مستنصر حسین تارڑ سے ایک ملاقات: فوزیہ قریشی

0
  • 110
    Shares

یوں تو زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آئے کہ مجھے اپنے خوش بخت ہونے کا خیال آیا لیکن گیارہ اگست کی صبح نے کچھ ایسی دستک دی کہ مجھے اپنی خوش قسمتی پہ اعتبار آگیا۔ اس خوشگوار صبح کی خاص بات یہ تھی کہ بجپن سے دیکھے جانے والے ایک خواب کی تعبیر ملنے کو تھی۔ ایک ایسا خواب جو یقینی طور سے بہت سی آنکھوں میں بھی بسا ہوا ہے۔ اس دن میں پاکستان کے قومی افق پر اردو ادب کے جگمگاتے ستارے مستنصر حسین تارڑ سے ملاقات کے لئے جا رہی تھی۔ کہنے کو یہ بہت عام سا جملہ ہے کہ میں ان کی بہت مدت سے پرستار رہی ہوں۔ مگر کہنے والا ہی جانتا پے کہ اس عام سے فقرے میں صداقت کے ساتھ اس کے دل میں جو لو جاگتی ہےِ وہ وہی جان سکتا ہے جو اس شخصیت کے عشق و محبت میں گرفتار ہو۔

اس ملاقات کا سہرا طارق عزیز صاحب کے سر جاتا ہے۔ سلام دعا اور حال احوال جاننے کے بعد انہوں نے ہمیں بیٹھنے کو کہا اور ساتھ ہی تاکید کی کہ گفتگو آپ کو ہی چلانی ہوگی البتہ یہ دھیان رہے کہ انٹرویو کا کچھ سلسلہ نہ چلے. یہ سنتے ہی میرے اندر کہیں اٹکی سانسیں بحال ہوئیں تارڑ صاحب جیسی ایک ادبی ہستی کے سامنے باتوں کی بنت کے بارے میں سوچ کر پہلے کافی پریشانی رہی تھی کہ ان کے جداگانہ انداز نے تکلفات کی دیوار گرا دی میں نے عرض کیا کہ آپ کو چاچا جی تو ہرگز نہیں کہہ سکتی سنا ہے آپ کو اچھا نہیں لگتا جبکہ میرا چاچا جی کہنے کا پورا پروگرام تھا۔ ان کا کچھ یوں جواب تھا کہ مجھے اس لفظ سے کوئی چڑ نہیں ہے لیکن اس حوالے سے جب مجھے پکارا جاتا ہے تو مجھے لگتا ہے اس مارننگ پروگرام کے علاوہ اب تک جو جھک میں نے ماری ہے وہ رائیگاں گئی۔۔ اس جواب کے بعد چاچا جی کہنے کی میری حسرت کہیں پیچھے رہ گئی۔ جب کوئی کسی کے فن کی وجہ سے گرویدہ ہوتا ہے تو اس کے لفظوں پہ من وعن ایمان لانے کو بھی جی کرتا ہے اسی لیے تارڑ صاحب کی خواہش سر آنکھوں چنانچہ میں نے انہیں سر کہہ کر مخاطب کیا، بس پھرکیا تھا باتوں کا ایک خوبصورت سلسلہ شروع ہوگیا۔

باتوں کے دوران مجھے ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہ ہوا کہ یہ تارڑ صاحب سے پہلی ملاقات ہے۔ یوں تومیری ان سے جان پہچان بہت پرانی ہے۔ ان کے سفر ناموں اور ڈراموں کے حوالے سے اکثر ان سے ملاقات ہوچکی ہے۔ میرے ذہن میں جو ان کا ایک خاکہ تھا وہ اس پر پورے اترے جس کا اظہار میں نے ان سے یہ کہہ کر کیا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ میں اسی بندہ عاجز سے مل رہی ہوں جسے میں ملنا چاہتی تھی۔

بالعموم دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جب بھی کسی سلیبرٹی سے ملنا ہو تو ملاقات کے وقت سے لے کر ہر ایک منٹ کی تفصیل ڈسکس کر کے طے کر لی جاتی ہے اور ایک رسمی سی ملاقات بن جاتی ہے۔ اس سے برعکس تارڑ صاحب کی شخصیت میں جہاں ان کے چہرے پہ ایک زمانے کی روئیداد نقش تھی وہیں ان کی سادہ طبیعت انہیں سب کو اپنا بنانے پہ مجبور کر دیتی ہے ان کے سامنے بیٹھنے والے کواجنبیت کبھی محسوس نہیں ہوتی۔۔

ملاقات کی گھڑیاں گزرتی رہیں کبھی وہ بات شروع کرتے، میں جواب دیتی اور کبھی میں کوئی بات کرتی تو ان کی عمر بھر کا تجربہ بولتا۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی باتوں میں جہان بستا ہے۔ تارڑ صاحب کی شخصیت بہت پراثرہے جہاں ہنسی مذاق ہوا وہیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ چند باتیں شیئر کرنا چاہوں گی۔ لکھنے لکھانے کے حوالے سے انہوں نے بہت خوب صورتی کے ساتھ بنیادی نکتہ بتایا کہ؛

اگر لکھنا چاہتے ہیں تو صرف شوق سے کام نہیں بنتا اس کے لئے عملی قدم بھی اٹھانا پڑتا ہے”۔

اسی طرح جب “نقش پائے یوسفی” کے حوالے سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ اکثر شعراء اور ادیبوں کو وہ مقام ان کی زندگی میں حاصل نہیں ہوتا جن کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ میری اس بات پر اظہارخیال یہ کہنا تھا کہ؛
” میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ میری نظر میں اپنا مقام خود بنانا پڑتا ہے اگر آپ کی تحاریر میں دم ہے تو وہ معاشرے میں اپنی جگہ خود بنالیتی ہیں اور مقام بھی۔”

تارڑ صاحب نے ہمارے ادبی فورم کی جانب سے کتاب کی اشاعت کا بیڑہ اٹھانے کی کاوش کو سراہا کہ”روز بہت سی کتابیں تحفے میں ملتی ہیں لیکن میں ان پر ایک سرسری نظر ہی ڈالتا ہوں ہاں بہت کم کوئی کتاب متاثر کرتی ہے اگر پڑھتے ہوئے اگر کوئی کتاب اپنے سحر میں مبتلا کردے تو اسے مکمل کرتا ہوں کیونکہ میرے پاس وقت کم ہے اور جب تک زندگی ہے اپنا وقت ان کتابوں کو دینا چاہتا ہوں جس سے پڑھ کر لگے میرا وقت ضائع نہیں ہوا۔”
اللہ انہیں سلامت رکھے آمین

بہ ظاہر تو یہ ملاقات کا اختتام تھا مگر میرے لیے ایک نئی راہ کی ابتداء تھی۔ ملاقات کے سحرکے کارن، میں اب تک اس سبزے سے نچڑتی صبح میں ہوں جہاں علم و فہم کا دریا بہتا ہے اور اسے اس پہ چنداں غرور بھی نہیں۔ میں اس درخت کی شاخوں پہ رشک کرتی ہوں جو ہر صبح ایک زمانے کو اپنے سامنے دیکھتی ہیں۔ مجھے ان پھولوں پہ رشک ہے جو اس علم و ادب کی چھتناور ہستی کے لیے راہ سجائے رکھتے ہیں۔

About Author

Comments are closed.

%d bloggers like this: