سرمایہ داری، مزدوری اور ملکی ترقی ۔ تھامس پکٹی Thomas Piketty کی کتاب کا جائزہ

0
  • 66
    Shares

مزدور کے نام پر بڑے بڑے انقلابات برپا ہوئے۔ تمام دنیا مزدور کے نام پر دنیا کو ہلائے دے رہی ہے۔ آج کے دور میں تھامس پکٹی نے لمبی چوڑی کتاب لکھ ڈالی ہے اور نیا کارل مارکس تخلیق ہونے کو جاتا ہے جس نے مزدوری یا ویج ریٹ کے منجمد ہونے کا ذکر کیا ہے۔ کئی دہائیوں سے مزدور کی مزدوری میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس کتاب کو ’’اکیسویں صدی میں سرمایہ‘‘ سے موسوم کیاجاتا ہے۔

دنیا میں ایک طویل عرصے سے صرف اور صرف مزدور کی اجرت اور آمدن میں تفاوت کے فرق کا ذکر بڑی شد و مد کے ساتھ کیاجاتا ہے۔ بڑی تنخوہیں لینے والوں اور کم سے کم تنخواہوں والوں کا فرق نکال کر دکھانا اور مزدور کی کم ازکم تنخواہ کا ذکر کرنا رواج سا بن گیا ہے۔ کسی نے اسلامی اصولِ عدل کا ذکر تک نہیں کیا۔ دراصل ہر مزدور کا اپنا ایک پسِ منظر ہوتا ہے۔ اسکی صلاحیت، عمر، مزاج اور کام میں لگن یا ملازمت اور کام کیساتھ طویل رفاقتی اصولیابی و وفاداری، یہ تمام عوامل بڑی مخصوص صورتِ حال میں ضروری اقدام کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کیلئے حکومت کیے اداروں اور معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگرمعاشرہ اپنا کردار ادا نہیں کرتا تو کیا فائدہ۔ لیکن بار بار ایک ہی رٹ لگائے رکھنا کچھ عجیب و غریب ہے۔ لوگ ایک کام چھوڑ کر دوسرا اپنا لیتے ہیں۔ ایک علاقے کو چھوڑ کر دوسرے میں جا دھمکتے ہیں۔ کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ لیکن کوئی حکومتی محکمہ ایسے کام کرنے والوں کے مسائل کا حل کرنے پر تیار تک نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ہر ایک سرمایہ دار کا اپنا ایک پسِ منظر ہے۔ اسلامی ترازو میں تولنے کے بعد مسلم معاشرہ اسلامی بنیادوں پر ہی کوئی حل تجویز کرسکتا ہے۔ صرف سرمایہ دار کے خلاف زہر اگلنے سے شاید کچھ حاصل نہ ہو۔ اگر ایسا ضروری بھی ہو تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے آج کا سرمایہ کیسے تخلیق ہوتا ہے اور اسکے اثرات کیا ہیں۔ کمیونسٹوں کے سے انداز میں سرمایہ دار کا رگڑا لگانے سے قبل حالات کا اسلامی چھالنی سے تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ عدل کے معیارات کو اسلامی پیمانوں پر پرکھنے کے قابل بنانا ہوگا۔ ایک مثال تو میں دے چکا ہوں۔ ہمارے نئے معاشی ماہرین کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مخصوص پسِ منظر رکھنے والے مزدوروں کو انکا حق لیکر دینے کیلئے صرف اجرت میں فرق کے علاوہ مختلف نقطۂ نظر کیساتھ سوچ کر حل پیش کرنے کے قابل ہیں۔ اس کیلئے ہمارے ماہرین کو کام کرنے والوں اور ان سے کام سیکھنے والوں کے طریقۂ کار کو سامنے رکھتے ہوئے نئے پیمانے بنانا ہونگے۔ مغربی فکر کے منجمد دھارے کو نئے اسلامی پہلو سے آشکا کرنا ہوگا۔ اسے صدیوں پرانی سوچ سے نکال کر حقیقت کے نئے رخ دکھانا ہونگے۔ اس کیلئے لوگوں کی مثالوں اور پسِ منظر کی وضاحت کرنا ہوگی۔ معاشرے میں خود سے ہوجانے والے عدل کی وضاحت کرنا ہوگی۔ کہیں کام کرنے والے کو اپنا نیا کاروبار ملا، وہ مزدور سے مالک اور مالک سے کارخانہ دار بن گیا۔ اب وہ مزدوروں کو مزدوریاں دیتا ہے۔ یہ ایسے مخصوص انداز کے عادلانہ نظام ہیں جن پر بعض اوقا ت مسلم معاشرہ عمل کردیتا ہے۔ اس کی وضاحت کیلئے مغربی پیمانے بہت چھوٹے پڑجاتے ہیں۔

Thomas Piketty, poses in his book-lined office at the French School for Advanced Studies in the Social Sciences, in Paris

تھامس پکٹی کو اس تناظر میں پڑھنے سے اس کی حقیقت واضح ہوجائیگی۔ تھامس کا لکھا یقیناََ اہم ہے۔ اسے دہائی کی اہم کتاب قرار دیا گیا۔ رابرٹ سولو، جوزف سٹگلٹز اور پال کرگ مین جیسے اہم معیشت دانوں نے اسکی تعریف کی ہے۔ اس نے معاشی فکر کی تاریخی روایت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ ڈیٹا اور اعداد و شمار اکٹھے کردئیے ہیں۔ جن کی بنیاد پر کافی بنیادی اور اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ معاشی قوانین اور ڈیٹا دونوں کا بہترین تجزیہ کرکے صورتِ حال کا نیا رخ پیش کیا ہے۔

تھامس پکٹی نے ثابت کیا ہے کہ سرمائے اور سرمایہ دار کو پچھلے طویل عرصے سے مزدور کی نسبت مسلسل کہیں زیادہ حصہ دیا جارہاہے۔ یکساں حصہ نہیں دیا گیا جسکی بناء پر مزدور پر ظلم کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس نے دراصل یہ معلوم کیا کہ سرمائے کا منافع جسکی کئی صورتیں ہیں مثلاََ شرحِ سود، کرائے، سرمایہ کاری کا سالانہ منافع باقی تمام معیشت کی ترقی سے بھی زیادہ رہا۔ یعنی معیشت کی ترقی کم تھی جبکہ سرمایہ دار کا منافع زیادہ تھا۔ یا دوسرے معنوں میں سرمایہ دار کے منافع کو مسلسل تحفظ دیا گیا اور ترقی کا کہیں بڑا حصہ یا زیادہ بڑا حصہ حتیٰ کہ خود معیشت کی ترقی سے بھی کہیں زیادہ سرمایہ دار کے حوالے کردیا گیا۔اس سے دولت کا ارتکاز کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

امریکہ میں 1910 سے 2010 تک کے تجزئیے سے یہ ثابت کیا ہے کہ غریب اور ا میر کی سالانہ آمدن میں فرق کچھ یوں رہا: (۱) 1910تا 1940 یہ تفریق 40 فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ (۲) 1940 تا 1980 یہ تفریق کم ہوکر 32 فیصد پر آگئی۔ (۳) 1980کے بعد سے امیر غریب کی آمدن میں تفریق پھر یکدم بڑھ گئی اور آجکل یہ 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ ہی کی آبادی کا تناظر بڑا عجیب و غریب ہے۔ اوسط آمدنی کا تقابل دیکھئے ۔ اگر آبادی کے چار حصے کئے جائیں تو نچلے تینوں حصوں (پجھتر فیصد 75%) کی اوسط آمدنی 1965 کے بعد سے منجمد ہوگئی ہے ۔ا س میں کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا۔ جبکہ سب سے اوپر والے حصے کی اوسط آمدن میں کمی نہیں ہوئی۔ وہ مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ 1965 کے بعد اوسط آمدن دگنی ہوگئی ہے۔ جبکہ امیر ترین پانچ فیصد کی آمدن کو پر لگ گئے۔ انکی اوسط آمدن دگنے سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ اور اس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی جاری ہے۔

ہر ایک سرمایہ دار کا اپنا ایک پسِ منظر ہے۔ اسلامی ترازو میں تولنے کے بعد مسلم معاشرہ اسلامی بنیادوں پر ہی کوئی حل تجویز کرسکتا ہے۔ صرف سرمایہ دار کے خلاف زہر اگلنے سے شاید کچھ حاصل نہ ہو۔

سب سے اوپر والے ایک فیصد والوں کا مت پوچھئیے۔ پچھلی ایک صدی کے دوران ا مریکہ کی کل آمدن میں انکا حصہ 20 فیصد سے زیادہ رہا سوائے 1945 تا 1980 کے عرصے کے۔

پچھلے دو سو سال کا تقابل امریکہ و یورپ میں حیران کن ہے۔ یورپ میں امیر ترین ایک فیصد لوگ دوسوسال قبل 50% دولت کے مالک تھے۔ یہ 20% دولت کے اب بھی مالک ہیں۔ امریکہ میں ایک فیصد امیر ترین لوگ 20% دولت کے مالک تھے ۔ دوسو سال میں اس شرح میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دو سو سال سے دولت کا ارکاز ویسے کا ویسا ہے۔

سرمائے اور ملکی ترقی کا موازنہ عجیب و غریب ہے۔ ایک ہزار سال کے دورانئیے کا تجزیہ غیر معمولی ہے۔ سرمایہ دار کا خالص منافع (ٹیکس او نقصانات کی ادائیگی کے بعد) 4% سے زائد ہی رہا۔ معدودے چند سال اس میں سے منہا کردیجئیے (1920 تا 1950)۔ یہ تیس سال بھی دراصل جنگ کے سال ہیں۔ لیکن ان ایک ہزار سالوں میں ملکی ترقی 2% سے کم ہی رہی۔ سوائے ان معدودے چند سالوں کے جن میں سرمایہ دار کا منافع کم ہوگیا تھا۔اس سے امیر غیرب کا فرق آسمان کو جاپہنچا۔ آنے والے دنوں میں یہ فرق باقی رہے گا یا مزید بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ دراصل وراثتی دولت تیزی سے بڑھ جاتی ہے جبکہ ملکی ترقی کم ہوجاتی ہے۔ یہ معجزہ کسی کی سمجھ میں نہیں آپاتا۔ اکیسویں صدی میں ایسا معجزہ دوبارہ سے واقع ہونا شروع ہوگیا ہے اور جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ دار کی مشینری کا استعمال کسی صورت کم نہیں ہوگا۔ مزدور کی مزدوری کاحصہ بتدریج کم ہتا چال جائیگا۔ یوں آمدن میں اسکا حصہ بھی کم ہوجائیگا۔ ایسے میں سرمایہ دار کی انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوگا۔

تھامس کا کہنا ہے کہ دولت کی تقسیم سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ اسکا معاشی ترقی سے کم ہی تعلق ہے۔ 1920 تا 1950 کے دورانئیے میں آنے والی بہتری کی بنیادی وجہ جنگ یا اس کے نتائج تھے۔ جنہیں دور کرنے کیلئے سرمایہ داروں کو کم حصہ دیا گیا۔ 1980 کے بعد سے ہونے والی تمام تبدیلی ذہانت کیساتھ ٹیکسوں کی شرح میں کی گئی تبدیلیوں کا خوبصورت نتیجہ تھی یا بینکوں کی سرمایہ کاری نچوڑنے کا سنہری موقع جس سے غریب مستفید نہ ہوسکے اور سرمایہ دار دوبارہ سے بازی لے گیا۔ سرمایہ دار کو مزدور کی اجرت اور ملکی ترقی سے زیادہ حصہ ملنا قابلِ تشویش ہے۔ اور ایسا ہوتا چلے جانا معاشرے میں مصیبت کا باعث ہے۔ اس سے سرمایہ دار یا کاروبار کا مالک دراصل منافع خوری کا عادی بن کر سب کچھ ہڑپ کرنے پر آجاتا ہے۔ کام دھام نہیں کرتا بلکہ بیٹھ کرکھائے چلاجاتا ہے۔ جمہوریت اس دوران میں آنکھیں موند کر سوئی رہی ہے۔ غریبوں کی ہمدردی اور آزادی کی محافظت کے خواب دکھا کر خود ایک کونے میں جادبکی ہے۔تھامس پکٹی کی خوش فہمی ہے کہ اب جمہوریت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عالمی مالیاتی سرمایہ داری کو باگیں ڈالی جائیں ۔ سرمایہ دار کا ٹیکس بڑھانا ہوگا۔ یہ تو تھامس پکٹی کا خیال ہے۔ صاحب ایسا کرتے ہی سرمایہ اپنی اڑان اڑ جائیگا۔ عالمی سرمایہ کسی یک ملک کے ہاتھ میں ٹکتا ہی کب ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہئیے کہ کیا مغربی مفکرین کسی مزید پیمانے کا ذکر بھی کرتے ہیں یا سرمایہ دار اور مزدور کی اجرت کا پرانا قصہ دوبارہ سے شروع کریں گے جس سے معاشرہ منقسم ہوکر تباہ ہوجائیگا۔ کیا موجودہ عالمی منظر نامے میں اجرت کے حوالے سے کوئی مزید گنجائش موجود ہے؟ سرمایہ دار پر لگائی گئی حقیق روک ٹوک کے اثرات کا درست جائزہ ضروری ہے۔ آج کے سرمایہ دار کی حقیقی شناخت مختلف ہے۔ دو سوسال قبل یا ایک ہزار سال قبل اسکی شناخت کچھ اور تھی۔ ایسے ہی اسلامی اصولِ عدل و انصاف اور اسلامی اہداف کے نتیجے میں کیا صورتِ حال یہی ہے؟ اسلامی معاشرے کس قسم کی معاشی تبدیلی چاہتے ہیں یا کس طرح سے معاشرے میں ہم آہنگی لانا چاہتے ہیں؟ یہ سوالات اہم ہیں۔ سرمائے اور مزدور کی اجرت اہم پہلو ہیں لیکن اسلامی تناظر ان سے بہت وسیع ہے۔ پھر مغرب کا دوسرا مسئلہ مزید مشکل طلب ہے۔ وہاں اعداد و شمار اس نہج پر اکٹھے کئے جاتے ہیں کہ ان سے مخصوص قسم کا تجزیہ ہی کیا جاسکتا ہے۔اسلامی پیمانوں کا ڈیٹا مل ہی نہیں پاتا ۔ اس بارے میں دوسرا تناظر مرد و خواتین کارکنان کا ہے۔ مغربی مفکرین و متحقیقین اسکے خوگر ہیں۔ اسکے سوا کم ہی کسی جانب نگاہ کرتے ہیں۔ باقی اشاریات پر انکی نظر بھولے بھٹکے سے چلی بھی جائے تو اس کیلئے ڈیٹا کی عدم موجودگی ایک اچھا بہانہ ہے۔ ڈیوڈ روئیدا اور جونس پونٹسون نے ’’عالمی سیاست‘‘ نامی مجلّے کے اپریل 2000 کے شمارے میں کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اسکا خیال ہے کہ آمدن میں فرق کیلئے یونین کا موجود ہونا اہم ہے۔ جہاں کہیں مزدور تنظیمات موجود ہیں، وہ آمدن میں فرق کو دور کردینے میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: