لکڑی کی گولیاں: ابنِ فاضل

0
  • 118
    Shares

گولی سے توہم سب آشنا ہیں، کسی بھی گول نظر آنے والی چیز کو گولی کہا جاتا ہے۔ تقریباً ہر گولی گول ہوتی ہے جیسے بخار کی گولی، سائیکل کی گولی۔ لیکن ہر گول چیز گولی نہیں ہوتی جیسے گونگلو اور زمین۔ گولیاں عام طور پر ڈاکٹر حکیم اور سیاستدان دیتے ہیں۔ اورخوب گول مال کرتے ہیں۔ جبکہ گولیاں شوق سے کھاتے عموماً بچے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر ان کے دانت خراب ہو جاتے ہیں جن کو ٹھیک کرنے کے لئے پھر ان کو گولیاں کھلائی جاتی ہیں۔ چھوٹی گولی کو تو گولی ہی کہتے ہیں جبکہ بڑی گولی گولا کہلاتی ہے۔ جیسے اون کا گولا اور برف کا گولا۔ حالانکہ جب گولا چھوٹا سا رہ جاتا ہے تو بھی اس کو گولا ہی کہتے ہیں۔ ویسے اس قائدے سے درمیانی گولی کو گول کہنا چاہیے۔ لیکن نہیں کہتے کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ قائدہ اور القاعدہ اچھی چیز نہیں۔ کچھ گولیاں “گولی” ہو کر بھی گول نہیں ہوتیں جیسے کیلشیم کی گولی اور فٹ بال کا گول۔ اسی طرح کچھ چیزیں گول ہو کر بھی گول نہیں ہوتیں جیسا کہ ہاکی اور فٹ بال کا گول۔ فٹ بال کا گول کرنے میں گورے کھلاڑی ماہر ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک زمانہ تھا ہمارے کھلاڑے ہاکی کے گول کرنے میں ماہر ہوا کرتے تھے، آجکل ہاکی کا ذکر گول ہوتا ہے۔ ہاکی کی طرح کی ایک آئس ہاکی ہوتی ہے اس کا گول بھی گول نہیں ہوتا۔ اور وہ شیشے کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ گولیاں بھی شیشے کی بنی ہوتی ہیں بچے ان سے کھیلتے ہیں یہ شاید پکی گولیاں ہوتی ہیں کیونکہ کچھ گولیاں کچی بھی ہوتی ہیں وہ نا کھیلنے کے کام آتی ہیں۔ کچھ لوگ بندوق کی گولی کو بھی پکی گولی کہتے ہیں حالانکہ وہ پکی ہوئی نہیں ہوتی۔ پھر بھی کام پکا کرتی ہے بشرطیکہ اگر نشانچی کا نشانہ پکا ہو۔

یوں تو بہت سی چیزوں سے بنی ہوئی گولیوں سے ہمارا واسطہ روزمرہ زندگی میں پڑتا رہتا ہے۔ جیسے ادویات کی، شیشےکی، لوہے اور تانبے کی، سرامکس اور فینائل اور دیگر زہروں وغیرہ کی لیکن انیس سو تہتر سے دنیا کے کئی ممالک میں لکڑی کی گولیاں بھی بن رہی ہیں۔ جی ہاں لکڑی کی گولیاں، یہ گولیاں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہیں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ لکڑی کی عام استعمال کی چیزیں بنانے کے دوران بہت سا لکڑی کا برادہ بن جاتا ہے۔ جو کہ جلانے کے کام آتا ہے۔ لیکن بہت باریک ہونے کی وجہ سے اس کا سطحی رقبہ (surface area) بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ فوراً جل جاتا ہے اور اس سے اسقدر فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا جتنا کہ ہم وزن لکڑی کے ٹکڑوں سے۔ اس مشکل کا حل سائنسدانوں نے یہ نکالا کہ کہ برادے میں تھوڑا سا اراروٹ یا کوئی اور کم قیمت سی سریش ڈال کر اس مخصوص انداز سے دبایا جائے تو اس کی گولیاں سی بن جاتی ہیں۔ جیسا کہ زیر نظر تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ گولیاں بالکل لکڑی کے جیسے جلتی ہیں اور لکڑی سے بھی کم قیمت ہوتی ہیں۔ اور اس عمل میں مزے کی بات یہ کہ لکڑی کی گولیاں بنانے کے لئے کوئی بہت بڑے پلانٹ کی ضرورت نہیں ہوتی بس چھوٹی سی ایک سادہ اور کم قیمت مشین پر خاصی مقدار میں بنائی جا سکتی ہیں۔ اور ان کا صنعتی استعمال بوائلروں اور بھٹیوں وغیرہ میں دنیا کے کئی ملکوں میں عام ہے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ دراصل سائنس دان لکڑی کو جلانے کے روایتی طریقہ سے ایک مختلف عمل، “عمل اتشکافت چوب”( wood pyrolysis) سے صدیوں سے واقف تھے۔ اس اس عمل کے دوران لکڑی کو روایتی کے طریقہ سے جلانے کے عمل کے برخلاف محدود مقدار میں آکسیجن میں جلایا جاتا ہے۔ جس سے لکڑی مکمل طور پر جل کر راکھ بننے کی بجائے محض دہکتی ہے اور اس دہکنے کے عمل کے دوران اس میں کیمائی شکست وریخت ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں مختلف گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔ جوکہ نہ صرف لکڑی سے بہتر انداز میں یعنی دھویں وغیرہ کے بغیر جلتی ہیں بلکہ اس طریقے سے لکڑی کی نسبت زیادہ مقدار میں اور دیر تک حرارت بھی ملتی رہتی ہے۔ اس عمل گیسی فیکیشن (gasification) کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں آپ یوں سمجھ لیں کہ گیسی فیکیشن سے جلنے پر لکڑی سے عام طریقہ کی نسبت دو سے چار گنا تک زیادہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ صرف لکڑی پر ہی کارگر نہیں بلکہ کوئلے اور دیگر نباتاتی مادوں یعنی گھاس پھوس حتی کہ گوبر تک پر بھی بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔ اس بھٹی کو جس میں اس طریقہ سے لکڑی اور کوئلے وغیرہ سے گیس حاصل کی جاتی ہے گیسی فار (gasifier ) کہتے ہیں . گیسی فائر کا استعمال پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں عام ہے۔
اب آتے ہیں اس مضمون کے سب سے اہم اور نفع بخش حصے کی طرف۔ گیسی فیکیشن سے حاصل فوائد کو دیکھتے ہوئے متعدد بار یہ کوشش کی گئی کہ گھریلو صارفین کے لئے بھی کوئی ایسا چولہا بنایا جائے جس سے وہ بھی اس عمل سے حاصل فوائد سے مستفید ہوسکیں، لیکن اس میں بہت سے رکاوٹیں حائل رہیں۔ جس میں سب سے قابل ذکر اس کا مجوزہ سائز اور مناسب سائز اور شکل کے ایندھن کی عدم دستیابی تھیں۔ لیکن لکڑی کی گولیوں کی ایجاد کے بعد اس میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی اور سائنس دانوں نے پھر سے اس کی کوششیں شروع کر دیں اور جلد ہی وہ گھریلو صارفین کے استعمال کیلئے کئی قابل عمل ڈیزائن تیار ہوگئے۔ اس چولہے کو (gasifier stove ). یا گیسی چولہے کا نام دیا گیا ہے۔

یقین کریں یہ انتہائی چھوٹی اور سادی سی مگر انقلابی ایجاد ہے۔ یہ بالکل گیس کے چولہے کی طرح جلتا ہے، ہرگز کوئی دھواں نہیں نتیجتاً برتن اور ماحول بالکل بھی کالا نہیں کرتا۔ لکڑی کی نسبت اس کو جلانا انتہائی آسان ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لکڑی اور ایل پی جی کی نسبت چار گنا سستا۔ اس کی اس قدر زبردست خوبیوں کے باعث اس کو پچھلے کچھ عرصہ سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اور بھارت، بنگلہ دیش، ویت نام، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں بک چکا ہے۔ بد قسمتی سے خطہ میں پاکستان ہی وہ واحد ملک بچا ہے جس میں دستیاب نہیں ہے۔ اگر حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں اس پر ذرا سی توجہ دیں تو نہ صرف یہ کہ ہزاروں نوجوانوں کو اس کا م پر لگا کر ان کے لئے باعزت روزگار کا انتظام کیا جا سکتا ہے بلکہ پورے ملک میں گاؤں کی بیچاری لاکھوں عورتوں کو لکڑی کے تکلیف دہ روایتی چولہے سے بھی نجات دلائی جاسکتی ہے۔ گیسی چولہے کی لاگت صرف پانچ سے چھ ہزار اور لکڑی کی گولیاں بنانے کی مشین کی لاگت چار سے پانچ لاکھ روپے آتی ہے۔ لکڑی کی گولیوں کی لاگت دس سے بارہ روپے کلو ہے۔ کوئی سنجیدہ انجمن یا افراد اس سلسلے میں کوئی راہنمائی لینا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں۔

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: