ہیجڑوں کے چامکوں کی شامت: شوکت علی مظفر – قسط 12

0

478دانش کی مقبول سیریز ’چامکا‘ کی نئی قسط طویل وقفہ کے بعد پیش کی جارہی ہے، دیکھئے شوکت علی مظفر اس دفعہ اس پراسرار اور اوجھل دنیا سے کیا لے کے آئے ہیں۔


گزشتہ سے پیوستہ:

سخی حسن والے پروگرام میں جانے کا کوئی اِرادہ نہیں تھا۔ پھر ہیجڑے کا دیا گیا دعوت نامہ بھی طارق روڈ وَالے بنگلے میں ہی چھوڑ آیا تھا۔ لیکن مَلک صاحب (میرے طنزو مزاح کی تحریروں کے کردار) نے دیگر دوستوں سے رنگین و سنگین سالگرہ کا قصہ سن کر منہ پھلا لیا کہ انہیں اس موقع پر ساتھ کیوں نہیں لے جایا گیا اور اب بضد تھے کے سخی حسن چل کر ہیجڑے کی سالگرہ میں رقص اور ماحول کو انجوائے کریں گے۔ مصروفیت کا بہانہ بنا کر انہیں ٹال دیا۔ چند دن بعد ایک قریبی دوست کی بہن کے نکاح میں تمام قریبی دوست شریک ہوئے۔ بینکوئٹ سخی حسن پر تھا۔ مَلک صاحب کچھ بے چین دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے پھر ناراضگی کا اظہار کیا کہ سالگرہ میں کیوں نہیں لے کر گئے۔ شادی میں کھانا کھا کر ہم سب دوست باہر گاڑیوں کے پاس آکر گپ شپ کرنے لگے تو اسی وقت دو ہیجڑے بھیک مانگتے ہوئے آگئے۔ نجانے مَلک صاحب کے دل میں کیا آئی کہ پوچھ بیٹھے ’’تمہارے کسی پارٹنر کی سالگرہ کا پروگرام ہو تو ضرور بتانا۔‘‘

ایک ہیجڑے نے تالی بجاتے ہوئے چند قدم دور شادی ہال کی طرف اشارہ کیا’’ابھی چلے جائو، آج بھی اُس شادی ہال میں سالگرہ ہے۔‘‘
ہم دوست وہاں پہنچے تو دعوت دینے والا ہیجڑا ہمیں دیکھ کر مسکرایا اور شکریہ بھی اَدا کیا کہ اس کی دعوت پر تشریف لائے۔ کتنا حسین اتفاق تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی سالگرہ میں پہنچ گئے تھے۔لیکن یہاں سیکورٹی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ ہیجڑے بھی سگنل چوراہوں پر کھڑے ہونے والے، شادی بیاہوں میں ناچنے والے اور سنسان راستوں پر گناہوں کی دعوت دینے والے تھے۔ پھر شرکاء میں مزدور پیشہ لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ہیجڑا ہمیں انتہائی احترام کے ساتھ اگلی نشستوں تک لے گیا جہاں اس کے دیگر ساتھیوں نے ہمیں ویلکم کیا۔
رقص کی محفل گرم تھی، تماشائیوں کا ہلڑ جاری تھا۔ نشہ موجود تھا لیکن اپنے پیسوں سے خرید کر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ پندرہ بیس منٹ میں ہم دوستوں کو گزشتہ تقریب کا ماحول اور وَاڈھا کی بات یاد آئی’’یہ لوکل پروگرام ہے، مت جانا۔‘‘
ہم لوکل پروگرام میں موجود تھے اور بیزار تھے۔ دوستوں نے مشورہ نے کیا اور باہر کی جانب چل پڑے۔ چونکہ مَلک صاحب نے طارق روڈ والا پروگرام نہیں دیکھا تھا اس لیے اُن کا دل یہاں سے جانے کا نہیں چاہ رہا تھا لیکن بے دلی سے ساتھ ہولیے۔ ہم لوگوں نے جونہی شادی ہال سے باہر آکر سروس روڈ پر گاڑی کی طرف قدم بڑھائے تب ہی دو پولیس موبائلز تیزی سے آکر رُکیں۔ میں سمجھا شاید سیکورٹی اب آئی ہے۔ مگر اگلی موبائل میں بیٹھے رعب دار افسر نے باہر آتے ہی گونجدار آواز میں انتہائی غلیظ گالی نکالتے ہوئے سپاہیوں کو آرڈر کیا’’ڈالو سب کو گاڑی میں۔‘‘

اگرچہ میرے پاس نیوز چینل کا صحافتی کارڈ موجود تھا لیکن پولیس کی پھرتی، افسر کی چستی اور ماحول کی پستی دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں بھی سنساہٹ سی دوڑ گئی۔ شکر اَدا کیا کہ ہم شادی ہال سے باہر آچکے ہیں، ورنہ تعارف کراتے کراتے عزت کا فالودہ بن چکا ہوتا۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ فوری طور پر سڑک عبور کرلی جائے۔ گاڑیاں بعد میں لے جائیں گے۔ ہم سڑک پار کرکے شادی ہال کے بالکل سامنے کھڑے ہوکر نظارہ دیکھنے لگے، ہیجڑوں اور تماش بینوں کی دوڑ لگ چکی تھی۔ چامکوں کی شامت کا عجیب ہی نظارہ تھا، جس کا جدھر منہ آیا وہ بھا گ رہا تھا۔ آدھی رات کے سناٹے کو پولیس کی گالیاں اور ہیجڑوں کی تالیاں چیر رہی تھیں۔ اسی وقت ایک دوست نے کہا کہ ’’عزیز اندر ر َہ گیا ہے۔‘‘
عزیز کی کار شادی ہال کے گیٹ کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ وہ خود اَندر پھنسا ہوا تھا۔ فون پر رابطہ کیا مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اسی وقت کچھ ہیجڑے ہمارے پاس گزرے، ہمیں دیکھ کر بے ساختہ ایک نے پوچھا’’ہائے اللہ! کون کون پکڑا گیا؟‘‘
جواب دینے کی بجائے ان بے چاروں کی حالت دیکھ کر ترس آنے لگا۔ سینڈلز ان کے ہاتھوں میں تھے، میک اَپ کی تہہ پسینے میں کہیں بہہ گئی تھی۔ اسی وقت کچھ اور پولیس موبائلز کی انٹری ہوئی جنہیں دیکھ کر یہ ہیجڑے اندھیری گلیوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔
منظر جتنا خوفناک تھا، اچانک شروع ہونے والی بارش نے اسے اور بھیانک بنا دیا۔بجلی کی چمک اور بادلوں کی کڑک دل دہلائے دے رہی تھی۔ ہمیں فکر تھی تو عزیز صاحب کی۔
گیلی سڑک پر ہر گاڑی کے ٹائر کی آواز پولیس موبائل کی آہٹ سنائی دیتی۔ ایک پولیس موبائل ہمارے پا س آکر رُکی۔ دو سپاہی نے چھلانگ لگا کر اُترے۔ ایک نے سختی سے پوچھا’’اوئے تم لوگ بھی کنجر خانے میں تھے۔‘‘
مَلک صاحب یہ سن کر شرم سے پانی پانی۔ باقی دوست حواس باختہ۔ ہمت کرکے میں نے کہا’’جی نہیں، ہم سب دوست کی بہن کی شادی میں آئے تھے۔‘‘
جیب سے نکاح کے چھوہارے کی چھوٹی سی پوٹلی بھی نکال کر دکھا دی۔ اور پھر پولیس والے کے چہرے کے تاثرات بدلتے دیکھ کر پولیس موبائل کی اگلی سیٹ پر بیٹھے افسر کے پاس جاکر اسے تعارف کرایا اور ایک عدد چھوہارہ بھی پوٹلی سے نکال کر پیش کیا۔ افسر نے مسکرا کر چھوہارہ لے کر منہ میں ڈال لیا اور مشورہ دیا’’یہاں سے آگے پیچھے ہوجائیں۔ فحاشی کے پروگرام پر چھاپہ پڑا ہے۔ اتنی رات کو جو بھی مَرد اور ہیجڑا نظر آرہا ہے اُسے اٹھا کر لاک اَپ کررہے ہیں۔‘‘

افسر کے مشورہ پر ہم اندرونی گلی میں آگئے۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہم دوست پسینے سے شرابور ہیں یا بارش سے۔ اچانک ہی عزیز کی کال آئی اور وہ چہکتے ہوئے بولا’’کدھر ہو یار تم لوگ؟‘‘ میں گاڑی لے کر بورڈ آفس اسٹاپ(میٹرک بورڈ آفس) تک بھاگ آیا ہوں۔‘‘ یہ سن کر تسلی ہوئی اورکچھ دیر بعد ہم بھی روانہ ہوگئے۔
فجر کی اذانیں ہورہی تھیں، ہم ایک ہوٹل پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ مَلک صاحب نے آئندہ کسی ہیجڑے کی سالگرہ میں جانے سے توبہ کرلی تھی۔ عزیز صاحب اندر کے قصے سنا رہے تھے کہ جس کی سالگرہ تھی وہ ہیجڑا تو چھاپہ پڑتے ہی سب سے پہلے فرار ہوا۔ پولیس والوں نے بھی ہیجڑوں سے زیادہ اُن کے چامکوں کو پولیس موبائل میں بھرنا شروع کیا۔ دوچار نازک ہیجڑے اپنی سستی کی وجہ سے اُن کے ہاتھ آگئے۔
’’اور تم کیسے بچ گئے؟‘‘ میں نے چائے کا خالی کپ رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اپنی عقل سے! میں نے بھی شور کرنا شروع کردیا کہ کسی کو مت چھوڑنا، انہوں نے ماحول خراب کر رکھا ہے۔بے غیرت فحاشی پھیلاتے ہیں۔ انہیں تو سر عام پھانسی دے دینی چاہئے۔‘‘

عزیز کی شخصیت بھی ایسی ہے کہ وہ انتہائی سلجھا ہوا اَور بزنس مین دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ سالگرہ کے لولکل پروگرام میں زیاد ہ تر سستی تفریح حاصل کرنے والے نچلے طبقے کے لوگ تھے۔پولیس والے تو ظاہری شخصیت سے بھی رعب میں آجاتے ہیں اور پھر عزیز تو خود معاشرے سے برائی ختم کرنے کا سیاسی کھیل کھیل رہا تھا۔
اندر کی خبر ہے کہ چند ہزار کے بدلے ہر پکڑے جانے والے چامکے نے اپنی عزت بچالی۔ لیکن جس طرح طارق روڈ والے بنگلے کی پارٹی تاحیات ہمیں نہیں بھولے گی اس سے کہیں زیادہ یہ سخی حسن والی برتھ ڈے پارٹی یاد رہے گی۔ خاص کر وہ ڈائیلاگ’’ہائے اللہ! کون کون پکڑا گیا۔؟‘‘

گیارہویں قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments are closed.

%d bloggers like this: