پاک امریکہ تعلقات، اتار چڑہاو کی تاریخ: بابر عباس

0
  • 41
    Shares

88اگر تو یہ کہا جائے کہ خطے میں اور پاکستان سے جڑے امریکی مفادات ختم ہو چکے ہیں اور اسکی بڑی اور زمین موجودگی کے سبب افغانستان، سے وہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ایک پر امن افغانستان کا قیام یقینی بنا چکا ہے،تو 9 نومبر کے امریکہ پر حملوں کے بعد پاک امریکہ تعلقات نے جو ایک نئی جہت لی جب کہ اس وقت پاکستان پابندیوں کی تین تہوں تلے دبا ہوا تھا. ایک بار پھر امریکہ کو اس اسٹریٹجک پارٹنر کی ضرورت پڑ گئی۔ اور پرویز مشرف نے دوہزار تین میں کیمپ ڈیوڈ میں ایک دن بھی گزارا جبکہ اس سے تین سال پہلے تک شائد ہی امریکی صدر جارج بش نے جنرل مشرف کا نام بھی لیا ہو (بلکہ ان ایام میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا نام بھی امریکی صدر کے منہ سے نہیں سنا گیا تھا)۔ اسی سربراہ کانفرنس میں ہی پاکستان کے لئے تین ارب بیس کروڑ ڈالر کے امدای پیکج کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ چونکہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان سے ایک قلیل المدتی واقعاتی بنیاد پر مخصوص اور محدود معاوضے پر ایک شراکت دار کے حثیت سے ہی کام لیا ہے ،تو اس حوالے سے تو معاملہ یہاں ختم ہو جانا چاہیئے تھا۔

لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے، ورنہ تو گزرے وقت 1956 میں پاکستانی وزیر اعظم حسین سہروردی سے پشاور میں امریکی کنٹرولڈ ائیر سٹرپ کے قیام کی “مقبول” درخواست کی جاتی اور نہ ہی جنرل مشرف کے دور سے کسی بھی بیرون ملک سب سے بڑے سی آئی اے سٹیشن کا قیام اسلام آبادمیں عمل میں لایا جاتا۔

اگر جیو پالیٹکس کے تناظر میں دیکھیں تو پاکستان ایک ایسا بفر زون ہے جو ماضی اور ماضی قریب میں تاج برطانیہ کے دور تک خطے میں ایک بفرزون علاقے افغانستان کی جگہ لے چکا ہے۔ جس نے خطے کی کسی بھی بڑی طاقت کے توسیع پسندی کے تمام امکانات کو ختم کر دیا ہے۔ سوویت جنگ کی صورت میں جسکی ایک مثال موجود ہے۔ یہ ہی وہ لیوریج ہے جس پر پاکستان اور امریکہ کا سرد گرم رومانس مختلف ادوار میں قائم رہا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات کا اگر مختصر جائزہ لیں تو 1960 تک حالات معمول پر تھے سینٹو اور سیٹو میں شمولیت بھی ممکن ہو چکی تھی. مگر ساٹھ میں دونوں ممالک کے بیچ دراڑ اس وقت آئی جب پاکستان نے تعاون کے لئے چین کی سمت رخ کیا اور اس دوارنیئے میں بھارت چین جنگ میں امریکہ نے بھارت کی پشت پناہی کی، علاوہ ازیں پاکستان اور بھارت کے بیچ وجہ عناد مسئلہء کشمیر پر ثالث بالخیر بننے کی دانستہ ناکام کوشش سے بھی یہ اتحاد ایک بار پھر جمود کا شکار ہو گیا۔ جسکی جلد ہی ضرورتاً تجدید اس وقت کی گئی جب 1970-71 میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے تعلقات کی شروعات میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ نے اظہار تشکر کرنا چاہا۔ جسکی جگہ جلد ہی دوبارہ بے نیازی اور لاتعلقی نے لے لی اور تعلق گرمجوشی کی جگہ محض معمولی اقتصادی امداد اور پاکستانی فوجی افسران کے تربیتی پروگراموں تک محدود رہ گیا۔ 1971 میں مشرقی بازو کی علیحدگی کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کی بنا پر ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی اور کارٹر انتظامیہ کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئیں۔ 1977 کے مارشل کے دو سال بعد یہ سرد مہری اپنی انتہاء کو پہنچ گئی جس وقت پاکستان میں امریکی سفارتخانوں کو آگ تک لگائی گئی۔ اب یہ بفر زون ریاست ایک بار پھر سوویت وار میں امریکہ کی ضرورت بن گئی۔ مگر اس بار کچھ رعایتوں کے ساتھ ساتھ ترکے میں امریکہ ایک اجڑا ہوا افغانستان، لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین اور بے ترتیب و بے سمت مصلح افغان مجاہدین پاکستان کے حوالے کر کے چلتا بنا۔ بعد ازاں 1994 میں القاعدہ اور طالبان کے روابط منظر عام پر آنے تک امریکہ نے اپنی توجہ صرف پاکستان کے جوہری پروگرام تک مرکوز کئے رکھی۔

نومبر دوہزار کے امریکہ پر حملوں کے بعد افغانستان میں ہی ایک نئے دشمن کے ساتھ برسر پیکار امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت پڑ گئی. اس بار امریکہ کی طرف سے بہت گرمجوشی دیکھنے میں آئی جو ایک بار پھر کوئٹہ شوری اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی نیم دلانا کاروائیوں کے الزام کے ساتھ سلالہ چیک پوسٹ پر پاکستانی فورسز پر حملے اور ایبٹ آباد آپریشن جیسے واقعات کے سب پھر تناؤ اور سرد مہری کا شکار ہے۔ جس پر مستزاد امریکی صدر کا حالیہ بیان آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہوا ہے۔

اگر ہم 9/11 حملوں کے بعد سے اب تک کے تعلق کی تشریح کرنا چاہیں تو اس سے زیادہ مختصر اور سادہ ترین وضاحت نہیں کر سکتے کہ یہ ایک غیر یقینی دورانیئے کی شراکت داری تھی جو القاعدہ اور طالبان کے محاصرے تک محدود تھی۔ جس میں فوجی اور انٹیلیجنس کاروائیوں کی صورت میں پاکستانی سرزمین اور تعاون دستیاب رہا۔ جس کا عوضانہ اقتصادی اور عسکری امداد تھا، مگر محدود اور مشروط حد تک ۔ ایک ایسا تعلق اور اتحاد جس کےاسٹریٹجک اور قانونی اثرات و نتائج نا پید ہیں. اس کے برعکس ایک مجبور پاکستان کے لئے ایک سخت ترین گھاٹے پر مبنی خونی سودا ثابت ہوا ہے۔ جس میں سے اگر کچھ فوائد حاصل کئے جا سکتے تھے تو پاکستان کی ایک غیر آئینی حکومت اس میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔

اب اگر حالیہ امریکی صدر کے 21 اگست کے پاکستان کے حوالے سے بیان کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ “غیر یقینی دورانیے کی شراکت داری” اپنی عمر پوری کر چکی ہے۔ پاکستان کو ایک بار پھر نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ جیسا کہ ماضی میں 70_60 دہائی کے زیادہ تر اور نوے کی دہائی کے پہلے نصف حصے کے دوران واشنگٹن کے پاس کوئی قابل ذکر پاکستان پالیسی الا واحد جوہری پھیلاو پر توجہ مرکوز رکھنے کے نہ تھی. اب اس کے متبادل کے طور پر آج اگر محض اس یک نکاتی ایجنڈے پر مبنی پالیسی پر پاکستان کا محاصرہ کرنا کہ وہ دہشت گردوں کی ایک کفیل ریاست ہے اور ستر ہزار جانوں کی قربانی اور اربوں روپے کے قومی نقصان کے با وجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسکا کردار تسلی بخش نہیں ___!! تو یقینا چشم تصور میں سابقہ پالیسی کی طرف رجوع کو با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ جس میں اب بھی پاکستان کو نظر انداز کر کے “متبادل حل تلاش کئے جائیں(کئے جا چکے ہیں یا اسکرپٹ میں پاکستان کا رول ہی اتنا تھا،کہ انکے ہاں حادثے تخلیق بھی کیے جاتے ہیں) ۔جنکا یقینی مقصد اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ احسن طریقے سے لڑی جاتی رہے جس میں پاکستان کے تعاون کی ضرورت پیش نہ آئے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے مفادات کی سطح کم اور حثیت ثانوی رہ جائے۔ پاکستان کو تین ارب بیس کروڑ ڈالر کی مرحلہ وار امداد جس میں پہلے ہی کبھی کیری لوگر بل اور کبھی رسماً و غیر رسماً “ڈو مور” ایسی لیت ولعل سے کام لیا جاتا رہا ہے کے لئے ایسی کڑی شرائط پاکستان کے سامنے رکھی جائیں جو اس کے لئے قابل قبول نہ ہوں۔

اسکے علاوہ ایک زیادہ خطر ناک پہلو جس سے صرف نظر ناممکن ہے، وہ ایک واضح پاکستان مخالف پالیسی ہے جس میں اقتصادی اور سفارتی سطح پر اب بشمول خود امریکہ بھی بھارت کے زریعے دباؤ اور سرحدوں اور داخلی سطح پر بھارت اور افغانستان کے زریعے انتشار پر پاکستانی حدود کے اندر حملوں کا جواز چاہتا ہے۔

حکومتیں اکثر اوقات سادہ اور غیر پیچیدہ پالیسیاں پسند کرتی ہیں لیکن پاکستان کے معاملے میں یہ ممکن نہیں کونکہ غیر ناقدانہ اتحاد یا مکمل دشمنی کی پالیسی ان امریکی مفادات کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتی جو اس چوراہے پر واقع ملک کے ساتھ پر اعتماد اور قریبی تعلقات میں مضمر ہیں۔

مذکورہ ممکنہ مگر خارج العمل سوچ کی نفی محقق سٹیفن فلپ کوہن کی پاکستان پر لکھی گئہ ایک بہترین تحقیقی کتاب ہے جس میں اس نے بحثیت امریکی پاک امریکہ تعلق کی ایک منصفانہ عمیق النظری کا مظاہرہ کیا ہے، میں بقول برطانوی صحافی انا طول لیون لکھتا ہے کہ ” امریکہ پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتا اور نہ ہی وہ اس حقیقت سے فرار حاصل کر سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان میں جو بھی حکومت بر سر اقتدار آئے امریکہ کو بہر صورت اس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ نئی افغانستان اور ساؤتھ ایشیا پالیسی بالخصوص پاکستان کی سرزنش پر مبنی پیش لفظی بیان پر خود امریکہ کے اندر بھی سخت تنقید دیکھنے میں آرہی ہے۔ جیساکہ فوری طور پر حکومتی عہدہ داروں کی طرف سے بلکہ خود صدر کی طرف سے بھی وضاحتی بیان آئے ہیں۔اور اسی تناظر میں امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری سٹیٹ کا اسلام آباد کا ایک فوری دورہ شیڈول کیا گیا جسے پاکستان نے ایک درست فیصلے کے طور پر نہ صرف ملتوی کر دیا ہے بلکہ ایک جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے فوری طور پر بدلتے حالات کے پیش نظر امریکی حوالے سے نئی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اسی ضمن میں پاکستانی سفراء کی مشاوراتی میٹنگ بھی وزارت خارجہ میں بلائی گئی اور وزیر خارجہ کے مختلف دوست ممالک کے دورے بھی زیر بحث ہیں۔

عالمی سیاست کے بڑے ذمہ دار ممالک نے بھی اس مخبوط الحواس امریکی صدر کے اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ بیان پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدور کے بیان انفرادی نہیں ہوا کرتے تاہم موجودہ صدر کا مختصر ریکارڈ خاصا مختلف ہے اور امریکی سیاسی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن کسی حد تک ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے مشکل پیدا کر سکتے۔

خطے میں چائنا نے بالخصوص اگرچہ برکس سمٹ میں محفل میں طمانچہ اور گلی میں تھپکی کے مصداق ضرور ہمارا زکر خیر کیا ہے، لیکن اس میں ایسی کوئی تشویش نہیں کہ چائنا کے خلوص اور دوستی پر شک کیا جائے۔ بہت کچھ ہمارے اپنے ریاض کے مرہون بھی ہمیں پیش آتا ہے جیسا کہ گزشتہ عرب اور مسلم ممالک کانفرنس ریاض سمٹ میں ہمارے ساتھ ہوا تب احقر سے ایک جملہ سرزد ہوا تھا کہ ڈر اس دن سے لگتا ہے صاحب! جس دن بیجنگ سے بھی کوئی ایسی خبر ملے_____! اس کے علاوہ روس نے بھی پاکستان کی قربانیوں کو سراہا ہے جس کے خطے میں ایران،.خلیجی ریاستوں اور چین کے ساتھ خوشگوار ہوتے تعلقات پاکستان کے لئے بہتر گنجائیش پیدا کر رہے ہیں۔ خوش آئیند امر یہ ہے کہ خود پاکستانی کوششیں بھی اس امر میں قابل ستائش رہی ہیں۔

برطانوی اپوزیشن لیڈر کا بیان کہ پاکستان کے وقار کا خیال کیا جائے اور یہ کہ برطانوی سرزمین پاکستان کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہونے دی جائے گی جسکا اعادہ برطانوی سفیر نے بھی اسلام آباد میں کیا. ضرور حوصلہ افزا امر ہے۔ امریکی ڈیموکریٹک قانون دان براڈ شرمن جو پاکستان کا ایک سخت ناقد جانا جاتا ہے. ان کا امور خارجہ کمیٹی کے سامنے یہ بیان کہ افغانستان کی امریکی امداد کو پاکستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن تنازعے کے حل کے ساتھ مشروط کیا جائے جو پاکستان میں عدم استحکام کا سبب بنتا ہے یہ بیان ٹرمپ بیان کی توثیق نہیں کرتا۔

علاوہ ازیں جو ایک سب سے اہم تبدیلی اور پیش رفت سامنے آئہ ہے وہ اب چائنا نے اپنے آپ کو افغانستان میں صرف انفراسٹرکچر اور معاشی کردار تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اب سیکیورٹی اور سیاسی مسائل میں بھی براہ راست چینی مداخلت عیاں ہے۔ جسکا ایک ٹھوس اظہار پاکستان اور چائنا وزراء خارجہ ملاقات کے بعد مشترکہ کانفرنس میں اسی سال کے آخر سے پہلے چائنا میں پاکستان، افغانستان اور چائنا کے سہ فریقی اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے ۔جسکا ایجنڈا غیر جنگی حلول پر مسائل کو حل کرنا ہے۔ اگر چائنا اپنی پر امن مداخلت اور سخت سفارتی اثر ورسوخ استعمال کرتا ہے تو یقینا خطے کے تمام متاثرہ ممالک اس کو قبول کریں گے۔ جو نہ صرف امریکہ کی پالیسیز پر اثر انداز ہو گا بلکہ بھارت پر بھی خطے کے ممالک سے پر امن اور خلوص نیت سے کام کرنے پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ اپنی مزید فوجیں افغانستان بھیج رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف اسکا رویہ مشتعل انگیز ہے تو اس تناظر میں چائنا جہاں یہ اظہار بھی کر چکا ہے کہ خطے میں کسی فوجی کاروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی وہیں افغانستان میں اپنے کردار کو زمینی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہوئے افغانستان میں چینی سفیر نے افغان صوبے بدہاکشن (جو چینی سرحد کے ساتھ واقع ہے) کے دورے پر خطے میں دہشت گردی سے سے ٹمٹنے کے لئے پاکستان. چائنا اور تاجکستان کے ایک عسکری اتحاد کی تشکیل کا اظہار بھی کیا ہے۔ جو مزید چائنا اور روس کے اتحاد کے پیش نظر ایک متوازی صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں شائد اب افغانستان میں اربوں ڈالر ڈبو کر بھی امریکہ کسی بھی حکمت عملی کے بنانے میں واحد سٹیک ہولڈر نہیں رہا۔

پاکستان اور امریکہ تعلقات جن دو بنیادی عناصر پر قائم ہیں اور انہی میں جو نقص پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں کہ

“امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعلق اپنے مفاد پر مشتمل ہےاور پاکستان کی امریکہ کے ساتھ اقتصادی مجبوری ہے اور دوسرا پاک بھارت کشیدگی میں امریکی حمایت کا حصول ہے۔ جس میں نقص یہ ہے کہ اول الذکر کی طرف سے نہ تو امداد کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور نہ ہی پاک بھارت مسائل میں آج تک امریکہ کوئی قابل ذکر کردار ادا کر سکا ہے”۔

“دوسرا اور اہم حصہ امریکہ کا فوجی امداد اور تربیت ہے. یہ بھی اکثر تعطل کا شکار رہا ہے جس نے اس اہم ادارے میں ماضی کے برعکس اس وقت خصوصی طور پر اکتاہٹ پیدا کی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال گزشتہ ماہ امریکی وفد کی نواز شریف کیس پر آرمی چیف سے بے نتیجہ ملاقات اور امریکی امداد کے مطالبے کے بجائے پاکستان کے دہشت گردی کی امریکی جنگ میں کردار کو منوانے پر زور دینا تھا”۔

لہذا معروضی حالات کے پیش نظر ہی نہیں بلکہ امریکہ کو اب پاکستان کے ساتھ روایتی تعلقات جو اب تک رہے ہیں کی روش ترک کر کے ایک طویل المعیاد تعلقات پر مبنی ایک ایسی انصرامی پالیسی اپنانا ہوگی جس میں امریکہ پاکستانی منتخب حکومتوں کے ساتھ مل کر اور ان کے زریعے کام کرے۔ انہیں آزادی ہو کہ وہ اس تعاون کی عوض محض ایک بخشیش یافتہ طفیلی حکومت نہیں اور نہ ہی اب مزید اسے “بنانا ریپبلک”سمجھا جاۓ جسکی امریکہ کے لیے واحد برآمد نظریہء ضرورت پر ایک دستیاب اسٹریٹجک پارٹنر کی ہو بلکہ اپنی خارجہ پالیسیوں کو متشکل کرنے میں جس طرح چاہیں استعمال کر سکیں۔جو کہ آئندہ کل دو حالتوں میں بہر صورت وقوع پزیر ہونی ہے۔ جیسا کہ اگر امریکہ خطے میں متبادل تلاش کر رہا ہے تو اس بار پاکستان بھی تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے میں سنجیدہ اور متحرک ہے اور تا حال ناکام بھی نہیں ہے۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: