سنگ ہر شخص نے ہاتھوں پہ اٹھا رکھا ہے: ظفر اللہ

0
  • 49
    Shares

بیانیہ کی کاشت میں جُتے ہمارے شوقیہ دانشوران کو دیکھ کر ایسا لگنے لگا ہے کہ گویا وہ اس ملک کو دو بیلوں کی لڑائی کا اکھاڑہ بنانے کے خواہاں ہوں. کبھی بنام قوم باچاخانی بیانیہ تو کبھی متبادل بیانیہ، اور اب تیسرا یعنی پاپولر بیانیہ کہ دو انتہاوں میں سے کسی ایک انتہا کو اپنایا جائے یعنی آپ کو یا تو ٹائیگر ہونا پڑے گا یا پھر پٹواری۔۔۔

محترم آصف محمود صاحب نے کچھ دن پہلے اس حوالے سے بڑا اہم اور مدلل کالم لکھا ہے، آپ وہ ملاحظ کریں تو قوم کو سینگوں پر اٹھانے کی پوری کہانی آپ کو سمجھ آجائے گی.
پاپولر بیانیہ کے دو پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں. پہلا اس فیصلہ سے قبل اور مابعد جو زبان ایک دوسرے کے لئے استعمال کی گئی وہ اور دوسرا اس فیصلہ سے ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا کرنا چاھئے تھا اور پھر یہ کہ ہمارا انصاف کا نظام اتنا سست اور ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں.!!!؟؟؟
پہلےکہا جاتا تھا کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے مگر آج اسے ثابت کرکے دکھایا جاتاہے. کچھ عرصہ سے یہ احساس شدت سے کچوکے لگانے لگا ہے کہ بدزبانی کا بےقابو ہوتا جن ہماری قیمتی اقدار کو کب تک نگلتا رہے گا. یہ نگلے یا نہ نگلے مگر حالیہ کچھ دنوں میں طرفین کی طرف سے جو معیار مقرر کیا گیا ہے اس نے اخلاقی اصولوں کی جس طرح دھجیاں اڑا کے رکھ دی ہیں وہ قابل تشویش ضرور ہے۔

پانامہ اور اقامہ کے معاملہ میں ہم نے کتنا وقت صرف کیا اور اس مصرف کا ماحصل کیا رہا؟ منظر نامہ اب بھی دھندلا سا ہے، پاکستان میں پانامہ کے حوالے سے “یہ کوئی” 430 کے لگ بھگ لوگوں کا نام آیاہے. اس حوالے سے عدلیہ نے صرف چار لوگوں کا احتساب کیا اور اس میں بھی “یہی کوئی” چار مہینے کا ٹائم لگایا گیا. میں اس فیصلہ کے حامیان میں شمار ہوتا ہوں اس لئے اس تھوڑے پر بھی ہم خوش ضرور ہیں مگر اس پہ کامل مطمئن نہیں. اس کی ایک وجہ ہے اور جس کی طرف میں بار بار اشارہ کررہاہوں کہ احتساب کا یہ معاملہ اب رکنا نہیں چاھئے سب کو اس ترازو میں تولا جائے تبھی انصاف کا بول بالا ہوگا بصورت دگر یہ فیصلہ محض جوڈیشل ایکٹوزم کے زمرے میں آئے گا اور کل کلاں کو لوگ اس کو عدالتی قتل کہنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

انڈیا کی مثال لے لیں انڈیا کی سیاست ہم سے کہیں بڑھ کر میچور ہے وہاں بھی پانامہ کے سلسلہ میں بڑے پیمانےپر اسکینڈل سامنے آئے مگر مجال ہے جو اس پر کوئی سیاست دیکھنے کو ملی ہو یا سننے میں آئی ہو.ہمارے ہاں اس معاملہ کو صرف ایک شخص سے نتھی کرکے اداروں کے پسینے بہائے گئے. وہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی. ادارے حرکت میں آئے اور بہت کچھ مال مسروقہ برآمد کیا گیا. یہاں پانامہ اسکینڈل کے حوالے سے سیاستدانوں میں سے بہتوں کے نام آئے تھے جن میں رحمن ملک اور بےنظیر صاحبہ کا نام بھی شامل تھا جہانگیر ترین سمیت عمران خان بھی ان میں شامل تھے. مگر تفتیشی دائرے میں ان کو لانے کے بجائے کسی کو مدعی اور کسی کو مدعا علیہ بنا کر معاملہ کو عجیب رخ دیا گیا.یہ ملکی اداروں کی نااہلی نہیں تو اور کیا ہے؟

سراج الحق نے جب “احتساب سب کا” مطالبہ کیا تو اس وقت بجائے کہ اس کا ساتھ دیا جاتا الٹا اسے بھی کیس کو محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا اور وہ بھی پاپولر بیانیہ کی بھینٹ چڑھا. اگر کیس کو صحیح معنون میں آگے لایا جاتا تو تمام پانامیوں کا بیک وقت احتساب ممکن تھا اور یہی اصل چیز ہے. وڈے دانشور فرماتے ہیں کہ عدلیہ کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تمام پانامیوں کو احتساب کے شکنجے میں کسے، تو گویا وہ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ہماری عدلیہ اور تفتیشی ادارے انصاف کے معیار پر خود بھی پورا نہیں اترتے ہیں۔

بھارت کے 700 شہریوں کے نام پانامہ میں سامنے آئے تھے۔ مئی 2017 تک بھارتی حکومت ان میں سے 628 افراد سے 8437 کروڑ روپے ریکور کر چکی ہے۔ ہم نے سوا سال صرف ایک شخص کے تعاقب میں پورے ملک کو عملا معطل رکھ کر سوائے صادق اور امین کھیلنے اور نا اہلی وصول کرنے کے کیا حاصل کیا؟ اس پر ایک عام انسان بن کر سوچئے اس پہلے کہ آپ ٹائیگر اور پٹواری نامی مخلوق کا حصہ بن جائیں۔۔۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: