اقبال اور مغرب : جاوید اقبال راؤ

0
  • 66
    Shares

اقبال کے بارے میں یہ چند الفاظ ’’اقبال: مسائل ومباحث‘‘ (علامہ اقبال کے فکر و فن پر ڈاکٹر سید عبد اﷲ کے مقالات، مرتبہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی) سے ماخوذ ہیں، کہ مجھ جیسے طلباء کسی کی نقالی بھی ڈھنگ سے کرلیں تو بڑی بات ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شاعر مشرق کس اسلوب سے مغربی مفکرین اور تہذیب مغرب کا احاطہ کرتے ہیں؟ اس بارے میں مشرقی نوجوانوں کے لیے ان کا کیا پیام ہے؟

کلامِ اقبال میں تیس فیصد اشعار فرنگی تمدن اور تہذیب کے خلاف ہیں ۔ جو کہ اقبال کے مزاحمتی ادب کا ثبوت ہیں ۔ اقبال کا مزاحمتی ادب بھی تعمیری ہے اور ایک مخصوص اسلامی روایت کا امین ہوتے ہوئے معاشرے کی تعمیر نو کا جواز فراہم کرتا ہے ۔ متعدد اشعار اسلام کی برکات و فضائل کے متعلق ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال تعمیر چاہتے تھے اور ایک مخصوص قسم کی تعمیر۔ (اس تعمیر کی وضاحت خاصی طوالت طلب ہے)۔ دراصل علامہ اقبال اسلام اور موجودہ تہذیب و تمدن کی تطبیق کرتے ہوئے موجودہ تمدن کو اسلام کے قریب تر لانا چاہتے تھے۔ یہ بیان اقبال ہی سے ثابت کیا جاتا ہے۔ یہ اسلامیوں کا مخصوص مزاج ہے کہ وہ تعمیری ہوتے ہیں یا ہوجاتے ہیں۔ اسلام نے اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کو عام کیا جسکی بناء پر مسلمانوں میں احساسِ ذمہ داری، تعمیر اور خلوص جیسے مبادیات فروغ پاگئے۔ لیکن یہ تمام مسلم گروہوں کاخاصہ نہیں ہے۔ ایسے گروہ بھی پرورش پاجاتے ہیں جن میں قبضہ گیری، گروہی عصبیت اور تخریب رچ بس جاتی ہے۔ پھر ان کے لیے اپنی ایسی عادتوں سے جان چھڑانا یا خود ہی کسی کی جان چھوڑ دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ یوں قوموں کی تقدیر ہی پھوٹ جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقبال تنہا اس قسم کی تطبیق کے حامی ہیں؟ دراصل اس تطبیق کی کوششیں بے تحاشا لوگوں نے کیں ۔ اقبال ان کے سرخیل ہیں ۔ مگر اقبال اس کے باوجود مغرب پر شدید نکتی چینی کرتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ اقبال کو ان فلاسفہ اور مغربی مفکرین کا براہ راست تجربہ ہے۔ وہ اس تہذیب کو خود دیکھ کر اور اس کے اثرات محسوس کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ بہت سے علماء میں سے ایک اہم عالم دین شریعہ اکیڈمی سے مولانا زاہد الراشدی ، جن کی رائے نہ صرف مؤقر بلکہ شریعت کے مطابق بھی ہے ، وہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

” مغرب بحیثیت مغرب اسلام دشمن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب میں آباد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حتیٰ کہ فرانس اور جرمنی سمیت بعض ممالک میں اسلام وہاں کا دوسرا بڑا مذہب تسلیم کیا گیا ہے۔ مغرب کی غیر مسلم آبادی میں سے ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے اور مغربی اقوام میں نو مسلموں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد اسلام کا مطالعہ کر رہی ہے، وہ اسلام کی دعوت سننے میں دل چسپی رکھتے ہیں اور اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ مغرب کی یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ اس سب کو استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے، کیونکہ تحقیق اور ریسرچ کی دنیا میں ہونے والے کام کا ایک بڑا حصہ فی الواقع تلاشِ حق کے دائرے میں آتا ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس میں تعاون کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے”۔

مولانا زاہد الراشدی جیسے مؤقر اسلامی عالم کی یہ رائے اہم ہے کہ ” اس سب کو استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ تحقیقی “کام کا ایک بڑا حصہ فی الواقع تلاشِ حق کے دائرے میں آتا ہے” ۔ مگر یہ اقبال جیسے مفکرین کی درست جہت ، مناسب انداز تنقید اور پھر بروقت مغربی غلبے سے نجات کی کوشش، ہے جس کے نتیجے میں مغرب و مشرق میں دونوں جانب ہونے والی مسلسل تبدیلی سے چندمسائل کا مناسب حل سامنے آسکے۔ دونوں جوانب ایک دوجے کو سمجھ لیں، لیکن یہ ضروری بھی نہیں کہ ایسا ہی ہوجائے۔ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔کیونکی اقوام عالم اور ان کے بہت سے پلیٹ فارم اپنی ترجیحات قائم کرنے میں آزاد ہیں اور اس آزادی کا اظہار کرنے میں تمام قوت صرف بھی کی جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں تمام تار و پود بکھر جاتے ہیں ۔ یہ قصور مفکرین کا نہیں ہے۔ جن لوگوں نے آگ لگانی ہو، وہ کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔ اقبال اور زاہد الراشدی جیسے لوگ مناسب تنقید بھی کرتے ہیں اور ساتھ میں اقوام عالم کے مسائل کا باہمی حل تلاش کرنے میں بھی سرگرم رہتے ہیں۔ لیکن کسی مسئلے کا قرار واقعی حل نکل آنا، اور پھر اس پر عمل ہوجانا ایک مشکل کام ہے۔ اگر آپ کو مغرب کے خلاف صف آراء ہونا ہے یا ہونا پڑ جاتا ہے، کیونکہ بعض اوقات بددماغ قائدین اور شرارت پسند اندھے امریکہ یا یورپ کے کسی ملک پر سوار ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جان چھڑانے کا کوئی راستہ ہی باقی نہ رہے تو کیا کیجیے۔ لیکن اس کے باوجود تہذیبِ مغرب سے مقابلے کے لیے اقبال کی سی ادبی تحریر اور جناح کی سی جاندار تحریک کی ضرورت پڑتی ہے۔ بے عقل اور بے روح مزاحمت سے لوگ جلد جان چھڑا لیتے ہیں۔اس لیے اقبال نابغہ ہیں۔قریب رہنا، سیکھنا سمجھنا، تنقید کرنا، اپنی منزل کا تعین کرلینا اور پھر اس کے لیے باہمت و جاندار جدوجہد کی داغ بیل ڈالنا۔ یہی جوانمردوں کا کام ہے۔وگرنہ کتنے ہی نواب و شہنشاہ مغربیوں کے آگے بھس بھرے شیر ثابت ہوئے یا کوئی میدان ہی میں نہ اترا۔

علامہ اقبال ایسے مسائل سے خود ہی واقف ہوگئے تھے اور انھوں نے مغرب کے عملی و روحانی بازو پرکھ لیے تھے۔ انھوں نے اپنے آئیڈیل چنے۔ بڑے مسائل کے حل کے لیے چھوٹے آئیڈیل نہیں رکھے کیونکہ مسائل بھی بڑے تھے۔ چھوٹے آئیڈیل تو کچے گھڑے ہوتے ہیں کہ بیچ دریا گھل جاتے ہیں۔ آج کی سوہنیاں ایسے کئی آئیڈیل قربان کرواچکی ہیں۔ اقبال سمجھدار تھے۔ انھوں نے بڑے ہی ادبی پیرائے میں اسرارِ خودی میں مردِ کامل کو پکارا تھا کیونکہ مرد کامل ان کا مقصود ہے :۔

اے سوارِ اشہبِ دوراں بیا ۔ رونق ہنگامۂ ایجاد شو
شورشِ اقوام را خاموش کن ۔ خیز و قانونِ اخوت ساز دہ
باز در عالم بیار ایامِ صلح

کیا یہ ممکن ہے کہ اقبال ایسا انسان مکمل مزاحمت کی جانب نہ بلائے ؟ کیا تعمیر سے قبل مکمل تخریب کی ضرورت نہیں؟ یقیناً ایسا ہی ہے ، مگر ساتھ میں ہمیں یہ بھی سوال اٹھانا ہوگا کہ کیا ضروری ہے کہ مفکر شدید مزاحمت کی جانب لے جاکر معاشروں کو ٹکرا کر بکھیردے اور مکمل تباہی کا جواز بھی فراہم کرے؟ کیا وہ لینن کی طرح عالمی جنگوں کی طرف لے جائے اور ماضی کی تمام روایات کو بیک جنبش قلم ختم کرڈالے؟ کیا حکمائے امت اسی کام کے لیے ہوتے ہیں؟ ایک حکیم الامت اشرف علی تھانوی بھی تھے۔ جنھوں نے قوم کی علمی تربیت کی اور جان جوکھوں میں ڈال کر تمام عمر ہی بتا دی۔ طبیبوں کو علم ہو نہ ہو لیکن حکماء اور وہ بھی حکمائے قوم سمجھتے ہیں کہ ہاتھ کے تیار کردہ گھوڑے ہی میدان میں کام دیتے ہیں۔ اور یہ گھوڑے دنوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ نسلوں کی جدوجہد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ حکمائے امت تو کہیں بڑا خطاب ہے۔ اس لیے تھانوی صاحب نے بھی جلدی نہیں مچائی۔ لڑا کر قربان نہیں کیا بلکہ اپنے کارکن کی تربیت کرکے اسے تیار کیا۔ اگرچہ جنگیں ہوتی ہیں مگر ٹکرا دینے والے مفکر کے مقلد ین کے لیے واپسی کا شاید کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے اقبال اپنے معاشرے کی روایات کو مکمل طور پر سمجھ کر ماضی سے تعلق قائم کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ حال کا پابند اور افرنگ کا غلام نہیں بناتے۔ لیکن مقابلاتی میدان بھی تجویز کرتے ہیں، اس میں خود سے اترتے ہیں اور اس میدان میں سے باوقار جدوجہد کرکے حاصل حصول بھی دکھاتے ہیں۔ اسی لیے وہ نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہیں کہ مغربی آئین سے جان چھڑا ئیں۔ فرماتے ہیں کہ :

باز اے آزادِ دستورِ قدیم
زینتِ پا کن ہماں زنجیرِ سیم
شکوہ سنجِ سختیِ آئیں مشو
از حدودِ مصطفی بیروں مرو

یعنی اے وہ کہ اپنے آپ کو اس آئینِ قدیم سے آزاد سمجھتا ہے یا اس سے نکل بھاگنا چاہتا ہے پھر اسی زنجیر کا اسیر ہوجا۔ اس کی سختیوں کی شکایت نہ کراور حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی حدود سے باہر نہ نکل۔

دراصل اس حدود سے باہر نکلنے والا خود کو بے سبب مشکل میں ڈال لیتا ہے اور دشمن کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ وگرنہ اقبال اپنے نوجوان کو کھل کر کھیلنے اور برٹرینڈ رسل یا مارکس کی مانند مکمل انکاری بن جانے کی تربیت دیتے۔ یہ عقل کی بات ہے کہ اپنی حقیقی اہلیت اور مقابلے کے میدان کی وسعت میں خود کو محدود کرکے اپنے ہی دائرے میں جدوجہد کی جائے تاکہ محفوظ انداز میں آگے بڑھ کر حریف کے کمزور پہلوؤں کو جانچ کر ضرب لگائی جائے تاکہ طاغوت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور مسلم معاشرہ بکھرنے سے بچ جائے۔

اقبال کو تہذیبِ یورپ کے محاسن بھی معلوم ہیں ۔ جن میں شوق وشغف ، ذوقِ تحقیق ، اختراعات اور ذوقِ تسخیر شامل ہیں۔ یہ بھی حقیقیت ہے کہ مسلمانوں نے علم و حکمت کو جس منزل پہ چھوڑا، یورپ نے اسے آگے بڑھایا۔ مگر حقیقیت یہ ہے کہ:

عجب آں نیست کہ اعجازِ مسیحا داری
عجب این است کہ بیمارِ تو بیمار تر است

کہ مغربی حکماء کے علاج سے مریض پہلے سے کہیں زیادہ بیمار ہوگیا ہے ۔ دراصل مغرب کا انسان کھل کر کھیلتا رہا اور آج ایسی بیماریوں میں اسیر ہے کہ مریض کی جان تو چلی جاتی ہے لیکن تندرستی نصیب نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ علامہ اقبال تہذیبِ فرنگ اور حکمتِ فرنگ کے کن خصائص سے غیر مطمئین ہیں اور کن معنوں میں اسے ناکام تہذیب کہتے ہیں۔اور اس کے مدِ مقابل اسلام کے کون سے محاسن بیان کرتے ہیں:

رموزِ بے خودی میں اقبال نے فرنگی تہذیب کو رد کیا اور اپنی مثالی ملت کے تین اوصاف واضح کیے ہیں:

1۔ تاَدّب بآئین الٰہیہ (خدا ئی قانون کی تعلیم کے مطابق تربیت)
2۔ اُسوہ محمدیہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا۔
3۔ ملت کی روایات کی حفاظت کرنا۔

اقبال نے اس کے لیے ایک نظمِ فکر تیار کی ہے جس میں خودی کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ خودی کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔ یہ ہے بازیافت، یعنی ملت کے وجود کا اثبات و استحکامِ ۔وجودِ اجتماعی کے ان تین اُصولوں پر عمل کر کے یہ ملت خداکا منشا پورا کرے گی، دنیاکی تسخیر کرکے زمین پر خداکی بادشاہت قائم کرے گی، عدل و انصاف کو نافذ کرے گی اور ظلم و تعدّی کا ازالہ کرے گی اور ایک ایسی سلطنت قائم کرے گی جس میں خداکا دین رائج ہوگا۔ خدا کے دین پر مبنی ریاست کا قیام ہی ایک منزل ہے۔ تمام جدید علوم کسی ایک منظم معاشرے کے وجود اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے وسائل صرف کرتے ہیں۔ اقبال بھی اپنی آئیڈیل سرزمین کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ وہ کیسے ریاست کے خواب سے دور رہ سکتے تھے۔ انھوں نے اس کے لیے خاصی طویل شاعری کے علاوہ فکری بنیادیں قائم کیں اور تب جاکر جدوجہد کے میدان میں اترے ۔ آخرکار ایک ریاست تشکیل پانے کی صورت واضح ہوئی۔ کیا وہ تمام عمر دین سکھانے کے بعد اور غازی علم الدین کا مقدمہ لڑ لینے سے فرصت پاکر کسی طور لادین بنیادیں مہیا کرسکتے تھے؟ عقل و خرد کا راگ الاپنے والے بے شعور سیاست باز کہیں نہیں پائے جاتے ۔ اگر پائے جاتے ہیں تو پاکستانی معاشرے میں کہ افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں کسی کو حقیقتِ حال کے مطابق مکمل دلائل کے ساتھ گفتگو کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔ ایسے میں پاکستان اپنی منزل کیسے پاسکتا ہے؟

اقبال نے مغرب کو جانچا پرکھا۔ کوئی بھی انھی اصولوں کو آج آزمائے اور حکمتِ افرنگ کے ارتقا اور اس کے نتائج کا جائزہ لے تو معلوم ہوگا کہ وہاں کا انسان گذشتہ پانچ صدیوں میں ذوقِ تحقیق میں کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود اپنی انفرادی و اجتماعی شخصیت کو یکجا نہیں کرسکا۔ “وہ جزویت کا شکار اور انتشار کا مریض ہے”۔ شخصیات کسی ایک مقصد کے گردا گرد تعمیر پاتی ہیں۔ جمہوریت کا اپنا کوئی ایک مقصد ہی متعین نہیں۔ اس حقیقت کا ادراک خود مغرب کے مفکرین کو شدت کے ساتھ ہے۔ آج تک وہ اس کے لیے سرگرداں ہیں کہ جمہوریت کا کوئی ایک مقصد متعین کرپائیں ۔بہت سے تحقیقی مقالہ نگار اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جمہوریت خود ہی اپنا مقصد و مقصود ہے۔ خود جمہوریت ہی وہ کافی و شافی نتیجہ یا آؤٹ کم بھی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جائے۔ بھلا ایسے کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نظریہ خود ہی مقصد بھی ہو نتیجہ بھی ہو۔ اس بڑے سقم کو اقبال جسیے تجربہ کار پرکھ سکتے تھے۔ اس لیے ایک مقصد کے گرد اور ایک محور سے منسلک کرکے اقبال جیسے مفکرین نے مشرقی اقوام کے نوجوانوں کو حکمت سے سنبھالا دیا۔ اقبال نے فکر وعمل دونوں جہات میں کام کیا۔ مگر ا پنے دور کے دوسرے انقلابی لینن کے برعکس عملی سیاست میں زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی ۔ چنانچہ کہتے ہیں:

یہ عقد ہاے سیاست تجھے مبارک ہوں
کہ فیض عشق سے ناخن مرا ہے سینہ خراش

اقبال شاید سیاست بازی سے بیزار تھے۔ یا ان کے پاس کرنے کو بہت سے کام تھے۔ جن سے نتائج اور دور رس نتائج حاصل ہوسکتے تھے۔ وہ جلد باز سیاست بازی اور روزمرہ کی بیکار سرگرمی میں الجھنے سے پرہیز کرتے رہے اور بامقصد تعلیم، فکری آگہی، شعری ذوق کی آبیاری کے ساتھ ساتھ افرادِ کار کی تیاری میں مصروف رہے۔ ایسے لوگ سیاست کو براہِ راست متاثر نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ عجب حادثہ ہوا کہ اس کے باوجود روسو اور والٹیر کی طرح اقبال نے سیاسی تحریکوں کو متاثر کیا ۔ کیا اس دور میں فکری رہنما موجود نہیں تھے؟ یقیناً تھے۔ ابوالکلام جیسے لکھاری، پورا ندوۃ العلماء اور دیوبند کے کثیر التعداد علماء و مدرسین۔ ان کے علاوہ ہر طرح اور ہر رخ کے لکھاری اور محرکین۔ جوہر جیسے کامیاب لکھاری، سیاستدان اور تحریکات بپا کرنے والے بھی تھے۔ لیکن اقبال ہی نے کیوں متاثر کیا۔ اس لیے کہ وہ میدان میں اترے لیکن ہاتھ پاؤں بچا کر رکھے۔ انھوں نے نوجوانوں کو درست سمت کی جانب بڑھایا لیکن ساتھ میں محفوظ انداز بھی سکھا دیے۔ باقی لوگ نوجوانوں کو ایک مخصوص پیرائے میں ڈھالنے کی لمبی کوشش میں مصروف رہے۔ انھوں نے عمومی پیغامات بھی دیے۔ آسان تر زبان میں یہ پیغامات کافی مؤثر تھے۔ قوم انھی پیغامات سے متاثر ہوئی۔ انھیں ساتھ میں اقبال کے تیار کردہ قائدین بھی میسر آئے۔ نتیجہ واضح تھا۔ تحریک برپا ہوئی تو روکنے کی صلاحیت کمزور پڑگئی۔ انگریز اندر اور باہر دونوں جوانب سے مار کھاگئے۔ کانگریس راستے ڈھونڈتی رہ گئی۔یہ نتائج سادہ نہ تھے۔دیوار پر لکھی تحریر کی مانند ایک روشن مستقبل موجود تھا۔

شاید اقبال ایشیا میں ایک اور عظیم الشان فکری انقلاب کے راھنما ثابت ہوں ۔ اگرچہ پاکستان کی تخلیق تو حقیقتِ ثابتہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اقبال ہی کا پاکستان کل کلاں ایک نئی نہج پر تیاری کرے تو نوجوان نسل ملک و ملت کے پیغام کو آگے بڑھائے اور نئی بلندیوں تک جاپہنچے۔

اقبال کی بہت سی خصوصیات ہیں جنھیں نگاہ میں رکھنا ہوگا۔ اقبال یونی ورسلسٹ ہیں ۔۔۔۔ انسانی اُخوت کے عَلم بردار ۔۔۔۔۔ مگر ان معنوں میں جن میں اسلام نے اس تصور کو پیش کیا ہے۔ وہ کسی مغربی چھاپ کے آفاقی نہیں۔اقبال نے مغربی مفکرین سے اثرات قبول کیے ۔ مثلاً اقبال پر برگساں کے نظریات کا اثر ہے مگر “برگساں جسمانیاتی ہے تو اقبال کا جوشِ حیات جسمانی کے ساتھ وجدانی بھی ہے”۔ اقبال اس کو ایمان کہتے ہیں ۔ اس سے قبل رومی بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرچکے تھے ۔ برگساں کی نسبت اقبال رومی سے کہیں زیادہ متاثر تھے ۔ انھوں نے تہذیب مغرب پر نطشے کی فکری تنقید کا دم بھرا مگر نطشے نے جہاں کہا کہ خدا مرگیا ہے۔ وہاں اقبال کا خدازندہ و جاوید ہے ۔ نطشے قوت کا داعی ہے اور نرم راہ اپنانے والے فلسفوں کا دشمن۔ اس نے تہذیبِ مغرب کا سختی سے محاکمہ کیا: بزبان اقبال : “دیوانہ بہ کارگہ شیشہ گر رسید”۔ اسی لیے وہاں ہٹلر بروئے کار آیا اور تمام عالم کو ہلا کر گیا۔ لیکن ہمارا مفکراسلامیوں کی سی اصلاح پسندی، ڈائیلاگ اور تعمیر کا داعی و مدعی تھا۔یہ فلسفی تعمیر و ترقی کا بھی اسی قدر التزام بھی کرتا تھا، جس قدر تنقید و محاکمہ کا اظہار کرتا رہا۔

مفکر پاکستان نے گوئٹے کی مشرق پسندی کو تسلیم کیا ۔ پیامِ مشرق گوئٹے کے “دیوانِ مغرب ” کا جواب ہے۔ اقبال پر فختے کا اثر بھی ہے ۔مگر انھوں نے افرنگ پر تنقید کی:

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود       اسلام کا مقصود فقط ملّتِ آدم
مکّے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام      جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم؟
(ضربِ کلیم)

تاہم ہمارے مفکرِ پاکستان کو مغرب میں صرف ابلیس نظر نہیں آتا۔ وہ نہ مغرب کو مکمل رد کرتے ہیں اور نہ اندھی تقلید کے قائل ہیں ۔ مغربیوں کی سامراجیت پر قلم چلاتے ہیں مگر ساتھ میں علوم و فنون کو مسلمانوں کا گم گشتہ مال سمجھتے ہیں۔ یہی طریق انھوں نے اشتراکیت سے بھی اختیار کیا ۔ اس طریق کو تہذیبی مکالمے کے قائل لوگ ہی اختیار کرتے ہیں ۔ پھر اقبال ان تہذیبوں میں (باہم وجود اور) کشمکش کے طالب بھی ہیں ۔ وہ تہذیبوں کو سمجھنے، تسلیم کرنے اور قبول کرنے کے قائل محسوس ہوتے ہیں ۔ وہ اس کےلیے آدمیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔

فرمایا:

برتر از گردوں مقام آدم است   اصل تہذیب احترام آدم است

ان کی طرح گوئٹے نے قومیت کے خطرناک نتائج کی سخت تنقیص کی تھی ۔ اس نے کہا “ہماری مجالس اتنی فراخ ہوں کہ ان میں سعدی اور حافظ بھی بیٹھ سکیں”۔ اقبال نے کہا:نیشنلزم کا جو تجربہ یورپ میں ہوا اس کا نتیجہ بے دینی اور لامذہبی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔۔۔ اُنیسویں اور بیسویں صدی کو مغربی فتوحات کا زمانہ اوراستعمار کا بھی بدترین دور کہاجاتا ہے ۔ علامہ اقبال نے جاوید نامہ میں اسے خواجہ اہلِ فراق کا تاریک عہد قرار دیا ہے۔ جس تہذیب کو کسی دائرے میں محدود نہ کیا جاسکے، اسے فطرت کی ٹھوکریں بارہا لگتی ہیں۔ بے طرح سے اس پر عذابات اترتے ہیں اور وہ اپنوں اور غیروں کو حسابات و جوابات دیتے دیتے تباہ ہوجاتی ہے۔ نتائج واضح تھے۔ لیکن دوراندیش ہی نتائج سے آگاہ ہوتے ہیں۔ کم کوش و پر غرور، انکاری اور خود سے خود سب کچھ کرنے، کر گزرنے اور نسل در نسل کرتے چلے جانے کے خواہشمند کسی طور وجدان سے متصف نہیں ہوتے۔ اس لیے دنیا انھیں سمجھ کر انہیں انکی حدود میں رکھتی ہے اور ایسے لوگ سمجھدار نہیں عیار کہے جاتے ہیں۔ لوگ ان سے پناہ مانگتے ہیں لیکن ساتھ نہیں دیتے۔

عیار و بے مدار و کلاں کار و توبہ توست۔

ان حقائق سے آگاہی کے بعد وہ کسی درمیانی راہ اور بے فیض سرزمین یا نہ ختم ہونے والی سیاست بازی کے قائل نہ تھے۔ جسے ساتھ نہیں چلنا تھا یا ساتھ نہیں چل سکتا تھا، جیسے کانگریس، تو انھوں نے اس سے صاف دامن چھڑایا۔ ایک جانب ہوئے۔ انگریز کو سمجھ لینے کے بعد اپنے مرکز و محور کو سمجھ لیا اور اس کے گرد تنظیم نو کی۔ یوں وہ انقلاب کے قائل ہوئے :

فریاد ز افرنگ و دلآویزیِ افرنگ       فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ     معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گراں ، خوابِ گراں ، خوابِ گراں خیز از خوابِ گراں خیز

اقبال اس کے علاوہ مغرب کے تعلیمی فتنے سے بھی خبردار کرتے ہیں:

اے مسلماناں فغاں از فتنہ ہاے علم و فن          اہرمن اندر جہاں ارزاں و یزداں دیریاب
انقلاب ۔ انقلاب! اے انقلاب

یہ واضح ہے کہ علامہ اقبال، حکمتِ مغرب کو فتنہ قرار دیتے ہیں ۔ اقبال اور مستقبل کی فکری بساط کو سمجھنا ضروری ہے۔ اقبال نے مغرب کے سیاسی افکار بشمول جمہوریت، نیشنلزم اور مارکسیت ، تمام مباحث پر تنقید کی ۔ ان نظریات کے سوا آج کوئی نیا نظامِ فکر موجود نہیں ۔ اس لیے آج بھی اقبال کی فکر ی سحر انگیزی قائم ہے ۔ مغرب کسی تیسری جانب جا بھی نہیں سکتا۔ حالانکہ کسی نے رسیاں نہیں باندھیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج نوے برس کے بعد بھی دنیا میں کوئی تیسرا نظام لانے میں یورپ و امریکہ بھی ناکام ہے۔ وہ ہزاروں جامعات اور ان کے ماتحت یا ماعلو تحقیقاتی و تجرباتی ادارے کسی نئی قسم کا سیاسی و معاشرتی نظام برپا کرنے میں ناکام رہے۔ بظاہر بے حدود، ماضی سے مکمل طور پر انکاری اور مستقبل کی تلاش میں واضح طور پر آزاد ہوجانے والا ایک بڑا معاشرہ کس تقلید کا اسیر ہے؟ یقیناً مغرب کسی ان دیکھی غلامی میں گرفتار ہے ۔ لیکن کوئی حکیم اسے اس بیماری سے نجات دینے والا نہیں۔ دراصل علم ایک روشنی ہے جو کسی اندھے کو مل بھی جائے تو وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے عاری ہی رہتا ہے۔ عمل ایک مقدس جذبہ ہے۔ یہ ہر ایک اپنا بھی لے توبھی منزل پر پہنچنے سے قبل جس صبر و ثبات اور بامقصدیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے ایک گمراہ، جذباتی اور بے طور معاشرہ کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ یہ عظیم ذمہ داری کسی حکیمانہ استاد کے سکھانے سے معلوم پڑتی ہے جس کے قائل مغربی نہ ہوئے اور جس سے بیگانہ مشرقی بھی ہوئے جاتے ہیں۔ کیا اقبال جیسے علم و عمل کے حسین مجموعے کو آج کے بے طور و گمراہ معاشرے کسی طور مسترد کرسکتے ہیں؟۔ کیا ایسے سیکولر اور پھر پاکستان کے وہ سیکولر جنھوں نے فقط تراجم کی دنیا سے قبر تک کا سفر کیا ہو، کوئی ایک درست نظریہ کسی کو سمجھا سکتے ہیں۔ جنھیں اپنے معاشرے کی کسی ایک خوبی کا مکمل ادراک نہیں، دنیا بھر سے تمام الا بلا کو پڑھ کر پاکستانیوں پر تھوپ دینے کے سوا جن کا کوئی مطمحِ نظر ہی نہیں۔ جن کے روز و شب مغرب کی تقلید و تائید اور انھی افکار کی آبیاری اور انھی کی دی ہوئی رقم پر صرف ہوتے ہیں، انھیں کسی درسگاہ سے ایسی توفیق مل ہی نہ پائی۔ ہمارے سیکولر کو کیا ملتی ، مغرب کے کسی استادِ فن کو نہ ملی۔ کسی سیکولر مفکر کو نہ ملی۔ کسی نوبل پرائز یافتہ عظیم فلسفی کو عطا نہ ہوئی۔ دراصل ڈیٹا سے تھیوری اور تھیوری سے ڈیٹا تک کا سفر کرنے والے خدا کی زمین میں فساد پھیلانے کے قابل ہی نہیں رہے۔بند ڈبوں میں بند ذہنوں کیساتھ اپنی اصطلاحات کی قبروں میں جاسوئیں گے۔ روز حشر وہی اصطلاحات لیے اٹھیں گے۔بے مقصد و بے طور نظام کے موجد و مدرس و عاملین و ناظرین اپنی بے ربط گفتگو سے وہی راگ الاپتے رہیں گے جنھیں سن سن کر ان کے اپنے شاگرد بیزار ہوجاتے ہیں۔ وہ بھی اپنی ویسی ہی درسگاہیں بنا بناکر وقت گزاری کرتے ہیں۔ نئے نظام اور نئی فکر، نئے ممالک، نئی دھرتیاں اور عظیم جدوجہد کرنے کے لیےاقوامِ متحدہ کے تنگ جامے سے نکلنے کی کوشش کرنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے۔بوسیدہ کتابوں کی گرہیں کھول کر انھی میں غرق رہنے والے اور پھر نئے الفاظ میں نئے پیرایوں میں انھی کو بیان کرنے والے، جنھیں خدائی احکامات اور فطری احساسات سے لگاؤ نہ ہو، کسی صورت اپنی منزل کی جانب گامزن نہیں ہوسکتے۔

اقبال کو شکوہ مغرب سے ہے لیکن مسلمانوں کو بھی وہ الزام دیتے ہیں۔

شل ز برفابِ عجم اعضائے او                   سرد تر از اشکِ او صہبائے او
مسلم از سرِ نبی بیگانہ شد                   باز ایں بیت الحرم بتخانہ شد

عجم کی برف سے مسلمان کے اعضاء برف بن گئے ہیں۔ (غیرضروری اشک بازی کی بناء پر) اس کی شراب زیادہ سرد ہوگئی ہے۔ مسلمان نبی ﷺ کے رازوں سے بیگانہ ہوگیا ہے۔ اس نے حرم کو بھی بت خانے کی طرح کا بنا کر رکھ دیا ہے۔ عجم واقعتاً برف بن چکا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہی نہیں رہا جہاں سے آزادی کے پروانے نمودار ہوئے تھے۔ یہاں تو تقلیدِ محض کے برف زاروں نے مستقل بسیرا کرلیا ہے۔ ان دیکھے برف زار اب مسلمانوں کے لیے آئیڈیل بنتے چلے جارہے ہیں۔

اقبال کے لیے تو مسلمان کم از کم جرأتِ عمل رکھنے والے لوگ ہیں۔ پیغامبرانہ ہدایت سے سرفراز ہیں۔ اہلِ حکمت و دانش ہیں۔ جب کچھ غیر ضروری پاتے ہیں تو بے لاگ تبصرہ کرتے اور درست راستہ اپناتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کو اپنی منزل تلاشنے وقت ضرور صرف ہوتا ہے۔ لیکن منزل تک پہنچ جانے میں کامیاب رہتے ہیں اور یوں معاشرے مطمئن و قانع ہوتے ہیں۔ سیاست میں تدبر اور صبر و برداشت بھی اسی بناء پر نظر آتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ اقبال کی نظر میں دین اور سیاست ایک ہی وحدت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ چنانچہ گلشن رازِ جدید میں ہے:

تا سیاست مسندِ مذہب گرفت      ایں شجر در گلشنِ مغرب گرفت
قصہ دینِ مسیحائی فسرد      شعلہ شمعِ کلیسائی فسرد!

جمہوریت کی حقیقت پر بھی اقبال کی رائے موجود ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

گریز از طرز جمہوری غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانے نمی آید

اقبال ہی پر کیا موقوف، روسو کو بھی جمہوریت کے اصل نقائص کا پورا پورا احساس تھا کہتا ہے کہ ” ایسی طرز حکومت تو فرشتوں کی دُنیا کے لیے مناسب معلوم ہوتی ہے ،ہم انسان تو اس کے قابل نظر نہیں آتے” ۔ گلشنِ رازِ جدید میں اقبال نے انھی نکات کی جانب اشارہ کیا ہے :

فرنگ آئین جمہوری نہادست     رسن از گردنِ دیوے کشادست
ز من دہ اہلِ مغرب را پیامے     ۔ کہ جمہور است تیغِ بے نیامے

یہی تیغِ بے نیام اب اپنے جامے سے باہر آکر تمام دنیا کےلے ایک خطرہ بن چکی ہے۔ اسے اس کے جامے میں واپس دھکیلنے سے قبل نہ معلوم کیا کچھ پاپڑ بیلنا ہوں۔ وہ جمہوریت جس کے بانی مبانی امن پسندی کے لیے خود کو ہی ایوارڈ دیتے ہوئے نہیں تھکتے ، انھیں مارشل جی کے الفاظ میں دنیا بھر میں جمہوریت کی ترویج کے لیےجنگ کو اپنا لینا چاہیے۔ حیرت ہے کہ جنگ جمہوریت کا متضاد ہے۔ جنگ اور وہ بھی کسی کی سرزمین پر جنگ کرنا ایک بے فائدہ اور غیر ضروری کھیل ہے۔ جنگ بربریت کی نشانی ہے۔ بربریت کو جمہوریت کا حقیقی متضاد بتایا جاتا ہے لیکن پھر بھی جمہوری مفکرین دوسرے ممالک کے لیے جنگ ہی کو علاج بتلاتے ہوئے اپنی ہی بنیاد سے اک انکار کرڈالتے ہیں۔ اپنی ہی بنیاد پر کلہاڑی چلا دیتے ہیں۔ یہ سانحہ کسی کے ضمیر کو مشکل میں نہیں ڈالتا۔ معلوم نہیں کیوں؟؟ انسان خود سے بیگانہ ہوکر الفاظ کے گورکھ دھندے میں پھنس چکے ہیں۔ اجتماعی فیصلوں کو ہی سب کچھ قرار دینے کے بعد کسی کو قدم ہٹانے کی سوجھ بھی نہیں سکتی۔ جمہوریت کا یہ منطقی اور سیدھا سادہ سا نتیجہ ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس سے انکار کرنے کے لیے کسی کو جرأتِ رندانہ نصیب بھی نہیں ہوسکتی۔ بے پناہ طاقت ، لوگوں کے ہجوم کی باگیں تھام کر، خود ستائشی کے عظیم ترین آسمان پر ، بڑی مضبوط بظاہر غیر مرئی بنیادیں کھود لینے کے بعد اور دنیاوی قوانین کو حتمی شکل دے کر، اپنے حق میں تحریر کروالینے کے بعد ، عظیم ترین جواز کی کاٹھی پر خود کو ایستادہ کرلینے کے بعد کوئی مڑ کر نہیں دیکھ سکتا۔ جب اقبال نے نوائے قیصری کا مقدمہ درج کیا تھا، تو کیا کچھ غلط کیا تھا۔یہ آج بھی درست ہے لیکن کوئی ایسی عدالت موجود ہی نہیں جہاں اس کی کارروائی کاآغاز کیا جاسکے۔اگر عدل و انصاف کی تہ میں کوئی حقیقی اصول کارفرما ہیں تو آج کے عادلانِ عالم کشمیر کے مسئلے پر ویٹو ممالک کے کھلے احتساب کے لیے چند الفاظ ہی کہ کردکھادیں۔

ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام     جس کے پردے میں نہیں غیر از نواے قیصری

قومیّت کے تصور کے شدید مخالف تھے ۔ سنیے:

اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے     تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے      کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے       قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں پر تبصرہ کیا ۔ وہ مزدور کے حامی ہیں۔ مگر شاعر مشرق جاوید نامہ میں جمال الدین افغانی کی زبانی کہتے ہیں کہ اشتراکی نظام کے تصور کی بنیاد شکم پر ہے ۔ ۔ اس میں ذکرِ حق کی کمی ہے۔ اس لیے اس سے بھی احتراز لازم ہے۔ کارل مارکس کے متعلق لکھا ہے :

صاحبِ سرمایہ از نسلِ خلیل            یعنی آں پیغمبرِ بے جبرئیل
غربیاں گم کردہ اندر افلاک را             در شکم جویند جانِ پاک را
رنگ و بو از تن نگیرد جانِ پاک         جز بہ تن کارے ندارد اشتراک
دینِ آں پیغمبرِ ناحق شناس        بر مساواتِ شکم دارد اساس

یہ بر مساواتِ شکم والے فلسفے کو اقبال جیسا مسلمان کیسے نہیں سمجھتا۔ جس مذہب میں ہرسال ایک مکمل مہینہ پیٹ پر جبر کرنے پر صبر کیا جائے، جس کے مذہب کے بانی کے گھر میں ،مقدس و بزرگ خواتین نے کئی کئی ماہ چولہا تک نہ جلایا ہو لیکن ساتھ دینے سے ایک دن بھی انکار نہ کیا ہو، وہاں شکم کی اساس پر قائم ہوجانے والے گروہ کوسمجھ لینے میں زیادہ مدت صرف ہی نہیں ہوتی۔ کوئی بھی دوربیں اور بنیاد شناس ایسے نظریے کو زیادہ دیر تک قابلِ عمل نہیں سمجھ سکتا۔

خواتین ہمارے معاشرے کا ایک اہم اور حقیقی جزو ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ کے خیال میں خواتین اور اقبال کے تصور کو سمجھنے کے لیے عبدالرحمان چغتائی کی تصاویر دیکھنا ہوں گی ۔ مغرب عورت کو بہت اہمیت دیکر ایک مخصوص تہذیب استوار کرنا چاہتا ہے ۔ ایسے میں اقبال کے تصور پر مبنی چغتائی کی تصاویر ہیں ۔ جن میں چند استعاروں (شاہین و شہباز، کتاب اورشمشیر) کےساتھ خواتین کا روپ دکھایا گیا ہے جن میں وہ اپنے زیور تلوار اور قرآن کیساتھ نمایاں ہیں ۔ انھیں ہر تصویر میں وضع دار، متین، اورباتمکین دکھایا گیاہے۔ یہ اس لیے کہ اسلامی معاشرے میں مسلم خواتین کو ایک مرکز ی ذمے دار فردکی حیثیت حاصل ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ ” شاید اقبال ایشیا میں ایک اور عظیم الشان انقلاب کے فکری راھنما ثابت ہوں ۔ اقبال یونی ورسلسٹ ہیں ۔۔۔۔ اسلامی انداز کی انسانی اُخوت کے عَلم بردار ۔ اقبال نے مغرب سے اثرات قبول کیے ۔ مگر اسلامی چھلنی سے چھان کر ۔ انھوں نے افرنگ پر تنقید کی۔ انھیں مغرب میں صرف ابلیس نظر نہیں آتامغربیوں کی سامراجییت پر قلم چلاتے ہیں مگر ساتھ میں علوم و فنون کو مسلمانوں کا گم گشتہ مال سمجھتے ہیں۔ یہی طریق انھوں نے اشتراکیت سے بھی اختیار کیا ۔ وہ تہذیبی مکالمے کے قائل محسوس ہوتے ہیں ۔

برتر از گردوں مقام آدم است     اصل تہذیب احترام آدم است

شاعر مشرق کے نزدیک نیشنلزم کا جو تجربہ یورپ میں ہوا اس کا نتیجہ بے دینی اور لامذہبی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔۔۔

وہ معمار حرم کو تعمیر کرنے کا پیغام دیتے ہیں ۔ (عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ ۔ معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز

از خوابِ گراں ، خوابِ گراں ، خوابِ گراں خیز۔ از خوابِ گراں خیز)

وہ مسلمانوں کو انقلاب کے دوران فتنے کے مختلف پہلؤوں سے روشناس کراتے ہیں ۔

اے مسلماناں فغاں از فتنہ ہاے علم و فن ۔ اہرمن اندر جہاں ارزاں و یزداں دیریاب ۔ انقلاب ۔انقلاب! اے انقلاب

_اقبال کی فکری سحر انگیزی قائم رہے گی ۔ وہ مذہبی سیاست کے قائل ہیں ۔آج بھی اقوامِ عالم مذہبی سیاست کے بنیادی اصولوں کو اپنا کر دنیا کو امن و اخوت کے راستے پر گامزن کرسکتی ہیں۔

تا سیاست مسندِ مذہب گرفت ایں شجر در گلشنِ مغرب گرفت

لیکن ایسا کرنے سے پیشتر بہت سے ممالک کو سبق سیکھنے ہیں۔ تلخ تجربات سے خود گزرنا ہے۔ یہ حقائق ہر ایک پر آشکار بھی نہیں ہوتے۔ لیکن مغربیوں پر کیوں آشکار نہ ہوئے جنھوں نے مسلمانوں سے بہت کچھ سیکھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کو آج بھی معاشرے میں جگہ دی لیکن پھر بھی منزلِ مراد سے دور بہت دور خدا سے بیزار ہیں۔ دنیا کی تباہی اس کے اپنے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔

تمہاری تہذیب اہنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرےگی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

About Author

Comments are closed.

%d bloggers like this: