….تے بیبا ساڈا دل موڑ دے: سحرش عثمان

0
  • 94
    Shares

‘جے تو اکھیاں دے سامنے نئیں رہنا — تے بیبا ساڈا دل موڑ دے’
واٹس ایپ پہ آڈیو شئیر کی تو سلگتا ہوا جواب آیا:
‘کیا دل؟ کیا احساسات؟ یہ جسم کا رشتہ ہے بس-‘
ہنس کر پوچھا ‘بھائی’ سے لڑ پڑی ہو کیا؟
کہنے لگی کیا فرق پڑتا ہے کسی سے بھی ناراض ہوجاؤں- جیوں یا مر جاؤں-
پوچھا کیوں زندگی سے اتنی بیزار ہو؟
زندگی میں مسئلے تو ہوتے ہی ہیں نا- اچھے برے فیز آتے رہتے ہیں-
بولی “زندگی ایک ڈراونا خواب ہے جس میں کبھی کبھی آنکھ کھلنے کا وقفہ اچھا فیز کہلاتا ہے”

مجھے اس جملے کے بھنور میں الجھا کر پرسوں سے آف لائن ہے وہ- فون کروں تو ریسیو نہیں کرتی- بہت سارے میسجز کا بس یہ جواب دیا “زندہ ہی ہوں”
اب میں بھی چپ ہوں- جویریہ آپی لکھتی ہیں نا “شہرزاد”
مجھے اس دن سے لگ رہا ہے میری شہرزاد کھو رہی ہے دنیا کی بھیڑ میں-

وہ جو سارا دن سکیچ بک سینے سے لگائے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے کاریڈورز میں بھٹکتی رہتی تھی- کئی بار تو ہمیں اس پر کسی یونانی دیوی کا گماں گزرتا تھا، جو کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر غلطی سے ہمارے زمانے کی دنیا میں آ نکلی تھی اور اب حیران نظروں سے اپنے اطراف میں بسے لوگوں کو دیکھا کرتی تھی-
ہاں اس کے چہرے پر آنکھیں تھیں- یا اس کا پورا چہرہ ہی آنکھ تھا- ہنستی مسکراتی روتی آنکھ-

وہ لڑکی جو اس بات پہ پہروں اداس رہتی تھی کہ اس سے کلر اچھا مکس نہیں ہوا- جب ہم کنٹین میں شور و غل برپا کرتے تھے، وہ میز پر کہنی ٹکائے اطراف میں بیٹھے لوگوں کو بس حیران نظروں سے دیکھا کرتی تھی- اور جب اپنے اس شغل سے اکتا جاتی تو اپنی سکیچ بک کھول کے کسی حسین چہرے کو قید کرنے لگتی تھی-
اس کے ہاتھ کے بنے سکیچ ابھی بھی میری کتابوں میں ملتے ہیں- وہ جو ہم چوری کر لیتے تھے اسے تنگ کرنے کے لیے- معصوم تھی- پرتھی ہماری ہی دوست- کمینی ڈائیریکٹ یقین کرتی تھی ہم پر اور پہلی ہی کلاس میں ہماری پیشی لگا لیتی تھی- خیر وہ سکیچ نہ کبھی اسے ملنے تھے نہ ملے-
پرسوں سے اس کے آف لائن ہونے سے لگ رہا ہے جیسے اب اس نے سکیچ بک بند کردی- یا کہیں پھینک دی-
یا —- جلا کر راکھ کر دی-

سکیچ بک اس کی ذات کا حصہ تھی- لازمی حصہ- جیسے اس کا ڈمپل تھا- جو ہنستے ہوئے اس کو مخروطی انگلیوں والی دیوی بنا دیتا تھا- ہنستے ہوئے ہاتھ سے آدھا ڈمپل ڈھانپ لیا کرتی تھی- جیسے سرد رات میں آدھا چاند بادلوں میں چھپ جائے اور پھر دیکھنے والا فیصلہ نہ کر پائے کہ بادلوں میں چھپا چاند دیکھے یا باقی کا آدھا-

ایسی ہی تھی بس-
ہماری تو خیر مہندی آرٹسٹ بھی وہی تھی- عید ہو یا کسی کی شادی- فن فئیر ہو یا یونہی ہم پر اچانک اپنی نسوانیت کا کشف ہوا ہو- بس اس کو میسج کرنا ہوتا تھا ‘مہندی لے آنا صبح’- اور پھر کینٹین میں چھپ کر اس سے مہندی لگوانا ہمارا معمول تھا-

تھرڈ ائیر کا آغاز تھا — مارچ کے آخری آخری دن- موسم میں بہار کی اداسی رچی تھی- کیاریوں میں، گملوں میں، لانز میں، بہت سارے پھول کھل کر، میرے خزاں اور سردی کے سنہری پن سے عشق پہ بہاروں کا، جوبن کا گلابی کوفت بن کے چھایا تھا – کہ اس نے پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھا- بازو سے پکڑ کر مجھے کھینچا اور کنٹین میں لے جا کر دم لیا-
جھنجھلا کر میں نے پوچھا کیا تکلیف ہے؟ اتنی فرصت سے میں اداسی اوڑھے بیٹھی تھی-
اس نے سکیچ بک سے ایک تصویر نکالی اور آنکھوں کے سامنے لہرائی، یہ دیکھو-
یہ مونچھوں والا آلو کون ہے؟؟ ہک ہاہ ہماری زبان کے آگے بھی خندق ہی رہی ہمیشہ- کہہ کر بلکہ پوچھ کر پچھتائے وہ باقاعدہ ناراض ہو چکی تھی اور اب اپنی چیزیں سمیٹ کر جانے کی تیاری کر رہی تھی- بڑی مشکل سے منت سماجت کر کے منایا اسے اور پکا سا منہ بنا کر بیٹھ گئے تو کہنے لگی- رشتے کے ماموں کے بیٹے ہیں- کسی شادی میں دیکھا تھا، فلیٹ ہوگئے- اب مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں- کل شام امی ابا نے ہاں کر دی ہے- ہفتے کی شام کو منگنی ہے-

ہم ابھی مونچھوں والے آلو کی تاب ہی نہ لا پائے تھے کہ اس نے تابڑ توڑ حملے کی صورت ساری خبریں ایک ہی سانس میں سنا کر دم لیا-
اس سے پیشتر کہ ہم اسے ‘بغاوت’ پر آمادہ کرتے، اس کے چہرے کے چھلکتے رنگوں میں ہماری بغاوت پر مبنی تقریر کے سارے دلائل غرق ہوگئے-
گلے لگا کر مبارک باد دی- اسی وقت کنٹین سے آئسکریم کھا کہ منہ میٹھا کیا- اسی سے مہندی لگوا کر اسی کی منگنی کا فنکشن انجواے کیا-
اب اس کی زندگی سے رنگ ایسے چھلکنے لگے تھے جیسے آئل پینٹگ سے رنگ چھلکے رہتے ہیں-
سکیچ بک پہ کچھ بناتے بناتے اچانک انگلی میں پڑی انگھوٹھی گھمانے لگتی اور ہم سب مل کر اس کا اچھا خاصا مذاق بنا دیتے-
وہ کبھی ہماری بات پر ناراض ہوجاتی کبھی غصہ کرتی اور کبھی ہنس پڑتی-
انہی موڈ سونگز میں اس نے شادی کا کارڈ لا تھمایا-
فائنلز کی ٹینشن میں اس کی شادی مس ہوگئی- خیر شادی کے بعد پیپرز ختم اور نیند پوری ہوگئی تو تخفہ لے کر اس یونانی دیوی کو منانے چل پڑے-
اس کو منانا کونسا مشکل کام تھا- دو رنگوں کے ڈبے ایک برش کا پیکٹ چار پانچ نیل کلرز پرفیوم اور مان گئی-
لہذا ضروری سامان لیا اور چل پڑے-

اس کے سسرال میں قدم رکھا تو قدیم زمانوں کی حیران دیوی اداس اور سہمی ہوئی ملی-نئی جگہ نئے ماحول کی حیرانی سمجھ کر نظر انداز کیا- چائے کے کپ کے ساتھ ہم نے تفشیش کاآغاز کیا- نیل کلر کدھر گیا تمہارا؟
جواب میں دھیمی سی مسکان-
اور ہر رنگ کی چوڑی نہیں پہن رکھی تم نے ملنگوں والی؟
پھر وہی زہر لگتی ہوئی مسکراہٹ-

بہت تجسس تو کبھی رہا نہیں کسی معاملے کا، لہذا ادھر ادھر کی باتوں کے بعد سرسری انداز میں پوچھ لیا، کیسے ہیں سسرال والے؟
‘بہت اچھے’ مختصر جواب-
‘اور بھائی؟’
‘وہ بھی’-
‘تم___تم کیسی ہو؟’
‘پتا نہیں’-
‘کیا مطلب، پتا نہیں_آخری حربے کے طور پر پوچھا اور یہ تمہارے گھر میں تمہارا آرٹ نظر نہیں آرہا؟’
‘انہیں سکیچنگ پینٹگز پسند نہیں ہیں’-
‘کیوں؟؟’
‘وہ کہتے ہیں یہ حرام ہے- تم بت بناتی ہو- روز محشر ان میں جان ڈالنا پڑے گی-‘
‘اور کیا کیا نہیں پسند انہیں؟’ لہجے میں زمانے بھر کی طنزیہ کاٹ بھر کے پوچھا-
‘میک اپ، لپ سٹکس، نیل کلرز، چوڑیاں، پرفیومز، مہندی، میرا باہر آنا جانا،
اور_____ اور دوستوں سے ملنا-‘
کہہ کے وہ ایسے ہانپ رہی تھی جیسے لمبا دشوار رستہ پیدل طے کر کے آئی ہو-
اس کے اس جملے کے بعد مزید وہاں بیٹھنا دشوار ہوگیا تو اٹھ کر چلی آئی-
اسے یہ بھی کہے بغیر کہ ایستھیٹک سینس سے عاری اس شخص کو بت اور مجسمے میں فرق ہی سمجھا دو-

کبھی کبھار میسج کر لیتی ہے- ہر بار ایک نئی پابندی کی داستان سناتی ہے- غصے میں مونچھوں والے آلو کی شان میں گستاخی کرنے کا کہتی ہوں تو یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہے کہ رب ناراض ہوگا-

میں یہ بھی نہیں پوچھ پاتی کہ رب اس آلو سے ناراض نہیں ہوگا؟
احساس کمتری کو مذہب کا نام دینے پر پوچھ نہیں ہوگی اسکی؟
جس دن اس نے اپنی سکیچ بک کے ساتھ اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں بھی جلا لی تھیں اس دن اس سے کہا تھا اپنے گھر واپس چلی جاؤ- اپنے ماں باپ کے پاس-

کہنے لگی سسرالی فیملی اماں کے رشتہ دار ہیں- ابا کہتے ہیں تم نے رشتہ کیا ہے، تم ہی نمٹو-
اور ماں کہتی ہے اس عمر میں میری عزت تمہارے حوالے-
کہتی ہے ماں کی عزت بچا لی ہے میں نے اپنے خواب جلا کر-

اب مجھ سے اسے مشورے بھی نہیں دیئے جاتے-
میرے لفظ اس کے حوصلے کے سامنے بہت چھوٹے، بڑے حقیر ہیں-
مگر ایک سوال کی بازگزشت ختم نہیں ہوتی __ خدا کے نام پر اوروں کا استحصال کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
اور کتنی شہرزادیں اپنے خواب جلائیں گی تو اس مردانہ معاشرے کی مردانہ تشریحات والے معیارات کی انا مطمئن ہوگی؟

Comments are closed.

%d bloggers like this: