پتی ورتا: شاہین کاظمی

0
  • 163
    Shares

میری ماں عجیب سی تھی آدھی سے زیادہ زندگی رسوئی میں گزار کر پتی ورتا ہونے کا ثبوت دیتے دیتے ایک دن اِس نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں ۔ روز کھانا پروس کر وہ اپنے پتی کی چہرے پر اُگنے والے تاثرات میں محبت کا کوئی بھولا بھٹکا پرکاش کھوجنے کی کوشش کرتی لیکن وہاں جامد سناٹے کے سِوا کچھ نہ پا کر خاموشی سے برتن سمیٹ کر کُھر ے میں گِھسنے بیٹھ جاتی اور باپو اپنا پوّا بغل میں دبائے اندھیرے میں جاگتی گلیوں کا رخ کرتا۔ میں گو بہت چھوٹی تھی لیکن باپو کے تیور اور ماں کے آنسو دونوں نظر آتے میں نے اتنی چھوٹی عمر میں ہی تہیہ کر لیا تھا کہ مجھے ماں جیسی نہیں بننا لیکن پھر ایک دن ماں اپنے ہاتھ کا سارا ذائقہ مجھے سونپ کر خود چتا پر جا سوئی اور نہ چاہنے کے باوجود جس دن میں نے پہلی بار موہن کو کھانا پروسا تو مجھے لگا وہ کھانے کے ساتھ انگلیاں بھی کاٹ کھائے گا کھانا کھاکر اُس نے ایک اُچٹتی نظر مجھ پر ڈالی۔
” تیرے ہاتھوں میں غضب کا سواد ہے۔“
اُس کا ہاتھ میری کمر پر رینگ آیا۔
”کیا اِس کا بھی مجھ سے صرف بھوک کا رشتہ ہےـ“
مجھے بے اختیار ماں یاد آگئی ستائش اور چاہے جانے کی تمنا میں گھلتی۔ ۔۔۔رسوئی میں ہلکان ہوتی ہوئی۔ـ
مجھے موہن سے نفرت نہیں تو محبت بھی نہیں تھی عجیب ٹھس سا آدمی تھا کھانے اور پیسے کے علاوہ اُس کا کوئی اور شوق نہ تھا نوٹوں کو دیکھتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں اُتر آنے والی چمک سے مجھے شدید چڑ تھی لیکن اس کے باوجود میں اُس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی ۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی رسوئی سے رشتہ جوڑ لیا۔ سسرال بھر میں میرے کھانوں کی تعریف کرتا فرمائش کرکے کھانے بنوائے جاتے اور جی بھر کر سراہا جاتا لیکن مجال ہے موہن کے منہ سے تعریف کے نام پر کبھی کوئی ایک شبد بھی پھوٹا ہو، میں تو شاید اُس کی دوکان میں پڑے کپڑے کے تھان سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی لیکن نہیں کپڑے کے تھان بھی اُس کی نظر میں اہم تھے میں تو بس نرک جھونکنے کا سامان تھی چاہے تن کا ہو یا من کا۔
دھرتی سوکھے کی زدمیں ہو تو مٹی چٹخنے لگتی ہے سب کھنڈر ہونے لگتا ہے میں بھی ایک بانجھ دھرتی تھی جسے سوکھا مار گیا تھا۔۔ دراڑوں میں جانے کونسے آسیب اُتر آئے تھے کہ میری آتما بلبلا کر بین کرنے لگتی ایسے میں میرا جی چاہتا موہن کا خون پی جاؤں کبھی ماں کو کوسنے دینے پر اُتر آتی جس نے بنا دیکھے بھالے مجھے پندرہ سال بڑے موہن کے پلے باندھ دیا تھا وہ اِس کے بڑے سے گھر اور پیسے کی ریل پیل پر ریجھ گئی تھی۔

ماں مجھے اکثر کہا کرتی کہ میں ناشکری ہوں گلہ میری زبان کی نوک پر دھرا رہتا ہے۔
”کیا میں واقعی نا شکری ہوں؟ “
”جو ملا نہیں اس پر شکر کیسا؟“
لیکن ماں کو میری یہ منطق سمجھ نہیں آتی تھیوہ ہر حال میں مجھے اپنے جیسا دیکھنا چاہتی تھی گھٹ گھٹ کر جیتے ہوئے لیکن مجھے یہ لمس کی زندگی منظور نہ تھی۔
اُس دن دیور جی کو بنی سنوری دیورانی کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر میں دروازے کی اوٹ میں ہو گئی اوپر جاتی سیڑھیوں پر دونوں ہاتھ ٹکائے دیور جی اس کے چہرے پر جھکے ہوئے تھے دیورانی کے چہرے پر محبت اور ممتا کا انوکھا تال میل دیکھ کر وہ مجھے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگی۔۔کہیں اندر نارسائی کا گہرا کرب سانپ کی طرح پھنکارنے لگا سونی کوکھ جلنے لگی تھی اس دن پہلی بارمجھے موہن سے نفرت محسوس ہوئی لیکن وہ تو شروع سے ہی ایسا تھابے حس اور خود غرض۔ ۔۔ اسے غرض تھی تو بھی محض اپنی بھوک سے۔ میں بھی ـ”رادھیکا کھانا۔۔۔۔۔ رادھیکا رات بھیگ گئی ہے اب آبھی جاؤ“ سن سن کر اوبھ گئی تھی، میں اسے کیوں نظر نہیں آتی تھی؟ کبھی کبھی میرا من کرتا اسے کسی دن جھنجھوڑ کر پوچھوں:
”آخرمیں تمہیں کیوں نظر نہیں آتی؟“
لیکن میں جانتی تھی پتھر سے سر ٹکرائیں تو اپنا ہی ماتھا پھوٹتا ہے سو یہی ہوا۔
” ڈرامے کم دیکھا کرو“
اُس کی آوازمیں تلخی تھی۔
” کاروبار بھی تو دیکھنا ہوتا ہے اور پھر ہماری کون سا نئی نئی شادی ہے یہ چونچلے نئے نویلوں پر اچھے لگتے ہیں“
”نئے نویلے ہونے پر تم نے کونسا پہاڑ چوٹ لیا تھا۔“
میں کڑواہٹ نہ چھپا سکی۔
”تم جانتی ہو مجھے زبان چلاتی عورتیں نہیں پسند“
وہ جھنجھلا گیا۔
میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن یہ بھی خبر تھی وہ کبھی میری بات نہیں سمجھے گا۔
”کیا میں کچھ زیادہ کا مطالبہ کر رہی تھی؟“
اندر سوکھا بڑھا تو مٹی بھُرنے لگی۔ تیز ہواؤں کا شور ڈرانے لگاتھا۔۔۔ اس گرداب میں میرے پاؤں اکھڑ نے لگے۔ اپنی بے مائیگی اور بانجھ پن کا احساس بڑھ گیا۔۔۔ ساتھ ہی رسوئی میں گزرتا وقت اور موہن کی نفرت بھی۔۔۔ وہ اب بھی ویسا ہی تھا۔۔۔ کٹھور، بے حس اور وہی اس کا تیزی سے بے ہنگم بڑھتا ہوا جسم۔
میں نے دیسی گھی میں تر بتر حلوے کی پلیٹ اُس کی طرف بڑھائی تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
”تم بنا لاتی ہو اور میں نہ نہیں کر سکتا جب کہ ڈاکٹروں نے سختی سے چکنا منع کیا ہے وہ کیا کہتے ہیں خون میں گھی زیادہ ہو گیا ہے نا۔“
اس نے ہلکا سا منہ بنایا اور پلیٹ پکڑلی۔
”ڈاکٹروں کا کیا ہے اپنی دوکان بھی تو چلانی ہے انھیں۔“ میں اُس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اور سوچ رہی تھی صبح دودھ والے سے مزید پانچ کلو شدھ گھی منگوا ہی لوں۔

Comments are closed.

%d bloggers like this: