پیکر استقامت: قائد اعظم کی حیات پر ایک طائرانہ نظر: شوکت علی گیلانی

0

چٹکیاں لیتی ہے دل میں آج اس محسن کی یاد
ہو گیا شرمندہء تعبیر جس سے خواب قوم

کسے خبر تھی کہ 25 دسمبر کو کراچی کے بین الاقوامی اور تاریخی شہر میں 1876 کوجناح پونجا کے ہاں جنم لینے والا محمد علی جناح ایک دن تاریخ ساز شخصیت ثابت ہوگا۔ محض کچھ ہی برسوں میں نا ممکن کو ممکن کر دکھائے گا اور ایک وسیع خطہء زمین میں اقلیت کی زندگی گزارنے والے مسلمانوں کو خوب صورت ملک بنا کر دکھائے گا۔

بمبئی اور کراچی میں ابتدائی مراحل طے کرنے والا یہ ہونہار اور نفاست پسند طالب علم راتوں کو دیر تک جاگ کر تعلیم میں مشغول نظر آتا ہے کہ وہ محنت میں عظمت کا قائل ہے اور محنت کے بل بوتے پر عظیم انسان بننے کا خواہشمند بھی ہے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد محمد علی جناح اپنے والد کے دوست فریڈرک کروفٹ کے مشورہ پر انگلستان کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں سے پانچ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ دبلا پتلا بیرسٹر ہندوستان واپس آتا ہے تو گھر اور کاروبار کے حالات دگرگوں ہوچکے ہوتے ہیں۔

اس وقت یہ نو خیز بیرسٹر اپنے ییشہ وارانہ جوہر دکھانے کے لئے بمبئی کو منتخب کرتا ہے جہاں تین سالہ تنگی کے بعد اب مقدمات ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب یہ نو عمر جواں سال اور مستقل مزاج وکیل اپنے کیسوں کی تیاری میں فقید المثال دلچسپی اور محنت کا مظاہرہ کر کے اپنےحریفوں کے چھکے چھڑوا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ عدالتوں میں اس نوجوان کی مدلل گفتگو اور قانون پر مہارت کا شہرہ ہو جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے مقدمات بڑھتے جاتے ہیں۔ کیا اپنےِ، کیا بیگانے، سب اسکی قانونی دسترس اور صلاحیت سے دم بخود ہوجاتے ہیں۔

ایسے عالم میں جب وہ اپنی قانونی آگاہی اور مصروفیت کی انتہاء پر ہوتا ہے اسی دوران ملکی سیاست اور آزادیء یند کی تحریکات اس کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ وہ پہلے کانگریس میں شامل ہو کر آزادی ء ہند کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔ مگر ہندو کانگریس کے ساتھ چند قدم چلنے کے بعد اس کے مسلم دشمن عزائم سے با خبر ہو کر مسلم لیگ کی مسلمانوں کے حقوق کی علم بردار حقیقی جماعت کا رکن بن جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مصوفیات پیشہء وکالت کے لئے مشکلات کا باعث بننے لگتی ہیں تو وہ اپنے تمام وقت اور صلاحیتوں کو قوم کے لئے وقف کر دیتا ہے۔

پوری تندہی سے مسلمانان برصغیرکے حقوق اور ان کی آزادی کے لئے بلکہ ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ ساتھ منافقانہ طرز عمل رکھنے والے نا عاقبت اندیش مسلم رہنماؤں کی چیرہ دستیوں کا توڑ کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ہندو راج کے خواب دیکھنے والی کانگریس اور حکمران انگریزوں پر ثابت کر دیتا ہے کہ آزادی کے بعد ہندو اور مسلمانوں کا اکھٹے رہنا نا ممکن اور خانہ جنگی کو دعوت دینا ہے۔ وہ یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ کانگریس سارے ہندوستانی باشندوں کی نمائندہ جماعت نہیں بلکہ وہ ہندو جماعت ہے جو متحدہ آزاد ہندوستان میں ہندوؤں کی بالادستی کی قائل ہے۔ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت صرف اور صرف مسلم لیگ ہے۔ 1937 کے الیکشن میں ہندو وزارتوں کے صوبوں میں ہر شعبہء زندگی میں مسلمانوں سے زیادتیوں اور ہندو ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے طول وعرض سے تمام مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگتے ہیں جن کو قائد اعظم کی بصیرت افروز قیادت متحد اور منظم رکھتی ہے۔

شبانہ روز محنت 1940 میں قرارداد پاکستان کو منظور کرانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اس سے قبل 23 مارچ 1930 میں مسلم لیگ کی سربراہ کانفرنس میں جس طور سے مملکت پاکستان کا خاکہ پیش کیا گیا ہندو قیادت نے مخالفت اور مخاصمت کے پنچے تیز کر لئے ۔ قائد اعظم پر الزامات عائد کئے جاتے رہے ان کی شخصیت کو مشکوک قرار دیا گیا۔ حوصلہ شکن حالات میں استقامت کا پیکراپنی قوم کے لئے ڈٹا رہا۔ انگریز سرکار پہلے ہی ہندوؤں کی ہمنوا تھی اور ہندو کسی صورت برصغیر کی گاؤ ماتا دھرتی کے حصے بخرے گوارا نہیں کر سکتا اب مسلم کش فسادات شروع ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو نظریہء پاکستان کے خلاف کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے.

مگر 1946 کے انتخابات میں قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں کی واضح کامیابی ہندو اور انگریز گٹھ جوڑ کو اکھیڑ کر رکھ دیتی ہے اور مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت قرار پاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واشگاف اعلان کی صورت سامنے آتا ہے کہ ہندوستان میں مسلم اقلیت بھی ایک مکمل قوم کی صورت اپنے لئے بجا طور سے الگ خطہء زمین کے لئے آزادی کی خواہشمند ہے ۔ جہاں وہ اپنے اصول و ضوابط پرکاربند رہتے ہوئے آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ آخر 14 اگست 1947 کے روز مجبورا انگریز سرکار کو تاج برطانیہ کا قیمتی ہیرا یعنی ہندوستان کو دو آزاد اور خود مختار ممالک میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم محمد علی جناح اپنی کبر سنی اور کمزور صحت کے باوجود نوزائیدہ مملکت پاکستان کو اپنے پیروں پر جلد کھڑا کرنے کے لئے بے پناہ کام کرپڑتا ہے۔ قانون و سیاست کے ہر میدان میں برے سے بڑے ھر حریف کو شکست دینے والے عظیم رہنما کو بالاخر11 ستمبر 1948 میں موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ ہمت و استقامت کی عملی صورت کا یہ بے لوث رہنما بے پناہ محبتوں اور عقیدتوں کو لئے اپنے جائے پیدائش کراچی میں ہی مدفون ہوتا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

About Author

Comments are closed.

%d bloggers like this: