‘آخری سیڑھی’ : راکعہ رضا کی کتاب پہ سروش عالمگیر کا تبصرہ

1
  • 95
    Shares

یہ ایک امرِ واقعہ ہے کہ یہ صرف مصنف ہی نہیں ہے جو کہانی تخلیق کرتا ہے، بلکہ ہر کہانی خود اس مصنف کی تعمیر و تکمیل بھی کرتی ہے۔

‘آخری سیڑھی’ میں مصنفہ راکعہ رضا صاحبہ کے حوالے سے یہ حقیقت یوں کہیے کہ پوری آن بان کے ساتھ مشہود ہو جاتی ہے۔ میں یہ بات راکعہ کی شخصیت سے ذاتی واقفیت کی بنا پر بھی کہ سکتا ہوں، اور یہ اس کتاب کی ہر سطر سے بھی عیاں ہے کہ ان میں سے ہر کہانی اپنے اظہار میں ایک گزرتا لمحہ سہی، اپنے جوہر میں یہ سب راکعہ کے وجودی تسلسل کا حصّہ ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ یہ کہانیاں راکعہ پر بیتی ہیں، کیونکہ بیتنے کا عمل اور اس کا تجربہ (experience) زمانی یا temporal ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دوئی کی علامت بھی ہے؛ مگر سادہ الفاظ میں مجھے یوں کہہ لینے دیجۓ کہ یہ کہانیاں راکعہ کا تصوّراتی expression نہیں، وجودی exposure ہیں۔

نذیر انبالوی صاحب تشریف رکھتے ہیں ــــــ ذیادہ تر لوگ ان سے واقف ہیں ــــــ آپ نے اس کتاب کا دیباچہ بھی لکھا ہے؛ فرماتے ہیں کہ:

“راکعہ رضا کی کہانیوں میں ان کی فکر کبھی نورا موچی، نظریہ پروفیسر نسیم حیات، اور فلسفہ خالہ حمیداں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مصنفہ چونکہ خود ماہرِ نفسیات ہیں اس لئے ان کے تخلیق کردہ کرداروں، ان کے خدوخال، چال ڈھال اور بول چال میں نفسیاتی پہلو پر دسترس دکھائی دیتی ہے۔”

میں یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ ان میں سے ذیادہ تر کہانیاں مصنفہ نے نو عمری میں، ۱۵، ۱۶، ۱۷ سال کی عمر میں ترتیب دیں ــــــ تو ان کہانیوں کو کسی نفسیات دان نے نہیں لکھا؛ بلکہ یہ کہانیاں خود ایک ‘نمو پذیر’ نفسیات دان، ایک تجزیہ کار، ایک دانشور کی وجودی تعمیر اور احوال کے مختلف عناصر کی جھلکیاں ہیں۔

محترمہ راکعہ رضا کی کہانیوں میں کردار خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں؛ بلکہ اگر کچھ تنقیدی انداز میں یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان میں سے بہت سی کہانیاں انفرادی کرداروں کا ایک مجموعہ سا معلوم ہوتی ہیں، جنہیں ایک اسٹیج پر فقط اپنے اپنے اظہارِ رائے کے لئے جمع کر دیا گیا ہے۔ مجھے بہرحال مصنفہ کے اس دعوے سے بصد احترام اختلاف ہے (جو انہوں نے خود کلامی کے عنوان سے پیش لفظ میں کیا ہے) کہ انہوں نے اپنی کہانیوں میں کردار کی کردار سے بات کرائی ہے۔ ان کی کردار تخلیق کرنے کی صلاحیت یقیناً بہت قابلِ ستائش بھی ہے اور امید افزا بھی، مگر کردار کی کردار سے بات کا مطلب ان کا اپنی اپنی باری سے اظہارِ رائے نہیں ہوتا؛ بلکہ ایک جدلیاتی فضا میں ایک دوسرے پر شخصی تصرّف و تعامل بھی اس میں شامل رہتا ہے، خواہ وہ تعمیری ہو یا تخریبی، نفسیاتی ہو، احوالی ہو، یا اخلاقی ۔۔۔ کہ خدا نے اس کائنات کو ازواج کی صورت، یعنی complementing multiples میں پیدا کیا ہے، اور یہ complementary روابط کہیں موافقت کی حالت میں ہوتے ہیں اور کہیں تضاد یا مخالفت کے اصول پر تقویم پاتے ہیں۔ تاہم اِن کہانیوں کے کردار جس عملی لاتعلقی کی فضا میں ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اس میں ‘بات’ نہیں ہو سکتی، صرف اپنا اپنا انفرادی اظہار ہو سکتا ہے۔ ہمیں ان کرداروں میں واحد ربط یا تو فکری اور نظریاتی دکھائی دیتا ہے، یا پھر کچھ جگہوں پر جذبات اس لاتعلقی کا، اس separation of character، اس detachment کا کسی حد تک ازالہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ “انسانی تعلق” اپنے دائرہَ کلیت میں تو درکنار، اپنی مرکزی و بنیادی ساخت میں بھی جذباتی یا نظریاتی روابط سے کہیں زیادہ وسعت، گہرائی اور پیچیدگی رکھتا ہے، جہاں ان (مؤخرالذکر) کی حیثیت فقط ثانوی اجزا کی سی ہوتی ہے۔ کردار کے کردار سے بات کرنے کا حق تب ادا ہونا شروع ہوتا ہے جب ان کا آپسی تعلق ایک ‘زندہ’ تعلق ہو؛ یعنی اس تعلق کی خود اپنی ایک dynamic characteristic ہو ۔۔۔ کچھ یوں کہ وہ خود بھی ایک کردار میں ڈھلتا دکھائی دے ۔۔۔ خود اپنی ایک وجودی کیفیت رکھتا ہو۔۔۔ اور اس طرح کائنات کے علامتی اور transcendental flow کا ایک جزو بن جائے۔ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ ایسے کرداروں کے تہ در تہ رویے اور شخصی احوال و تعاملات اپنے بہاؤ کے ساتھ کہانی کو آگے لے کر چلیں اور بہت سی جگہوں پر جملے کی ضرورت کو مٹا دیں؛ یہ ہے “کردار” کا “کردار” سے بات کرنا جس میں تعلقات اور رویوں کی اہمیت اوّل ہے، مرکزی ہے، اور کلام کی ثانوی اور auxiliary ۔ مجھے لگتا ہے کہ راکعہ رضا صاحبہ کے ادبی ارتقا کی اگلی epoch اسی سمت میں ہوگی، بلکہ اگر آپ کو ان کے کچھ نئے افسانے پڑھنے کا موقع ملے (جو فی الوقت غیر مطبوعہ ہیں) تو آپ دیکھیں گے کہ وہ اس سمت میں پہلے ہی بہت سے سنگِ میل طے کر چکی ہیں؛ ۔۔۔ تو اس تنقید کا اطلاق ‘آخری سیڑھی’ پر تو ہو سکتا ہے، مگر خود مصنفہ پر اب نہیں ہوتا۔ ایک اور مقصد جو اس گفتگو سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جب آپ راکعہ رضا صاحبہ کے نئے افسانے پڑھیں تو ان کی تحریر میں آنے والی اس تبدیلی کو، ان کے اس ارتقا کو، پوری طرح appreciate کر سکیں۔ مزید ایک درخواست یہ بھی کہ تنقید کے پھیلاؤ سے کچھ غلط اندازے مت لگائیے گا؛ کہ راکعہ کی تصنیفات کی خامیاں وہاں سے شروع ہوتی ہیں جہاں دوسرے بہت سے جدید مصنفین کا نقطۂ کمال دھندلا چکتا ہے۔

خیر، بات دور نکل گئی؛ کہنا یہ تھا کہ چونکہ راکعہ کی کہانیوں میں کردار کی حیثیت مرکزی ہے، تو پہلے جو بات کہانیوں کے حوالے سے کی گئی ہے اس کا اطلاق کرداروں پر بھی ہو سکتا ہے؛ یعنی یہ کردار راکعہ کی ‘تخلیق’ نہیں ہیں بلکہ اُن (مصنفہ) کے اپنے احوال اور تعمیر کے مختلف عناصر کی علامات ہیں۔ نہ صرف یوسف علی، آصف اور مانو، بلکہ افتخارالدین صدیقی صاحب اور پروفیسر نسیم حیات صاحب یہ سب راکعہ کے اندر موجود ہیں؛ کچھ مکمل کچھ ادھورے اور کچھ ایک امکان یا خطرے کے طور پر ۔۔حتّٰی کہ وہ مندر بھی راکعہ کا اپنا ہے؛ ہمارے اندر بھی موجود ہے، مگر راکعہ نے اس کا سامنا کیا ہے اور خود کو خبردار کرنے کا نتیجہ ہے کہ ہم بھی اس آئینے میں اپنی شکل دیکھنے کے قابل ہوئے۔ جانے کیوں بیدل کا ایک مشہور شعر یاد آ گیا:

ستم است اگر ہوست کشد کہ بہ سیرِ سرو و سمن در آ
تو ز غنچہ کم ندمیدہ ای، درِ دل کشا بہ چمن در آ ۔۔۔!

تو دلچسپی کی بات یہ ہے کہ خود راکعہ بھی، بطور نفسیات دان، انسانوں کے کسی بھی ایسے داخلی اسٹرکچر، کیفیت یا تفاعُل سے انکاری ہیں جس کے امکانات کو اصولی طور پر ہر انسان اپنے اندر تلاش نہ کر سکتا ہو؛ یوں introspection ان کا خاص ہتھیار ہے، اور وہ بنیادی ذریعہ بھی جس سے ان کی داخلی کیفیات، جذبات، احساسات، خدشات اور ان سے جنم لینے والے خیالات، عزائم، تنبیہ و نصائح اور دیگر تعبیرات مختلف کرداروں میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں، اور مختلف سلبی و ایجابی زاویوں سے راکعہ کے تعمیری مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔

‘آخری سیڑھی’ کے مطالعے سے آشکار ہوتا ہے راکعہ نے بہت کم عمری میں یہ راز پا لیا تھا کہ نفسِ انسانی کا تزکیہ کسی مابعدالطبیعی کرامت کا ظہور نہیں ہے جو سنیاس میں یا زندگی کے عمومی معاملات سے بالا یکلخت وقوع پذیر ہو جائے، بلکہ یہ تو ایک طویل سفر کا نام ہے جس کی صراطِ مستقیم تک رسائی ان چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں سے گزر کر ہی ممکن ہے جنہیں اس کتاب میں موضوع بنایا گیا ہے؛ کہ ہمارے نفوس کا اخلاص زندگی کے معاملات سے گزر کر ہی ممکن ہوتا ہے ـــــــ یہی راکعہ کی ‘راہِ سلوک’ ہے جس میں کسی بابے کی کٹیا ہے نہ عشقِ مجازی کے سراب ۔۔۔ بس خدا سے ایک مسلسل اور زندہ تعلق ہے جو نفس کی پرتیں ایک ایک کر کے کھولتا چلا جاتا ہے۔ جو ایک طرف انسان کو دنیا سے تعلق توڑے بغیر transcendent کر دیتا ہے، تو دوسری طرف رنگ رنگ میں اس کی معاشرت میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔۔۔ اور یہ ایک مسلسل عمل ہے ۔۔۔ یعنی راکعہ کے ہاں حق کے متلاشی انسان کا اٹھتا ہر قدم ایک transcendence ہے جس میں بلندی ایک inclusion اور جذب (assimilation) کے ساتھ رونما ہوتی ہے، لاتعلقی کے ساتھ نہیں (اور یہی transcendence کی بنیادی تعریف بھی ہے) ۔۔۔ جس میں ظرف بڑا ہوتا جاتا ہے، تضادات مٹتے چلے جاتے ہیں، اور ایک درجے کے متضاد اگلے درجے میں ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ یہی ان کا تصوف ہے۔ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کے حصول کے رنگین خوابوں اور بابوں کے سحر میں گرفتار ادبی دور میں، ایسی کم عمری میں اسقدر پختہ سوچ ناقابلِ بیان حد تک تحسین کی حقدار ہے۔ ضرورت البتہ اب اس امر کی ہے کہ تزکیۂ نفس کے ان مراحل کا بیان کہیں کہیں خطاب کی صورت اختیار کرلینے کی بجائے کہانی میں یوں گُندھ جائے کہ قاری کو کہیں اپنی کم حیثیتی کا ایسا احساس نا ہو کہ گویا اسے کسی بلند استھان سے تنبیہ کی جا رہی ہے۔ نصیحت کی طاقت تاثیر بن جانے میں ہے، اور میری راۓ میں اگر راکعہ انسانی نفسیات اور اس کی شخصیت کے تعمیری اسباب کے بیان کو الفاظ سے پہلے ایک احساس بنا کر قاری میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ ایک ادبی معجزے کا ظہور ہوگا! ۔۔۔۔ جس کے دوسرے بہت سے مطلوب عناصر پہلے سے ہی ان کے ہاں موجود ہیں۔

بہر کیف، بظاہر انتہائی سادہ پیرائے میں تحریر کردہ کہانیوں پر مشتمل یہ کتاب در حقیقت ہمارے ادب میں موجود ایک پر ہول خلا کا کچھ ازالہ کرتی نظر آتی ہے۔ خود آگاہی کے قرینے اور سوچ کے اچھوتے زاویوں سے بھرپور ان کہانیوں سے یوں تو ہر عمر کا قاری بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے، مگر ۱۰ سے ۱۵ سال تک کے افراد کے لئے میں اس کتاب کا مطالعہ بالخصوص تجویز کروں گا۔

اس ضمن میں ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ راکعہ، جو کہ ایک آرٹسٹ بھی ہیں، ترقی پسند بنیادوں پر فن کی تحدید کی قائل نہیں؛ لہٰذہ ان کا تعمیری پہلووں پر مائل ہونا کسی جبر کے تحت نہیں ہے بلکہ ان کی اپنی طبیعت کا فطری اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحاریر میں ناصحانہ بیانا ت بھی ایک فطری بہاؤ رکھتے ہیں؛ اور نہ تو زبردستی قلمبند کیے معلوم ہوتے ہیں، نہ ہی طبیعت پر بار محسوس ہوتے ہیں۔ اور اہم تر یہ کہ ان کہانیوں میں جن لطافتوں کو، جن subtleties کو اجاگر کیا گیا ہے، ان تک ایسی رسائی اور ایسی شناسائی صرف ذاتی و تجرباتی ہو سکتی ہے۔ میری رائے میں اس کتاب میں موجود نظریات کی پیدائش افکار کی صورت میں نہیں، احساس کی سطح پر ہوئی ہے، جنہیں بعد میں نظریات اور الفاظ کا جامہ ابلاغ کی غرض سے پہنایا گیا ہے۔ بلکہ میں یہ بھی پورے تیقّن سے کہ سکتا ہوں کہ راکعہ کے لیے الفاظ تک رسائی نہ فطری ہے نہ سہل؛ ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں الفاظ اپنے مطلوب اظہار کے لیے کچھ متردِّد معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔ اپنی اس مشکل کا احساس شعور کی کسی نہ کسی سطح پر خود مصنفہ کو بھی ہے، جس کے زیرِ اثر وہ اکثر اپنے الفاظ سے مطمئن نہیں ہوتیں اور ان کے جملے مؤثر ابلاغ کی چاہ میں طویل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اس کو تنقید مت سمجھیے گا ۔۔۔ تنقید میں پہلے کر چکا ۔۔۔ یہ تو بڑی شخصیت کی پہچان ہے؛ ـــ بڑے آدمی کی نشانی ہے! ــــ کہ حقیقت اپنے سے قرب رکھنے والی شخصیت میں فکر نہیں، احساس کی صورت میں جھلکتی ہے۔ یہ بات بدیہی ہے کہ فکر ہمیشہ ملفوظ ہوتی ہے؛ خیال بغیر الفاظ ناممکن الحصول رہتا ہے، جبکہ احساس کا ظرف (locale) ہمارا وجود ہوتا ہے، ذہن نہیں، اور جس کا شعور کہیں ذیادہ پختہ اور مکمل، مگر ابلاغ اتنا ہی دشوار ہوتا ہے۔ تو جس شخصیت میں ایک عمودی اٹھان ہو اس کی شانِ وجود نظریات سے نہیں، احوال اور معرفت سے جِلا پاتی ہے۔ علم و عقل اور حکمت کے بیچ یہی امتیاز ہے۔ معرفت کا یہی سفر اپنے اگلے دور میں، خود شناسی کی وادیوں سے گزرتا جب قدرتِ کلام پیدا کرتا ہے تو یہ ایک حکیم, ایک عارف کا دنیا پر ظہور ہوتا ہے۔۔۔ یہ ہے وہ راکعہ رضا جس کی ایک ہلکی سی جھلک آپ اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں۔

مگر آسان نہیں ہے! ۔۔۔ بہت مشکل ہے صراطِ مستقیم کی جانب یہ سفر! ــــــ یہ راہِ سلوک جو کہ ‘اصل’ ہے!

جن لوگوں کا تصوف سے تعارف محض اشفاق احمد صاحب مرحوم، یا ممتاز مفتی صاحب، بانو قدسیہ صاحبہ، یا ہمارے کچھ pop writers کی تحاریر کے ذریعے ہوا ہے، ان کے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ اس رستے میں کس قدر کٹھنائیاں ہیں۔ بھئی ان کہانیوں کے سبھی کردار، اچھے ہوں یا برے، آخر ہماری ذات ہی کا حصّہ ہیں نا! کسی ایک کی فتح ہمارے اپنے وجود کے کسی دوسرے حصّے کی شکست ہوتی ہے۔ یہ ایک مسلسل مجاہدہ ہے ۔۔۔ ایک جنگ ہے جو سائل کے اندر جاری رہتی ہے۔ بہت مشکل ہوتا ہے اپنے ہاتھوں سے اپنے وجود پر نشتر چلانا، خود اپنے نفس کو زیر کرنا، اپنے مندر کو گرانا، خود اپنی داعیات پر بند باندھنا، اپنی ذات کے تقاضوں پر روک لگانا، یہاں تک کہ ہماری تمام جبلّتیں اور آرزوئیں ہمارے ارادوں کے تحت آ جائیں، اور ہمارے ارادے ایک رضا، ایک خوشی، بلکہ سرشاری کے ساتھ خدا کے ارادے اور رضا کے تابع ہو جائیں۔

راکعہ اسی راہ کی مسافر ہیں؛ رستے کھوجتی ۔۔۔ پگڈنڈیاں بناتی ۔۔۔ خود سے جنگ کرتی، اور پھر اپنے ہی ملبے سے ایک نئی شخصیت کی تعمیر کرتی ۔۔۔ اور پھر ان سب کے selfless بیان پر مائل۔ اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ راکعہ کا یہ سفر یوں ہی جاری رہے، حتّٰی کہ انہیں، اور ان سے متعلق سبھی لوگوں کو ان کا نقطۂ اوج نصیب ہو۔

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: