کے پی میں امام مساجد کو تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ: مبارک انجم

0
  • 57
    Shares

شنید ھے کہ کے پی کے میں عمران خان نے تمام آئمہ مساجد کو سرکاری ملازم جتنی تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اعلان بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، ایسا ہونا بظاہر ممکن نظر نہیں آرہا، اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ انکا ایک بہت زبردست کارنامہ ہوگا۔ ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے سپورٹ کریں گے۔ آئیے اب زرا غور کرتے ہیں اس کام کی افادیت کی طرف۔ پاکستان بھر کے اکثر دیہات اور تقریباً شہری ابادی کی مساجد میں بھی امام صاحبان کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ پانچ نمازوں میں حاضری اور امامت کے ساتھ وابستہ دیگر ذمہ داریاں، جیسے تدریس، نماز جنازہ، نکاح و دعا، ذکر، ختم، قل، وغیرہ جیسے امور مکمل ذمہ داری کے کام ہوتے ہیں۔ انکو عمدگی سے سر انجام دے کر کوئی بھی فرد اپنے زاتی کاروبار یا کسی دیگر کسی ملازمت کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور خود اس مامت کی ذمہ داری میں ملنے والی تنخواہ اتفاق سے پاکستان میں دیگر کسی بھی شعبہ کے کسی فرد سے کم ہی ہوتی ہے۔ ایسے میں امام صاحب کے پاس اپنے بنیادی اخرجات پورے کرنے کے لئے بھی بہت کم وسائل ہوتے ہیں۔ اسلئے امام صاحب کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں، یا تو وہ بہت کسمپرسی کی زندگی گزاریں یا پھر مسجد کمیٹیی کے کسی حاجی صاحب یا خان صاحب چوھدری صاحب کے دینی مصاحب رہ کر وقت بتا لیں۔ ان کے علاوہ تیسری راہ پھر خظرناک ہے، یعنی فرقہ واریت کو ہوا دیکر عوام کے جزبات سے کھیلیں اور اپنا نظام چلائیں۔

ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہر جگہ کے لوگوں کو اپنا امام وائٹ کالر ہی چائیے ہوتا ہے، کوئی سبزی کا ٹھیلا لگانے والا امام کہیں بھی پسند نہیں کیا جاتا اور بدل دیا جاتا ہے۔ اس لئے پاکستان میں زیادہ تر یہی تین چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف اگر ہر مسجد کے امام کو سرکاری ملازمت دے دیتی ہے تو یہ مولوی کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہوگی، اور ہر مولوی، اپنی گزر بسر کی فکر سے آزاد ہو کر ھر طرح کی مصاحبت سے آزاد ہوکر پورے وقار کے ساتھ تعلیم دے سکنے کا اہل ہوسکے گا۔ اسکا دوسرا بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تمام مساجد رجسٹر ہو سکیں گی اور ہر امام مسجد کی مانیٹرنگ ممکن ہوسکے گی، ساتھ ہی انکو ایک نظام میں پرو کر ایک ترتیب دی جا سکے گی۔ اسکا تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت کو جوابدہی اور نوکری کھو دینے کا ڈر فرقہ واریت سے بہت حد تک نجات دلا دے گا۔ اسکا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمارا بنیادی تعلیمی اور تربیتی مرکز، مسجد قومی بیانئیے کے عین مطابق کرنے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ یہ تو تھے اسکے کچھ جلی فوائد۔

آئیں اب دیکھتے ہیں کہ اس کام میں رکاوٹیں کیا ہو سکتی ہیں؟

مساجد کورجسٹر کر کے انکے امام کو سرکاری ملازمت دینے میں پہلی رکاوٹ تو مالی وسائل کی کمی ہے۔ صوبہ بھر میں ایک لاکھ کے قریب مساجد ہیں، اور اگر اتنی تعداد میں لوگوں کو صوبائی حکومت ایک کلاس فور ملازم یعنی خاکروب و اردلی جتنی بھی تنخوا ہ دے تو بھی پندرہ ہزار سے ابتدا کرنی ہی پڑے گی۔ اور حکومت ایسا نہیں کر سکتی کہ امام مسجد کو ایک خاکروب کے برابر تنخواہ دے۔ اسے لازماً ہی امام مسجد کو کم ازکم ایک پرائمری ٹیجر جتنا سکیل دینا ہی ہوگا ورنہ حکومت خود اپنے پاوں پہ کلہاڑی مارے گی، اور اتنی بڑی تعداد میں اتنے لوگوں کو اتنے پیسے دینا یقیناً صوبائی خزانے کے لئے بہت مشکل ٹاسک ہوگا۔ بالخصوص ایسی حالت میں جب صوبائی اور مرکزی حکومتیں اپنے خزانہ کے معاملہ میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پابند ہوں، انکو ورلڈ بینک اس فضول خرچی کی اجازت کیسے دیگا؟

اس کام کی دوسری اور سب سے بڑی رکاوٹ وہ لوگ ہونگے جو ملک عزیز میں فرقہ واریت پھیلا کر، انتشار پھیلا کر اپنے مقاصد حل کرتے ہیں، اور ان میں بلاشبہ مشنری مولوی، اور کچھ سیاسی لیڈرز بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ آسانی سے اپنے مولویوں کو سرکاری تحویل میں جانے ہر گز نہیں دینگے۔ جس ایمپائر کو کھڑا کرنے میں انہوں ستر سال محنت کی ہے، اس سے آسانی سے دستبرادر ہرگز نہ ہونگے اور ہر قسم کی سیاسی، عوامی، تشہیری اور قانونی مشکلات کھڑی کریں گے۔

تیسری بڑی رکاوٹ مذہبی جماعتیں ہونگی، جن کو.بہت مشکل ہی سے یہ یقین دلایا جاسکے گا کہ یہ کام ان سے مساجد چھیننے کے لئے نہیں کیا جارہا بلکہ آئمہ اکرام اور ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا جا رہا ہے۔

چوتھی رکاوٹ سیاسی پارٹیاں، اور بالخصوص مزہب بیزار سیاسی پارٹیاں ہونگی۔ جنکے لئے یہ اقدام تحریک انصاف کا محض سیاسی سکور کرنے کی کوشش ھوگا اوروہ یہ برداشت مشکل ہی سے کریں گی کہ تحریک انصاف اتنا بڑا سیاسی سکور کر جائے، اور اس پہ اتنا بڑا قومی سرمایہ بھی خرچ کرے۔

پانچویں رکاوٹ وہ آئمہ مساجد ہونگے، جنہوں نے اپنی مخصوص ٹیکنیک کے زریعہ مساجد کو ایک انتہائی منافع بخش ادارہ بنا رکھا ھے اور وہاں سے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ انکو سخت اعتراض ہوگا کہ کوئی انکا بزنس چھین کر ایک حقیقی امام مسجد جتنے پیسوں پہ پابند کرے۔

چھٹی اور ایک اہم رکاوٹ خود کو سول سوسائٹی کہلوانے والی وہ مذہب بیزار غیر سرکاری تنظیمیں ہونگی، جو مساجد سے متلعق کسی بھی چیز پہ ایک روپیہ بھی خرچ کیا جانا جرم تصور کرتی ہیں، اور ملک میں مساجد کی جگہ سینما ہاؤسز تھیٹرز اور مخلوط کیمونٹی سینٹرز کی اجارہ داری کی قائل ہیں۔ انکو بہت سے بیرون ممالک سے سپورٹ اور سرپرستی بھی میسر ھونے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی زبردست سہولت میسر ہے۔

یہ ساری رکاوٹیں ایسی ہیں، جن کا سدباب عمران خان کے لئے ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوگا۔ پھر ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ خود تحریک انصاف میں بھی کچھ لوگ اسکے مخالف ہونگے، جو یقیناً کوشش کریں گے کہ کسی طرح اپنے لیڈر کو اس کام سے روکا جائے۔ ایسے میں اگر عمران خان ان سب رکاوٹوں کو توڑ کر تمام ائمہ حضرات کو سرکاری ملازمت دے دیتے ہیں تو یقینا یہ انکا بہت بڑا کارنامہ ہوگا، جسکی جتنی بھی داد دی جائے کم ہوگی۔
مبارک انجم

Comments are closed.

%d bloggers like this: