برما کے فسادات، میں بھی شریک جرم ہوں – ابن فاضل

0
  • 101
    Shares

میں مانتا ہوں کہ آپ برما کے مسلمانوں پر ہوئے بیہمانہ ظلم و بربریت پر دل گرفتہ ورنجور ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سوں نے اپنی اپنی بساط میں زبانی یا تحریری طور پراحتجاج بھی کیا ہے۔ بہت سے دوست نئی پرانی،جھوٹی سچی تصاویر اور ویڈیوزکی اشاعت کر کے اپنے تئیں اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر کچھ دوست اور تنظیمیں مزید منظم احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کیا ان یا ایسے مسائل کا یہی حل اور تدارک ہے۔ کیا ہمارے ذمہ بس یہی ہے کہ ہم چند روز سماجی روابط پر واویلا کریں، پریس کلب کے باہر دو گھنٹے سڑک بند کر کے اپنے ہی ہموطنوں کو تنگ و پریشان کریں اور پھر اگلی افتاد آنے تک دوبارہ اپنے اپنے خوابوں کی تعبیروں کے حصول میں مگن ہو جائیں۔

ابن فاضل

قطع نظر اس بحث کے کہ قانون کی رو سے رونجیا مسلمان برما کے شہری ہیں کہ نہیں۔ اور اس تمحیث کے کہ کیا کوئی انسان انسانوں کو اسطرح بیدردی سے کاٹ کر پھینک سکتا ہے۔ زندہ جلا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عصر حاضر میں مسلمانوں پر دنیا کے کسی خطہ میں ہوا یہ پہلا ظلم ہے۔ جو ہم مشاہدہ کررہے ہیں۔ کیا اس سے پہلے بوسنیا ہرزگووینا سے لیکر چیچنیا تک، فلسطین سے لیکر کشمیر تک اورلیبیا، مصر، شام ایراق سے لیکر افغانستان تک لاکھوں مسلمان ذبح اور لاکھوں اپاہج و بے گھر نہیں ہوچکے۔ اور ہم نےکیا کیا، ہر بار دعاؤں کے درخواست کے ساتھ اعضاء بریدہ بھائی بہنوں کے بے گورو کفن جسموں کی تصاویر کی ترویج۔ اور۔۔۔بس۔ حق ادا ہوگیا۔ او میرے بھائیو۔خدا کی قسم آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کی دعائیں، مجھ اور آپ سے ہزاروں گنا جلدی اور زیادہ قبول ہوتی تھیں لیکن وہ کیا کرتے تھے۔ سب سے پہلے زرہ پہن کر ہتھیار سجا کر لشکر اسلام کی راہنمائی کرتے تھے۔ اور تمامتر حاضر وسائل اور افردی قوت مہیا کرنے کے بعد میدان جنگ میں پہنچ کر دعا فرماتے تھے۔ ان کیلیے کیا یہ آسان نہ تھا کہ سکون سے مسجد نبوی میں بیٹھے بیٹھے مظلوموں کیلیے دعا اور ظالموں کے لئے بدعا فرما دیتے۔

اس سے پہلے کہ ہم جائزہ لیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے، یہ تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمیں کچھ کرنا بھی چاہیئے یا نہیں۔ دیکھیں اگر آقا کریم کے فرامین عالیہ سے نابلد اور احکامات جلیلہ رب کریم سے نا آشنا کوئی کمزور سا مسلمان کسی دور دراز علاقے میں مسلمانوں پر ہوئے ظلم کی خبروں اور تصاویر سے دل شکستہ و پریشان ہوتا ہے تو اس کا لازمی مطلب ہے کہ امت واحدہ کا تصور مسلمانوں کی سرشت میں اور ملکوں کے نام پر کی جانے والی حدبندیاں محض انتظامی ہیں۔

اب رہا سوال کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ تو عزیزان گرامی ہر مسئلے کے حل کیلئے ہمیشہ مختصرالمدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ مختصر المدتی منصوبہ بندی اس مسئلہ میں تو یہی ہے کہ حکومتوں پر ہر طریقہ سے دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ اس مسئلے کا فوری حل کریں۔ اس سلسلہ میں سماجی روابط کا کردار بہت اہم ہے اس کے علاوہ عوامی اجتماعات اور تحاریک بھی ضروری ہیں۔ ساتھ ہی صاحب ثروت لوگ اور امیر ممالک بے گھر مسلمانوں کی آباد کاری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

لیکن اصل میں اس کا طویل المدتی حل بہت اہم ہے۔ تاکہ آئندہ برما میں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں دوبارہ مسلمانوں کو یوں آسان چارہ نہ بنایا جا سکے۔ اور وہ یہ کہ ہمیں بحیثیت امہ بالعموم اور بحیثیت قوم بالخصوص مضبوط اور طاقتور بننا ہے۔ اس کے سب سے پہلے ہمیں بحیثیت قوم یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم کوئی عام قوم نہیں۔ ہم اس نبی صلی الله عليه وسلم کے امتی ہیں، جن کیلیے یہ جہاں تخلیق کیا گیا۔ اس حوالے سے بالیقین ہم مالک ہیں اس دنیا کے۔ بلکہ

یہ جہاں چیز ہے کیا یہ لوح وقلم تیرے ہیں

ہم ان ہستیوں کے ماننے والے اور انکا تسلسل ہیں جو ہلتی ہوئی زمین پر کوڑا ماریں تو زلزلے رک جائیں۔ جن کے اشارہ ابرو سے بپھرتے دریا سمٹ جائیں۔ جو تین سو تیرہ ہزار پر اور چالیس ہزار، دولاکھ پر بھاری ہوں۔ جو شیر کو جب تعارف کرائیں تو وہ سواری بن جائے، جو گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھے سرکش دریاؤں کو روند دیں۔ ہم ان کا تسلسل ہیں جنہوں نے ہزار سال دنیا پر اور سات سو سال ہندوستان پر حکومت کی۔ ہم ان کا تسلسل ہیں جنہوں نے جدید دنیا کو تقریباً سبھی جدید علوم کی بنیاد فراہم کی۔ ہم وہ ہیں کہ جنہیں خود خدا کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔

اور نہ ڈرو اور نہ خوفزدہ ہو۔تم ہی کامیاب ہو گے اگر تم مومن ہو۔

ہم تو وہ ہیں جنہیں اللہ کہتا ہے

وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۚ

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں سب تمہارے لئے مسخر کردیا گیا۔

ہم تو وہ ہیں جو زندگی ہتھیلی پر رکھے ہوئے پھریں، مگرجب چاہیں موت کے پنجوں سے اسے چھین بھی لیں۔ ہم تو وہ ہیں جس کا جینا بھی منافع جس کا مرنا بھی منافع۔ ہم تو وہ ہیں جن کو رب خود پوچھے
بتا تیری رضا کیا ہے

پھر کیسی ہے یہ مایوسی۔ کاہے کی پریشانی۔ آؤ اپنے آپ کو پھر سے منظم کریں اس دنیا پر حکمرانی کے لئے۔ آؤ اتار پھینکیں یہ نا امیدی کا پیراہن۔ ہمارے لئے قوموں کی امامت کوئی نیا کام نہیں۔ہم نے ہزاروں سال یہ کیا ہوا ہے۔ ہمارے خون میں، ہماری سرشت میں شامل ہے بس ذرا سا اپنا محاسبہ کرنے کی دیر، ذرا سا اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جاے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ہمیں کوئی لمبے چوڑے وظیفے اور ریاضتیں نہیں کرنیں، ہمیں کوئی ناقابل برداشت قربانیاں نہیں دینی۔ بس دو کام کرنے ہیں

ا: اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کرنا ہے۔ آج کے بعد ہمارا ہر فیصلہ اپنی ذات کے حوالے سے نہیں اپنی قوم کے حوالے سے ہوگا۔ میں جہاں بھی جس عہدے یا حیثیت پر ہوں میری ترجیح میری ذات نہیں میری قوم ہوگی۔ میں بیوروکریٹ ہوں تو ملکی مفاد میں فیصلے کروں گا، اپنے لوگوں کو آسانیاں دوں گا۔ میں تاجر ہوں تو اپنے لوگوں سے مال خریدوں گا، میں صارف ہوں تو اپنے ملک کی بنی اشیاء خریدوں گا چاہے کم کوالٹی اور قیمت میں تھوڑی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ میں اعلیٰ عہدے پر ہوں تو سفارش کی بجائے معیار کو ترجیح دوں گا۔ اور سب سے بڑھ کر میں ووٹ دیتے وقت اپنی ذات، برادری، علاقائی مفادات کو مسترد کرتے ہوئے صرف اور صرف قومی مفاد کے مطابق ووٹ دوں گا۔
ب: میں جہاں بھی جس عہدے اور حیثیت پر ہوں، چاہے سپاہی ہوں چاہے سپہ سالار، چاہے چپڑاسی ہوں یا وزیر اور چاہے استاد ہوں یا طالبِ علم اپنا کام پوری توجہ ایمانداری اور تندہی سے کروں گا۔

میں نے قوموں کے عروج و زوال کا بہت عمیق نظری سے مطالعہ کیا ہے، اور قوانین فطرت اور احکام رب کریم پر سیر حاصل تحقیق کے بعد پوری ذمہ داری سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بس یہ دو کام اوربہت جلد ہم پھر سے دنیا کی قوموں میں باوقار مرتبے پر فائز ہوں گے۔پھر سے عالمی فیصلے ہماری مرضی سے ہونگے۔انشاءاللہ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔

اور اگر ہم ایسا نہیں کرسکتے یا اپنے مفادات کو چھوڑ کر قومی مفادات کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ یہ واویلا اور یہ قوم کا درد سب خود فریبی، خود نمائی اور ڈھکوسلہ ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اور اگر اگلی بار دنیا کے کسی اور ملک میں کسی اور بہانے سے مسلمانوں کا قتل عام ہوگا تو میں اور آپ بالواسطہ شریک جرم ہونگے۔ کہ

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: