روہنگیا مسلم: مسئلے کے ممکنہ حل ۔۔۔ صفدر چیمہ

0

ان دونوں نقشوں کو غور سے دیکھیے تاکہ آپ کو یہ معلوم ہو سکے کہ روہنگین مسلمز کے پاس زمینی حقائق کے مطابق ہجرت اور جہاد کے لیے کیا آپشنز ہیں؟؟؟

جہاد : جہاد کا مشورہ دینے والے دوست ذرا اپنے اپنے سیف زون سے باہر نکل کر اور گوریلا جنگ کے بنیادی لوازمات کو نظر میں رکھ کر یہ بتائیں کہ نقشوں میں نظر آنی والی ریاستوں میں سے کون سی ریاست ان کے لیے بیس کیمپ کی خدمات سر انجام دے سکتی ہے؟ مجاھدین کو سپلائیز کن راستوں سے ہوگی اور کون سی ریاست یا کون لوگ کریں گے؟ ہٹ کے بعد رن کہا کریں گے؟

برما کی کل آبادی کا چار فیصد اور تاریخی طور پر غیر جنگجو قوم سے تعلق رکھنے والے روہنگین مسلمز اس وقت ان مہربانوں کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں جو نئے عالمی منظر نامے میں خود تو جہاد سے تائب ہو کر جمہوری سیاست کو پیارے ہو چکے ہیں اور خود میدان سیاست کے کارزار میں ووٹوں کی تلواریں سونتے ہوئے ہیں…………خدارا اب رحم کیجیےـ

ہجرت: ہجرت کے لیے بھارت،بنگلا دیش، تھائلینڈ اور ملائیشیا کے آپشنز ہیں لیکن موزوں ترین اور آسان بنگلا دیش و بھارت ہیں…

ترکی کے بعد سعودی عرب بھی عالمی سطح پر سرگرم ہو چکا ہے جس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں روہنگین مسلمز کے حق میں مزید توانا اور مؤثر آوازیں اٹھیں گی…

اس نئی صورتحال میں ہمیں بحیثیت قوم 8 نکاتی ایجنڈے پر منظم اور مربوط کام کرنا چاہیے…

1: حکومت پاکستان کو عوامی دباؤ سے مجبور کیا جائے کہ وہ اس مسئلے میں ترکی اور سعودی سے مل کر اپنا مؤثر کردار ادا کرے…

2: اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر کوریج دینے کے لیے میڈیا ہاؤسز پر عوامی دباؤ بڑھایا جائے…

3: عوامی، حکومتی اور عالمی سطح پر بنگلا دیش اور بھارت کو انسانی بنیادوں پر بارڈر کھولنے کی اپیل کی جائے …

4: اس مسئلے کے واحد اور پائیدار حل کے لیے آزاد اراکان ریاست کے مطالبے کا زور و شور سے پرچار کیا جائے…

5: روہنگین مہاجرین کی مالی مدد کے لیے اچھی شہرت رکھنی والی معروف فلاحی تنظیموں کو فنڈز دیے جائیں اور بارش میں کھنبیوں کی طرح اچانک سے پیدا ہونے والی بھانت بھانت کی فلاحی تنظیموں سے بچا جائے…

6: اس جدوجہد پر سیاسی اسکورنگ نہ کی جائے اور نہ ہی کسی مخصوص سیاسی و مذہبی جماعت کا لیبل لگنے دیا جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ” آزاد اراکان ریاست ” کے نام سے ایک علیحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جس میں تمام شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے لیکن غیر جماعتی بنیادوں پر…

7: آزاد اراکان ریاست کے پلیٹ فارم کی مرکزی قیادت اچھی شہرت کے حامل پاکستان میں موجود روہنگین مسلمز کو سونپی جائے اور عوامی سطح پر ان کی بھرپور مدد کی جائے…

8: آزاد اراکان ریاست کی قیادت دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں، عالمی اداروں، عالمی طاقتوں کو خطوط لکھے، وفود کی شکل میں ملاقاتیں کرے اور عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کرے…

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: