این اے 120 کا ضمنی انتخاب یا سیاسی اکھاڑا: راحیلہ سلطان

0

این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی گرمی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے شیر کی دھاڑ اور پی ٹی آئی کے بلے کی مار دونوں کے بیچ تیر کسی اور ہی رخ پر نکل گیا ہے۔ اب یہ قیاس نہیں کہ کہیں ایک تیر دو شکار نہ ہوجائے جو پاکستانی سیاست کی روایت ہے۔

اس انتخاب کی خاص بات یہ ہے کہ دو خواتین ایک دوسرے کی مقابل ہیں۔ PTI کی ڈاکٹر یاسمین راشد بردبار بااخلاق اور انکساری کا روپ لے کر انتخابی مہم میں ایک نئ طرح ڈال رہی ہیں۔ ان کی گھر گھر دروازے کھٹکھٹاتی سیاست اور علاقے کی خواتین مکینوں سے گرمجوشی سے گلے ملتی ووٹ کی مہم میڈیا میں کافی پذیرائی حاصل کر رہی ہے مگر یہ رسم اگلے انتخابات میں بہت سے سریے والی گردنوں اور کھڑے کالروں کے لیے مسئلہ بن جائے گی۔ گو شیر کی کچھار میں سے ہاتھ ڈال کر اس کا نوالہ چھیننا آسان نہیں مگر ڈاکٹر صاحبہ پرعزم دکھائ دیتی ہیں شاید ان کو حلقے کی عوام کچھ باشعور محسوس ہورہی ہے یا گزشتہ تجربات سے سبق حاصل کرنے امکان لگ رہا ہے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ کرکٹ میچ ہو یا انتخابی نتائج پانسہ پلٹنے والے پانسہ پلٹ ہی دیتے ہیں۔

دوسری طرف مریم نواز اپنی والدہ کی غیر حاضری کے باعث ان کی انتخابی مہم میں سرگرم یا سرگرداں ہیں۔ کلثوم نواز صاحبہ علالت کے باعث لندن منتقل ہیں یا منتقل کر دی گئی ہیں اس کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اگر وہ ہوتیں تو مریم سے زیادہ عوامی توجہ اور توقع ان کی جانب ہوتی مگر شاید اس عمر میں ان کی توانائی کم دکھائی دیتی جو کہ اس مہم کے لیے ناگزیر ہے اور پھر ایک ناکامی کے بعد مریم نواز کو لانچ کرنے کا یہ دوسرا موقع بھی ہاتھ سے چلا جاتا۔ اب دختر نواز کسی سیاست دان کا انداز اپنائیں یا لباس، عوام میں دوبدو آگئی ہیں۔ وہی پرانی مسلم لیگ ن مریم نواز کے روپ میں نظر آتی ہے۔ حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال، عوامی نمائندہ بننے کی تگ و دو میں مصروف، اسٹیج سجائے، نعروں کے شورمیں، اپوزیشن پر کیچڑ اچھالتے ہوئے، اداروں پر طنزیہ جملے کستے ہوئے، اپنی مظلومیت کا رونا اور مریم وہی روایتی سیاست کرتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ شاید یہ مریم کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ وہ عوام میں اپنی انفرادیت کی دھاک جماتیں مگر انہوں نے دوسروں کے رنگ مستعار لیے اور وہ جو کہتے ہیں کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے سو یہاں عقل کاکال نظر آیا۔

بظاہر ایک ضمنی انتخاب مگر سب کی نظریں اسی جانب۔ ۔ کیا یہ محض دو جماعتوں کی رسہ کشی ہے یا آزاد عدلیہ کی بقا کی جنگ۔ ۔ تبدیلی کے نعرے کی یا کرپشن کے مستقبل کی جنگ۔ عوام کے ووٹ کے شعور یا نادانی کی جنگ۔ کہیں یہ ایک بااختیار خاندان کی انا کی سربلندی اور منہ زوری کی لڑائی بھی نظر آتی ہے۔ کون جیتے گا کون ہارے گا یہ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا اور شاید یہ انتخاب اگلے انتخابات کا رخ بھی متعین کردے مگر یہ بھی قرین قیاس نہیں کہ پاکستان کی آیندہ کی سیاست میں یہ انتخابات سنگ میل کی حیثیت رکھیں گے۔ خان صاحب کی مقبولیت اور شخصی مقناطیسیت اپنی جگہ مگر ن لیگ کے لیے اب یہ عزت اور انا کا مسلہ بن چکا ہے۔ کیونکہ “مجھے کیوں نکالا ” کا نعرہ اب اس ہی انتخاب کے نتائج کا خون پی کر زندہ ہوگا۔

یہ حقیقت ہے کہ نوٹ اور ووٹ دونوں نکلوانے بہت مشکل ہیں الیکشن مہم کے دوران نعرے مارتے تالیاں بجاتے ہوئے ہجوم پر یا جلسے جلوسوں میں سو دو سو روپے اور بریانی کی ایک پلیٹ کے عوض آئی عوام پر آپ جیت کا تعین نہیں کرسکتے۔ عوام کتنی باشعور ہے یا ماضی سے اس نے کیا سبق سیکھا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن وہ لوگ جو پاکستان میں تبدیلی کی ہوا کی پیشن گوئی کر رہے ہیں ایک چکر اندورن سندھ کا لگالیں جہاں آج بھی بنیادی حقوق سے محروم عوام ہرسال گڑھی شاہو میں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کہ نعرہ پر رقص کرتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: