یونیورسٹی طلبہ میں انتہا پسندی کا رحجان: فارینہ الماس

0

انتہا پسندی کسی مذہب،فلسفے یا عقیدے سے ترویج نہیں پاتی بلکہ اس کا تعلق انسانی رویے سے ہے جسے کسی بھی فلسفے یا مذہب کے ماننے والوں کو ایک خاص تربیت سے سکھایا جاسکتا ہے۔ اس کا تعلق خود انسان کی نفسیات سے بھی ہو تا ہے۔ ایک مخصوص نفسیات، ماحول یا حالات کے حامل لوگ انتہا پسندی اور پھر شدت پسندی کے قائل اور تابع ہو سکتے ہیں۔

یہ کہنا یا ماننا محض ایک مغالطہ ہے کہ اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے اور اس کو ماننے والے انتہا پسند یا شدت پسند ہیں۔ کمیونزم کی تحریک ایک خاص جبراور ظلم پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے ردعمل کے طور پر ابھری لیکن اس کی ترویج کے لئے بھی انتہا پسندانہ اور شدت پسندانہ طریقوں کو اپنایا گیا۔ جس کی بھینٹ ہزاروں اور لاکھوں لوگ چڑھے۔ کمیونسٹوں کی مسلح بغاوت نے سول وار اور خانہ جنگیوں کے زریعے کئی جانوں کو تلف کیا۔ اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو بھیانک موت سے ہمکنار کیا۔

مسلم انتہا پسندی بھی،مسلم ممالک پر پہلے یورپ کے مسط کردہ جابرانہ نوآبادیاتی نظام اور بعد ازاں روس اور امریکہ کی باہمی جنگ اور دور جدید میں مغرب کے ان ممالک میں سیاسی و اقتصادی اثرو رسوخ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی، ثقافتی و اقتصادی محرومی اور بے حساب جانی و مالی نقصان کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔

فارینہ الماس

اگرچہ جدید دور کے کئی تصادم اور ہنگامے اس بات کے گواہ ہیں کہ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے رحجانات صرف اسلامی معاشرے میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر معاشرے میں ترویج پاچکے ہیں۔مثلاً یورپ کے کچھ پادریوں کے خیالات و نظریات سے تو کبھی عالمی سطح پر کئی سیاسی جماعتوں اور پریشر گروپوں کے بیانات اور اقدامات سے کسی نہ کسی طور پر ان کی سوچ کی انتہا پسندی چھلکتی رہی اور اب تو کئی حکومتوں اور حکمرانوں کے انتہا پسندانہ اقدامات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔خواہ وہ بھارت میں ہوں یا برما میں، اسرائیل میں ہوں یا کشمیر میں۔ مہذب دنیا نے افغانستان،عراق،شام اور لیبیا میں بھی نظام کو ملیامیٹ کرنے کے لئے تشدد کا ہی راستہ اپنایا۔

لیکن اس کے باوجود کہ اس عفریت کا بڑھاوا عالمی سطح پر دکھائی دے رہا ہے ہماری فکر کا بڑا مرکز خود ہمارا سماج اور ملک ہونا چاہئے۔ ہمارے لئے اس وقت سب سے گھمبیر مسئلہ مذہبی انتہا پسندی کا ہے۔ جس کا سہرا بہت حد تک ہماری ان مارشل لائی حکومتوں کو جاتا ہے جو مذہب کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لئے استعمال کرتی رہیں یا جنہوں نے اپنے مخصوص جواز کے حصول کی خاطر قوم کو جنگی جنون میں مبتلا کئے رکھا۔ یہاں تک کہ دانشوروں، ادیبوں اورمفکروں کو ان کا خاص اصلاحی کردار ادا کرنے سے روک کر انہیں اس نظام کا حصہ یا سہولت کار بننے پر یا اس مفاداتی عمل میں شریک کار بننے پر مجبور کر دیا۔ جس وقت شدت پسندی کو ان مصلحین نے آنے والے وقت کے لئے زہر قاتل لکھنا تھا یہ جنگ اور جہاد کے ترانے لکھتے رہ گئے۔ یہاں تک کہ دروازوں پر دستک دیتی دہشت گردی اپنا منحوس سایا لئے ہر گلی ہر نگر پر وارد ہو گئی۔

جبر اور استحصال کے نظام نے ہر معاشرتی سطح پر دلیل، استدلال، رواداری اور برداشت کو رخصت کیا اور یہ معاشرہ انتہا پسندی کے لئے ایک سازگار معاشرہ بن کے رہ گیا۔ سیاست بازی میں مذہب سازی کے کچھ اس طرح ثمرات سامنے آنے لگے کہ جمہوری حکومتوں نے بھی اسے اپنا آلہءکار بنانے میں ہی عافیت جانی۔ معاشرہ تعمیر کی بجائے تخریب کی آماجگاہ بن گیا۔ یہاں تک کہ ریاست و عوام کے خلاف ابھرنے والی کئی قوتوں کی سرپرستی بھی مذہب ہی کی آڑ میں کی گئی۔ انتشار پھیلانے کے لئے ایسی مذہبی قوتوں کو بیرونی طاقتوں اور ایجنسیوں نے بھی کرائے کے قاتل سمجھ کر خوب استعمال کیا۔ اس سب کا نتیجہ ہے کہ یہاں کئی مذہبی گروہ اور تنظیمیں طاقتور ہوتی چلی گئیں۔

اس وقت پاکستان میں تقریباً 232 کے قریب مختلف مذہبی تنظیمیں کار فرما ہیں وہ متنوع مذہبی نظریات اور عقائد کی حامل ہیں۔ کونسی تنظیم کس قسم کے اسلام سے وابستہ ہے اس کے بارے کچھ معلوم نہیں۔لیکن پھر بھی ان کے پاکستان میں وسیع تعداد میں پیروکار اور مددگار موجود ہیں۔ کبھی ان کی طاقت مدرسوں کے طلبہ تھے لیکن اب کچھ ایسی عالمی مذہبی تنظیمیں بھی ترویج پانے لگی ہیں جن کی جڑیں جدید نظام تعلیم کے حامل طلبہ اور اساتذہ میں بھی مضبوط ہو چکی ہیں۔ یہاں اب حزب التحریر، طالبان، القائدہ، دولت اسلامیہ اور تنظیم انصار الشریعہ جیسی عسکری تنظیمیں اپنے قدم جمانے لگی ہیں۔ تنظیم انصار الشریعہ نے دو ہزار گیارہ میں تیونس کی سرزمیں پر جنم لیا۔ دو ہزار پندرہ میں اسے ختم کر کے القائدہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ کسی حد تک داعش سے بھی متاثر رہی۔ گذشتہ دنوں کراچی کے پولیس اہلکاروں اور ایک ریٹائر ڈ آرمی افسر کے قتل اور خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملوں کی ذمے داری اسی گروپ نے اٹھائی، جو اب تک کراچی میں سات سے آٹھ حملوں میں ملوث پائی گئی۔ اس تنظیم کی بابت سب سے اہم اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ میں خاصی مضبوط ہو رہی ہے۔

جبر اور استحصال کے نظام نے ہر معاشرتی سطح پر دلیل، استدلال، رواداری اور برداشت کو رخصت کیا اور یہ معاشرہ انتہا پسندی کے لئے ایک سازگار معاشرہ بن کے رہ گیا۔

کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کا ان واقعات میں ملوث پایا جانا گویا انتہائی تکلیف دہ اور حیران کن حقیقت ہے۔لیکن تنظیم کے گرفتار شدہ سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کا یہ انکشاف کہ اس کا گروپ 10سے 12اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں پر مشتمل ہے جو کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی اور داؤد یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ حملے میں مارا گیا حسان الیکٹرانک انجنیئر،اور داؤد یونیورسٹی میں الیکٹرانک سائنس کا ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ این ای ڈی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کر رہا تھا۔ ایک مفرور دہشت گرد سروش لندن سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔

اس تنظیم کی جڑیں بلوچستان میں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔ دیکھا جائے تو ایسے کچھ انکشافات تو پہلے بھی ہوتے رہے لیکن ہماری حکومت یا ایجنسیوں نے شاید کوئی خاص نوٹس نہ لیا۔ ہماری قوم کا ایک بڑا وصف ہی یہ ہے کہ ہمیں ہوش تو ضرور آتا ہے لیکن اس وقت جب پانی سر سے گزر جائے ورنہ جب سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری دہشت گردوں کی ساتھی بنی یا جب مردان یونیورسٹی میں بے قصور مشال خان کو مذہب کی آڑ میں بے رحمانہ طور پر قتل کیا گیا یا جب دہشت گردوں سے کبھی کسی میڈیکل کالج، کبھی پنجاب یونیورسٹی یا کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کا نام جوڑا گیا ہمیں اس وقت ہی سنجیدہ اقدامات کا آغاز کر دینا چاہئے تھا۔ لیکن ان واقعات کو نظر انداز کیا گیا اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی جانچ پڑتال کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ دہشت گرد اب یونیورسٹیوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔ شاید اس لئے کہ یونیورسٹیاں انتہا پسندانہ رحجانات، یا کسی بھی قسم کے خاص نظریات کے پنپنے کے لئے انتہائی زرخیز سمجھی جاتی ہیں۔ ماضی میں کمیونزم کے نظریات کے پنپنے کے لئے سب سے ذیادہ استعمال اعلیٰ درسگاہوں ہی کا کیا گیا۔ دنیا کے تمام تر جدید انقلابات کی تحریک میں یونیورسٹی طلبہ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک طالب علم جب یونیورسٹی کے درجے تک پہنچتا ہے تو وہ معاشرے کے ہر رحجان اور اس میں پنپنے والے نظریات سے اثر پذیر ہوتا ہے۔ اسے کئی انقلابی فلسفے اور کئی انقلابیوں کی تحریکیں متاثر کرنے لگتی ہیں۔ اس کے لئے اپنے معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی مسائل کو سمجھنے اور ان سے الجھنے کی شروعات ہو جاتی ہے۔ اگر اسے مناسب اور دوستانہ رہنمائی میسر نہ ہو پائے تو متنوع مسائل اسے نظریاتی کشمکش میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ بدعنوانی، ناانصافی، عدم استحکام، غربت، بیروزگاری، اپنی شناخت کی راہ میں حائل مسائل اور معاشرے میں بڑھتے جبر و تشدد کے رحجانات اسے شدید احساس کمتری کا شکار بنا دیتے ہیں۔ یہی احساس کمتری اسے انتہا پسندی کی طرف لے جاتا ہے۔ فرد کو کئی طرح کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس کے اندر توڑ پھوڑ ہونے لگتی ہے۔ اس کی زندگی کے ایسے نازک اور الجھے ہوئے وقت کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے انتہا پسند گروہ آگے بڑھتے ہیں۔ انہیں ” زیرو سے ہیرو ” بنانے کے لئے اپنا بھرپور تعاون دیتے ہیں۔ انہیں ان کی سماجی اور معاشی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہیں تحفظ اور احترام کا احساس دیتے ہیں۔ پھر اپنے عزائم کے اگلے پڑاؤ پر ان کی باقائدہ برین واشنگ شروع کر دیتے ہیں۔ عموماً اعلیٰ اذہان کی مرتب کرہ پلاننگ کے تحت انہیں مخصوص نظریات سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے مقاصد کے حصول میں ہر طرح کی جانی و مالی قربانی دینے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

اسلام کے دیگر مذاہب سے اختلافات، مسلمانوں کی عالمی سطح پر بگڑی صورتحال، مسلمانوں کی متزلزل معیشت و دگرگوں حالات کا ذمہ دار مغرب کو گرداننا، فرقہ ورانہ تعصبات کو ابھارنا۔ خاص طرح کی تنگ نظری، مذہبی منافرتوں اور عدم برداشت کو ان کے جارحانہ مزاج کا حصہ بنانا، یہ ان کی تربیت کے نفسیاتی پہلو ہیں۔ ان کی حکمت عملی مختلف حملوں سے اپنی حیثیت اور طاقت کو منوانے اور اپنی طاقت سے ریاستی اداروں کی طاقت کو کمزور کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں درکار عسکری تربیت کے لئے انہیں شام یا افغانستان لے جایا جاتا ہے۔

ایسی شدت پسند تنظیموں سے طلبہ کو متعارف کروانے میں کہیں نہ کہیں کسی ایسے انتہا پسند استاد کا بھی ہاتھ ہوتا ہے جو ان تنظیموں سے پہلے سے ہی جڑا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے گروہوں سے ملوانے اور متعارف کروانے میں سوشل میڈیا کا بھی بہت حد تک ہاتھ ہے جہاں یہ گروپ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو پھانستے اور ورغلاتے ہیں۔

شدت پسندی کے رحجانات کو ابھارنے میں کچھ نہ کچھ ہاتھ ہمارے تعلیمی نصاب کے ان ابواب کا بھی ہے جو ہمیں دنیا کے لئے متعصب رویہ رکھنے پر ابھارتے ہیں یا جہاد کی غلط تشریحات پیش کرتے ہیں۔ اساتذہ کا خود کو محض کتابی لیکچر تک محدود رکھنا اور رواداری، برداشت، اختلاف رائے کا احترام، انسانیت سے پیار جیسے تربیتی اوصاف پر بات نہ کرنا بھی طلبہ کو اس عفریت کا شکار بنا رہا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا مثبت طور پر فائدہ نہ اٹھانا اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا، طلبہ و طالبات کو تخلیقیت سے محروم کر دینے کے برابر ہے۔ آرٹ اور کلچر کو فراموش کرنا معاشرے اور انسانی اذہان و کردار کے حسن و رعنایت دونوں ہی کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔ تخلیق ہی تعمیر کی وجہ بنتی ہے اور جن معاشروں میں یہ وجہ ختم ہو جائے وہاں قاتل اور خونریز تخریب کے پھیلنے کی راہیں استوار ہو جاتی ہیں۔

دوران تعلیم طلبہ و طالبات کی کونسلنگ بھی ہونی چاہئے اور ان کی صلاحیتوں کو پنپنے کے لئے نئی نئی راہیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ مناسب معاوضے کے ساتھ دوران تعلیم انہیں ان کی خدمات کی فراہمی کے مواقع بھی دینے چاہئیں تاکہ وہ بآسانی اپنی تعلیم کا خرچہ بھی اٹھا سکیں، معاشی محرومی میں مبتلا ہونے کی بجائے آگے بڑھنے کی سوچ اپنے اندر پیدا کر سکیں اور ان کی مصروفیت انہیں کسی قسم کے تخریبی عناصر کی آلہءکار نہ بننے دے۔

ادارے کا فرض ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے۔ داخلے کے وقت طلبہ کے کوائف کی مکمل چھان بین کی جائے۔ جامعات کے اطراف آبادیوں پر بھی انتظامیہ کی نظر ہونی چاہئے۔ ہاسٹل کے طلبہ طالبات جو اپنے گھر بار، ماں باپ سے دور ہوتے ہیں وہ کس سے ملتے ہیں کہاں جاتے ہیں اس کے بارے بھی ادارے کو خبر ہونی چاہئے۔ درس گاہوں کا اصل حسن ان کا وہ علمی، تحقیقی اور تخلیقی ماحول ہے جس سے ہماری درس گاہیں عاری ہوتی جا رہی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل کو اپنے مسائل سمجھنے کے لئے مباحثوں اور مکالموں کی ضرورت ہے جس سے درس گاہیں چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ والدین کی بھی زمے داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے دوست احباب سے ملتے رہیں اور ان کی تربیت سے غافل نہ ہوں۔ ورنہ اگر کہیں وہ دہشت گردوں کے آلہءکار بن گئے تو آپ ہی ان کے اصل مجرم کہلائیں گے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: