موت کا نیا کھیل ۔ ۔ ۔ ۔ “بلیو وہیل گیم” فارینہ الماس

0
  • 45
    Shares

سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال سے “ٹیکنالوجی” نے جنم لیا جو ترقی کرتے کرتے “انفارمیشن ٹیکنالوجی” کی جدید ترین شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا اہم حصہ “انٹرنیٹ” کی صورت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ دنیا بھر میں بٹی ہوئی اقوام، مذاہب، ثقافتوں اور تہذیب و تمدن کو قریب تر لانے اور انہیں یکجائیت کے رنگ میں ڈھالنے میں انٹرنیٹ کا ایک اہم کر دار ہے۔ لیکن مثبت ثمرات سے کہیں ذیادہ اس کے منفی اثرات میں ہم گھر کے رہ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا جس نے دلوں کو ملانے سے کہیں ذیادہ قدورتوں اور نفرتوں کو پھیلانے میں خاص کردار ادا کیا۔ ایک طرف تو حادثات زمانہ کو اتنا قریب دیکھ کر انسان شدید قسم کے تناؤ اور دباؤ کا شکار ہونے لگا ہے تو دوسری طرف انٹرنیٹ نے مصنوعی تعلق داری اور ربط کا ایک ایسا جال انسان کے گرد بن دیا ہے کہ انسان خود اپنے آپ میں ہی تنہا ہوچکا ہے۔ اس نے حقیقی دوست احباب، والدین، بہن بھائیوں اور عزیز رشتہ داروں سے دوری اختیار کر کے مصنوعی تعلقات اور مصروفیت کا چلن اپنا رکھا ہے۔ وہ تعلقات جو کبھی بھی ان حقیقی رشتوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ فیس بک، انسٹا گرام، واٹس ایپ اور نجانے کیا کیا جو ہمیں دن بھر الجھائے رکھتے ہیں۔

والدین اپنی دنیا میں گم ہیں تو بچوں نے اپنی دلچسپیاں ڈھونڈ رکھی ہیں۔ گھر میں پڑی لڈو، تاش، شطرنج، کیرم بے معنی ہو گئے۔ ان میں تو کھیل کا ساتھی چاہئے۔ جو میسر نہیں۔ توکمپیوٹر سے کھیلیں۔ ۔ ۔ کمپیوٹر سے بڑا ساتھی تو اب کوئی ہے ہی نہیں۔ ۔ کینڈی کرش، لوڈو سٹار، سنیپ چیٹ ہو یا پوکے مون گو ایڈونچر سب ہی دلچسپ ہیں۔ لیکن ان میں وہ نشہ ہے جو کبھی کم ہونے کو آتا ہی نہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پہلے تو وقت کا ضیاع تھا اور اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو جاں کا بھی۔ ۔

“بلیو وہیل چیلنج”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ گیم جس نے دنیا کے تقریباً بیس ممالک کو اب تک اپنے “موت کے کھیل” کا شکار بنایا۔ یہ گیم 2013 میں روس میں متعارف کروائی گئی۔ جسے روس کے ایک اکیس سالہ شخص Philip Budekin نے بنایا۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اس کو بنانے کا مقصد معاشرے سے ایسے لوگوں کا صفایا کر نا ہے، جن کی زندگی کسی قدر یا قیمت کی حامل نہیں۔ اس شخص کا اپنا پس منظر یہ ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی سے بطور نفسیات کے طالبعلم کے نکال دیا گیا تھا۔ اور یقیناً اسے اس کی کچھ منفی سرگرمیوں کی وجہ سے ہی یونیورسٹی سے نکالا گیا ہو گا۔ اس گیم کو بنانے میں اس کی مجروح شخصیت کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیات کے علم کو بروئے کار لا کر لوگوں کو نفسیاتی تناؤ اور ڈپریشن سے نکالنے کی بجائے انہیں ان امراض میں مبتلا کر نا چاہتا ہے۔ وہ ایسا کر کے لوگوں کے جذبات اور احساسات سے کھیلنا چاہتا ہے، یا وہ موت کے اس کھیل میں لذت محسوس کرنے کے مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اسی لئے اس کھیل کا انجام اس نے موت کے نام سے تحریر کیا۔ موت، جو کھیل کے 49 ٹاسک کامیابی سے کھیل چکے لوگوں کو اس کے 50 ویں اور آخری ٹاسک میں جا گھیر لیتی۔ اس کھیل کے ذیادہ تر ٹاسک کھیلنے والے کو خود اذیتی اور خودرفتگی دونوں ہی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ً خود اذیتی یہ کہ رات دیر تلک جاگنا اور سحر خیزی کرنا، تمام دن ڈراؤنی فلمیں دیکھنا، اپنی نازک رگوں کو کاٹنا، بلیڈ سے جسم کے کسی حصے پر وہیل کی تصویر بنانا۔ اور آخر کار چھت سے نیچے کود کر اپنی جان دے دینا۔ اور خود رفتگی ایسی کہ کھیلنے والے کو احساس بھی نہ ہو کہ کھیلانے والا اس سے اس کی جان مانگ رہا ہے، جس کے چلے جانے کے بعد کچھ باقی نہ رہے گا۔

اس سارے کھیل کو کامیاب بنانے کے لئے کھلاڑی کی نفسیات کو خاص طریقے سے اپنے قابو میں کر کے اس کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ اسے مختلف اوقات میں خود اس کی قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر بنوا کر بھی محفوظ کر لی جاتی ہیں۔ کھلاڑی سے یہ ویڈیوز اور تصاویر سکائپ یا کسی اور ویڈیو کالنگ ایپ کے زریعے منگوائی جاتی ہیں۔ جو آخری مراحل میں اسے دھمکانے اور دھوکہ دینے کے کام آتی ہیں۔ اس کھیل کے سلسے میں فیس بک، یو ٹیوب، جی میل، ہاٹ میل، یاہو، اور واٹس ایپ جیسے ایپس کی مدد لی جاتی ہے۔ پچاس ٹاسک کل پچاس دن کی مدت میں پورے کرنے ہوتے ہیں یعنی ایک دن کے لئے ایک ٹاسک۔ جنہیں ہر صورت پورا کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اس دوران کھیلنے والے کو نفسیاتی طور پر ٹاسک نپٹانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ اسے جرائت اور بہادری دکھانے اور زندگی کی مشکلات سے نپٹنے کا درس دیا جاتا ہے۔ نوجوان جو عموماً زندگی میں چیلنجوں کو قبول کرنے کی خو رکھتے ہیں اپنی مرضی اور اپنے ہی شوق سے انہیں پورا کر گزرتے ہیں۔ 2015 میں اس گیم کے تحت پہلی خودکشی ہوئی۔ 2016 میں ایک روسی صحافی نے اس پر آرٹیکل لکھا جس کی وجہ بہت سے ٹین ایج نوجوان اس کے تجسس میں مبتلا ہو کر اس کا شکار ہوئے۔ سب سے ذیادہ اموات جو تقریباً 130کے قریب ہیں وہ روس میں ہی ہوئیں۔ روس میں ایسے واقعات سے نپٹنے کے لئے خودکشی کے خلاف قانون سازی بھی کی گئی۔ لیکن خودکشی جام کا وہ پیالہ ہے جسے بھرا ہی موت سے جاتا ہے، سو دو چار ہی ایسے کیس سامنے آئے جس میں خودکشی کا یہ اقدام ناکام ہوا۔

موت کا یہ کھیل اب تک روس، برازیل، پیراگوائے، پرتگال، کولمبیا، اٹلی، کینیا، جارجیا، سپین سمیت سعودی عرب اور امریکہ میں بھی کھیلا جا چکا ہے۔ یہ کھیل اب ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بہت ذوق و شوق سے کھیلا جا رہا ہے۔ اور ایک جغرافیہ ہونے کی وجہ سے ہر بیماری کا وائرس جیسے انڈیا اور پاکستان پر ایک ہی وقت میں حملہ آور ہوتا ہے بلکل اسی طرح یہ کھیل بھی انڈیا سے پاکستان آ چکا ہے۔ پاکستان میں نوجوان قدرے جذباتی اور نڈر واقع ہوئے ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان اسی جذباتیت کے تحت دہشت کی بھٹیوں کا ایندھن بننے کی طرف مائل ہونے لگے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ اس خونی کھیل کا بھی رخ کرنے لگیں۔ سو اس سلسلے میں وقت سے پہلے اقدامات ضروری ہیں۔

اس کھیل کا خوف کسی سنگین وائرس کے پھیلنے کے خوف کی ہی طرح بڑھتا چلا جا رہا ہے لیکن سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا وہ ایپس جن پر یہ کھیلا جا رہا ہے یا جن پر ان کی ریکوئسٹ بھیجی جاتی ہے وہ اتنے ہی بے قابو ہو چکے ہیں کہ اس کھیل کو ان سے ہٹایا جانا ہی ممکن نہیں ؟ یا متعلقہ افراد ہی نہیں چاہتے کہ ایسا کوئی اقدام اٹھایا جائے کیونکہ یہ بھی تو سنسنی پھیلا کر تجسس بڑھا کر مال اکٹھا کرنے کا ایک زریعہ ہی ہے۔

اس کھیل کو کھیلنے والوں کی عمریں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ اسے کھیلنے والے زیادہ تر افراد ٹین ایج نوجوان ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آیا والدین اس قدر غافل ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کی پچاس دنوں کی ان نفسیاتی تبدیلیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں جو کشمکش، دباؤاور ذہنی انتشا ر کے طور پر ان کے کردار میں رونما ہونے لگتی ہیں۔ کیا والدین یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچے ایک تنہا کمرے میں بیٹھے اس خونی کھیل کے پھیلائے جال میں اس قدر دھنستے چلے جارہے ہیں کہ خود اذیتی اور تکلیف سے گزرتے گزرتے اپنی جان تک سے گزر جانے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ کیا والدین اپنے بچوں کو ان کی زندگی کی اہمیت اور قدر کا احساس دلانا بھی بھول چکے ہیں کہ وہ خواب بننے، تعبیر کی اوس میں بھیگنے اور خود پسندی کی حیات آگیں بوندوں کو چکھنے کی بجائے، خود اذیتی خود کشی جیسے گھناؤنے راستے کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ ؟ اگر ہم اپنے بچوں کو موت کے اس کھیل سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں وقت دینا ہو گا۔ ان کی سرگرمیوں پر بھرپور نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ انہین زندگی کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا ہو گا۔ انہیں موت کی طرف جاتے ٹاسک سے بچانے کے لئے زندگی کی طرف جانے والے بھرپور اور تعمیری ٹاسک دینا ہوں گے۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: