ٹینڈے : ابنِ فاضل

0
  • 112
    Shares

تاریخ انسانی میں اولاد آدم سے جو بڑی اور تاریخی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ ان میں ہیروشیما، ناگاساکی پر ایٹم بم گرانا، چرنوبل جوہری پلانٹ کا حادثہ اور ٹینڈوں کا بطور ترکاری اور سرکاری استعمال ہے۔ پہلی دو کے متعلق تو ماہرین میں پھر بھی کچھ نہ کچھ اختلاف ہے۔۔۔۔ ٹینڈا نام سنتے ہی جو پہلا خیال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ کوئی غیر ملکی اپنی زبان میں برا بھلا کہہ رہا ہے۔ ٹینڈا۔۔ یا جیسے کوئی ہمسائے کا بچہ “الامہ” دےرہا ہو ….ٹینڈا۔۔۔۔

ٹینڈے کب سے بنی نوع انسان کو خوار کر رہے ہیں اس بارے میں کوئی تحقیق دستیاب نہیں کیونکہ کوئی محقق تاحال ان پر تحقیق کرنے پر رضامند ہی نہیں ہوا، ہاں اسقدر علم ضرور حاصل ہوا ہے کہ بڑے کو بڑا ٹینڈا اور چھوٹے کو چھوٹا ٹینڈا کہتے ہیں۔ ایک صاحبِ علم اگلے روز بتا رہے تھے کہ ان کا آغاز دو چیزوں کی پیوند کاری سے ہوا تھا۔ ایک تو ان میں سےحلوہ کدو تھا اور دوسرا میں بھول گیا غالباََ اسٹبلشمنٹ بتایا تھا۔

ٹینڈوں کے سبزی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت جو اب تک ہمارے ہاتھ آسکا ہے وہ یہ کہ چونکہ اسے جانور نہیں کھاتے لہذا یہ انسانوں کو کھانے چاہئیں۔ حالانکہ جانور تو چیونگم بھی نہیں کھاتے تو کیا اب ہم چیونگم گوشت پکانا شروع کردیں۔ واحد سبزی ہے جس کو خود اگانے والا اور بیچنے والا بھی نہیں کھاتا۔ بلکہ گمان فاضل ہے کہ خود سبزیاں بھی ان کو سبزی نہیں مانتی۔ دیکھ لیں سب سبزی آپس میں گھل مل کر پکتی ہیں۔ آلو مٹر، آلو پالک، آلو مٹر گاجر۔ مولیاں پالک، پالک شلجم وغیرہ۔ مگر مجال ہے جو کسی عزت دار سبزی نے کبھی ان کے ساتھ پکنا ہی گوارا کیا ہو۔

قابل خرگوشوی سے پوچھا، جناب آپ ہی ٹینڈوں کی افادیت پر روشنی ڈالیے۔ گویا ہوئے۔ بھئی ان میں چورانوے فیصد پانی ہوتا ہے۔ عرض کیا حضور اگر زیادہ پانی ہونا خوبی ہے تو گوالے کے دودھ میں تقریباً ننانوے فیصد اور سرکاری پانی میں تقریباََ سو فیصد پانی ہوتا ہے، پھر انکی بُھجیا زیادہ مفید ہوگی۔ کہنے لگے اس میں فاسفورس کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے جو ہماری ہڈیوں کے لئے بیحد مفید ہے۔ عرض کیا جی یہ وہی فاسفورس ہے نا جو دیا سلائی کے مصالحہ میں ہوتی ہے اور آگ لگانے کے کام آتی ہے۔ کم از کم ہمیں تو ان میں فاسفورس کی کثیر مقدار کی موجودگی کا کامل یقین ہے کہ ہمارے تن بدن میں تو ان کو دیکھتے ہی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اوراپنے خان صاحب کے بھی۔۔۔۔ کہنے لگے ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔ سو گرام میں صرف چھیاسٹھ کیلوریز۔ ارے بھئی یہ بھی کوئی خوبی ہوئی۔ کیلوریز نہیں تو کھانے کا مقصد؟ اس سے تو بہتر ہے انسان جوی ہی کھالے۔ کم سے کم کیلوریز تو ملیں گی۔ حیرت ہے صرف چھیاسٹھ کیلریز فی سو گرام۔ بخدا اس سے زیادہ طاقت تو ماں کی گالیوں اور بیگم کے طعنوں میں ہوتی ہے۔ پانی، فاسفورس اور کیلوریز سب ہوتا ہےان میں، بھلا کچھ بھلائی بھی ہوتی ہے۔ ہم نے پوچھا۔ کہنے لگے، نہیں بھائی صرف شکل سے ہی شریف لگتے ہیں ورنہ بڑا ہوکہ چھوٹا، بہرحال ہر قسم کی بھلائی سے عاری ہیں۔

ایک حکیم صاحب نے ٹینڈوں کی افادیت پر مضمون لکھا۔ فرماتے ہیں کہ یہ بلند فشار خون اور رفع تَپ میں مفید ہیں۔

بھئی واہ حکیم صاحب واہ، فشار خون کے تو ہم خود گواہ ہیں، اور اپنے شیخ صاحب بھی، کچے ہوں یا پکے، چھوٹے ہوں یا بڑے، دیکھتے ہی دس بیس درجہ بڑھ جاتا ہے۔ رہا رفع تپ، تو بھائی، آدھے ملک تو کو ہم نے ان کے نام سے ہی تپ چڑھتے دیکھ رکھی ہے۔ حکیم صاحب کا مزید کہنا ہے کہ یہ ملّین ہوتے ہیں۔ یہاں بھی اپنا مشاہدہ الٹ ہے۔ جمہور نے جب بھی ان کو آزمایا قابض” ہی پایا۔

آسٹریلیا میں میں اچھے سے اچھا کھانا پکانے پر بہت تحقیق ہوتی اور عمدہ سے عمدہ کھانا پکانے کے بہت سے بڑے بڑے مقابلے بھی۔ شنید ہے کہ وہاں پر کئی نامی گرامی باورچیوں نے ٹینڈے پکانے کے مختلف طریقوں پر سیر حاصل تحقیقات کیں. کئی روز کی شبانہ روز سر توڑ کوشش کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ چکن، چھوٹے گوشت، مچھلی یا جھینگوں کے ساتھ کسی بھی طریقہ سے پکانے پر بھی یہ بے ذائقہ اور پھسپھسے ہی رہتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ٹینڈوں کا واحد فائدہ جو آج تک ہماری ناقص عقل تلاش کر پائی وہ یہ کہ اگر کسی کے متعلق پتہ چلانا ہو کہ یہ شخص شادی شدہ ہے کہ نہیں تو اس کویہ کھانے کے لئے دیے جائیں۔ اگر چپ چاپ کھانا شروع ہو جائے تو شوہر، کہ سدھائے ہوئے سب جانوروں میں سے ایک شوہر ہی ہے جو ٹینڈے بلا چوں چرا کھا لیتا ہے۔ آخر میں ہم چند تدابیر اور متبادل استعمالات بتانا چاہتے ہیں تاکہ ہم وطنوں کو ان کی مزید تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے لوگوں کو جہاں تک ممکن ہوسکے علم و آگہی سے آراستہ کیا جائے۔ جتنا لوگوں میں شعور آئیگا اتنا ہی وہ ان سے دور رہیں گے۔ جہاں تک ممکن ہو انہیں کھائی جاسکنے والی اشیاء سے دور رکھیں۔

کسی سیاستدان یا کھلاڑی وغیرہ کی عزت افزائی مقصود تو اس کے لئے گندے انڈے اور ٹماٹروں کے ساتھ ابلے ٹینڈے استعمال کیے جائیں۔
رنگے ہاتھوں پکڑے گئے مجرم کے گلے میں ان کا ہار بنا کر ڈالا جائے۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: