اشفاق احمد – داستان گوسے من چلے کا سودا تک: یگانہ نجمی

0
  • 88
    Shares

اردو کے نابغہ افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اشفاق احمد ۲۲ اگست ۱۹۲۵ کو ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج سے ایم اے کیا اٹلی کی روم یونی ورسٹی اور گرین نوبل یونی ورسٹی فرانس سے اٹلی اور فرانسسی زبان میں ڈپلومہ حاصل کیانیو یارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ ریڈیائی پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ ان کی شخصیت کے اس پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ کہ وہ ایک مخصوص حس مزاح رکھتے تھے۔ اور اس ہی حس مزاح سے لوگو ں کی اصلاح کا کام لیا کر تلقین شاہ اس دور میں ایک ایسا ریڈیائی پروگرام تھا جو ہر خاص عام میںمقبول ہوا۔ اور اس کی اس مقبولیت کے پیش نظر اسے کتابی شکل دی گئی۔

ان کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ گڈریہ سے ہواجو کہ ایک ایوارڈ یافتہ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں آپ نے اپنے استاد کے کردار اور ان کی اعلی صفات کاذکربڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ وہ انسان دوستی کے خواہاں تھے۔ انھوں نے ہمیشہ انسان کی عظمت اور اس کی خوداری کو اپنے تحریرکا موضوع بنایا۔ مذہب سے بالا تر ہوکر لوگوں کے دکھ د رد بانٹنے والے اور اس کی ترغیب دینے والے۔

اشفاق احمد کا ایک انداز داستان گو ئی جس پر انھیں کمال حاصل تھا۔ پروگرام ذاویہ میں اسی داستان گوئی کے انداز کو اپنا یا۔ جس نے ان کی شہرت کوا دبی حلقہ سے اٹھا کر عام لوگوں تک پہنچادیا۔ وہ مذہبی شخصیت نہ تھے۔ مگر پھر بھی انھوں نے ایک مبلغ کے کردار کو ادا کرتے ہوئے اس پروگرام کی وساطت سے ان اخلاقی قدروں کی اہمیت کا احساس دلوایا جو ایک کامیاب معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا نداز نہایت سادہ ومشفقانہ تھا۔ جس کے باعث وہ لوگ بھی جو ان باتوں کو مذہبی گفتگو سمجھتے تھے وہ بھی بڑے ذوق وشوق سے یہ پروگرام دیکھتے تھے۔

ان کے افسانوں کا مجموعہ’’ ایک محبت سو افسانے‘‘جس کی ڈرامائی تشکیل بھی کی گئ۔ ایک محبت سو افسانے کے توسط سے انھوں نے کا ئنات میں موجودمحبت کے مختلف رنگوں کو کہانی کا موضوع بنایا قرۃالعین، دادا و دلدادہ، بندر جاتی اور مامتا یہ کہانیاں ایسی تھیںکہ جن میں انھوں نے محبت ہی کو سرخرو کیا کیوں کہ کوئی بھی معاشرہ محبت کے بغیر پھل پھول نہیں سکتا اور ان کی یہ ہی انسان دوستی انھیں صوفیاء تک لے گئی اور بعد کے افسانوں میں یہ ہی رنگ نمایاں رہا۔ توتا کہانی ان کی ایسی ڈرامائی سیریل تھی جس میں انھوں نے معاشرتی ذمہ داری کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا جو ایک انسان اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہرفرد پرعائد ہوتی ہے اور جس کی ادائیگی حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہے جس سے پہلو تہی دہشت گردی اور مختلف جرائم کو جنم دیتی ہے۔ وہ نہ صرف معاشرہ بلکہ وطن کے لئے بھی ایسے ہی پرخلوص جذبات رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں۔ پاکستان نور ہے، اور نور کو زوال نہیں ان کی ایک اور تصنیف’’ بابا صاحبا‘‘ ان کے ذاتی تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس ضمن میں’’ بانو قدسیہ کہتی ہیں میں تو ان کے قریب رہنے کے ناطے آپ کو تھوڑا سا جھانک کر اندازے سے بتاسکتی ہوں۔ سالم اشفاق احمد کا سرا شاید آپ کو ’’بابا صاحبا‘‘ سے حاصل ہو۔

بابا صاحبا میں وہ اقبال کے اس شعر پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔

پنے من ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

کیونکہ انسان اپنی ذات کے ادراک سے ہی اپنی خامیوں کو خوبیوں میںبدل سکتاہے اور ذات کی اسی کھوج نے انھیں بستی بستی قریہ قریہ بابوں کے ڈیروں کا سفر اختیار کروایا۔ ڈرامہ ’’من چلے کا سودا‘‘ اسی سلسلے کی ایک پیش رفت ہے جس میں علم کی قدرو قیمت کو پیش کیا گیا ہے۔ یعنی علم اگر نافع ہو اورانسانیت کی بھلائی کا ذریعہ ہو تو وہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہے ورنہ ضرر رساں ہو کرسماج کوبرائیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ کیوں کہ صحیح علم کی پیاس اپنی ذات کو جانے بغیر نہیں بجھتی۔ انھیں علم کی اس خواہش نے مختلف کلچر، اور مذہب کو نہ صرف دیکھنے کا بلکہ جانچنے کا موقعہ بھی فراہم کیا۔ اشفاق احمد زندگی کے مفہوم کی تلاش میں اپنے تخلیقی عمل میںبھی کئی مقامت سے گزرے۔ کہانی۔۔۔ کہانی سے ڈرامہ اور بالآخر ڈرامہ۔

ایسے ہی کبھی ایک باباکبھی دوسرے۔۔۔ کبھی ایک روحانی علم کبھی دوسرا۔ حجاب کے پردے۔۔۔ لیکن اتنی بات طے ہے کہ جب وہ واپس بشری زندگی میں لوگوں کے درمیان آئے تو انھیں علم ہو چکا تھا۔ کہ اللہ سے اصل وابستگی خلق کی خدمت میں پنہاںہے جس کا عکس ان کی تحریروں سے عیاںہے وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ایک انسٹیٹوٹ بھی تھے ایسی انجمن اور اداراہ کہ جس شامل ہونا ہر شخص کے لیے باعث افتخار تھا۔

اشفاق بمعنی مہر بان وشفیق وہ اسمِ بہ مسمیٰ تھے۔ اپنی تحریروں میں ایک شفیق مہربان انسان کی طرح نہ صرف لوگو ں کی رہنمائی کی بلکہ آسانیاں عطا ہونے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی دعا دیتے رہے۔ اشفاق احمد نے اپنے تحریری سفر کا آغاز گڈریہ سے منتہی کی حیثت سے کیا اور من چلے کا سودا تک صاحبِ ارشاد ہو گئے کیوں کہ ایک منتہی ہی صاحبِ ارشادہوتا ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: