میں کون ہوں اے ہم نفسو؟ احمد اقبال کی آپ بیتی 11

1
  • 23
    Shares

ایڈورڈز کالج میں بزم ادب کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں نے اسے فعال بنانے کے ساتھ غالب کی برسی منانے کا الگ تجربہ کیا جس میں تفریح کا سامان بھی تھا۔۔۔ اس دوران میں نے غالب، اس کی شاعری اور خطوط نگاری کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ جس کے لئے میں نے اپنے ریڈیو کے مراسم کو بھی استعمال کیا۔ اس ضمن میں جب فراز سے ذکر کیا تو اس نے بادشاہ زریں جان سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔ میں موقعے کی تلاش میں رہا۔ ایک دن میں نے اسے پروگرام کے بعد اسٹوڈیو سے نکلتے ہوئے روک لیا” مجھے اپ سے چند منٹ بات کرنی ہے ۔”

اکیلے میں کون اس سے کیا کہتا تھا وہ اچھا تجربہ رکھتی تھی۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا تو شاید اسے میرے لہجے کی عاجزی اور مسکینی کے پیچھے عاشقانہ جذبات کار فرما نظرنہں آئے ہوں گے کہ کوئی سوال کئے بغیر وہ مجھے ہاتھ پکڑ کے ساتھ والےاستوڈیو میں گھس گئی اور دروازہ پیچھے بند کرکے ایک استول پر بیٹھ گئی۔ دوسرے پر میں سامنے با ادب بیٹھا، دروازہ بند ہونے سے میں بےحد نروس تھا۔ یہ ڈراما اسٹوڈیو تھا جس میں برے بڑے بڑے مائک آویزاں تھے۔ دونوں طرف بند شفاف شیشوں والی کھڑکی تھی جس سے پروڈیوسر اشاروں میں بات کرتے تھے۔

” اب بولو کیا کہنا چاہتے تھے” اس نے مسکرا کر حوصلہ دیا۔” اتنے گھبرا کیوں رہے ہو؟ “میں نے کہا” میں کالج میں موسیقی کا ایک پروگرام کر رہا ہوں۔۔یوم غالب پر”تم چاہتے ہو کہ میں اس میں گاؤں تو یہ بہت مشکل ہے”وہ رکھائی سے بولی
“نہیں جی میں اتنی جسارت نہیں کر سکتا، ایک دو ارٹسٹ کالج کے ہیں۔۔ میں چاہتا ہوں ان کی ریہرسل یہاں ہوجائے۔۔ اس کی اجازت آپ دلا سکتی ہو۔” میں نے ایک سانس میں کہہ دیا وہ مجھے دیکھتی رہی اور شاید سوچتی رہی کہ درخواست کس حد تک قابل قبول ہے میں نے اگلا قدم اگے بڑھایا” مجھے ایک باجے(ہارمونیم) والا اور ایک طبلے پر سنگت کرنے والا بھی چاہئے۔ ان کو معاوضہ ملے گا کالج سے۔۔ جو بھی اس دن فارغ ہوا چلے گا، ساونڈ سسٹم ہمارا ہے”

اتنی دیر میں اس نے میری مدد کا فیصلہ کرلیا تھا” رائٹر صاحب! بس اتنی سی بات تھی۔۔ اتنے گھبرا رہے تھے جیسے۔۔۔جیسے، شادی کی بات کرنا چاہتے تھے” وہ اٹھی اور مجھے وہیں دم بخود بیٹھا چھوڑ کے نکل گئی ۔مجھے لگا جیسے وہ مجھے میرے جھینپو اوران رومانٹک رویے پر نامردی کا طعنہ دے گئی کہ میں تو سمجھی تھی اظہار عشق کروگے۔۔ کم سے یہ تو کہوگے کہ آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔یہاں میں پھر اعتراف کروں گا کہ میں زندگی میں کبھی ایک جارحانہ مزاج والا ڈیشنگ فگر نہ تھا اور بن بھی نہیں سکتا تھا۔۔

یوم غالب کا پروگرام اپنے نئے پن کی وجہ سے مقبول ہوا لیکن ہال بھرنے کا سبب بعد میں معلوم ہوا۔ ہمیشہ کی طرح میں نے ایک اشتہاری قسم کا نوٹس اسلامیہ کالج کے نوٹس بورڈ پر بھی لگوادیا تھا۔ نہ جانے کس نے مشہور کر دیا کہ پروگرام میں بادشاہ زریں جان بھی گائیں گی، اللہ مغفرت کرے۔۔آواز میں ہی نہیں اس کے نام میں بھی جادو تھا۔۔تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے۔

 

۔۔۔۔۔ کالج کی ایک “ڈبیٹنگ” سوسائٹی تھی جو ہر کالج کی خوب صورت روایت ہوتی ہے۔ اور سال میں ایک دو بارکسی عام سے موضوع پر مباحثے بھی کراتی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اس سے الگ ریتا چنانچہ سال بھر بعد میں بھی، ان چار لڑکوں کی ٹیم میں تھا جو دوسرے کالجوں میں ایڈورڈز کالج کی نمایندگی کرنے جاتی تھی۔ پہلے سال اس کا لیڈر عابد علی سید تھا جو بعد میں ریڈیو پھر ٹی وی کے کسی اعلی عہدے تک گیا۔۔ پھر میں ٹیم لیڈر ہوگیا اور ہم نوشہرہ، مردان ایبٹ آباد تک انٹر کالج مقابلوں میں شریک ہوئے۔ کھانے پینے اور رہائش کے لئے کالج سے وافر رقم ملتی تھی جو ہم جیب میں ڈال کے ہوسٹل میں مہمان ہو جاتے تھے۔کھانے کےبل اور ٹرانسپورٹ کی جعلی رسیدیں کالج میں جمع کرا دیتے تھے۔ مردان میں تو ہم نے ایک مسجد میںبھی رات گزاری تھی۔۔اللہ معاف کرے۔۔عابد علی سید نے کہا کہ یار کسی اور کا نہیں خدا کا گھر تو ہے۔ نماز مغرب کی جماعت میں اس لےؑ شریک ہوئےؑ کہ اس کے بعد گھروں سے انے والا کھانا مسجد میں مقیم مسافروں کے درمیان رکھ دیا جاتا تھا۔ اس رات نہ جانے کس کے سوئم یا چہلم کا پلاؤ زردہ کھایا اور عشا کی نماز کے بعد صفوں پر لمبی تان کے سوگئے۔ اچھے وقتوں کی بات ہے جب مسجد واقعی خدا کا گھر تھی اور کسی فرقے، جماعت یا فرد کی ملکیت کا تصور بھی نہیں تھا۔ نہ ہی مساجد میں وہ اسباب دنیاوی تھے جس کو بچانے کے لئے تالے ڈالنا ضروری خیال کیا جاتا ہو۔ بہت بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں رات دس بجے کراچی کے پاپوش نگرمیں جنازہ بر دوش لوگوں کے ساتھ گلی گلی پھر رہا تھا کہ نماز کے لئے کوئی مسجد کھلی ملے اور بالاخر یہ نماز قبرستان کی مسجد میں ہی ادا ہوسکی۔وہاں بھی لازمی تھا کہ ساڑھے دس سے پہلے میت آجائے ورنہ دروازے بند کر دیئے جاتے تو پھر صبح فجر تک قبر مردے کا انتظار کرے گی اور مردہ قبر کا۔

جب ایبٹ آباد گورنمنٹ کالج گئے تو صرف کپ جیت سکے لیکن وہاں ہاسٹل بڑا تھا اور لڑکے بہت ہلہ گلہ کرنے والےتھے خوب لطف رہا۔ پہلےتو رات ایک بجے اٹھا دیا کہ مومنو!اٹھو !حلوہ پکانا ہے۔”۔ سخت سردی میں لحاف سے نکلے اوردو بجے حلوہ کھایا۔پھر نیند آئی ہی تھی کہ لحاف کھینچ لئے گئے۔۔ پوچھا کہ اب کیا ہے تو جواب ملا ” یہاں آئے ہو تو کیا مس کولمبو کا دیدار کئےبغیر ہی چلے جاوگے؟”۔۔
“یہ مس کولمبو کیا چیز ہے؟” آنکھیں ملتے ہوئے سوال کیاتو جواب ملا “دیکھنے کی چیز ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں سو آج تم بھی دیکھ لو”۔ ٹھیک سات بجے پتھروں کی 6 فٹ اونچی دیوارپر پندہ بیس عشاق ٹانگیں لٹکا کے صف بستہ ہوگئے۔ وہ سوا سات بجے نیچے سڑک پر آئی۔ بلا شبہ ایک بہت حسین لڑکی جو غیر معمولی طور پر لمبی تھی۔ میرا خیال ہے 6 فٹ سے بھی دو تین انچ زیادہ اس کا قد ہوگا۔ وہ ہر روز اسی راستے سے اپنے کالج جاتی تھی اور استقبال کا یہ منظر روز دیکھتی تھی۔ لیکن بڑی ہمت والی تھی کہ اس نے نہ راستہ بدلا، نہ کسی سے کچھ کہا حالانکہ دو چار سیٹیاں اس کے گذر جانے کے بعد ضرور سنائی دیتیتھیں۔ اس دن طے شدہ پروگرام کے مطابق مجھے پیچھے سے دھکیل کر گرادیا گیا۔ نیچے دو فٹ کا گھاس والا سلوپ تھا میں گرا اور لڑھک کر سڑک پر عین مس کولمبو کے سامنے اس کے قدموں میں اب اس کا رد عمل فطری تھا۔ اس نے ایک دم جھک کے مجھے کھڑا ہونے میں مدددی اور پوچھا “کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟”

میں نے کپڑے جھاڑتے ہوئے نفی میں سر ہلایا” مجھے انہوں نے ہیچھے سے دھکا دیا” پلٹ کے دیکھا تو دیوار خالی۔۔ مس کولمبو کے تمام عشاق غائب۔ وہ سے جھٹک کر اور مسکرا کے اگے بڑھ گئی۔ میں دیوار پر چڑھا تو دیکھا سب پیچھے دبکے بیٹھے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔ میرے گرمی کھانے پر کہا گیا کہ یار خوش قسمت ہو۔۔ اس نے تمہارا ہاتھ تھام کے اٹھایا۔ کیا ایسا اتفاق ممکن ہے کہ آج وہ لڑکی جو اب نانی دادی بن چکی ہوگی یہ سب پڑھ لے اورجوانی یاد آجاے توایک آہ بھر کے مسکرادے۔

۔اسی زمانے میں بی اے فائنل کے طلباء کو ایک مطالعاتی دورے پر لاہور لے جایا گیا۔۔ تاریخ پڑھنے والے شاہی قلعے اور شالا مار وغیرہ دیکھنے گئے۔ میں نفسیات پڑھتا تھا جس میں خوابوں کی نفسیات کے ساتھ ذہنی امراض یا پاگل پن کی کیس ہسٹری بھی تھی۔ میں نے ایک دن لاہور کے مینٹل ہاسپٹل میں گزارا۔ 4 نمبر دو منزلہ بس وہاں جاتی تھی چنانچہ لاہور والے کسی کی بے سرو پا باتوں پر کہتے تھے کہ اسے تو بٹھادو 4 نمبر بس پر۔ جیسے کراچی والے کہتے ہیں کہ بھیج دو گدو بندر۔

مینٹل ہوسپٹل میں مجھے ہر مریض کی کیس فائل دیکھنے کو ملی ساتھ ہی اس مریض سے بھی ملوایا گیا۔ وہاں ایک دو خطرنک مریض تھے جن کوسلاخوں کے پیچھے رکھا جاتا تھا ورنہ دورہ پڑے تو وہ خوںخوار ہو جاتے تھے۔ بیوی کے قتل میں ملوث ایک پاگل نے مجھ سے مسکراتے ہوئے سوال کیا کہ “لو جی گھر میرا، بیوی میری, سوجی گھی چینی سب میری اور حلوہ پکا کے کھلائے اپ کو تو میں کیا کروں گا” ؟ یکلخت وہ چلانے اور سلاخوں کوبھنبوڑنے لگ جاتاتھا۔

دوسری قسم کے مریض وہ تھے جن پر دورہ پڑے تو اول فول بکتے تھے لیکن کسی پرحملہ نہیں کرتے تھے۔ تیسرے سرے سے پاگل ہی نہیں لگتے تھے۔ سنکی تھے یا مجذوب بس بے طرح بے سروپا بولتے رہتے تھے۔ ان میں بیشتر خود کو دیوانہ ہی نہیں مانتے تھے۔۔ لطیفے کی بات ہے۔۔ کسی پاگل سے سوال کیا گیا کہ تم کہتے ہو دنیا پاگل ہے دنیا کہتی ہے تم پاگل ہو، اس نے اہ بھر کے کہا کہ جمہوریت کا یہی تو نقصان ہے اکثریت کی چلتی ہے۔۔ بے ضرر پاگل کھلے پھرتے تھے لیکن اپنی مضحکہ خیز حرکتوں سے پہچانے جاتے تھے۔ ایک لطیفہ اور سن لیں۔ پااگل دیوار کے ساتھ کان لگاے بیٹھا تھا۔ وارڈن نے تیسرے چوتھے چکر میں یہی دیکھا تو خود بھی بیٹھ گیا۔ دو منٹ بعد اس نے کہا”یار کیا ھے؟ مجھے تو کچھ سنائی نہیں دیا”۔ پاگل نے کہا”اوئے پاگل مجھے ایک گھنٹے میں کچھ سنائی نہیں دیا تو دو منٹ میں تجھے کیا سنائی دے گا”۔۔ یہ ایک تکلیف دہ مشاہدہ تھا۔ میڈیکل آفیسر نے ایک نرس کو میرے ساتھ کر دیا تھا جوسب کی کیس ہسٹری پر میرے سوالات کے جوابات دیتی رہی۔ اس نے اعتراف کے انداز میں انکشاف کیا کہ بہت سے لوگ پاگل نہیں تھے۔ اولادنے ان کو دولت جائیداد کے چکر میں یہاں بند کرادیا اور ڈاکٹرز نے پیسہ لے کر ان کو دواؤں سے پاگل کر دیا۔ یا کوئی علاج کے لئے لایا اوربھاگ گیا۔بڈھوں کوگھرکا پتا نہیں معلوم تو پڑے ہیں یہاں۔نرس کی ڈیوٹی 5 بجے ختم ہوتی تھی مگرمیرے ساتھ ڈیوٹی لگ جانے کے بعد وہ فارغ تھی۔ اس نے کہا کہ بتانے کو ابھی بہت کچھ ہے اور 3 بجے ہی میرے ساتھ چل پڑی۔۔ میرا تو بھوک سے حال خراب تھا۔

کھانے کے بعد اس نے میرے ساتھ ریگل سینیما میں انگریزی فلم کا 6 سے 9 والا شودیکھتے ہوئے کہا” 50 روپے ہیں تو میں تمہارے ساتھ چل سکتی ہوں لیکن 12 بجے تک مجھے گھر پہنچناہوگا”۔ میں نے کہا ” میں تو اسٹوڈنٹ ہوں۔” وہ ہنسنے لگی “پھر کیا ہوا؟ اچھا اسٹوڈنٹ کنسیشن چاہئے۔۔ایسے کہو ناں چلو تم چالیس دے دینا”۔میں نے پوچھا ” تم یہ کام کیوں کرتی ہو؟ اس نے صاف کہا ” اور کیا کروں۔ تنخواہ بہت کم ہے وہ میں گھر میں دیتی ہوں۔ لیکن تفریح کومیرا بھی دل چاہتا ہے کبھی کبھی آخر لاہور میں رہتی ہوں۔۔ سب کو عیش کرتا دیکھتی ہوں”

میں لکشمی چوک پر ویسٹ اینڈ ہوٹل میں سب کے ساتھ مقیم تھا اور پروفیسر جوناتھن ہمارے ساتھ تھے ۔ اب معذرت نہ کرتا تو کیا کرتا۔ اس دبلی پتلی سانولی سی کرسچین لڑکی کا نام بھی اب یاد نہیں لیکن اس کی صورت خصوصا” اس کی پتلی لمبی نقش چغتائی جیسی آنکھوں پر سودا کا شعر یاد آتا ہے

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

وہ سردیوں کی راتیں تھیں جب فلم اسٹار بہار کی پہلی فلم “چن ماہی” نے تہلکہ مچا رکھا تھا۔ فیصلہ ہو ا کہ آخری شو دیکھا جائے۔ سب رضائی کمبل لپیٹ کر پیدل گئے کیونکہ سنیما ساتھ ہی ایبٹ روڈ پر تھا اور سب سے آگے کی 5 آنے والی تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا۔ عوام کے ساتھ خوب سیٹیاں بجائی گئیں۔ رات کو لوٹے تو نہ جانے کس نے تیسری منزل کی بالکونی سے بوٹ پالش والے کو آواز دی، وہ اوپر آیا تو سب دروازے بند اور اندھیرا دیکھ کر لوٹ گیا۔ دس منٹ بعد پھر اسے ڈانٹ کے بلایا۔ وہ بچارا پھر آیا تو وہی منظر۔ تیسری دفعہ آیا توچلانے لگا کہ”کس نے بلایا تھا یار، یہ کیا مزاق ہے؟ ” اور دستک دی ایک دروازےپر تو پروفیسر جوناتھن نائٹ سوٹ میں آنکھیں ملتے نکلے کہ کیا بات ہے؟ کون ہو تم? اس نے بات بتائی تو مزید جھاڑ کھائی کہ” پاگل ہو تم ات کو ایک بجے کون جوتے پالش کراتا ہے؟ میں بتاتا ہوں مینیجر کو”۔ اس بچارے کو جان چھڑانا مشکل ہوگیا۔

1957 میں روس نے پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں چھوڑا تو سب کی طرح میری سمجھ میں بھی نہ آیا کہ یہ کیا خبر ہوئی جس پر دنیا انگشت بداناں ہے اور امریکی سائنسدان بھی، اپنے حریف کی سبقت پر شرم سے سرنگوں ہیں۔ اس پر آنے والے اخراجات بھی اتنے زیادہ تھے کہ جہلائے کرام کا ایک طبقہ تو اسے شیطانی ایجاد اور اہل ایمان کو گمراہ کرنے کاجھوٹا پروپیگنڈا قرا دیتا تھا۔ دوسرے میرے جیسے تھے کہ سائنسدانوں کی سعیء لا حاصل پر سوال کرتے تھے کہ کیا ان کوتیسری دنیا میں غربت اور بیماری دکھائی نہیں دیتی کہ ایسی سائنسی عیاشی پرفضول خرچی کرتے ہیں۔ جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ کچھ عرصہ قبل جب کروڑوں ڈالرخرچ کر کے امریک نے مریخ پر پانی کے آثار دریافت کئے تو جہلاء کی نئی اور نوجوان کھیپ وجود میں اچکی تھی۔ تاہم روایتی انداز میں نام نہاد علماء اپنے پرانے موقف پر قائم تھے کہ میں نہ مانوں۔

یہاں فیس بک پر وہی سوال اٹھائے گئے۔ مگر بندہ اب بہت لائق فائق ہو چکا تھا چنانچہ پہلے تو جواب 1957 میں سوال کرنے والوں کو دیا۔۔ میں نے کہا کہ پہلے مصنوعی سیارے کے لئے بھی یہی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ آج آپ کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، نیٹ ہے اور گھر میں دنیا بھر کے چینل دکھانے والا ٹی وی ہے، یہ اسی مصنوعی سیارے کے طفیل ہے۔۔ ورنہ ٹی وی کی نشریات 70 کلومیٹرسے آگے دیکھنا ناممکن تھا۔ امرتسرجالندھر ٹی وی مئی جون میں کچھ موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے لاہور میں بھی نظر آجاتا تھا۔۔ تو اس کے لئے بازار سے طویل ترین بانس لایا جاتا تھا۔ اس کے اوپر سلور کے تھال لوٹے باندھ کردائیں بائیں انچ انچ گھمایا جاتا تھا اورنیچے سے ناظرین کا نعرہ ” بس ٹھیک ہے” سنائی دینے تک یہ عمل جاری رہتا تھا۔۔۔ لاہور سے پنڈی بھی فون کرکے ماما جی کے فوت ہونے کی اطلاع دینے کے لئے کال بک کراکے انتظار میں بیٹھنا پڑتا تھا کہ دیکھو کب باری آتی ہے اور لائین کب ملتی ہے۔ تدفین سے پہلے کہ سوئم کے بعد۔۔۔ لیکن اب آپ بھی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کل جب اس دنیا میں ہماری دن رات کی جدوجہد برائے کثرت اولاد کی کامیابی کے سبب جینے مرنے کو دو گز زمین بھی نہ ملے گی تو مریخ پر پانی کا پتا چل جانے کے بعد وہاں ایک دنیا آباد کر لینا عین ممکن ہوگا۔

اس سےاگلے سال دو تاریخی واقعات رونما ہوئے۔۔ ایک میری زندگی کا دوسرا پاکستان کی تاریخ کا۔۔۔ پہلے میں نے بی اے پاس کیا اسی دوران پہلا مارشل لاءنافذ ہوا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں فیل ہوجاتا تومارشل لا نہ لگتا ۔ میں اہمیت نہیں بلکہ تاریخ کی ترتیب کے حساب سے چلتا ہوں۔ تعلیم کے معاملے میں راقم کبھی واجبی حد تک بھی ہوئے سنجیدہ نہ ہوسکا۔ دیگر”غیر نصابی” مصروفیات میں تین بار کلاس میں حاضرہونا بھولتا گیا اور جب حاضر ہوا تو نام ہی نہ پکارا گیا۔ پتا چلا کہ مسلسل غیر حاضری کے باعث نام تو خارج ہو چکا ہے۔ مناسب ڈانٹ ڈپٹ کے بعد مجبورا” ابا نے جرمانہ دیا تو نام پھر لکھ لیا گیا۔ اب یہ خود ستائی نہیں کہ یا داشت واقعی ایسی تھی کہ جو لیکچر سنا وہ حافظے میں نقش ہو گیا۔ عین سالانہ امتحان کا زمانہ تھا جب فرسٹ ایر کا طالب علم چھوٹا بھائی منہ بسورتا آیا۔ پوچھا کیا ہوا تو بولا کہ کالج والے لاہور جارہے ہیں۔ ابا نے کالج کے اخراجات تو دے دیئے ہیں لیکن ذاتی خرچ کے لئے صرف بیس روپے دیئے ہیں۔ میں نے صورت حال پر غور کیا اور اپنی تمام درسی کتب اسے دے دیں کہ لاہور جا کے اردو بازار میں بیچ دینا۔ ا س کو60 روپے کی خطیر رقم حاصل ہوئی اور میں شتابی سے فارغ۔۔
؎رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں راہزن کو

کتابیں ہی نہیں توامتحان کے لئے پڑھنا کیسا؟ آخری حماقت ملاحطہ فرمایئے۔ سائیکا لوجی کا پرچا تھا سو کے اٹھا تو نو بجے تھے۔۔ خیال آیا کہ پرچا صبح ہے یا دوپہر کے بعد؟ ڈیٹ شیٹ تلاش کی تو ملی نہیں۔۔سوچا کہ چل کے دیکھنا چاہئے۔ اب کالج پہنچا تو پرچا شروع ہوئے 40 منٹ ہوگئے تھے۔ پرنسپل کی سفارش سے بیٹھنے کی اجازت ملی تو بیس منٹ حواس بحال کرنے میں لگے۔ جواب دینے کے لئے سب کو 3 گھنٹے ملے تھے لیکن مجھے دو ملے۔۔ اس سب لا پروائی کے باوجود کرنا خدا کا یہ ہوا کہ نتیجہ آیا تو ناچیز کالج میں اول یا مظہر العجائب۔۔خوش خوش مرغ فاتح کی طرح سینہ نکالے اور گردن اکڑائے پرنسپل سے ملنے کالج پہنچا، مجھے دیکھتے ہی بڑے میاں کا پارا چڑھ گیا۔ انگریزی میں فرمایا۔۔۔ دفع ہوجاؤ اپنی منحوس صورت لے کر اور ابا کو ساتھ لے کر آؤ۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ شاباش دینے کا یہ کون سا انداز ہے۔ ابا ایبٹ آباد میں تھے ان کوخبر تو مل چکی تھی کہ میں نے کیا تیر مارا ہے۔تار دیا کہ پرنسپل آپ سے ملنا چاہتا ہے، تیسرے چوتھے دن وہ آئے تو ان کے ساتھ پھر کالج گیا۔ اب پرنسپل نے ابا کو سامنے بٹھا کے بولنا شروع کیا۔۔”آپ نے دیکھا یہ لڑکا پڑھائی کے معاملے میں کتنا سیریس تھا؟ تین بار مسلسل غیر حاضری پر اس کا نا م خارج ہوا تھا۔ یہ ڈرامے لکھتا رہا، تقریریں کرتا پھرا، پڑھنے کے علاوہ اس کی دلچسپی ہر کام میں تھی۔ اس سال اسلامیہ کالج کے جس لڑکے نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا اس کے 15 نمبرہی تو زیادہ ہیں جو یہ لے سکتا تھا اگر محنت کرتا۔ ہمارا طالب علم اول آتا تو ہمارا نام ہوتا۔۔ ایسا لڑکا کبھی کبھی آتا ہے جس سے توقعات وابستہ کرنا غلط نہیں ہوتا اور اقبال وہ لڑکا تھا۔۔۔۔۔”

او ہو۔۔ یہ بات تھی جس پر موڈ خراب تھا۔۔ میں نے سر جھکا کے صورت پر اعتراف جرم طاری کیا اور ابا نے بھی غمگساری کی تو پرنسپل اٹھا اور اس نے مجھے گلے لگا کے ابا کو مبارکباد دی بعد میں مجھے شیلڈ ملی اور میرا نام رول آف آنر میں بھی لکھا گیا۔۔ لیکن اپ جذبہ دیکھئے احساس شکست کی ندامت کا۔۔ اس کا دکھ جو میں نہیں سمجھا تھا کچھ ایسا تھا جیسے اب ہمیں ورلڈ کپ فائنل میں بھارت سے ہارنے کا ہوتا ہے۔

(جاری ہے) ۔۔۔۔

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: