گھر مل جل کر ہی اُجاڑے جاتے ہیں: اعظم معراج

0
  • 40
    Shares

6 ستمبر یوم دفاع پر میں سینٹ پیٹرک کالج میں مدعو تھا میں نے شہداء کی ایمان افروز داستانیں بیان کرتے ہوئے ایسا سماں باندھا کہ حاضرین جذباتی ہو گئے پروگرام کے آخر میں وائس پرنسپل بولی:-

“بچپن سے میری وطن کے لئے شہادت کی دبی ہوئی خواہش پھر جاگ اُٹھی”
میں نے تقریبا ً1200 نوجوان طالب علموں اور ان کے اساتذہ سے عہد لیا:-
“ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے اس ملک کو نقصان پہنچے یہ بہترین طریقہ ہے اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا”

دوسرے دن میں اپنی رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ایسوسی ایشن کی منیجنگ کمیٹی کو راشد منہاس شہید نشانِ حیدر کی قبر پر لے گیا اور وہاں بھی وطن سے محبت کا سبق دیا اور بڑی بلے بلے ہوئی کہ کتنا بڑا وطن پرست ہے
8 ستمبر کو شہداء فاونڈیشن کے جلسے میں شرکت کی اور بقول جاجا صاحب، جاجا ڈاکٹرائن کے بانی (جاجا ڈاکٹرائن:-

“شریف آدمی اپنی عزت تو ڈردا اے، ادارے مصلحتاً چپ رہندے نے، سانوں لتھی چڑی دی کوئی نئیں، ایہس لئی سانوں ستے ای خیراں نے‘‘۔ (شریف آدمی اپنی عزت سے ڈرتا ہے ادارے مصلحتاً خاموش رہتے ہیں اور ہمیں عزت بے عزتی کی پرواہ نہیں اس لیے ہم محفوظ ہیں) جو اِن تینوں موقعوں پر میرے ساتھ تھے کے مطابق وہاں بھی میں نے میلہ لوٹ لیا۔

ان تینوں تقریبات کے بعد ایک دن میں دفتر بیٹھا تھا جاجا صاحب بھی موجود تھے فون کی گھنٹی بجی میں نے فون اٹھایا، کوئی نیا ریفرنس کلائنٹ بیرون ملک سے تھا۔ اس نے پوچھا کراچی ڈیفنس فیز VIII میں خیابان شاہین پر کوئی 200 مربع گز کا کمرشل پلاٹ ہے؟ میں نے کہا جی مل جائے گا

کیا قیمت ہو گی؟ کلائنٹ نے پوچھا
میں نے کہا “تقریباً 30 سے 35کروڑ کا ہوگا”
اگلا سوال تھا لکھت پڑھت کتنے کی ہو گی؟

میں نے کہا “اگر آپ صوبائی حکومت یعنی ڈی سی ریٹ پر لکھت پڑھت کریں گے تو 3312 روپے فی مربع گز ہو گی اگر وفاقی حکومت کے ریٹوں پر کریں گے تو 70000 فی مربع گز ہو گی”
کلائنٹ بولا
“اگر میں پورے یعنی تقریباً 16لاکھ روپے گز کے حساب سے کرنا چاہوں؟ کیونکہ میں اپنے سفید سرمائے کو کالا نہیں کرنا چاہتا”
میں نے کہا “آپ کو کوئی پلاٹ بیچنے والا نہیں ملے گا لہٰذا بہتر یہ ہے کہ آپ ڈی سی ریٹ یعنی صوبائی حکومت کے ریٹ پر صوبائی ٹیکس دیں، ایف بی آر یعنی وفاقی حکومت کے ریٹ پروفاقی ٹیکس دیں، لکھت پڑھت بہتر ہے کہ وفاقی حکومت کے ریٹ پر کریں یا اپنے انکم ٹیکس وکیل سے پوچھ لیں”
انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں اپنے انکم ٹیکس وکیل سے مشورہ کرکے آپ کو کال بیک کرتا ہوں آپ دو چار پلاٹ نکال کررکھیے
میں نے فون رکھا
جاجا صاحب زہریلی مسکراہٹ لبوں پہ لیے مجھے حقارت سے دیکھ رہے تھے میں نے کہا کیوں بھئی کیا ہوا؟
تو وہ بولا “کرلی معاشی دہشت گردی کی سہولت کاری؟”
میں نے کہا کیا مطلب؟

وہ بولے جو فون پر کہہ رہے تھے، اس سے ملک کو نقصان نہیں ہوتا؟ 30 کروڑ کے پلاٹ پرصوبائی حکومت کو 662400 چھ لاکھ باسٹھ ہزار چار سو پر ٹیکس دو اور وفاقی حکومت کو 140,00000 ایک کروڑ چالیس میں لاکھ کے حساب سے ٹیکس دو، باقی پیسہ کہاں جائے گا؟ اُس پر ٹیکس ہو گا؟ اُسکا کوئی ریکارڈ ہو گا؟ تمہیں پتہ ہے جو اس طرح کا اَن ٹیکس غیر رجسٹرڈ سرمایہ یا پھر کالا دھن ہوتا ہے جرم اُسی سے پنپتے ہیں؟ اُسی سے گردنوں میں سریے آتے ہیں! اسی سے خزانوں میں قارونیت اور چہروں اور عملوں میں فرعونیت آتی ہے!

اُس نے زہریلے لہجے میں کہا اور بتائوں ایسی کالی معیشت کے اثرات؟
میں نے کہا “بس بس اُن کو بولو جنہوں نے یہ ریٹ سیٹ کیے ہیں” اس نے کہا “وہ کسی اور پر بلکہ تمہاری برادری پر ڈال دیں گے بلکہ ڈال ہی رہے ہیں کہ ہم تو چاہتے ہیں یہ ہی سڑکوں پر آ گئے تھے، بلکہ اُن کا تو ایک ایم این اے شاید کوئی میاں عبدالمنان نام کا ہے اس کا بیان میں نے پچھلے دنوں 7 فروری کے ڈان اخبار میں پڑھا تھا کسی قلب علی نام کے صحافی نے خبر فائل کی تھی کہ ’’ہمیں اسٹیٹ ایجنٹوں کے نمائندوں نے بے وقوف بنایا ہے‘‘ اسی طرح سارے اسٹیک ہولڈر بلکہ حصے دار ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

جاجا صاحب کہنے لگے “جب ہم ساری قوم اس طرح کے جگاڑوں میں لگی ہوئی ہے تو پھر میرے ڈاکٹرائن کو کیوں حقیر جانتے ہو” مان لو کہ ہم سب اسی ڈاکٹرائن کے پجاری ہیں، میں کیونکہ منافق نہیں ہوں اس لئے جعلسازی کرتا ہوں اور سینہ ٹھوک کر کہتا ہوں اپنی جاجا ڈاکٹرائن (’’ شریف آدمی اپنی عزت تو ڈردا اے، ادارے مصلحتاً چپ رہندے نے، سانوں لتھی چڑی دی کوئی نئیں ایہس لئی سانوں ستے ای خیراں نے‘‘ ’’شریف آدمی اپنی عزت سے ڈرتا ہے ادارے مصلحتاً خاموش رہتے ہیں اور ہمیں عزت بے عزتی کی پروا نہیں اس لیے ہم محفوظ ہیں‘‘)

اُس نے اپنی مشہور زمانہ جاجا ڈاکٹرائن کے مرکزی خیال کو دہرایا میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا کر لیا پرچار اپنے ڈاکٹرائن کا؟
اس نے کہا مان لو میرے بھائی ہم سارے ایک سے ہیں، کیوں ہیں؟ تمہیں بھی پتا ہے مجھے بھی پتا ہے۔ کیونکہ مچھلی اوپر سے سڑتی ہے لہذا یہ نوجوانوں کو ورغلانا چھوڑ دو، انہیں کتابی باتیں نہ بتایا کرو وہ ہی بتایا کرو جو عملی طور پر کرتے ہو کہ کیوں اپنی آنے والی نسلوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کے انہیں اچھی اچھی باتوں پر قائل کرتے ہو اور خود 30,35 کروڑ کے پلاٹ پر 662400 چھ لاکھ باسٹھ چار پر صوبائی حکومت کو اور وفاقی حکومت کو 14000000 ایک کروڑ چالیس لاکھ پر ٹیکس دینے کی ترغیب دیتے ہو اوراگر حکومت کو کسی بھی وجہ سے اس نظام کو ٹھیک کرنے کا خیال آ جائے تو جلوس نکالتے اور ہڑتالیں کرتے ہو اور حکومت بھی شائد خانہ پوری ہی کر رہی تھی فوراً اُ س نے گھٹنے ٹیک دیئے نوجوان نسلوں کوکہتے ہو ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے ملک کو نقصان پہنچے انہیں سچ بتائو کہ “یہ ہے عملی زندگی جس میں اس پیارے وطن کو لوٹنا ہے اور اپنے اپنے حصے کا ماس اپنے اپنے جُسے کے مطابق۔ ۔ ۔ اس کے نیم مردہ جسم سے نوچنا ہے” اپنے نوجوانوں کو سچ بتائو ورنہ جب وہ عملی زندگی میں آئیں گے تو انہیں شاک لگے گا۔

میں نے کھوکھلے لہجے میں کہا مجھے تو کہہ رہے ہو انہیں کیوں نہیں کچھ کہتے ان صوبائی عہدیداروں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جنہوں نے پچھلے 6 سال تو اس ریٹ کو2760روپے فی مربع گز رکھا اور پھر 6 سال بعد 20فیصد بڑھا کر اب 3312روپے فی مربع گز کر دیا ہے جب کہ اس علاقے میں پچھلے10سال میں ریٹ ہمیشہ لاکھوں روپے فی گز ہی رہا ہے۔ یا پھر ان وفاقی نمائندگان کو کیوں کوسنے نہیں دیتے، جنہوں نے اُ س آئین پر حلف لے رکھا ہے جس میں62۔ 63کی شق بھی ہے اور پھر بھی انہوں نے ہمارے نمائندوں سے بیٹھ کر اس بات پر مذاکرات کیے ہیں کہ پہلے اگر کل قیمت کے 5 فیصد پر لکھت پڑھت ہوتی تھی اب زیادہ سے زیادہ 20 فیصد پر لکھت پڑھت کر لو۔ یعنی اگر پہلے 95 فیصد سرمائے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا تھا تواب 80 فیصد انڈکومینٹ اور ان رجسٹرڈ رہے گا یہ مذاکرات کرنے کے باوجود وہ اشرافیائی مخلوق قومی ذرائع ابلاغ پر اس بات کا اعلان بھی کرتی ہے اور اس کے باوجود کہ باسٹھ ترسیٹھ کی شق آئین میں موجود ہے، ابھی تک ایوانوں کی ممبر ہیں۔ کیا ان پرباسٹھ ترسیٹھ لاگو نہیں ہوتا؟ میری برادری اور مجھے تو کوس رہے ہو اُن کے خلاف پٹیشن کیوں نہیں فائل کرتے جو کہ یہ سب کرنے کے باوجود ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں؟ معاشرہ تو سڑے گا جیسا کہ تم پہلے بھی کہہ چکے ہو کہ مچھلی تو سر سے سڑتی ہے۔

جاجا صاحب نے میری کھوکھلی جذباتی تقریر سن کر ایک آہ بھری! اور خلاف توقع دکھ بھری آواز میں پنجابی میں کہا
’’مَٹھیَاں ہل پنجالی دا
تے رل کے چگُا گالی دا‘‘
جس کا قریب ترین اُردو ترجمہ یہ ہو سکتا ہے “کہ گھر مل جل کر ہی اُجاڑے جاتے ہیں”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: