طلاق کا بڑھتا ہوا خوفناک رجحان اور جدید زندگی ۔ زبیر جیلانی

0
  • 90
    Shares

ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے سات مہینوں کے دوران صرف راولپنڈی ضلع کی فیملی عدالتوں میں 3441 خواتین کے حق میں طلاق، حق مہر اور خرچہ کی ادائیگی کے فیصلے کئے گئے۔ اسی دوران فیملی عدالتوں میں 7000 نئے مقدمات بھی دائر کئے گئے۔ موجودہ ڈیٹا کے مطابق طلاق کی شرح میں %22 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر شادیاں ایک سال بھی پورا نہیں کر پا رہیں، زیادہ کیسز فیملی سے باہر شادی کرنے والوں اور پسند کی شادی کرنے والوں کے ہیں۔

مشرقی معاشرہ ہمیشہ سے خود ساختہ رسومات میں جکڑا رہا ہے، طلاق کی وجوہات سمجھنے سے پہلے آپ شادی کا سسٹم ملاحظہ کیجئے۔ اس سسٹم کے تحت شادی دو لوگوں میں نہیں بلکہ دو خاندانوں میں ہوتی ہے۔ دو لوگوں میں انڈراسٹینڈنگ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے مگر دو خاندانوں میں انڈراسٹینڈنگ (اسٹیٹس، ذات پات، ناک کا مسئلہ اور لوگ کیا کہیں گے) کافیTime Taking ٹائم ٹیکنگ پراجیکٹ ہوتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں یہی ہوتا ہے کہ شادی کے بعد خاندانی سیاست، چالاک مشیر، اور بک جھک کی وجہ سے لڑکی ایڈجسٹ نہیں کر پاتی، الگ رہنے کا مطالبہ کرتی ہے تو طلاق نامہ جاری کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ الگ رہنا ہر لڑکی کا حق ہے، یہ اس کی مہربانی اور بڑا پن ہے کہ وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہ لیتی ہے۔ اگر اب بھی اس روایت کو قایم رکھنا ہے تو بصد شوق کہ اس کے فوائد اور برکات اپنی جگہہ، مگر اس کے لئے ہمارے بڑوں کو بھی ’بڑا‘ ہونا پڑے گا، بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ فیشن، خوراک اور تفریح سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں تو جدیدیت کو شوق سے اختیار کیا جائے اور جب بات رشتوں اور نئی نسل کے طرز زندگی کی ہو تو ’روایت‘ کو مقدس بنا لیا جائے۔ اب ایسا ہونا تقریبا ناممکن ہو چلا ہے۔

پسند کی شادی ہر انسان کا بنیادی حق اور مذہب کی رو سے نکاح کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کی شادی کافی مشکل سے ہوتی ہے، دوسری طرف شادی کے بعد، دونوں جانب سے توقعات وہی رکھی جاتی ہیں جو شادی سے پہلے چاند ستارے توڑ کر لانے کے دعوؤں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔

طلاق کی سینکڑوں دیگر وجوہات بھی ہیں، جن میں ذہنیت کا آپس میں نہ ملنا، شوہر کا روک ٹوک اور شکی مزاج رویہ، بیوی کا سرکشی اور لاپروائی والا رویہ، جنسی معاملات میں ایک دوسرے کا خیال نہ رکھنا وغیرہ وغیرہ۔

روز بروز طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ معاملہ اب “بزرگوں” کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے، ویسے بھی الگ ہو کر بزرگوں کو تو یہ جوڑے عملاََ الگ کرہی چکے ہوتے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ سماجی سطح پر ہر محلے میں ’کونسلنگ‘ کے ادارے قائم کئے جائیں۔ ان تربیتی یا مشاورتی اداروں میں بغیر معاوضے کے شادی سے پہلے اور شادی کے بعد لڑکا لڑکی کو جدید دور کے مطابق ذہنی طور پر ’ٹرین‘ کیا جائے، جس کے لئے مختلف کورسز کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ طلاق کا کوئی بھی کیس فیملی کورٹ میں جانے سے پہلے اس کونسلنگ ادارے کے پاس جائے جس کے ذریعے کئی گھر ٹوٹنے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ جدید زندگی کے ادارہ جاتی رنگ کو آخر انسان کے سب سے قیمتی تعلق کی بقا کے لئے کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ کیا ہم نے یہ طے کررکھا ہے کہ مغرب سے صرف وہ چیزیں لینی ہیں جو ہمارے نفس کو خوش آئیں؟ ہم نے جدید دنیا سے مثبت روایات لینا آخر کیوں ممنوع کررکھا ہے؟

زندگی کا رنگ بہت خوبصورت ہے اسے اپنی ضد، انا اور منفی تسکین کے لئے ماند نہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: