آنگ سانگ سوچی کا گھناونا چہرہ ____ میاں ارشد فاروق

0
  • 17
    Shares

آنگ سانگ سوچی،برما ۔۔جسکا نیا نام میانمار ہے۔۔ کی حقیقی سربراہ ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ عرصہ جیل میں رکھے جانے والی سیاسی قیدی ہونے کی وجہ سے اسے نوبل انعام دیا گیا۔ سوچی اس وقت میانمار مین فوج کے اشتراک سے حکومت میں ہے۔ میانمار میں ایک صوبہ راخاین ہے جس میں رنگون شہر بھی ہے جہاں بہادر شاہ ظفر نے اپنے آخری ایام گزارے اور وہیں مدفون ہوے۔ کہا جاتا ہے کہ انکی اولاد بھی رنگون میں کسمپرسی کے عالم میں رہ رہی ہے۔ راخاین میں اکثریتی آبادی مسلمان ہے جنہوں نے برطانوی سامراج سے چھٹکارے کے وقت پاکستان سے الحاق کی خواہش ظاہر کی تھی۔

میانمار میں اس صوبے کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں لہذا وہ کسی بھی عدالت میں رجوع کر کے اپنے لیے کوئی ریلیف حاصل نہیں کر سکتے، انکو روہنگیا کمیونٹی کہا جاتا ہے۔کیونکہ برما کی اس اقلیت کا ووٹ نہیں ہے اسلیے نہ وہ حکومت میں حصہ دار ہیں اور صوبے میں ترقیاتی کام تو کجا صحت تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات بھی مہیا نہیں کی جاتیں۔ مختصرا یہ کہ وہ وہاں تیسرے درجے کے شہری بھی نہیں ہیں۔ ایسے حالات دنیا میں کہیں بھی ہوں تو وہاں علیحدگی کی تحریکیں شروع ہو جاتی ہیں جنکی کامیابی کا دارومدار ہمیشہ کسی بیرونی امداد اور تربیت پر ہوتا ہے۔ عوام کو مناسب سول وار کی تربیت نہ ہو تو انکی مزاحمت بے ہنگم ہو جاتی ہے اور وہ نقصان اٹھاتے ہیں ایسی ہی غیر منظم تحریکیں راخان میں چلتی رہی ہیں۔ سوچی نے اس کمیونٹی کی حالت زار پر کبھی ایک لفظ بھی نہیں بولا اسکے باوجود اسے محض سیاسی قیدی ہونے کی وجہ سے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ بقول جون ایلیا

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گیے زبان میں کیا ؟

راخان میں جو مزاحمت ہو رہی ہے وہ Rohingya Solidarity Organisation نام کی ایک تنظیم کر رہی ہے۔ برما کی حکومت نے ایک جعلی تنظیم حرکہ الیقین کے نام سے بنائی ہے جسکے پانچ سو ممبر بتاے جاتے ہیں اور آج تک اسکا کوئی سربراہ سامنے نہیں آیا، مین اسٹریم روہنگیا میں اس تنظیم کو کوئی بھی نہیں جانتا اور نہ کبھی اسے روہنگیا لوگوں کی سپورٹ حاصل ہوئی ہے۔ یہ محض ایک ویب سایٹ اور چند ای میل اکاونٹ پر مبنی ایک پر اسرار گروپ ہے جسکا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ برما کی حکومت کے مطابق اس فرضی تنظیم نے اکتوبر 2016 کو بارڈر کی چوکیوں پر حملہ کر دیا جس سے کل تیرہ فوجی ہلاک ہو گیے۔ یاد رہے کہ اس فرضی گروپ کی اس سے پہلے کوئی کارروای نہیں ہے۔ اس کارروائی کو جواز بنا کر برما کی حکومت نے نہتے روہنگیا عوام پر ایک بہت بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ لیکن زرا رکیے۔ سوچی ہی کی طرح کا ایک اور بدنما کردار سے بھی آپکو متعارف کرا دیں۔
ویراتھو نام کا ایک بدھ بھکشو ہے جس نے بدھ مت کی تعلیمات کو کئی ہزار سال بعد اپنے اجتہاد سے تبدیل کر دیا ہے اور جس طرح بھارت میں ادتیہ ناتھ یوگی نے تشدد پر مبنی ایک نظریہ تخلیق کر کے ایک شدت پسند تنظیم قایم کی ہے اسی طرح ویراتھو نے برما کے بدھوں کو روہنگیا کے خلاف اکسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ برما کی ریاست اسے اسی طرح تسلیم نہیں کرتی جس طرح ہم حافظ سعید کو نہیں کرتے لیکن درپردہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ یہ شخص روہنگیا کمیونٹی کے ہزاروں معصوم لوگوں کے قتل کا زمہ دار ہے اور سوچی نے آج تک اسکے خلاف کوی بیان نہیں دیا۔

دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ میانمار میں حکومت کسی مسلح جنگجو کو نہیں مار رہی بلکہ عام روہنگیائی لوگوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ صرف آرمی نہیں بلکہ عام پبلک بھی وہاں قابو آ جانے والے بے گناہ لوگوں کو حتی کہ دو دو اور تین تین سال کے بچوں کو ہسٹریائی انداز میں قتل کر رہی ہے۔

ملٹری آپریشن شروع ہونے کے بعد سے برما میں ہزاروں روہنگیا کو قتل کیا جا چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگوں کو انکے گھروں سے بیدخل کردیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ میانمار میں حکومت کسی مسلح جنگجو کو نہیں مار رہی بلکہ عام روہنگیائی لوگوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ صرف آرمی نہیں بلکہ عام پبلک بھی وہاں قابو آ جانے والے بے گناہ لوگوں کو حتی کہ دو دو اور تین تین سال کے بچوں کو ہسٹریائی انداز میں قتل کر رہی ہے۔ جو ویڈیوز وہاں سے موصول ہو رہی ہیں انکو دیکھ کر کوی سنگدل انسان بھی انسانیت کے اس قتل عام کی حمایت نہیں کر سکتا۔ روہنگیائی لوگوں کو بالکل اسی طرح مارا جا رہا ہے جیسے یہودیوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ ہر دو صورتیں جنگی جرایم میں آتی ہیں اور انکے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا انتہائی لازم ہے۔ سول سوسایٹی کے کچھ ساتھی دس ستمبر کو ملک بھر میں پر امن مظاہرے کررے ہیں۔ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اقوام عالم کی توجہ اس طرف مبزول کرایے اور ثابت کیجیے کہ ہم دوسری جنگ عظیم سے بہتر دور میں رہ رہے ہیں۔

سوچی نے اس سارے معاملے مین نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ہے بلکہ اسنے دو کام ایسے کیے ہیں جن سے اسکی بد نیتی واضح طور پر سامنے آگئی ہے۔ ایک تو اس نے عالمی میڈیا کو متنازعہ علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی اور پوری دنیا میں برما کی ایمبیسیز ایسے لوگوں کو ویزے جاری نہیں کر رہے جن پر انکو ذرا سا بھی شبہ ہو جاے کہ وہ میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کام کیلیے اس پر فوج کا کوی پریشر نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو وہ اسے بخوبی نپٹ سکتی ہے لیکن چونکہ وہ خود نسل کشی جیسے جرایم میں حصہ دار ہے اسلیے اسنے ایسی کوی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جس سے رہنگیای لوگوں کو بچانے کیلیے بروقت عالمی اقدامات کیے جا سکیں۔ روہنگیا کمیونٹی پر جو ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے اسکی عالمی میڈیا میں تفصیل اسلیے نہیں پہنچ رہی کیونکہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ حکومت نے کلیش ایریا میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دے رکھی جو بذات خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے عالمی میڈیا کے سامنے دکھایا نہیں جا سکتا۔ جو لوگ انٹرنیٹ پر پھیلی ہوی تصاویر کو جعل سازی سمجھ رہے ہین وہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا یہ حصہ لازمی پڑھ لیں۔

“The devastating cruelty to which these Rohingya children have been subjected is unbearable – what kind of hatred could make a man stab a baby crying out for his mother’s milk. And for the mother to witness this murder while she is being gang-raped by the very security forces who should be protecting her,”

دوسرا کام اس نے یہ کیا کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن اور امدادی کاروائیاں کرنے والے اداروں کو برما میں داخل ہونے سے کئی ماہ تک روکے رکھا ہے۔ قریبا دس سے زیادہ نوبل انعام یافتہ افراد نے آنگ سان سوچی پر تنقید کرتے ہوے کہا ہے کہ وہ کم از کم وہاں امداد کی کارروائیوں کے لیے داخلے کی اجازت دے۔ یاد رہے کہ اب تک سترہ سو سے زاید گھر جلاے جا چکے ہیں اور مارے جانے والے انسانوں کی اصل تعداد کا صحیح علم نہیں ہےاس سے بھی صاف پتہ چل رہا ہے کہ سوچی کی نیت کیا ہے؟

آج کافی عرصہ کے بعد سوچی نے روہنگیا پر اپنی لمبی خاموشی کو توڑتے ہوے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی غلط افواہوں اور جعلی تصویروں کے آیسبرگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔ ڈھٹائی پر مبنی اس سنگدلانہ بیان کا سادہ سا مطلب ہے کہ سوچی لوگوں کو بیوقوف بنا رہی ہے۔

انٹر نیٹ پر تصویروں کو جھوٹا کہنے والی سوچی نے ہیومن رایٹس واچ کی رپورٹ پر کوئی لفظ نہیں بولا جس کے مطابق سترہ سو کے قریب گھروں کو جو کئی گاووں پر مشتمل ہیں کو فوج نے آگ لگای ہے اور فوج نے لوگوں کو بلاتخصیص مارا ہے مارے جانے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہومن رایٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں سیٹیلایٹ کی تصویریں شایع کی ہیں جن میں گاووں کو آگ لگی ہوی واضح دیکھی جا سکتی ہے (تفصیل کے لیے ہیومن رایٹس واچ کا یہ لنک ملاحضہ کیجیے )۔ کیا لوگوں کو گھروں سے نکال کر مکمل حفاظت میں رکھ کر انکے گھروں کو آگ لگای جاتی ہے ؟ کیا دہشت گردوں سے لڑائی کیلیے مکانوں کو آگ لگای جاتی ہے؟ سوچی نے اقوام متحدہ کی ان رپورٹس اور طیب اردگان جیسے عالمی رہنماوں بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا جنہوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ برما میں روہنگیا کمیونٹی کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف میانمار کی سرحد پر سوچی کی مرضی کے عین مطابق بارودی سرنگیں بچھانے کا کام بھی جاری ہے جس سے جان بچانے والے مہاجرین اپنی زندگیاں ہار رہے ہیں۔بات سادہ سی ہے سوچی اس قتل عام میں شریک ہے اور اسے مکمل طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: