پاک ترک رشتے کے ستر برس ۔۔۔ فاروق عادل

0
  • 654
    Shares

برادرمحترم پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے پاک ترک تعلقات کے ستر برسوں کی بات چھیڑی تو یادوں نے ہجوم کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان یادوں کا تعلق ستر برسوں سے نہیں، بس دو چار برس پُرانی باتوں سے ہے جو رہ رہ کر یاد آتی ہیں۔

اُس روز استنبول کا سورج اور آبنائے باسفورس دونوں مزے میں تھے۔ کئی روز کی بوندا باندی اور بارش کے بعد موسم خوب نکھر چکا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں نے چراغاں پیلس کی بالکونی سے سمندر پر نگاہ ڈالی، پھر جانے میں کب نیچے اترا اور اُن سرسبز قطعات میں جاپہنچا جن کے بوڑھے، گھنے، پُروقار درختوں، منظم کیاریوں اور ان میں کھلے بے شمار پھولوں کو دیکھ کر اقبالؒ یاد آئے۔ مجھے لگا جیسے دل آویز پریوں اور اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہنوںوالا شعر انھوں نے یہیں کہیں بیٹھ کر کہا ہو گا۔

اسی عالم میں دن ڈھل گیا اور باسفورس کا پانی اندھیروں میں ڈوبنے لگا۔ یہاں تک کہ عبدالاکبر عثمانی عہد کی محرابوں کی اوٹ سے برآمد ہوئے اور کہا کہ استنبول کی چاندنی ہو، خنک ہوا سرسراتی ہو اور یہاں سے وہاں تک نقرئی قہقہوں کی موسیقی بکھری پڑی ہو تو ٹرکش کانی کے بغیر لطف نہیں آتا۔
’’۔ ۔ ۔ تو چلو کافی ہی ہو جائے‘‘۔

میں نے شامِ استنبول کے حسن میں ڈبکی لگاتے ہوئے کہا تو وہ کہنے لگے کہ اس شہر کی طویل سرد راتوں کے سفر میں صرف کافی ہی ساتھ نہیں دیتی، اس کی مدد سے فال بھی تو نکالی جاتی ہے۔
’’پھر یہ کام کون کرے ؟‘‘۔
میں سوال کیا، اس لمحے عبدالاکبر کی نگاہیں برآمدے کی طرف تھیں جس کے نیم روشن راستے سے چودھویں کا چاند طلوع ہو رہا تھا۔ یہ چاند عین ہمارے سروں پر آکر چمکا اور عبدالاکبر نے مسکراتے ہوئے تعارف کرایا:

’’مس ٹونا‘‘۔

مس ٹونا بڑی دلچسپ خاتون ہیں، ہر صبح مشرق کو مغرب سے ملاتی ہیں، (یعنی مشرقی استنبول سے شہر کے مغربی حصے میں آتی ہیں) کم عمر ہیں لیکن ان کے بانکپن میں وہ پختگی پائی جاتی ہے جو قدیم تہذیبوں کے جدید درودیوار سے بھی جھلکتی ہے۔

لوٹا گھما کے چور پکڑنے کے فن کی طرح کافی کی پیالی سے فال نکالنے کی حکمت بھی زیادہ سمجھ میں نہیں آتی لیکن مس ٹونا نے جب پرچ پیالی میں باقی رہ جانے والی تلچھٹ سے بننے والے نقش و نگارمیں سے زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتیں برآمد کرنی شروع کیں تو مجھے اپنے مرحوم دادا کی یاد آئی، اگر کسی کو سانپ، بچھو ڈس لیتے تو وہ خاموشی سے اپنی پگڑی اتار کر اُس پر بیٹھ جاتے، مریض منٹوں میں بھلا چنگا ہو جاتا۔
’’پاکستان اور ترکی کے درمیان میں پراسراریت بھی ایک قدرِ مشترک ہے‘‘۔

میں نے اس فن کار لڑکی کو دیکھ کر سوچا۔ ٹونا کافی کی پیالی ہاتھ میں لے کر سراس طرح جھکاتی کہ اس کے دمکتے ہوئے مکھڑے کی جگہ کالے سیاہ بالوں کا بھاری گچھا لے لیتا۔ اس منظر کو دوام بخشنے کے لیے میں نے لمحہ بھر کو آنکھیں موندیں تو سیاہ زلفیں سرسیدؒ و اقبالؒ کی چمکتی ہوئی اُس سرخ ٹوپی میں بدل گئیں، بوقت غور و فکر سرجھکانے پر جس کا پھندنا پیشانی پر آگرتا تھا۔ لیجئے، مس ٹونا کے ساتھ ایک اور رشتہ نکل آیا اور میں نے سوچا کہ پھندنے والی یہ ٹوپی جانے کن راستوں پر سفر کرتے ہوئے ارضِ روم سے پاک سرزمین تک پہنچی ہوگی۔ یہ راز اگلے روز کھلا جب ہم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مسجد پہنچے۔ حضرتؓ کی بارگاہ میں پہنچ کر بڑے بڑوں کی ٹوپیاں گر جاتی ہیں، کانوں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت گونجتی ہے اور نگاہوں میں اس قلعے کی فصیلیں آجاتی ہیں جن کے آس پاس میزبانِ رسالت مأب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپر دکی ہوگی۔ یہ خاکسار بھی حضرتؓ کے دریچے کے سامنے سرجھکائے ان مناظر میں کھویا ہو ا تھا کہ کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز گونجی:
’’ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ‘‘۔

باگاہ ِ رسا لت ﷺ میںباریابی کی سعادت رکھنے والے جلیل القدر بزرگ کے مرقدپرسنائی دینے والا یہ کلمہ مجھے ایک اور دنیا میں لے گیا جس سے اِس رشتے کے سارے اسرار و رموز، یہاں تک کہ ترکی ٹوپی کی اِس دیس سے اُس دیس میں آمد و رفت کے راستے بھی واضح ہوگئے۔ اس روز میں نے صحیح معنوں میں جانا کہ پیر رومی ؒ کو مرید ہندی کیسے میّسر آیا، خلافت کی شکست و ریخت سے ہندی مسلماں کی دنیا زیروزبر کیوں ہوتی رہی، پشاور کا فرزند عبدالرحمن چناں کلی کے دور درازمعرکے میں داد شجاعت دیتا ہوا کیسے پایا گیا اور پاکستان کے کوہ و دمن میں سیلاب کی قہرمانیوں سے جناب رجب طیب ایردوآن اور محترمہ ایمے نے ایردوآن کیوں تڑپ اٹھتے ہیں۔

زمانۂ قدیم کی کسی داستان میں عجب کہانی بیان ہوئی ہے۔ ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے، ہم شکل، ہم مزاج، زندہ دل اور خوش اطوار۔ جانے کیا حادثہ ہوا کہ ایک بیٹا مشرق میں جا پڑا، دوسرا مغرب میں، دوری سے ان کے دلوں میں باہمی محبت ختم تو کیا ہوتی، عشق کی طرح فروزاں ہوتی چلی گئی، لوگ انھیں دیکھتے تو کہتے:
’’ہیں ناں ایک ہی باپ کی اولاد!‘‘۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ پاکستان اور ترکی اسی باپ کے بچھڑے ہوئے بیٹے ہیں۔ ہمارے بزرگ بڑے زیرک تھے جنھوں نے بچھڑے ہوئے بچوں کو یوں یک جا کیا کہ اب یک جان دو قلب نظر آتے ہیں۔ یہ بھی قدرت کی مہربانی ہی ہے کہ نظریاتی افراط و تفریط کے اس کٹھن عہد میں یہ دو بھائی اعتدال کی نعمت سے مالا مال ہیں، قدیم و جدید کی انتہائوں میں راستہ بھول جانے والوں کے ہجوم میں بھی انھیں اپنا مقصد اور راستہ خوب یاد رہتا ہے۔ تشدد کے اس عہد نا پُرساں میں جب عقل کی کوئی بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی، یہ دونوں بھائی ہی تو ہیں جن کے دم سے امید کے دیے روشن ہیں۔

معاف کیجئے گا، یہ رشتہ محض ستر برسوں کی قدامت تک محدود نہیں۔ ان کی گہرائی ہزاروں ماہ و سال سے زیادہ گہری اور وسعت مستقبل کی وسعتوں سے زیادہ وسیع ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ بے لوث محبت کے دیے سے پھوٹنے والی روشنی کے نور سے پوری دنیا منور ہونے جا رہی ہے۔

شہروں کے شہر لاہور کے بیچوں بیچ اپنے اس گرم جوش رشتے کی جڑیں تلاش کرتے ہوئے آج میری سمجھ میں آیا ہے کہ ہوٹل چراغاں پیلس کی چکاچوندمیں اِس شہر کے میلہ چراغاں کی یاد مجھے کیوں آئی تھی؟

Comments are closed.

%d bloggers like this: