہر شاخ کی طرح مقبولیت کا معیار قارئین اور ناظرین کی تعداد ٹھہری، مارکیٹ میں مقابلہ کی جہت یہاں بھی رائج ہے۔ پچھلے دو سال کے دوران جتنے گروپس سے تعارف پیش آیا، وہ اتنا متاثر کُن نہیں تھا کہ ان پہ بطور لکھاری شمولیت اختیار کی جائے۔ فیس بُک کی مین وال تو ایک گُزر گاہ ہے، جہاں پڑھنے سے دیکھا جاتا ہے، تصاویر، ویڈیوز، فوٹو، محدود الفاظ کے سٹیٹس، اور چُٹکلے جو ایک نظر ڈال کے ناظر آگے بڑھ جاتا ہے، بامقصد تحریر طوالت کی متقاضی ہوتی ہے۔ کہانی کی حقیقت اختصار سے بے اثر ہو جاتی ہے۔ افسانہ قطع و برید سے بے جان ہو جاتا ہے، یہاں قاری کا ذہن جلد روی کا شکار ہوتا ہے، جب کہ تحریر جس موضوع پر ہو اسکی جزئیات پر محیط نہ ہو تو بیکار ہے، تو لا محالہ گروپس میں جانا لازم ہے کہ مضمون مفصل لکھا جائے اور اس سے انصاف کیا جائے۔

اب یہاں موجود پیجز اور گروپس کا جائزہ لینا درکار ہے۔ اگرچہ ہر گروپ میں دوست موجود ہیں، لیکن سوال یہ کیا کسی گروپ کا مزاج اور ترویج اس قابل ہے کہ کوئی راقم، اپنےسوز دل سے لکھی تحریر جو اس کی سوچ، تخیل، احساس، جذبات، مطالعہ، مشائدہ، اور تصور کو خون جگر سے الفاظ میں سینچا گیا ہو، پوسٹ کرے؟ گروپس کی اکثریت ریٹنگ کے لئے کوئی بھی استفہامی، عامیانہ، سنسنی خیز اور جنسی تحریر چھاپنے سے گریز نہی کرتی، معیار یہ کے پیج کو زیادہ سے زیادہ لوگ وزٹ کریں، یہ مشکل ہر سنجیدہ اور دیدہ ور لکھاری کو درپیش ہے۔

پیج یا گروپ پیج تو اخبار کے ایڈیٹوریل صفحے کا بدل ہے اور تحریر بھی کالم یا مضمون کا نعم البدل ہو، تو ابلاغ کا اسلوب بھی اس کا متحمل ہونا چاہیئے۔ چنانچہ اس تناظر میں دانش گروپ سے دل چسپی کے اسباب بھی دل چسپ ہیں۔

پہلا سبب ہے علاقائی عصبیت جی ہاں علاقائی عصبیت، دریائے سندھ کے مشرق میں شمالی پنجاب کے تین قدیمی اضلاع، اٹک، جہلم اور خوشاب کے باسیوں کی ایک مشہور روایت ہے کہ کسی سے پہلی ملاقات میں اس کے گاؤں کا نام پوچھتے ہیں، پھر آپس میں ڈاکخانہ ملاتے ہیں، جس سے انکے بیچ گرائیں کا رشتہ بن جاتا ہے۔ یہ رشتہ محض دوستی تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں تک چلتا ہے۔ دانش کے منتظم اعلی عزیزم شاہد اعوان سے تعارف میں یہی ہوا۔ شاہد اعوان کی علمی و ادبی شخصیت ان کی عمر سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک میر محفل کے طور پر جس قدر ذوق و شوق سے دانش کی محفل سجائی گئی ہے وہی اپنی مثال آپ کہی جا سکتی ہے۔ مزید برآں دیگر احباب تو ہماری فہرست دوستاں میں موجود تھے۔ لیکن اہم ترین وجہ جناب فتح محمد ملک صاحب کی مجلس مشاورت میں تصویر کی موجودگی بنی، ایک فطری سکُون پیدا ہوا، دوسری وجہ دانش کے دیگر احباب کی فیس بُک پر تحاریر اور دانش ویب پر چھپنے والے مضامین ہیں جو پڑھتے آ رہے ہیں، اور جن کا معیار اطمینان بخش ہے۔

اور پھر سینئر مدیرہ حبیبہ طلعت کی خوبصورت تمہید اور عمدہ انتخاب بھی ہے، جن سے جید شعراء کے منتخب کلام اور تبصراتی تحریر کے باعث الگ تعلق خاطر استوار ہے۔ دیگر احباب مثلا سینئر مدیر میاں ارشد فاروق اور چوہدری بابر عباس سے بھی مراسم ہیں۔ ٹیم کے دیگر ارکان اور لکھاری بھی اپنی سنجیدہ، ادبی، سماجی اور سیاسی و عالمی موضوعات کی تخلیقات سے پختگی اور معیار کا تاثر چھوڑتے ہیں۔ غرض دانشکدہ پے کہ ایک رنگارنگ پھولوں کا ایک خوب صورت گلدستہ ہے۔

ان سب باتوں کے علاوہ، دانش کا ادارتی معیار اہم ترین وجہ ہے۔ ابلاغ تو سُنت ہے، صداقت اور امانت ہے، کسی مالی منفعت کے لئے کسی بھی چیز میں تحریف نہ کرنا اور نہ کرنے دینا، ہی اصل معیار ہے۔ یہاں دعا لازم ہے، کہ دانش کے دانشور اس معیار کو برقرار رکھ سکیں۔

وکالت کی لت سے جان چھڑانے کے بعد شعر و ادب ہی ایک فیلڈ ہے جس کا شوق اس دور میں احساس زندگی برقرار رکھنے میں ممد و معاون ہے، قانونی انگریزی لکھنے میں عمر گزار کے اکنامکس کی خدمت کر لی، اب وقت ہے کہ کچھ قرض ادا کئے جائیں، زندگی کے تجربات کے نچوڑ سے دوستوں کو آگاہ کیا جائے۔

جس ملک اور دھرتی کی بدولت ہم سب کو زندگی کی ہر نعمت میسر ہوئی اس کی بہتری کی سوچ کو خلوص نیت سے تحریر میں ڈھالا جائے، اور ثقافت اور روایات کی آبیاری بھی اس وسیلے سے ممکن ہے چنانچہ اللہ نے چاہا تو اب دانش کے پلیٹ فارم سے ہم باقاعدہ لکھیں گے۔

مالک نے جو ہُنر عطا کیاہے، پچاس سال بعد بھی اردو کی لغت ذہن میں محفوظ ہے۔ ہر موضوع پے معلومات اور مشاہدے جو چھ عشروں پر محیط ہیں، یاد سے دستیاب ہیں، اب دوستوں کا ساتھ رہا، تو انشااللہ حتی المقدور کاوش ہو گی کِہ با مقصد اور شُستہ تحریر لکھی جائے اور شائستگی سے پیش کی جائے۔

آخر میں عہد قدیم میں لکھے شعر

ہم ہیں ہیں کون سے وَلی،کِسی کام پہ جو لگا کئے
ہم عام سے بھی عام ہوں، در در پہ جا گدا کئے
حادثے ہی تو یہ سبھی راستوں کو بنا کئے
اور ہم چُپ چاپ سے ان راستوں پہ چلا کئے
بس میں ہمارا تھا نہ کچھ ہم سے کیوں یہ گلہ کیے
تہمت عشق ہے کیوں، کیا سگ سے بھی وفا کیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: