جماعت اسلامی کا احتساب مارچ : صفدر چیمہ

0

جماعت اسلامی ” احتساب سب کا ” کے نعرے کے ساتھ اپنے احتساب مارچ کا آغاز کر چکی ہے. جو کہ وطن عزیز کے میدان سیاست میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں، میں ذاتی طور پر تہہ دل سے جماعت اسلامی کے اس مارچ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں. لیکن جب بھی کوئی تحریک چلائی جاتی ہے تو اس کی کامیابی اور ناکامی کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے تاکہ اپنی افرادی قوت کو کسی ایسی لا حاصل جدوجہد میں نہ تھکایا جائے کہ جس کے نتائج صفر سے بھی کم ہوں. لہذا اسی تناظر میں جماعت کی قیادت کو ایک تجویز دینا چاہوں گا لیکن تجویز سے پہلے میاں فیملی کے ہونے والے احتساب کے حوالے سے مختصر سا تجزیہ پیش کرنا چاہوں گا.

میاں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کے پیچھے جہاں، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی عوامی جدوجہد سے لے کر عدالتی جدوجہد ہے وہیں پر کچھ پس پردہ حقائق بھی ہیں اور اسی فرسودہ اور کرپٹ نظام کی گنگا میں اشنان کرنے والی کرپٹ جماعتوں نے بھی میاں صاحب کا گھیرا تنگ کر رکھا تھا سوائے چند ایک جماعتوں کے قائدین نے اور وہ بھی محض ملنے والے حکومتی عہدوں اور مراعات کو حلال کرنے کی خاطر، لہذا میاں صاحب کی نا اہلی یا احتساب کا کریڈٹ صرف جماعت اسلامی یا تحریک انصاف کو نہیں دیا جا سکتا، یہ میری ذاتی رائے ہے کسی بھی دوست کا متفق ہونا ضروری نہیں.

تجویز: اس فرسودہ سیاسی و عدالتی نظام کے ہوتے ہوئے احتساب کے نام پر نا فرمان کرپٹ سیاسی قوتوں کا احتساب تو ممکن ہے مگر ” احتساب سب کا یا حقیقی احتساب یا حقیقی تبدیلی ” ممکن نہیں. اس لیے اگر جماعت احتساب مارچ جیسی لا حاصل اور بے نتیجہ جدوجہد کرنے کے بجائے اپنی پوری قوت انتخابی اصلاحات بشمول متناسب نمائندگی کے نظام پر لگا دے اور ساتھ ساتھ عوامی سطح پر اس نظام کے متعلق بھرپور آگاہی مہم چلائے کہ جس کی بدولت انتخابی اصلاحات اور متناسب نمائندگی کے نظام کا مطالبہ محض جماعت اسلامی کا مطالبہ نہ رہے بلکہ ہر سچے پاکستانی اور حقیقی تبدیلی پسند عوام کا مطالبہ بن جائے…

انتخابی اصلاحات اور متناسب نمائندگی کے نظام کی جدوجہد میں کامیاب مل جائے اور اسی کے تحت انتخابات ہوں اور اس نظام کی بدولت جو حکومت قائم ہوگی وہ اس قابل ہوگی کہ ” احتساب سب کا ” کے نعرے پر عمل کروا سکے اور اس کے راستے میں حائل قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کر سکے…

آخری بات: میں یہ نہیں کہتا کہ متناسب نمائندگی کے نظام کے نتیجے میں ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی لیکن اتنا دعوے سے ضرور کہتا ہوں کہ یہ حقیقی منزل اور بتدریج بہتری کی طرف جاتا ہوا پہلا قدم ضرور ثابت ہوگا اور تبدیلی کے لیے پر امن جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو مضبوط کرے گا ورنہ دوسری صورت میں اس فرسودہ نظام سے نا امید خلق خدا پر تشدد تبدیلی کے خواہاں گروہوں کا انتہائی آسانی سے شکار بنے گی.

About Author

Comments are closed.

%d bloggers like this: