الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے: وجاہت مسعود کے جواب میں — عثمان گل

0

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں وجاہت مسعود صاحب لکھتے ہیں۔

“گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں چودہ کروڑ افراد پیدا ہوئے۔ انہوں نے طلبا یونین کی شکل نہیں دیکھی۔ یہ ضیا الحق کو مجاہد، بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک، نواز شریف کو بزنس مین، خورشید شاہ کو میٹر ریڈر اور اچکزئی کو غدار سمجھتے ہیں۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ اردو کے نصاب، تاریخ کی کتاب اور اسلامیات کے قاعدے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جغرافیہ اس نسل نے نہیں پڑھا۔ یہ نسل دانشور کو گالی اور کتاب کو وقت کا زیاں سمجھتی ہے۔ گلی گلی میں خوش خوراکی کے انوکھے انوکھے ٹھکانے دریافت کرتی ہے۔ پورے سال میں چند ہفتوں کی جبری پابندی چھوڑ کر شادیوں کا سیزن مناتی ہے۔ جگاڑ میں اس نسل نے درک پایا ہے۔ یہ نسل تبدیلی چاہتی ہے۔ نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے۔ چند سال پہلے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پلکوں میں جگہ دیتی تھی۔ اب عمران خان کے جاں نثاروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دو ٹوک نسل ہے۔ سوشل میڈیا میں کوئی بات پسند نہ آئے تو بلا تامل مخاطب کو صیغہ واحد میں دشنام لکھتی ہے، کبھی کھلی گالی دیتی ہے اور کبھی گالی کی عام فہم تشریح۔ یہ ایسی دوٹوک نوجوان نسل ہے جس کی سوج بوجھ کے مختلف حصے دو لخت ہی نہیں، ہزار پارہ ہیں۔ یہ نسل ریاست اور حکومت کا فرق نہیں جانتی، آئین اور قانون میں امتیاز نہیں کر سکتی، نیکی اور اخلاق میں تمیز نہیں کر سکتی۔ جرم اور گناہ میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق میں امتیاز روا نہیں رکھتی۔ لبرل اور سیکولر کا فرق نہیں جانتی۔ ہمہ وقت منہ پر ڈاٹھا بندھے، غیرت کی تلوار کھینچے، ایک پہیے پر موٹر سائیکل دوڑاتی ہے۔”

وجاہت مسعود صاحب بتانا پسند فرمائیں گے کہ جس نسل کو بد نسل ثابت کرنا چاہ رہے ہیں، اسکی تربیت اور انکو بچپن سے مناسب تعلیم و تربیت کا ماحول مہیا کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

جس نسل سے انکا تعلق ہے اسی نسل کی ذمہ داری تھی اس نوجوان اور جوان نسل کو بہتر انسان بنانے کی۔

جنابِ عالی! یہ نسل بری نہیں، یہ آپکی نسل کی کوتاہیوں کا ریکشن ہے۔ آپکی نسل کے گناہ کچھ کم نہیں ہیں۔ ان گناہوں کا کفارہ آپکی اولادیں چکا رہی ہیں۔

آپ جتنا مرضی برا کہہ لیں اس نسل کو، کم از کم یہ نسل آپ لوگوں کے دیئے گئے نظام و معاشرے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ سر پٹک پٹک کر کبھی نا کبھی یہ ریشم کا وہ سرا تلاش کر ہی لینگے، جس میں آپ کی نسل نے ہمیں الجھا دیا ہے۔

دہشتگردی، اقربا پروری، کلاشنکوف و ہیروئن، لولی لنگڑی جمہوریت، آمرانہ طرز حکومت، ناکافی انفراسٹرکچر، بیروزگاری ، رشوت وغیرہ وغیرہ۔ وہ کونسا عمل ہے جو آپکے نامہ اعمال میں سنہرے حروف میں لکھا جائے ؟؟؟

یک جنبشِ قلم آپ نے اس نوجوان و جوان نسل کو جانے کون کون سے القابات سے نواز دیا۔ لیکن یہ القابات وہ صبح سے شام اپنے گھروں میں سنتے آرہے ہیں۔ آپکی نسل کا مسئلہ ہے کہ نا تو آپ لوگوں نے ملک لے لیے کوئی پلاننگ کی، نا ہی اپنی آنے والی آئندہ نسلوں کے لئے۔ ڈگری ہاتھ میں پکڑے صبح سے شام دفتروں کے چکر لگاتا نوجوان شام کو آپکے ہی زمانے کے باپ سے نکما و ناکارہ کے طعنے سنتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ایک میٹرک فیل شخص آپ کا ہم نسل وزیر تعلیم ہے اور وہ ماسٹرز کی ڈگری لیے نوکری کے پیچھے مارا مارا پھرتا ہے۔ آخر اسکا قصور کیا ہے ؟ ایسے شدید ذہنی و معاشی دباؤ میں مبتلا جوان سے آپ توقع رکھتے ہیں کہ اسکے منہ سے پھول جھڑیں گے؟

آپکے زمانے ، آپکی نسل کا عالم اپنے مدرسے میں پڑھتے بچوں کو معاشرے کے باقی افراد سے نفرت کے علاوہ کچھ نہیں سکھاتا۔
آپکی نسل و زمانے کا استاد کلاس میں صحیح نہیں پڑھاتا تا کی ٹیوشن سے کما سکے۔
آپکے ہی زمانے کا ڈاکٹر ہسپتال میں زبان پر کانٹے لیے بیٹھا ہوتا ہے، اور شام کو پرائیویٹ کلینک میں چہرے پر مسکراہٹ لگا ماسک سجائے آجاتا ہے۔
آپکی پولیس چوروں کی ساتھی، آپکے زمانے کے حکمران چور، آپکے زمانے کے سارے اسمبلی ممبران وڈیرے و خان جو آج بھی غریب ہاری کو حق نہیں دیتا۔
آپکے ہی زمانے کے جج منتخب وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیتے ہیں، آپکے ہی زمانے کے جج جس جوان کو قتل کیس میں بری کرتے ہیں اس کی سالوں پہلے جیل میں موت ہو چکی ہوتی ہے۔ اور آپ ہم دے توقع رکھتے ہیں کہ ہمیں آئین و قانون کا فرق یاد ہو ؟

اگر یادداشت کمزور نا ہو تو ذرا بتائیے گا نظریہ ضرورت کس کی ایجاد تھا ؟
اگر یہ بھی یاد نا ہو تو یہ بتا دیجئے کہ غریبوں کے بچوں کو کس نسل نے جہاد کے نام پر استعمال کیا؟
چلیں سب چھوڑیں یہ بتائیں طلباء یونینز کے ذریعے آپکی نسل نے جوانوں کی فلاح کے لئے اگر کوئی قابل قدر کارنامہ سر انجام دیا ہو؟ سوائے سیاسی پارٹیوں کے پرتشدد گروپس بننے کے ؟؟؟

یہ ہے آپکی آسمان سے اتری نسل۔۔۔۔۔ جس کا پھل میری جوان نسل بھگت رہی ہے۔ جسے آپ بد نسل ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اس جوان نسل کو عقل و شعور دینا اور انکی تربیت کرنا آپکی نسل کا کام تھا۔ جہاں فنونِ لطیفہ کی نمائشوں کی جگہ سٹیج ڈانس منعقد ہوتے ہوں، جہاں آتش بازی کی جگہ روز بم دھماکے ہوتے ہوں، جہاں ظالم کو ناموسِ رسالت کی ردا میں چھپا کر ہیرو بنایا جاتا ہو، جہاں اربوں کا گھپلا کرنے والا کچھ لے کچھ دے کر با عزت گھر آجائے اور پرانی سے بائیک پر کالج جاتا جوان پولیس کو رشوت دیئے بنا اپنی واحد سواری لیجا نا سکتا ہو، جہاں کھیل کود کے میدان آپکی نسل کے سیٹھوں کے ہاتھوں پلازوں میں تبدیل ہو چکے ہوں وہاں جوان اپنی توانائی بائیک کا پہیا اٹھا کر ہی دکھائے گی ، اور جہاں تعلیم سے زیادہ نمبروں کی ریس ہو نا وہاں بچے سیکھتے نہیں، آپکی نسل کے بنائے گئے کورس کا رٹا لگا کر بس اگلی کلاس میں جانے کی ہی سعی کرتے نظر آئیں گے۔

محترم کہاں تک لکھوں کہاں تک سناؤں آپکے گناہوں کی داستانیں ؟؟؟؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: