سجا اینڈ کھبا – دایاں اور بایاں: ثاقب ملک

0
  • 6
    Shares

کھبا : میں ایک دیسی لبرل کا ضمیر بات کر رہا ہوں۔
سجا: میں ایک روایتی مذہبی آدمی کا ضمیر آپ سے مخاطب ہوں۔

کھبا : میرے مالک پر جب دیسی لبرل ازم “طاری” ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے اسلام کا نام سن کر ابکائی آتی ہے۔اسے اپنے اردگرد ہاتھ کٹے لوگ، پگڑیاں پہنے آدمی، چوراہے میں لٹکتی لاشیں، کوڑے پڑنے کا شور اور برقع میں پوشیدہ خواتین گھومتی نظر آتی ہیں.
آپکے مالک کو کب ابکائی آتی ہے؟

سجا : میرا مالک تو اسلام کا نام سن کر جھوم اٹھتا ہے۔ اسے لونڈیوں، غلاموں، ثوابوں کی گنتی، یہودیوں اور کفار کو بد دعاؤں، گھوڑے کی پیٹھ پر جھنڈے لہراتے جوان، آدھ درجن بیویاں نظر آتی ہیں۔ اسے سور کا نام سن کر ابکائی آتی ہے۔
تمھارا مالک کب جھومتا ہے؟

کھبا : اکثر رات گئے جھومتا ہے۔ لیکن جمہوریت، سیکولر ازم، لبرل ازم، پب کلب، وائن وہسکی، بئیر، اسکرٹ، نیکر، بکنی پہنے لڑکیاں، ہم جنسوں کے حقوق، سیکس کی آزادی، بھارت اور سرحدوں کے نہ ہونے کا ذکر سن کر بہت انجوائے کرتا ہے۔
تمھارے مالک کو غصہ کب آتا ہے؟

سجا: انھیں اکثر برما، فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں پر ظلم کرنے والے ممالک اور امریکہ پر طیش آتا رہتا ہے۔ بغیر “برینڈ” کی داڑھی، مخالف مسلک کے رنگ کی ٹوپی، ٹخنے سے نیچے کپڑے، کھلے بالوں والی عورتوں، مغرب کی ترقی کے ذکر پر منہ غصے سے سرخ ہوجاتا ہے۔
تمھارا مالک کب ہیجان میں مبتلا ہوتا ہے؟

کھبا : اسلامی جمہوریہ پاکستان، قرارداد مقاصد، پاک فوج، ایٹم بم انکی دکھتی رگ ہیں۔ جوں ہی انکا ذکر ہو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ انکا بس نہیں چلتا کہ فوجیوں کی وردی پھاڑ کر کنڈم بنا لیں۔ اسلامی جمہوریہ اور قرارداد مقاصد پر انکا اتنا غصہ آتا ہے کہ اسے کالعدم لفظ سمجھتے ہیں۔ ایٹم بم انکا ہندوستان کو تحفے میں دینے کا من کرتا ہے۔
تمھارا مالک سوتا کب ہے؟

سجا : اکثر اوقات خواب خرگوش کے مزے ہی لیتا رہتا ہے۔خاص کر دوسرے مسالک کے لوگ مرنے پر سو جاتا ہے، دنیا میں کہیں مسلمان دہشت گرد پکڑا جائے تو انھیں نیند آجاتی ہے، مسلکی کتب، اپنے مطلب کی احادیث اور قرآنی آیات کے علاوہ ہر علمی چیز پر آنکھ اور دماغ موند لیتا ہے۔ کاروکاری، غیرت پر قتل، بچوں سے زیادتی، جہالت، غربت، ظلم وغیرہ پر بھی بس نیند میں بڑبڑا کر اوندھے منہ لیٹ جاتا ہے۔ اپنے اردگرد مسلمانوں پر ہونے والے ظلم، توہین رسالت میں جھوٹے الزامات پر مرنے والوں پر اسے تھپڑ مار مار کر جگانا پڑتا ہے، لیکن فقط چند لمحے اٹھ کر پھر محو استراحت ہوجاتا ہے۔
اور تمھارا مالک؟

کھبا : ایک جیسی ہی عادتیں ہیں۔ اسلام کے ہر مثبت پہلو پر اگر مگر کرکے چادر اوپر کرکے کان بند کر کے سو جاتا ہے۔ پاکستان کی کسی کامیابی یا قوم کی خوشی پر اسے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ پورا وقت بار بار بیدار ہوتا اور سوتا ہے۔ ہذیان بکتا رہتا ہے۔ کسی مولوی پر ظلم ہو تو اسے بہت پر سکون نیند آتی ہے۔ ترکی، سعودی عرب، چین، اور دیگر ممالک کے اچھے فیصلے اسے “کنٹری بلائنڈ” ہونے کے باعث نظر نہیں آتے تو اونگھتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کے لاکھوں قتل اسکے لئے نیند کی گولیاں ہیں۔ فوج، آئی ایس آئی، مسلمانوں کے بہتر اقدامات پر اسے گہری نیند آجاتی ہے۔

اچھا تو یہ لبرل، سیکولر کھبا صاحب اور مذہبی دائیں بازو سجا دونوں کن باتوں پر اکٹھے مل کر سوتے ہیں؟

سجا اینڈ کھبا: جمہوریت کی جعل سازی اور فراڈ، عمران خان، آئی ایس آئی، سیاستدانوں کی کرپشن اور نااہلیت، قوم کے حقیقی مسائل جیسے پانی کی کمیابی اور زہریلے پن، نفسیاتی مسائل، صحت، بچوں کی تربیت، بیروزگاری، بزرگوں اور نوجوانوں کے ایشوز، خوراک کی کمی، منافقانہ نمائشی کلچر، نقال پن، وغیرہ پر ہم دونوں کے مالک ایک ہی بیڈ پر سوتے ہیں۔

چلو آجاؤ، ہمارے سونے کا وقت ہوگیا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: