شمس الرحمن فاروقی کی نظری تنقید: معراج رعنا

0
  • 203
    Shares

حالی کے بعد اردو تنقید میں جن معدودے چند لوگوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے اُن میں ایک اہم اور معتبر نام شمس الرحمن فاروقی کا ہے۔ یوں تو اُن کے تنقیدی دائرۂ کار میں ادب کی مختلف اصناف شامل ہیں لیکن شاعری کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ وہ دُنیا کے ہر بڑے ناقد کی طرح افلاطون کے اس ادبی عقیدے کے معتقد ہیں کہ شاعری دوسری صنفوں کے مقابلے میں سب سے افضل ہوتی ہے۔ شاعری کے آرکی ٹائپل مزاج سے ہم آہنگی ہونے کی وجہ سے وہ اکثر اردو کی کلاسیکی اور جدید شاعری کو اپنے غائر مطالعات کا موضوع بناتے ہیں تاکہ اُس کی تعینِ قدر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو سکے۔ یہاں یہ بات بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ تخلیقی شعور کے بر عکس تنقیدی شعور خالص علمیاتی جذب و اخذ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ تخلیقی جذبہ ودیعتی نوعیت کا ہوتا ہے جب کہ تخلیقی جذبے کی ٹھوس صورت یعنی تخلیق کا مطالعہ، اُس کی تعبیرات و تشریحات اور تجزیات و تفہیمات خالص علمی بصیرت و بصارت کے امتزاج سے معرضِ ظہور میں آتی ہیں۔ ادبی تنقید کا یہی علمی پہلو اُس کا عملی پہلو بن جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنی چاہئیے کہ تنقید کا کام محض شعر و ادب کی اقداری معنویت متعین کرنا نہیں بلکہ با ذوق قارئین پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔ تنقیدی دورانیے میں با ذوق قارئین کی پیدائش اُسی وقت ممکن ہے جب نقاد اپنے علومِ دبیزہ سے منطقیت اور استدلال کی ایک ایسی مباحثی دُنیا خلق کرے جہاں لفظ و معنی کے مابین کوئی حدِ فاصل موجود نہ ہو۔ حدِ فاصل کی عدم موجودگی قاری کے لیے راحت رساں ہوتی ہے کہ وہ وہاں آسانی کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کی تنقید سے جہاں شعر و ادب کی نئی معنوی جہتیں مظہور ہوتی ہیں وہیں با ذوق قارئین کی افزائش بھی ممکن العمل ہو جاتی ہے۔ تاہم کہا جا سکتا ہے کہ ادبی نقاد وہ نہیں جو تخلیق کو چرخِ نقد پر گُھما کر اُس سے معنی کے نئے ظروف تیار کرے بلکہ متشکل ظروف میں رنگ آمیزی کی کچھ ذمہ داری وہ اپنے قارئین کے سُپر دبھی کرے۔

یہاں مناسب تو نہیں معلوم ہوتا کہ فاروقی صاحب کو نظریہ ساز نقاد کہہ کر مخاطب کیا جائے کیوں کہ فی زمانہ ” نظریہ ساز” کی صفت ہر اُس نقاد کے نام سے منسلک کر دی جاتی ہے جو تنقیدی نوعیت کی دس بیس کتابیں پڑھ کر دو چار کتابیں لکھ دیتا ہے۔ اس لیے “نظریہ ساز” کا لفظ اپنی اصل معنویت سے منہا ہو کر ایک خاص نوع کی تنقیدی تحریر تک محدود ہو گیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ حالی کے بعد ایسے کم ناقدین نظر آتے ہیں جنہیں نظریہ ساز نقاد کہا جا سکے۔ محمد حسن عسکری، کلیم الدین احمد، احتشام حُسین، سلیم احمد، وزیر آغا اور شمیم حنفی وغیرہ کی تنقیدیں اگر زیرِ مطالعہ رکھی جائیں تو اُن سے یقیناً  ایک مثبت نظریے کی دریافت ممکن ہو جاتی ہے۔ اردو تنقید کے المیات میں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ غیر ضروری استناد سازی کی وجہ سے بعض کم رتبہ تحریروں کو بھی اعلیٰ درجے کی تنقیدی سند حاصل ہو گئی ہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ آج جب اُن تحریروں کو کُھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو اُن میں نظریہ تو دور ادب فہمی کا واضح شعور تک نظر نہیں آتا۔ ایسی تحریروں کی شناخت بہت آسان ہوتی ہے کہ اُن میں کچھ کلیدی جملے موجود ہوتے ہیں جو ویدک شلوکوں کی طرح بار بار نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں گویا تنقید، تنقید نہیں کوئی مذہبی ہون ہو۔ اس نوع کی تنقید میں کلیدی جملوں کے استعمالات بغیر کسی تفریق کے نمایاں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ کہ میر کی شاعری ہو یا امیر مینائی کی، اُن کی توصیف اُنھیں کلیدی جملوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے جو تنقیدی کم اور صفاتی زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن ان معروضات کے حوالے سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ ایسی تحریریں بے معنی ہوتی ہیں بلکہ سمجھنا اور سمجھانا صرف یہ ہے کہ اس نوع کی تحریریں اُس تنقیدی شعور کی حامل نہیں ہوتیں جس سے کسی فن پارے کی نئی معنوی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بات بھی یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہر نقاد نظریہ ساز نہیں ہو سکتا۔ جب یہ مقدمہ قائم ہوتا ہے تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جن کی موجودگی کسی نقاد کو نظریہ ساز بناتی ہے؟

اس سلسلے کی پہلی بات تو یہ ہے کہ نقاد ایک ایسے نظریے کی بنیاد پر اپنی تنقید کی عمارت کھڑی کرتا ہے جو سماجی علوم کی کسی بھی شاخ سے متعلق ہو تا یا ہو سکتا ہے، اور وہ تنقیدی اصولوں (جو مقامی نہیں آفاقی ہوتے ہیں) سے متجاوز ہونے کے بر عکس اُن سے پوری طرح ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دوسری بات یہ کہ اپنائے گئے نظریے سے اجنبیت نہیں بلکہ مانوسیت کا جواز مہیا ہو تا ہو۔ اس ضمن کی تیسری اور آخری بات یہ کہ نظریے کی متقلب صورت وہیں تک رخنہ انداز ہو جہاں تک اُسے ادبی معاشرہ رخنہ انداز ی کی اجازت دیتا ہو۔ یعنی یہ کہ وہ وہیں تک قابلِ قدر ہوتا ہے جہاں تک اُس سے کسی تخلیق کی نئی معنویت کے انکشاف کے امکانات پیدا ہوتے ہوں۔ ٹی۔ ایس۔ الیٹ، آئی۔ اے۔ رچرڈس اور ولیم ایمپسن وغیرہ جدید انگریزی تنقید میں اس لیے ممتاز نہیں کہ انھوں نے انگریزی کی کلاسیکی تنقید ( ورڈس ورتھ کی لیریکل بیلڈز اورایس، ٹی کولرج کی بایو گرافیا لٹریریا ) کی مدحت میں قصیدے لکھے بلکہ اس لیے کہ انھوں نے الگ الگ نظریوں پر اپنی تنقید کی بنیادیں رکھیں۔ وہ نظریے جو اُن سے قبل کی انگریزی تنقید میں کسی ٹھوس صورت میں موجود نہ تھے۔ یہاں اس بات کی وضاحت کی ضرورت ہے اورنہ ہی صراحت کا موقع کہ ورڈس ورتھ کا نظرئیہ فطرت، کولرج کا نظرئیہ تخئیل، الیٹ کا نظرئیہ روایت اور انفرادی صلاحیت، رچرڈس کا نظرئیہ معنیِ کثیرہ اور ولیم ایمپسن کا نظرئیہ ابہام معرضِ بحث میں لایا جائے بلکہ اس سوال کا جواب ناگزیر ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کے وہ کون سے خصائص ہیں جو انھیں نظریہ سازی کی صفت سے متصف کرتے ہیں؟

شمس الرحمن فاروقی سے بہت پہلے حالی، آزاد اور شبلی نے شاعری کے متعلق اپنی اپنی آرا مفصل طریقے سے بیان کر چکے تھے۔ اور ان بزرگوں سے قبل شعر فہمی کے تذکراتی اظہار کی ابتد اٹھارہویں صدی کے وسط میں میر نے “نکات الشعرا” (1755)کی صورت میں کی تھی۔ لیکن حالی کا مقدمہ اردو کی عملی تنقید کا پہلا نمونہ ہے۔ حالی اور شبلی نے اپنی علمی استعداد اور مشرقی شعریات کی رو سے جو لکھا، خوب لکھا۔ لیکن اردو تنقید کی خوب ترین ابتدا شمس الرحمن فاروقی سے ہوتی ہے۔ وہ اس اعتبار سے اردو کے واحد نظریہ ساز نقاد ہیں کہ اُنھوں نے افلاطونی جدلیات کی بنیاد پر اپنی تنقیدی جدلیات وضع کی۔ جس طرح افلاطون نے “مکالمات” کی بنیاد حجت پررکھی ٹھیک اسی طرح فاروقی صاحب نے بھی اپنی تنقید میں حجت کو ایک بڑے آلے کو طور پر استعمال کیا۔ کیوں کہ افلاطون کی طرح ہی وہ بھی شعر و ادب کی اصل حقیقت (معنی) تک پہنچ سکیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ نظریہ ساز نقاد کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ پہلے ایک نظریے کو وضع کرے، اور پھر اُس نظریے کی روشنی میں زبانِ متعلقہ کے ادب پاروں کی افہام و تفہیم کے بعد اُس پر کسی حتمی فصیلے صادر کرنے پر خود کو قادر پائے۔ مطلب یہ کہ وہ اُس کی معنوی قدر و قیمت متعین کرنے میں اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے بر عکس خود کو پابندِ اقدار سمجھے۔ جیسا کہ حالی نے “مقدمۂ شعر و شاعری “اور شبلی نے” موازنۂ انیس و دبیر” میں پہلے نظریے کی وضاحت، اور پھر اُس نظریے کی روشنی میں شاعری کا مطالعہ کیاہے۔ شمس الرحمن فاروقی کی نظریہ سازی کی پہلی اور عمدہ کتاب شعر، غیر شعر اور نثر (1973) ہے۔ اور اسی عنوان سے کتاب میں پہلا مضمون بھی شامل ہے جو تقریبا ایک سو سترہ صفحے پر محیط ہے۔ اگر اس مضمون کو الگ سے شالئع کیا جائے توعنوانِ مذکورہ سے نظری تنقید کی ایک مبسوط کتاب بن سکتی ہے۔ اس مضمون میں فاروقی صاحب کا وہ تنقیدی نظریہ پوری طرح نمایاں ہے جو نظم و نثرکی تعریف و تفریق، اُس کے مواد و موضوعات، اور اُس کی ہئیت و اظہاریت کا بھر پور اقداری تعین کرتا ہے۔ اور جو کُلی طور پر استدلالی تجزیے پر اُستوار ہے۔ فاروقی صاحب بنیادی طور پر شاعری کے نقاد ہیں اس لیے وہ بھی دنیا کے بڑے ناقدین کی طرح شاعری کو فکشن کے مقابلے میں افضل تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اتباعِ فضلیت کے جملے سے یہ غلط فہمی نہیں پیدا ہونی چاہئیے کہ اُنھوں نے اُنھیں ناقدین کے اتباع میں تنقید لکھی جو تنقید اُن سے قبل لکھی جا چکی تھی۔ اگر اُنھیں اتباعِ تنقید مقصود ہوتا تو وہ کبھی بھی “شعرِ شور انگیز” کی ضخیم جلدیں نہ لکھتے۔ جب ہم “شعرِ شور انگیز” کی بات کرتے ہیں تو اس کتاب کے تعلق سے دو طرح کی آراسامنے آتی ہیں جن سے “میر تنقید” ایک معمہ بن جاتی ہے۔ ایک رائے تو وہ ہے جو اردو بیت العلمی کے مدحتی مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں بجز توصیف کے تنقید کی تنقید کا کوئی عنصر موجود نہیں۔ اس لیے یہ رائے، رائے کم اور کسی مجذوب کا مراقبانہ وظیفہ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ رائے قابلِ در گزر ہے کیوں کے اس کے بیان کنندہ حد درجہ معصوم لوگ ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ “شعرِ شور انگیز” کلامِ میر کی تشریحِ محض ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کی نظر میں تشریح کا عمل تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ کسی کی سمجھ میں آتی ہو تو نہیں معلوم مگر کم سے کم مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اردو میں حالی سے لے کر فاروقی تک تنقید کا ایک بڑا سرمایہ تشریح پر استوار ہے۔ مقدمے کا دوسرا حصہ تشریح کی عمدہ مثال ہے۔ حالی کی نظری بحث والے ابتدائی حصے میں جہاں قوتِ متخئیلہ کی وضاحت کی گئی ہے وہاں بھی غالب کے ایک شعر کی تشریح کے علاوہ کسی اور عنصر پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے۔ حالی کا “مقدمۂ شعر و شاعری” اس نوع کے اشعار کی تشریح سے بھری پڑی ہے۔ یہی حال عربی میں قدامہ (873.948 )کا ہے۔ “احسن الشعرِ اکذبہ ” والی ساری کی ساری بحث “نقد الشعر” میں صرف اور صرف تشریح پر قائم ہے۔ یہی نہیں بلکہ قدامہ نے “و کذلک کان الادبا ینقدون الشعر ” (نقد الشعر، ص، 27، )کے مقدمہ کی بنیاد قرت الاشعار پر رکھی ہے۔ ا نگریزی کی” نئی تنقید” ,جون کرو رینسم اور آئی۔ اے۔ رچرڈس سے لے کر کلینتھ بروکس تک علمِ شرحیات یعنی Hermeunetics کے اصولوں کی روشنی میں انگریزی شعرا بالعموم اور رومانی شعرابالخصوص کی معنوی قدر و قیمت متعین کرنے سے عبارت ہے۔ مثال کے طور پر یہاں صرف کلینتھ بروکس کی کتاب The Well Wrought Urn پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب کُل گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ شیکسپیر، گرے، ورڈس ورتھ، کیٹس، ٹینیسن، اور یٹس کی شاعری کے مطالعات کی کلید یہاں تشریح ٹھہری ہے۔ مذکورہ شعرا کے مختلف پہلوؤں کی معنویت کو انگیز کرنے کا وسیلہ اور ہنر مندی کا ایک مضبوط سرا بروکس کے یہاں علمِ شرحیات سے مربوط نظر آتا ہے۔ بروکس ہی کیا انگریزی کی نئی تنقیدمیں (خواہ وہ تنقیدجون کرو رینسم، رچرڈس، ایمپسن، ایلن ٹیٹ، الیٹ یا پھر پونڈ کی ہی کیوں نہ ہو) غائر مطالعے یعنی close reading کے تصور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اب رہا سوال ردِ تشکیلیت، ساختیات اور پس ساختیات کا، تو ان نظریوں کی بنیاد پر لکھی گئی ادبی تنقید بھی متن کے تشریحی مطالعے میں غرقاب نظر آتی ہے۔ جو ناتھن کلر نے درست کہا ہے کہ ساختیاتی شعریات قرات کا نظریہ ہے۔

جو لوگ تشریح کو تنقید کا آلہ نہیں سمجھتے وہ یہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی متن (چاہے وہ متن شعری ہو یا نثری)بغیر قرات اور قراتِ ثانیہ کے ردِ تشکیل تک نہیں پہنچتا۔ مطلب یہ کہ بغیر قراتی تفاعل کے اُس میں نئے معنی کا انکشاف ممکن نہیں۔ بہر حال اس مختصر بیان سے یہ بات پائیہ ثبوت تک تو پہنچ ہی جاتی ہے کہ تشریح تنقیدکا سب سے مضبوط آلہ ہے، اور حجت کا نتیجہ اسی سے برآمد ہوتا۔ اب ہم دوبارہ اس سوال کی طرف واپس آتے ہیں کہ آخر شعرِ شور انگیز کی “میر تنقید” میں کیا اہمیت ہے۔ کیا اس کتاب سے قبل میر کی عظمت متعین نہیں تھی۔ کیا میر کے خدائے سخن ہونے میں کسی کو کوئی کلام تھا۔ ظاہر ہے کہ فاروقی صاحب کی اس کتاب سے قبل میر کی وہی عظمت قائم تھی جو آج ہے۔ تو پھر اس کتاب نے میر تنقید میں ایسا کیا اضافہ کیا جس سے ماضی کی میر تنقید تہی دست تھی؟ اس ضمن کی پہلی بات تو یہ کہ یہ کتاب میر کی عظمت کے دعوے پر سوال قائم نہیں کرتی بلکہ اُن دلائل کو مسترد کرتی ہے جن سے عظمتِ میر قائم کی گئی تھی۔ اس کتاب سے قبل میر اس لیے عظیم شاعر تھے کہ اُن کے یہاں سوز و گداز کا وفور موجود ہے۔ رونااور رُلانا اُن کی شاعری کا اختصاص قرار پایا تھا۔ دیکھئیے تومعلوم ہوتا کہ ایک مضبوط دعوے کی دلیلیں کتنی کمزور ہیں۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ بات مان لی جائے کہ سوز و گداز اور گریہ زاری کا اظہار کسی شاعر کو عرشی مقام عطا کرتا ہے تو میر سے لے کر آج تک، ایسے متعدد شاعر بآسانی میسر آجائیں گے جن کے یہاں یہ تمام چیزی کثرت سے موجود ہیں۔ مگر ہم لاکھ کوشش بھی کریں تو اُنھیں میر کیا، میر کی پرچھائیں تک کے مدِ مقابل کھڑا نہیں کر سکتے۔ در اصل شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بارمیر کی استناد سازی کو مستردکیا۔ یعنی یہ کہ اُن کے یہاں بھی میر تو وہی ہیں مگر اُن کی تعبیرات و تفہیمات کی دُنیا وہ نہیں جو میر شناسی میں پہلے سے موجود تھی۔ اگر مطالعاتِ میر پر ایک نظر ڈالی جائے توبہت ساری کجرویاں نشان زد کی جا سکتی ہیں۔ جس کی ابتدا محمد حُسین آزاد سے ہوتی ہے۔ اُنھوں نے نہ جانے کسی عالمِ وجد میں میر کے بہتر نشتر کا فقرہ کہہ دیا، اور پوری اردو بیت العلمی بجائے اُن نشتروں کو تلاش کرنے اور اُس کے مخرج کا پتہ لگانے کے، آزاد کے اس فقرے پر دھڑا دھڑایمان لاتی چلی گئی۔ میر کے بارے میں یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ اُنھوں نے تین منثور کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اُنھیں کتابوں میں ایک اُن کی خود نوشت “ذکرِ میر “بھی ہے۔ لیکن اس کتاب میں میر نے اپنے کسی بھی ایسے بہتر شعر کا ذکر نہیں کیا ہے جو بقول آزاد نشتر کی طرح ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے نہ صرف اس بات کی تردید کی بلکہ ایسی بہت سی سامعاتی رائے کو بھی عاری الصداقت قرار دیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ناگزیر ہے کہ میر شناسی میں میر کو سمجھنے اور ہم جیسے طالبعلموں کو سمجھانے کے لیے اکثر وبیشتر یک رُخا نظریہ اپنایا گیا۔ مطلب یہ کہ میر کی افہام و تفہیم کا ایک بڑا سرمایہ مشرقی شعریات سے مملو نظر آتاہے۔ اس لیے سید عبداللہ کی کتاب ” نقدِ میر”(1985) سے لے کرنادم سیتا پوری کی” میر اور میریات” تک جتنے محاکمے اور محاسبے پیش کیے گئے ہیں، اُن میں میر کی شاعری کے بہت سارے پہلو مفقود المباحث نظر آتے ہیں۔ فاروقی صاحب کو اس اعتبار سے بھی اولیت حاصل ہے کہ اُنھوں نے مشرقی شعریات کے ساتھ ساتھ مغربی شعریات و اصول کی روشنی میں میر کی شاعری کا بھر پور مطالعہ کیا جس کے نتیجے میں بیسویں صدی کے اواخر میں ایک ایسے میر کی دریافت ممکن ہوئی جو اٹھارہویں صدی کے میر سے بالکل مختلف ہے۔ مطلب یہ کہ میر کی شاعری کے وہ رنگ، اور وہ جلوے جو پردۂ خفا میں تھے، اُن کو نمایاں کرنے کی باقاعدہ ابتدا شعرِ شور انگیز سے ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسی کتاب کے حوالے سے میر کو عالمی شعری تناظر میں رکھ کر اُن کی شاعری کی معنوی قدر و قیمت متعین کی گئی ہے۔ نیز یہاں میر کے اُن کارناموں کو بھی قدرے تفصیل سے معرضِ بحث میں لایا گیا ہے جو خالص تحقیقی دریافت کے نتیجے ہیں۔ افسوس اُن لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کتاب کو محض ایک رسومیاتی نوعیت کی تنقید سمجھتے ہیں۔ اس فکر کے حامل زیادہ تر اردو بیت العلمی کے(ہم جیسے) وہ اساتذہ ہیں جوشعر و ادب کو فارسی مصدر کی گردان کی طرح پڑھنے اور پڑھانے کے خو گر ہیں۔ ایسے لوگوں کی نظر اس نکتے پر پڑ ہی نہیں سکتی کہ میر نے ایسی کون سی لفظی ترکیب وضع کی جو اردو اور سبکِ ہندی کی فارسی شاعری میں کہیں مستعمل نہیں تھی۔ یہ عقابی نظر فاروقی صاحب کو میسر ہے۔ اُنھوں نے ایک جگہ لکھا ہے:

” رونے کا مضمون اور معشوق کے چہرے کا آفتاب کی طرح ہونے کا مضمون غالب، میر اور تمام دُنیا میں مشترک ہے لیکن ان دونوں کو ملا کر میر کا زمینی تخئیل ایک نئی شکل ایجاد کرتا ہے۔ دیوانِ سوم میں ہے:
مژگانِ تر کو یار کے چہرے پہ کھول میر
اس آبِ خستہ سبزے کو ٹک آفتاب دے”
(شعرِ شور انگیز، ص40، قومی کونسل، نئی دہلی )

مذکورہ عبارت سے نہ صرف یہ کہ فاروقی صاحب کا وہ تنقیدی اور تحقیقی شعور نمایاں ہے، جس کے رقبے کا اندازہ لگانا نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے، بلکہ مغربی شعریات کی فیض مندی سے مشرقی شعریات کی فضیلت متعین کرنے کی ہنر مندی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ہنر مندی اور عقابی نظر سماجی منصب سے نہیں بلکہ متبحرِ علمی سے حاصل ہوتی ہے۔ شعرِ شور انگیز سے قطع نظر شمس الرحمن فاروقی کی مکمل تنقید مفروضہ پرستی کے بر عکس مفروضہ شکنی پر استوار ہے۔ اردو ادب میں مفروضے کی پرستش ایک ایسا غالب رویہ تھا جس نے تحقیق و تنقید میں گمراہی کو پھیلنے پھولنے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔ جس کے نتیجے میں زبان و ادب کے سلسلے میں روایتی آرا مقدم سمجھی جانے لگیں۔ فاروقی صاحب کی تنقید اُنھیں مفروضات کاکُھلا استرداد ہے۔ ایک عرصے تک داستان کو جنسی انبساط کاذریعہ سمجھ کر اُس کے مطالعے کو غیر ضروری سمجھا جاتا رہا۔ فاروقی صاحب کا یہ غیر معمولی کارنامہ لائقِ صد ستائش ہے کہ اُنھوں داستانِ امیر حمزہ کے ڈھائی کروڑ الفاظ کا مطالعہ کرنے کے بعد اُس کی تہذیبی معنویت متعین کی۔ اُن کی کثیرالجلد کتاب” ساحری، شاہی، صاحب قرانی”(1999)داستان کی شعریات کی پہلی تشکیل ہے۔ ہمارے یہاں داستان پر کم لکھا گیا ہے اور جو لکھا گیا وہ رسمیاتی طور ہر لکھا گیا۔ کوئی ایسی مستقل کتاب جو داستان کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہو، ناپید تھی تھی۔ اس کتاب میں بھی فاروقی صاحب نے داستان کی نظری بحث اور پھر اُس نظری بحث کی عملی صورتِ حال کابھر پور تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ داستان میں” بیان کنندہ”کی موجودگی اور عدم موجودگی پر جو یہاں بحث ہے وہ ہم جیسے قاری کو متحیر اور انگشت بدنداں کرتی ہے۔ اُن کا یہ اصرار دریافت کی نادر مثال ہے کہ داستان کا راوی داستان میں موجود نہیں ہوتا۔ عام طور پر ہم یہ پڑھتے آئے ہیں کہ سعد اللہ گلشن کہ مشورے کے بعد (تصوف برائے شعر گفتن خوب است) ولی دکنی کی شاعری میں تصوف اور فارسی مضامین و تراکیب مستعمل ہوئی تھیں جس کی وجہ سے اُن کے کلام میں جاذبیت و دلکشی پیدا ہوئی۔

فاروقی صاحب نے “اردو کا ابتدائی زمانہ” (جو پہلی بار انگریزی میں An Early Age of Urdu کے نام سے شائع ہوئی تھی) میں اس مفروضے کو بھی اپنی علمی دلیلوں سے غلط ثابت کیا۔ اردو کی معاصر شاعری کے ساتھ ساتھ شمس الرحمن فاروقی نے نئے نظری مباحث پر بھی اُسی اشتیاق سے خود کو پابندِ عمل رکھا جس طرح مشرقی شعریات سے ان کاعلمی شغف اظہر من الشمس ہے۔ تاریخِ ادبیاتِ عالم میں لفظ و معنی کی بحث کم و بیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ خود تاریخِ ادبیاتِ عالم کی۔ افلاطونی مغرب سے لے کر بھرت مُنی اور قدامہ ابنِ جعفر کی مشرقی تنقیدات و شعریات میں لفظ کی ماہیت اور اُس کی معنویت کی اہمیت پر اصرار دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن 1960کی دہائی تاریخِ ادبیاتِ عالم میں اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ٹھہرتی ہے کہ اس نے لفظ و معنی کی بحث میں قرات کے تصور کو رائج کرنے کی جوکوشش کی وہ خلافِ توقع حد سے زیادہ انقلابی اور تحیر انگیز ثابت ہوئی۔ ساٹھ کی دہائی فرانس میں دانشوری کی ایک ایسی تابناک دہائی سے موسوم بتائی جاتی ہے جس نے ایک آن میں لفظ و معنی کے تمام روایتی مباحث کو مسترد کر دیا۔ اُس عہد کے بیشتر دانشور متن سازی کے عمل پر غور کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کسی بھی متن کے تشکیلی الفاظ محض اپنے وہ معنی بیان نہیں کرتے جن کے بیان کرنے پر وہ بظاہر مامور سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی یہ کہ لفظ متن کے سیاق و سباق میں وہ معنی بھی بیان کر جاتے ہیں جو منشائے مصنف یا Authorial Intention اور منشائے متن یا Textual Intention سے باہر ہوتے ہیں۔ قرات (Reading) کے اس نئے تصور کو “ردِ تشکیل” یعنی Deconstructionکے نام سے جانا جاتا ہے۔ درید (1930.84) پہلا شخص ہے جس نے مطالعۂ متن کے لیے نئے لہجے کو متعین کیا تھا جسے بعد میں فرانسیسی بیت العلمی میں دریدا کے اس علمی و عملی اقدام کو ردِ تشکیل کی اصطلاح سے موسوم کیا گیا۔ لہٰذا یہاں دریدا کی کتاب Of Grammatology (جس کا پہلا انگریزی ترجمہ گایتری چکرورتی نے کیا تھا) کے اُن افکار سے براہِ راست استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی جہاں دریدا نے متن کی مرکزیت کو نہ صرف یہ کہ مسترد کیا ہے بلکہ ہر نوع کے حاشیائی معنی یعنی Marginalized Meaning کو پیش منظر پر لانے کی غیر معمولی فراست کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ Of Grammatology کا بنیادی پیغام متن کے مستحکم تشخص کی عدم موجودگی سے متعلق ہے۔ یعنی یہ کہ اُس کی ہر قرات سابقہ قرات سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے متن کے موجودہ معنی سابقہ معنی سے الگ ہوتے ہیں۔ دریدا کے نظامِ قرات میں یہی وہ مقام ہے جہا ں تحریر کی نقل و حرکت لا محدود اور قرات کا کا عمل بے کنار ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی تصور رولاں بارتھ (1915.80) تک پہنچ کر قاری کی فضیلت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ مابعدِ جدیدیت کے نام پر شور وغل کرنے والے لاکھ شور وغل کرتے رہیں لیکن یہ سچائی اپنی جگہ نا قابلِ فراموش ہے کہ قاری فضیلت کا باقائدہ اعتراف شمس الرحمن فاروقی نے کیا اور ردِ تشکیلی نظریات کی رو سے اردو ادب کی متعدد غلط تعبیروں کو درست کر کے اپنی علمی فراست کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: