گوری لنگیش قتل، سیکولر ازم کے منہہ پر طمانچہ: صادق رضا مصباحی

0
  • 2
    Shares

گوری لنکیش کے قتل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آزادیء اظہارِ رائے اور آزادیء عمل کے تناظرمیں اسلام کے خلاف اپنی دو دو گز کی زبانیں دراز کرنے والوں کے چہرے پر یہ قتل ایک زبردست طمانچے کی حیثیت رکھتا ہے. معلون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین جیسے نازیبا اسلوب پر لکھنے کہنے افراد کے خلاف ہم جب بھی احتجاج کرتے رہے ہیں تو ہمیں آزادیءِ اظہارِخیال کا طعنہ دیا جاتا رہا ہے. ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہرشخص کو اپنی اپنی رائے پیش کرنے کاحق ہے اس لیے شور مت مچایئے مگرجب یہی اظہار ِ رائے کا حق گوری لنکیش جیسی بہادر خواتین استعمال کریں تو دہشت گرد انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں. آزادیء اظہار کے نام نہاد نام لیوا خاموش رہتے ہیں. سیکولر لوگوں کامعاملہ بڑا عجیب ہے کہ ان کی شخصیت تضادات سے بھرپور ہوتی ہے. مذہب کے معاملے میں ان کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور دیگر معاملات میں الگ طرز کا. جو لوگ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے معاملے میں ہمیں خاموش رہنے کی تلقین کرتے تھے وہ گوری لنکیش کے معاملے میں خاموش کیوں ہیں؟ اب کہاں ہیں سیکولر لوگ؟ ان کی زبانوں پر مہر سکوت کیوں ثبت ہے؟ کیاب ی جے پی کے خوف نے ان کی زبانوں پر تالا لگا دیا ہے؟

اگر تاریخ کا جائزہ لیاجائے تو آزادیء اظہار رائے کو زبردستی سلب کرنے کی مثالیں بہت پہلے سے چلی آرہی ہیں. وقت کے حکمراں جب اندر سے کمزور ہوتے ہیں تو وہ ایسا ہی ماحول پیدا کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ متنبہ ہوجائیں اور ان کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت نہ کرسکیں. گوری لنکیش کے قتل کے ذریعے ملک بھر کے جرات مند مصنفوں اور صحافیوں کو یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اپنے قلم کو گروی رکھ دو اور اپنی زبانیں فروخت کر دو ورنہ تمہارا بھی حشر یہی کیاجائے گا۔ بی جے پی حکومت کے تین سالہ دورکاجائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ جس چیزکو انجام دیا گیا ہے وہ بس خوف و دہشت کا فروغ ہے. بی جے پی نے اپنے ہر فیصلے اور حکم میں زیادہ سے زیادہ یہ کوشش کی ہے کہ شہریوں بالخصوص مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کیاجائے. یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت دراصل خوف کی حکومت ہے، دہشت کی حکومت ہے. سوال یہ ہے کہ حکومتوں کو شہریوں کے دلوں میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

حکومتیں جب اپنے حقیقی نصب العین یعنی تعمیر و ترقی سے ہٹ جاتی ہیں اورسطحیت کی طرف چلی جاتی ہیں تو وہ ایسے ہی خوف کی نفسیات پیدا کرتی ہیں تاکہ شہری بازپرس کی ہمت نہ کرسکیں اور اس کے دورِ حکومت پرسوال نہ اٹھاسکیں۔ حکومتوں کی یہ پالیسی آج کی نہیں بلکہ پہلے سے چلی آرہی ہے مگر ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کے دور اقتدار میں اپنے عروج پرجا پہنچی ہے ۔حالاں کہ حکومتیں بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس طرح کی آوازیں کبھی بند نہیں ہو سکتیں. یہ وقتی طور پرخاموش تو ہو جاتی ہیں مگر انہیں ہمیشہ کے لیے قتل نہیں کیا جاسکتا مگر چوں کہ حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مستقل، پائیدار اور ٹھوس نتائج کی طرف نہیں جاتے بلکہ وہ سرسری اور جلدی حاصل ہونےوالے نتائج کی فکر کرتے ہیں اس لیے وہ وقتاً فوقتا ایسے حالات پیداکرتے رہتے ہیں تاکہ کچھ وقت کے لئے ہی سہی شہریوں کی زبانیں خاموش کرائی جاتی رہیں اور ان کی حکومت کاپہیہ بغیرکسی مخالفت ومزاحمت کے رواں دواں رہے ۔

اللہ تعالیٰ نے دنیاکی تخلیق کچھ اس طرح سے کی ہے کہ یہاں اگرچہ شریروں کی اکثریت ہوتی ہے مگر شریفوں کی بھی کمی نہیں ہوتی. شریرو شریف ہی کے درمیان مزاحمت کا نام ہے دنیا.یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا. قدرت تو اپنا کام کرتی رہے گی. ریاست کو بھی تشدد کی پردہ پوشی نہیں کرنا چاہئے کہ یہ حوصلہ افزائی کے مترادف ہے. اچھائی اور سچائی کے فروغ پر گامزن رہنے کے لیے گوری لنکیش کے الم ناک قتل کے تناظر میں ایسے واقعات کی مزید روک تھام کی جانی چاہئے وگرنہ پورے ملک میں لاقانونیت اور تشدد کی وباء عام ہو جائے گی.

Comments are closed.

%d bloggers like this: