آزادیِء رائے کو بھونکنے دو: سلیم احمد کی یادگار تحریر

0
  • 138
    Shares

آزادی اظہار کا مسئلہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن پر گفتگو ہمارے ہاں شدید افراط و تفریط، بحث و نزاع اور سطحیت و جذباتیت کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسے میں سلیم احمد مرحوم کا کئی دہائیاں قبل لکھا گیا یہ مضمون اس معاملے پر گہرے تجزیے پر مبنی گفتگو کو علمی اسلوب میں آگے بڑھانے کیلئے بنیاد بن سکتا ہے اور اسی نیت سے دانش کے فورم سے شائع کیا جارہا ہے۔


آزادییء اظہار رائے کے مسئلے کو اپنا موضوع بناتے ہوئے میں دُہری ذمہ داری محسوس کر رہا ہوں۔ ایک آزاد ملک کے ایک ذمہ دار اور باشعور شہری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ میں اپنے ملک کے سماجی (سیاسی، معاشی اور اخلاقی) حالات کا جائزہ لوں۔ اور غور کروں کہ ان حالات میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ہمہ جہتی ترقی کے کیا کیا امکانات ہیں؟ آیا میرے ملک کی تعمیر ایسی بنیادوں پر ہو رہی ہے یا نہیں، جو میری قوم کے اجتماعی آدرشوں اور معیاروں کے شایانِ شان ہو۔

میری دوسری ذمہ داری ایک ادیب کی ہے (آپ چاہیں تو مجھ پر ’’چھوٹا منھ بڑی بات‘‘ کی پھبتی کس سکتے ہیں) اور اس حیثیت میں مجھے یہ غور کرنا ہے کہ آیا میرے ملک میں ادیبوں کو وہ بنیادی حقوق حاصل ہیں یا نہیں، جن کے بغیر کوئی وقیع ادبی تخلیق عالمِ وجود میں نہیں آ سکتی۔

آزادیء اظہاررائے کے مسئلے پر، اپنی ان دونوں حیثیتوں میں، کچھ کہنے سے قبل، میں سماجی زندگی میں آزادی رائے کی اہمیت اور قدر و قیمت کو متعین کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہماری سماجی زندگی کو ہم ایک ’’کُل‘‘ میں منقسم کر سکتے ہیں۔ مثلاً سیاسی جزو، اخلاقی جزو وغیرہ پھر ان اجزاء کو بھی اور چھوٹے چھوٹے خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثلاً سیاسی جزو کی تقسیم ان مختلف طبقوں کے مفاد کی رو سے کی جا سکتی ہے جن کے مجموعے کو ہم ایک معاشرتی کُل کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اور یہ طبقے بھی اپنے معاشی وسائل اور پیشوں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف رجحانات رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اگر ان مختلف اجزا کو ایک ایسے ہمہ گیر، ہم آہنگ اور متوازن کُل میں نہ ڈھالا جا سکے، جس میں ان کے مفادات نہ صرف پورے ہوں بلکہ ان کی تکمیل اس نہج پر ہو کہ ہماری سماجی زندگی بہ حیثیت ایک’ ’کُل‘‘ کے بھی اپنی ہمہ جہتی ترقی کے انتہائی تکمیلی مدارج تک پہنچ سکے۔ تو یہ عین ممکن ہے کہ سماجی زندگی کے یہ اہم اجزا، اس طرح منتشر ہو جائیں کہ ہماری پوری سماجی زندگی انتشار کا شکار ہو کر رہ جائے۔ اس لیے آزادی رائے کو ایک مستقل اصول کی حیثیت سے تسلیم کرنے اور اس کے لیے مناسب سماجی فضا پیدا کرنے کی کوشش انتہائی ضروری ہے تا کہ ان مختلف و متضاد رجحانات کے عمل و ردِ عمل سے وہ تصور پیدا ہو سکے جس پر ہم ایک وسیع، متوازن اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیادیں رکھ سکیں جس میں سیاسی، معاشی، اخلاقی اور تہذیبی قدریں اپنے انتہائی امکانات تک ترقی کر سکیں اور ایک متنوع اور رنگا رنگ زندگی کو پھولنے پھلنے کا موقع مل سکے۔

پاکستان میں اس مسئلے کی اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم ابھی اپنی تعمیر کے ابتدائی دور میں ہیں اور ایک نئے اور بہتر معاشرے کی نیو ڈال رہے ہیں اور یہ کام اتنا بڑا ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر طبقے کے کامل تعاون کے بغیر عمل میں نہیں لایا جا سکتا اور تعاون بھی کیسا؟ آزادِ نہ کہ جبری – جس میں ہر طبقے کو اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ اس عمل میں حصہ لینے کی اجازت اور حق حاصل ہو۔ اور کوئی طبقہ کسی بناء پر دوسرے طبقوں کے حقوق کو غصب نہ کر سکے اور اگر کسی طرف سے یہ کوشش کی جائے تو اس کے خلاف متفقہ طور پر آواز بلند کی جا سکے۔

ایک نئے ملک اور نئی قوم کی تعمیر کا مسئلہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے اس امر کا متقاضی ہے کہ مخلص سے مخلص افراد اور جماعتوں کو بھی یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ من مانی کارروائی کریں اور کسی مخالف آواز پر کان نہ دھریں یا اسے دبانے کی کوشش کریں، کیوں کہ ان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی فرد یا جماعت کی غلطی کا خمیازہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو برداشت کرنا پڑے، اور ہماری قوم اور ملک کی تعمیر غلط بنیادوں پر ہو۔

یہ بات میں پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ اس احساس کے تحت کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں ابھی تک سماجی زندگی کے مختلف عوامل کی الگ الگ اہمیتوں کا کوئی واضح اور متوازن شعور پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ ہم مختلف عوامل کے دائرہءاثر اور ان کے اثرات کی رفتار کا تعین بھی نہیں کر سکتے ہیں یعنی ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ کوئی عمل ہماری اجتماعی زندگی کو کس حد تک اور کس طرح متاثر کرتا ہے، کس فعل کی حیثیت بنیادی ہے اور کس کی ضمنی اور ثانوی بلکہ جہالت، تنگ نظری اور غیر رواداری کے باعث، ہمارے یہاں رفتہ رفتہ ایک ایسی متشدد ذہنیت پیدا ہو رہی ہے جو دوسروں کے نقطہِ نظر کو سمجھنے اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی صلاحیت سے قطعی محروم ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے، اس کو زیادہ عرصے تک برداشت کیے جانے کے صرف ایک ہی معنی ہیں اور وہ یہ کہ ہم ان اقدار سے قطعی روگرداں ہو چکے ہیں جو حصولِ پاکستان کے وقت ہمارے سامنے تھیں۔ کیوں کہ اس صورتِ حال کا واحد نتیجہ اس صورت میں برآمد ہو گا کہ ہماری سماجی زندگی کے مختلف اجزاء منتشر ہو کر، ایک دوسرے سے بے تعلق ہو جائیں اور ایک ہم آہنگ سماجی زندگی کی تشکیل کا امکان کم سے کم تر ہوتا چلا جائے۔ اس صورتِ حال کو دور کرنے اور نسبتاً بہتر فضا پیدا کرنے کا کام، صرف دو طبقے اپنی حدود میں انجام دے سکتے ہیں(۱) وہ طبقہ جو برسرِ اقتدار ہے یعنی ہماری حکومت اور (۲) ادیب۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس عبوری دور میں، اپنے کو صرف و محض ایک’’نگراں ادارے‘‘ کی حیثیت دے، جس کا کام صرف و محض یہ ہو کہ اجتماعی نظام کو قائم رکھے اور وقتاً فوقتاً مختلف مسائل میں عوام کی رہنائی کرے (لیکن یہ رہنمائی صرف ہو اور اسے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا کلّی اختیار عوام کو حاصل ہو) اور جہاں تک ممکن ہو، ان امور میں قطعاً کوئی دخل نہ دے، جو اس کے تنظیمی امور سے براہِ راست متصادم ہوتے ہوں اور تنظیمی امور کے سلسلے میں بھی، اسے اپنے کو قطعاً قادرِ مطلق کی حیثیت میں نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ایک ایسے ادارے کی حیثیت میں، جسے قوم نے اجتماعی مسائل کو آسانی سے حل کرنے کے لیے اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔

اسے یہ حق تو یقیناً ہے کہ وہ بعض مسائل میں مثلاً ملک میں امن کے قیام، اس کی جغرافیائی حد بندی کی حفاظت اور ملک کے اقتصادی توازن کو برقرار رکھنے کے کام کی زیاد سے زیادہ ذمہ دار ہو، مگر اسے اس کا قطعاً حق نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے میں ان آدرشوں اور معیاروں کو قطعی نظر انداز کر دے، جن کے لیے قوم نے عظیم جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔

اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ حکومتیں بالعموم اتنی روادار، فرض شناس اور وسیع النظر نہیں ہوتیں، اس لیے حکومت سے یہ توقعات فضول اور بے معنی ہیں اور کوئی شبہ نہیں کہ یہ اعتراض دوسرے ممالک کی حکومت کی روش کو دیکھتے ہوئے کچھ ایسا زیادہ غلط بھی نہیں ہے مگر پاکستان اور پاکستان کی حکومت کا معاملہ دوسرے ممالک اور ان کی حکومتوں سے قطعاً مختلف ہے۔ یہ ہمارے ملک کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری حکومت ان افراد پر مشتمل ہے جو آزادی کی جدوجہد میں ہمارے رہنما تھے اور جن کی مساعیِ جمیلہ سے قوم اپنے لیے ایک نئے وطن کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، کوئی وجہ نہیں کہ وہی افراد، جو ایامِ غلامی میں ہماری صحیح نگرانی اور رہنمائی کرتے تھے اور جدو جہدِ آزادی کی کٹھن راہ میں ہمارے رفیق تھے، آزادی کے بعد کی مہم میں، ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اور ہماری صحیح رہنمائی نہ کریں۔ جب کہ عوام کو ان میں کلّی اعتماد ہو اور وہ ہر لمحہ ان سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔

حکومت کے بعد، قو می ترقی کی جدوجہد میں دوسری سب سے بڑی ذمہ داری ادیبوں کی ہے، وہی ایک وسیع، متنوع اور رنگا رنگ قومی مزاج کی تشکیل کر سکتے ہیں اور انھیں کی کوششوں سے ان منازل کی نشان دہی ہو سکتی ہے جن پر چل کر قوم اپنے انتہائی امکانی عروج سے ہم کنار ہو سکے، مگر افسوس کہ چند موانع کے باعث ادیب اپنے فرائض سے کما حقہ، سبک دوش نہیں ہو سکتے۔ اور یہ موانع اسی امر کے پیدا کردہ ہیں جن کی طرف میں نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ ہمارے یہاں سماجی زندگی کے مختلف عوامل کی الگ الگ اہمیت، ان کے دائرہء اثر اور اثرات کی رفتار کا صحیح اندازہ نہیں کیا جاتا، اس لیے ادیبوں کی مخلصانہ کوششیں ایک سعیء لا حاصل بن کر رہ جاتی ہیں بلکہ کئی لحاظ سے ادیبوں کی اپنی ذات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ ان کی ہر کوشش یا تو سیاسی مصلحتوں کے تحت قابلِ گرفت سمجھی جاتی ہے یا اخلاقی مفروضوں کے تحت مردود قرار دی جاتی ہے، حالانکہ ادب، بہ حیثیت ادب کے قطعاً اس اچھی یا بری صفت سے محروم ہے کہ اس کی مدد سے فوری تبدیلیاں واقع کی جا سکیں۔

حکومت کے کارکن یا اخلاقی رہنما اگر یہ سمجھتے ہوں کہ افسانوں اور نظموں سے ان کے مفادات کو کوئی فوری خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو یہ صرف ایک غیر ضروری احتیاط پسندی کا نتیجہ ہے۔ ادب بہتر سے بہتر کی تلاش میں ’’موجود‘‘ سے بغاوت کر کے اس کی تخلیق ضرور کرنا چاہتا ہے جو ابھی موجود نہیں ہے اور جس کی تخلیق کا امکان ہے مگر اس بغاوت کو سیاسی پارٹیوں یا دوسری عملی جماعتوں کے عمل کی حیثیت نہیں دینی چاہیے کیوں کہ اس سے فوری نتائج ظہور پذیر نہیں ہوتے۔ اگر ادبی’’بغاوتوں‘‘ کو فوری عمل پر قیاس کیا جائے تو سیاسی جماعتوں اور اخلاقی رہنمائوں کے ہاتھوں ادب کا وجود ہی معرضِ خطر میں پڑ جائے اور ملک کی اس تہذیبی ترقی کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے جو ادب کے بغیر عالمِ وجود میں نہیں آ سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، سیاسی جماعتیں اور اخلاقی رہنما ادب کی ماہیت، اس کی قدر و قیمت، اس کے اثرات اور اس کے اثرات کی رفتار کو سمجھیں اور اس کے متعلق وہ رویہ اختیار کریں جس کے تحت ادب اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے قویم ترقی کی مہم میں کما حقہ حصہ لے سکے، ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ادیب کی آزادیِ رائے کے ختم ہو جانے کی صورت میں ادبی ترقی کا ختم ہو جانا عین ممکن ہے، جس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم ایک ایسی غیر مہذب زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں جو اپنے’’حال‘‘ سے مطمئن اور’’موجود‘‘ پر قانع اور اپنے مستقبل اور اس غیر’’موجود‘‘ سے قطعی غافل ہے جس کے تصور کے بغیر کوئی قوم نہ تو ترقی کر سکتی ہے نہ زندہ رہ سکتی ہے۔

تحریر: جون ۱۹۵۱


۱۹۵۱ میں صورت حال یہ تھی کہ ترقی پسند ادیبوں کے خلاف ڈاکٹر تاثیر کی پیدا کردہ فضا کی بدولت تب کی مسلم لیگی حکومت ترقی پسندوں پر پِل پڑی تھی. محمد حسن عسکری اور منٹو جو اپنے طور پر تب کے ترقی پسندوں سے اختلاف رکھتے تھے مگر ادیبوں پر قدغن کے موقف میں حکومتی احتساب کے خلاف تھے. عسکری کا خیال تھا کے ہمیں یہ کام آزادئ شعور اور استدلال کے کھلے ماحول میں خود کر کے ترقی پسندوں کے موقف کا مقابلہ کرنا چاہیے.
یہ تھا وہ ماحول جسمیں سلیم احمد آزادی رائے کو بھونکنے دینے کے حق کی بات کر رہے ہیں. یاد رہے یہاں “بھونکنے” کا لفظ طنزیہ ہے.
ہاں آج کے ماحول میں کہ جب آزادی رائے بھونکنے کے حق سے آگے جاکر کاٹنے کا حق بھی مانگنے لگی ہے ایسے میں سلیم احمد کا مضمون “نظریاتی مملکت میں ادیب کا کردار” پڑھنے کی ضرورت ہے۔ (عزیز ابن الحسن کا وضاحتی نوٹ)

Comments are closed.

%d bloggers like this: