شکوہ جواب شکوہ دور جدید کے آئینے میں: یگانہ نجمی

1
  • 26
    Shares

شکوہ جواب شکوہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اردو ادب میں ایک انوکھی چیز ہے ندرت خیال کے علاوہ اس میں حقیقت نگا ری اور شاعرانہ مصوری کی شان بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس نظم میں اقبال نے لفظوں کے ذریعہ مسلمانوں کی تاریخ کی تصویر کھینچی ہے اور تخیل کے مو قلم سے اس میں ایسی رنگ آمیزی کی ہے کہ حقیقت مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے ان سب کے ساتھ ساتھ شکوہ جواب شکوہ کی زبان اس قدر دلکش ہے اور اشعار کی سلاست وروانی کا یہ عالم ہے کہ پڑھنے والے پر محویت کا عالم طاری ہوجاتا ہے استعارہ تشبیہ اور رمز و کنایہ کے تذکرے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

شکوہ اس دور میں لکھی گئی جب مسلمانان ہند مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور اس کیفیت کی وجہ سے وہ خود کو بے بس و لاچار تصور کرنے لگے تھے۔ ان کے ذہن میں اس تنزلی کی وجہ سے جو سوالات پیدا ہو رہے تھے اور جن کا وہ برملا اظہارکرتے نظر آتے تھے۔ اقبال نے نظم میں شکوہ کے عنوان سے ان کا اظہار کیا۔ اس نظم کی ابتداء میں انھوں نے کمال جراؑت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں اس شکوے کو پیش کیا ہے انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تسلیم و رضا بے شک ایک مسلمان کا شیوہ ہے لیکن چونکہ ان کا دل درد کی شدد سے اس قدر بے چین ہے کہ ضبط نہیں ہوسکتا، اس لیے اگر میں تیری بارگاہ میں اپنے درد کا قصہ بیان کرتا ہوں تو مجھے معذور سمجھ کر معاف کردے اور اپنے اس عاجز بندے سے جو حمد و ثناء کا خوگر ہے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ تیری ذات اور یہ کائنات قدیم ہے اور تو ہمیشہ سے موجود ہے مگر تیری صفات جلوہ آرا نہ تھی تو خود انصاف کر اگر مسلمان نہ ہوتے تو تیری صفات کا علم دنیا کو کیسے ہوتا پس ہم مسلمانوں نے تیرے نام کو بلند کیا اور جس قدر اس سلسلے میں کوشش کی یہ ہمارے لیے راحت خاطر کا باعث تھی ورنہ تیرے محبوب کی امت دیوانی تو نہ تھی کہ اس نے بلا وجہ ساری دنیا کو اپنا دشمن بنالیا اس وقت میں بھی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اور آج مسلمان جس طرح کفر کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ان پر اپنے ہی وطن میں عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے برما کے مسلمانوں کی حالت زار پھر شام کی صورت حال کو دیکھا جائے تو مسلمان کفر الحاد کی جنگ لڑ رہے ہیں.
توحید دراصل تمام دنیا کے کفر کے خلاف اعلان جنگ ہے اس لیے جب مسلمانوں نے توحید کا پرچم بلند کیا تو ساری دنیا ان کی دشمن ہو گئی۔

اس کے بعد اقبال اپنے دعوے پر دلیل پیش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے لوگ پتھروں اور درختوںکو خدا مانت تھے چونکہ انسان پیکر محسوس کا عادی ہوچکا تھا۔اس لیے وہ تجھ کو ‘‘کہ تو،آنکھ سے نظر نہیں آتاکیسے اپنا معبود بناسکتے تھے۔
جواب شکوہ، شکوہ کے جواب میں لکھی گئی معرکتہ ا لآارا نظم ہے جوکہ ۱۹۱۳میں لکھی گئی اور موچی دروازے کے باہر اس جلسہ میں سنائی گئی۔ جو حضرت مولانا ظفر علی خان کے زیر اہتمام جنگ بلقان کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا۔ تاکہ ترکوں کے لیے چندہ جمع کیا جائے۔ نظم کے اختتام پر اس کی کاپیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں اور وہ تمام رقم بلقان فنڈ میں دے دی گئی۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے      گر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے شکوہ میں اٹھائے جانے والے ہر اس سوال کا جواب منطقی دلائل سے دیا ۔جو کہ مسلمانوں کی پستی، ناکامی اور زبوں حالی کا سبب تھی۔ مسلمان قوم کا یہ سمجھنا کہ وہ ایک اللہ کو ماننے والی اور اسلام کو پھیلانے والے ہیں پر اس کے باوجود وہ ناکام و نامراد ہیں۔ درحقیقت دیکھا جائے تو مسلمانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ دل سے اللہ کے منکر ہو گئے ہیںرسو ل اللہ کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ جو بت شکن تھے وہ رخصت ہو چکے اب بت پرست رہ گئے ہیں, اب ہم نے مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور آ ج کے حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو مسلمان آج اللہ کے بجائے دولت، عہدے، خطابات، جاگیروں کی پوجا شروع کردی ہے جبکہ مسلمان کیلئے

یہ مال ودولت ِ دنیا یہ رشتہ و پیوند          بتانِ وہم و گماں لاالہ الااللہ

مسلمان علم جن کی میراث تھا۔ جو بڑی بڑی ایجادا ت کے مالک تھے جنھوں نے اپنے علم و ہنر سے دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ وہ آج ذات پات اونچ نیچ حتیٰ کہ فرقوں میں بٹ گئی ہے یہ تقسیم اسے کمزور کر رہی ہے اور جس کا فائدہ کفر یہ طاقتیں اٹھا رہی ہیں وہ کہتے ہیں۔

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

یعنی جب ستاروں میں جذب باہم باقی نہ رہے تو کیا کوئی ستارہ اپنی جگہ قائم رہ سکتا ہے ۔مصلحت کا شکار آج کا مسلمان صرف اس چیزکو اختیار کر رہا ہے جس میں اس کا ذاتی نفع ہو اس کے دل میں اللہ اور اسکے رسول کی تعلیمات کی کوئی قیمت نہیں۔
ایک شور مچا ہواہے کہ مسلمان مٹے جا رہے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ مسلمان ہیں ہی کہاں کہ جن کے مٹنے کا ذکر کیا جا رہا ہے جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ اپنی دیانت داری اور معاملات کے اعتبار سے یہود سے بد تر۔ یعنی مسلمان جس کی شان امانت وصداقت تھی ۔لیکن اب وہ بددیانتی اور جھوٹ کا نشان بن گیا ہے۔
آج مسلمان مسلمان کا دشمن ہے جبکہ اُس دورمیں مسلما ن ایک دوسرے پر مہربان تھے اسی لیے وہ باوجود قلیل ہونے کے اکثریت پر غالب آئے۔

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈرسے بخشش کانہ تھا یارا

انھیں اپنے اس کردار پر نظر رکھنا ہو گی ۔یعنی مسلمانوں کو کاسئہ گدائی توڑ کر غیرت مند ی کی زندگی گزارنا پڑے گی ۔کیوں کہ جب تک وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلائے رکھیں گے۔ انھیں ایسے ہی بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ نظم ۱۹۱۳ میں لکھی گئی مگر جن مشکلات کا سامنااس وقت کے مسلمانوں کو تھا جس کو وہ اپنا مقدر سمجھ بیٹھے تھے۔ ان حالات کے پیش نظر اسوقت بھی بت پرست اس بات پر خوش تھے کہ مسلمان صفحہ ہستی سے مٹ جائیںگے ۔ بظاہر اس وقت بھی یہ ہی نظر آرہا ہے پر ایسا نہ تب ہوا تھا نہ اب ہوگا ۔اس لئے کہ آج بھی مسلمان اس آتش عشق کا منتظر ہیں کہ کوئی آئے اور ان کے سینوںمیں اس آگ کو بھڑکا دے۔ اورجب یہ آتش عشق بھڑک جائے گی تو پھر تدبیر، مشیت سے ہم آہنگ ہو جائے گی۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: