اے عورت تجھے خود ہی اٹھنا ہوگا: مدیحی عدن

0
  • 144
    Shares

“مریم، اپنے شوہر کو محسوس کرواؤ کے تم گوہر نایاب ہو”

یہ جملہ میں اکثر اپنی دوست مریم کو ہر بار سمجھاتے ہوئے کہا کرتی تھی جو کہ اپنے شوہر کے ہر تازہ افئیرز کے قصے کہانیاں مجھے سناتی اور اپنی پریشانی کا حل پوچھتی۔۔

مریم کی شادی کو دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اسکی شادی ایک ایسے مرد سے ہوئی تھی،جو شادی شدہ ہونے کے باوجود بہت سی دوسری عورتوں کےمیں دلچسپی لیتاتھا۔ اپنی شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اسے اپنے شوہر کی بے شمار غیر اخلاقی حرکتوں کا علم ہو گیا۔ بات صرف افئیرز، چیٹ، کالز تک نہیں تھی، بلکہ اس سے زیادہ حیران کن یہ تھی کہ وہ مریم کو اس بات پر قائل کرتا تھا کہ وہ یہ سب محض تفریح کے طور پہ کرتا ہے اور اس کو اس بات کو سمجھنا چاہیے۔

کہتے ہیں کہ مرد کی فطرت میں جنسی خواہشات ایک بے لگام گھوڑے جیسی ہیں، ایک ایسا گھوڑا جس کی تنابیں اگر وقت پر نہ کھینچی جایئں تو یہ اپنے سوار کو ایسے اوندھے منہ گراتا ہے کہ پھر کھڑا ہونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اس مرد کے ساتھ بھی تھا۔ اسے ہر عورت میں دلچسپی تھی، اور اسی تجسس میں وہ نہ جانے کتنے معصوم دلوں کو خواب دکھا چکا تھا۔
عورت کی احساسات و مشاہدات پرکھنے کی حس بڑی تیز ہوتی ہے، اُسے پہلے سے شکوک و شبہات ہو جاتے ہیں کے دال میں کچھ کالا ہے۔ جب بھی مریم کو کسی نئے افئیر کا پتہ چلتا وہ اس سے پوچھتی، لڑتی جھگڑتی، کچھ دن بول چال بند رکھتی اور پھر اسکا شوہر روایتی معافی مانگ لیتا اور کوئی مہنگا تحفہ لا کے اسے خوش کر دیتا اور وہ سب بھول جاتی اورکچھ دنوں کے لیے حالات ٹھیک ہو جاتے۔
اور پھر سے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ تمام مراحل ایک ایک کر دہرائے جاتے۔۔!

بات یہاں تک بھی رہتی تو شائد اتنا مسئلہ نا بنتا، لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ مریم کا شوہر اسکے دماغ پر اتنا حاوی تھا کہ اسکو اس کےعلاوہ کوئی اور نظر نا آتا۔ وہ اس سے بے انتہا محبت کرتی تھی، اتنی کہ کبھی شاعری لکھ کر، کبھی فیس بک پہ اسکی ڈی پی لگا کر تو کبھی واٹس ایپ پہ محبت بھرا سٹیٹس لکھ کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتی۔ اور ہر بار جب اسے اسکی زندگی میں آنے والی کسی نئی عورت کا پتہ چلتا تو اسے اپنا آپ انتہائی حقیر لگتا، اسکو اپنی توہین محسوس ہوتی۔ وہ اسکی زندگی کی ملکہ بننا چاہتی تھی۔ لیکن ہر بار، ہر نئے افئیر کے سامنے آنے پر وہ اپنے منصب سے اترنے کی توہین کو اپنے ذہن پہ سوار کر لیتی۔ اتنا سوار کرتی کہ ایک بار اپنی کلائی تک کاٹ بیٹھی، کبھی کبھی ذہنی دباؤ کی وجہ سے کئی کئی دن ہسپتال میں داخل رہتی۔ اسکی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی چلی گئی۔

جب مریم نےمجھے یہ سب مجھے بتایا تو ان سب باتوں سے بھی کہیں زیادہ تکلیف دہ اسکے وہ جملے تھے جو روتے اور ہچکیاں لیتے اس نے مجھے کہے۔۔۔۔

“اس شخص نے مجھ سے منسلک عورتوں تک کو نہیں بخشا۔ میری سب دوستوں، کزنرز سے افیئر چلانے کی پوری کوشش کی، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ میرا ہر عورت سے رشتہ حسد میں بدل گیا ہے، مجھے اب ہر عورت سے خوف آنے لگا ہے۔۔۔“

وہ اپنی ذات کو بری طرح سے کچل رہی تھی۔ اسکا خود پر سے اعتماد اُٹھ گیا تھا۔ پورا پورا دن وہ اس سوچ میں گزار دیتی کہ آخر اس میں کس چیز کی کمی ہے؟ اس نے انٹرنیشنل ریلیشنز (بین الاقوامی تعلقات) میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ وہ کلاس کی بہترین اسٹوڈنٹ تھی لیکن اسے اپنا آپ خوبیوں سے عاری لگتا۔ وہ بری طرح احساس کمتری کا شکار ہو چکی تھی۔ روز اپنا موازنہ ہر طرح کی عورت کے ساتھ کر کر کے اپنی خود اعتمادی کو خود سے دورکر رہی تھی۔ اس ساری صورت حال میں جتنا قصور اسکے شوہر کا تھا، مجھے اس سے کہیں زیادہ اسکا اپنا لگتا۔ ایسے شخص کے ساتھ وفاوں کی امید باندھی، جسکی فطرت بن گئی تھی برائی کرنے کی۔ اور ایسی توقعات قائم کیں، جن کے پورے ہونے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں۔ ہمارے معاشرے میں کتنی ایسی اور عورتیں ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کو محض اس نکتہ پہ روک لیا ہے، اور وہ نہ صرف اپنے آپ کو تکلیف دے رہی ہیں بلکہ خود سے منسلک ہر انسان، ہر رشتے کو ضرر پہنچارہی ہیں۔

انکا جسم،دماغ، دل بلکہ ہر عضو تکلیف میں ہے۔ محض ایک اس محبت کے جذبے کو کئی عورتوں نے اپنی ذہنی بیماری بنا لیاہے۔ ہم میں سےکوئی کیچڑ اور گندگی سے پیار نہیں کرے گا، حقیر لگنے والی چیز کو حقیر لگنا بھی چاہئیے۔ پھر نجانے کیوں محض محبت کے دھوکے میں گندگی سے پیار کر کے اپنے مقام کوگرا دیا جاتا ہے۔۔۔ اور توقع کی جاتی ہے کہ گندگی بھی ہم سے پیار کرے۔۔۔ ہمیں پہلے اپنی ذات سے محبت کرنی سیکھنی ہو گئی اور خود کو وہ عزت اور مقام دینا ہو گا جس میں ہمارے لیے خود اعتمادی اور یقین ہو۔
اگر عورت اپنی عزت نفس کو بچائے گی نہیں تو پھر خود کو ایک بےجان کھلونا بنا لے گی، جس کے ساتھ کوئی کھیلے تو ہی اسکے ہونے کا احساس ہوگا۔

اگرعورت خود کو نہیں بدلے گی تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اسےبدل نہیں سکتی۔ یہاں مریم جیسی کتنی عورتوں کو اپنے رویے کو بدلنا ہو گا، مظلوم بننے کی بجائے اپنے اندر کوئی ایسی صلاحیت پیدا کرنی ہو گئی جو اسے ٹوٹنے نہ دے۔ جو اسے دوسروں سے نمایاں کرے۔ جو اسکی ذات کو مضبوط کرے اور بجائے رونے دھونے اور ذہنی تشدد برداشت کرنے کے خود کو کسی مثبت کام کی طرف گامزن کرے۔ ہم عورتیں اتنی خوبصورت مخلوق ہیں اللہ کی، اتنی صلاحیتوں کی مالک، اتنی خوبیاں ہیں ہم میں، لیکن ہمیں اپنے اندر اتنی صلاحیتیں نظر کیوں نہیں آتیں؟ محبت، عشق کے نام پہ ذہنی تشدد دے دے کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کے در پے رہنے سے ہم کسی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ساتھ برا کر رہی ہوتی ہیں۔ اگر ہم نےخود کو بلاوجہ کا مظلوم بنا لیا تو پھر واقعی ہم ہیں مظلوم۔

ہمارے معاشرے میں کتنی ایسی مریم ہیں جوکہ اپنی صلاحیتوں پہ گہری نیند کی چادر ڈالے سو رہی ہیں۔
اے عورت کوئی بھی تجھے آ کے نہیں جگائے گا، تجھے خود ہی اٹھنا ہوگا۔۔۔ اس خواب کے ساتھ کہ تو گوہر نایاب ہے۔

ساحل پہ رہ کے ہم کو فقط ریت ہی ملی
ہم ڈوبتے تو گوہرِ نایاب دیکھتے

Comments are closed.

%d bloggers like this: