کنسنٹریشن کیمپ —- شاہین کاظمی

0
  • 64
    Shares

محترمہ شاہین کاظمی کا شاہکار افسانہ ’کنسنٹریشن کیمپ‘، میانمار کے موجودہ حالات کے پس منظر میں Relevance کے پیش نظر بروقت معلوم ہو رہا ہے۔ دانش کے قارئین کے لئے خاص۔


”درد مذہب ہے۔۔۔ ایسا مذہب جو منکرین کے باعث پنپتا اور پھلتا پھولتا ہے۔ یہ بات عجیب اور خلافِ فطرت سہی لیکن حقیقت یہی ہے۔ تم سب خوش قسمت ہو جو اِس مذہب میں داخل کیے گئے کیونکہ آنے والا زمانہ منکرین پر نفرین بھیجے گا۔ یہ یاد رکھنا درد آخری درجے پر پہنچ جائے تو طاقت بن جاتا ہے۔ اِس طاقت کو اوڑھ لو، تمہیں اِس کی ضرورت پڑنے والی ہے۔“
مائیکل آسائیو
سولہ جنوری انیس سو چوالیس

……….

آج کا دن بھی عام سا دن تھا۔۔۔ سرد سرمئی اور اداس کردینے والا۔ لیکن اُداسی کا لفظ شاید میں نے غلط کہا، اِس جگہ اداسی کا تو تصوربھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سب اداسی کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ احساسات کا تعلق تو روح سے ہوتا ہے اور جب روح مرجائے تو احساسات بھی مر جاتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ہذیان بک رہا ہوں۔۔۔ بھلا روح بھی کبھی مرسکتی ہے۔۔۔ مگر روح بھی مر جاتی ہے۔۔۔ اور بدن کو ہی اپنا مدفن بنالیتی ہے۔۔۔ اندر اُگا یہ قبرستان انسان کو ہر احساس سے عاری کردیتا ہے جیسے ہم میں سے اکثر ہوچکے ہیں۔ احساسات اُس وقت تک اہم ہوتے ہیں جب تک اُمید سے رشتہ قائم ہے کہ اُمید زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔ اس کی تمام تر خوبصورتیوں کی طرف اُن راحتوں کی طرف۔ جن کا تصور بھی میرے لیے محال ہے یا کم از کم اب محال ہے۔ میری نظریں اُس دروازے پر گڑی ہوئی ہیں۔ بھاری بوٹوں کی ٹھوکر سے کھلنے والا یہ دروازہ ہم میں سے کتنوں کو زندگی سے کاٹ کر اُس راستے پر ڈال دیتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔
میں جانتا ہوں چند لمحوں کا کھیل باقی ہے۔ اصل میں کھیل ہوتا ہی چند لمحوں کا ہے۔ چند فیصلہ کُن لمحوں کا۔۔۔ جو ہماری بقا یا فنا کا فیصلہ سناتے ہیں۔ میرے اِرد گرد ٹھنڈے ٹھار فرش پر جانے کس انتظار میں بیٹھے ہوئے یہ لوگ بھی تو لمحوں کے ہی اسیر ہیں۔ فرق ہے تو بس اتنا کہ انھوں نے خود کو لمحوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔ مجھے معلوم ہے بعض اوقات نہیں اکثر زندگی آپ کو انتخاب کا موقع نہیں دیتی۔ اور اِن کی چٹخی ہوئی ہڈیوں پر منڈھی ہوئی سوکھے چمڑے جیسی کھال اُس پر لگے بیسوں سرخ اور سیاہ پڑتے دھبے آنکھوں سے ٹپکتی وحشت اِس بات کی گواہ ہے کہ زندگی نے اپنا انتخاب اِن پر ٹھونسا ہے۔
میری نظر پھر سے اُس بوسیدہ کاغذ پر پڑی۔
”وہ کون ہے؟“ سوالوں کی بوچھاڑ کے ساتھ مجھے زبر دستی سٹرالائزیشن کے عمل سے گزار کر باپ بننے کی خوشی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا گیا بلکہ شاید میرے اندر سے اُس حس کو ہی مکمل طور پر کھرچ دیا گیا۔ و ہ مجھ سے نہ جانے کیا اگلوانا چاہتے تھے۔ بھاری بوٹوں کی آہنی نوکیں میری پسلیوں اور کمر سے ٹکرا رہی تھیں۔ میں اپنی چیخیں نہ دبا سکا۔ پہلی چیخ ابھرنے پر لمبے گرم کوٹوں پر ٹنگے چہروں پر ابھرنے والا تبسم جب ہنسی میں ڈھلا تو مجھے میری غلطی کا احساس ہوگیا لیکن دیر ہو چکی تھی۔ پاس کھڑے اور کوٹ بھی اِس کھیل میں شریک ہوگئے۔ پھر روز یہ کھیل کھیلا جانے لگا۔ میں جانتا تھا جس دن میری چیخیں رکیں گی میری سانسیں بھی روک دی جائیں گی۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ میںکب تک یہ کھیل جاری رکھ پاؤں گا؟
کب تک؟
کارول یلدوف
دو فروری انیس سو چوالیس
………..
”میں اس دھاری دار دنیا سے تنگ آچکا ہوں۔ یہاں ہم انسان نہیں دھاری دھار یونیفارم پر لگی کپڑے کی اُلٹی رنگین تکونیں ہیں۔ کوئی سرخ تکون کوئی سبز اور کوئی پیلی بازو کمر کے طرف لے جاکر پتھریلے ستونوں سے موت کے انتظار میں بندھے وجود مجھے ڈراتے ہیں۔ میں اُن کی طرف نہیں دیکھ سکتا لیکن مجھے گھنٹوں وہاں کھڑا رہ کر انھیں دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔۔۔ میں اس اذیت کدے میں نہیں رہ سکتا۔۔۔ مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔ لیکن کیسے؟ میرے پاس تو کوئی دوسرا انتخاب ہے ہی نہیں۔۔۔ ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔۔۔ شاید کوئی دوسرا انتخاب ہوتا بھی نہیں ہے۔۔۔ اگر کوئی اور انتخاب ہوتا تو میں نہایت آسانی سے سرخ فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرسکتا تھا، لیکن میری مرضی پوچھی کس نے؟ بس ٹھونس دی گئی انتخاب کا موقع دئیے بغیر۔۔۔۔۔۔ ٹو ہیل ود۔۔۔۔۔۔۔“
دیت میر اینا نوف
آٹھ مارچ انیس سو چوالیس
……..
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے ابھی تک اُمید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ وہ ہر روز کھڑکی سے طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے ہیں تو مرتی ہوئی روح کی سانسیں بحال ہوجاتی ہیں۔ بُلند دیواروں کے اُس پار بھی زندگی اپنا حسن کھو رہی ہے۔ جنگ نے اس کے چہرے سے خوبصورتی نوچ کر خوف و ہراس اور انمٹ درد رقم کردیا ہے۔۔۔ طاقت کے نشے میں دھت یہ لوگ ہم جیسے انسانوں کو اس جنگ کا ایندھن بنائے ہوئے ہیں جب کہ جنگ اور امن۔۔۔ دو الگ الگ دنیاؤں کی باتیں ہیں۔۔۔ جہازوں کی گھن گرج اور توپوں کی گڑ گڑاہٹ زندگی سے ساری لطافت نچوڑ کر اسے ایک ایسے پھوک میں بدل دیتی ہے جس کا مقدر فقط گلیوں میں رُلنا رہ جاتا ہے۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اُمید کے در پر ماتھا ٹیکے ہوئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اُمید پالنا غلط ہے، لیکن زندگی میں کچھ مقام ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں اُمید موت سے بدتر ہوتی ہے۔ میں جب اس قید خانے میں آیا تھایا یوں کہیے کہ جب مجھے یہاں لایا گیا تو چند گھنٹوں کے بعد ہی مجھے احساس ہوگیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔
اُس دن جب پہلا گروپ میرے سامنے اُس بڑے آہنی دروازے کی طرف لے جایا گیا تو میں کچھ نہیں سمجھ پایا۔ میری آنکھوں میں تجسس حیرت اور کرب تھا۔ اُن میں سے بیشتر کو زندہ کہنا بھی زندگی کی توہین تھی۔ ہڈیوں پر منڈھا چمڑا۔۔۔ اس پر بے تحاشا سرخ اور کالے پڑتے گھاؤ۔۔۔ بھوک کی شدت سے پسلیوں میں گھسے ہوئے پیٹ۔۔۔ اندر کو دھنسے گال۔۔۔ ہاں! اگر کچھ تھا تو وہ آنکھیں تھیں جو ان کی اندرونی کیفیات کی کہانی سنا رہی تھیں۔ تب ہی وہ لمبا سا بھاری بھرکم شخص میرے سامنے سے گزرا۔۔۔ اُس کے جسم پر وہی مخصوص دھاری دار لباس تھا جس پر جابجا سیاہ پڑتے خون کے دھبے نمایاں تھے۔ وہ اچانک لڑکھڑایا اور میرے سامنے ڈھیر ہوگیا۔ غیر ا رادی طور پر میرا ہاتھ اس کی طرف بڑھا۔ اِس سے پہلے کہ کوئی للکار ہمیں روکتی، اُس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹکرایا۔ مجھے اپنی ہتھیلی پر کچھ محسوس ہوا۔ مٹھی اپنے آپ بھینچ گئی اورمیں تیزی سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ سیاہ بھاری پوری طاقت سے اُس کی پسلیوں سے ٹکرا رہے تھے۔ لمبا تڑنگا بدن درد کی شدت سے دوہرا ہونے لگا۔
” مارچ آن“ لمبے کوٹ پر ٹنگے کرخت چہرے کے منہ سے دھاڑ نما آواز بر آمد ہوئی۔
اُس کے کوٹ کے بازو پر مڑے ہوئے کراس کا سرخ نشان تھا۔
”یس سر۔“ وہ وہیں لیٹے لیٹے چلایا ”آئی وانٹ بٹ کین نوٹ“ آوازمیں دردکی شدت نمایاں تھی۔
” نو آرگیومنٹ“ کرخت چہرہ پھر سے کف اڑانے لگا۔ تین بھاری بوٹوں کی آہنی نوکیں اُس کی پسلیوں میں چھید کر رہی تھیں۔ اُس نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن نہیں اُٹھ سکا۔
”ہالٹ“ کی آواز کے ساتھ لُوگر کی تیز تڑ تڑاہٹ اُبھری اور سرد پتھریلا فرش گرم خون سے سرخ ہونے لگا۔ میرا ہاتھ آہستگی سے جیب میں رینگ گیا۔ اِس کے ساتھ ہی ڈبل مارچ کا حکم جاری ہوا۔ نحیف بدن پوری طاقت صرف کر کے دم توڑتے وجود پر قدم رکھتے ہوئے مارچ میں جت گئے۔
وہ ایک تہہ شدہ بوسیدہ کاغذ تھا۔ کھڑکی سے در آنے والی مدہم روشنی میں مختلف لکھائیوں میں لکھے گئے الفاظ نمایاں ہونے لگے۔
”دھان کے سنہری خوشوں کو چھو کر آتی ہوا جب اُس کے بالوں کو چھوتی ہے تو دنیا ایک دم حسین لگنے لگتی ہے۔ دریتا کی گہری نیلی آنکھیں میری ہر راہ پر مشعل کی طرح روشن اور میرا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ میں جانتا ہوں مجھے جلد یا بدیر اِس آہنی گیٹ کے اُس پار جانا ہوگا، لیکن میں خائف نہیں ہوں۔۔۔ میں موت سے خائف نہیں ہوں۔۔۔ موت ہر روز میرے ہمراہ ہوتی ہے۔۔۔ اس کا ہر روپ دل دہلا دیتا ہے۔۔۔ اس کیمپ میں اگر کچھ آسانی سے مل جاتا ہے تو وہ موت ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی قدم پر سفید دستانے والے ہاتھ میں دبی چھڑی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں تھمادیتی ہے۔۔۔ کہ آپ زندگی کے قیدی ہیں یا موت کے۔۔۔۔۔ پرانی مال گاڑی میں جانوروں کی طرح ٹھسے ہوئے لوگ جب یہاں لائے گئے تو دایاں بائیں دو راستے تھے۔۔۔ روزِ محشر سے پہلے حشر بپا تھا۔۔۔ اعمال نامہ دیکھے بغیر راستوں کا تعین کرکے مقدر پر مہر لگائی جارہی تھی۔۔۔۔ دائیں جانب والا راستہ موت کا اور بایاں۔۔۔۔۔ بایاں بھی جاتا تو موت کو ہی تھا، لیکن کچھ انتظار کے بعد۔۔۔۔۔۔ دائیں راستے پر معصوم فرشتوں جیسے بچے۔۔۔ جنہیں زبردستی ان کی ماؤں کی گود سے نوچ لیا گیا تھا اور بوڑھے۔۔۔ تھکے قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے زندگی سے دور ہورہے تھے۔۔۔ مجھے بائیں طرف والے راستے پر ڈالا گیا۔۔۔ شاید زندگی کو کچھ اور امتحان مقصود ہے۔۔۔۔ مگر میں خائف نہیں ہوں۔۔۔ کیا میں واقعی خائف نہیں ہوں؟“
نینات کوزمانووچ
گیارہ مارچ انیس سو چوالیس
……..
”جنگ کب مسائل کا حل ہوتی ہے؟ یہ بات ایک کم عقل بھی جانتا ہے۔ لیکن طاقت کا نشہ حواس چھین کر انسانوں کو درجوں میں بانٹ دیتا ہے اور انسان خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ وقت شاہد ہے انسان بے شک ترقی کی تمام تر منازل طے کرلے مگر اس کے اندر کا وحشی کبھی نہیں مرتا۔ وہ کسی بھی حال میں مکمل طور پر نابود نہیں ہوپاتا۔ موقع پاتے ہی غالب آکر کھل کھیلنے لگتا ہے “Untermenschen” (سب ہیومن) اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اپنے جیسے جیتے جاگتے انسانوں کو انسان سمجھنے سے انکار کردینا۔۔۔ اِسے کیا کہا جائے؟ اُس بائیس سالہ نوجوان کو پچھلے تین دن سے محض ایک ٹی شرٹ میں ننگے پاؤں برف پر کھڑا گیا گیا تھا۔ آج اُس کا اکڑا ہوا بدن دیکھ کر مجھے سمجھ آگئی “Untermenschen” کون ہیں؟“
ایکیم لیون
دس نومبر انیس سو چوالیس
……
اِس بوسیدہ کاغذ پر کئی تصاویر بھی بنائی گئی تھیں۔ درد کی داستان سناتی لہو رنگ لکیریںوہ جو کبھی انسان رہے ہوں گے، آج اِن اونچی دیواروں کے اندر کسی ویران کونے میں سرد زمین کا حصہ بنا دیئے گئے۔ میری نظریں اس کاغذ کی دوسری طرف لکھی چند سطروں پر گڑ گئیں۔
”میں یہاں لائی گئی تو میری کوکھ میں پلتا میرا بچہ اِس بے رحم دنیا میں آنے کو بے تاب تھا۔ دسمبر کی اُس سرد رات جب باقی دنیا”او ہولی نائیٹ“ گانے میں مصروف تھی۔ وہ اِس دنیا میں چلی آئی۔ک2

Fall on your knees O hear the angels voices.
O night divine O night when Christ was born
O night divine, O night, O night divine.
ٓ

فرشتوں کی آوازیں مجھ تک نہیں پہنچ سکیں
نہ میری آواز میں اتنی سکت تھی کہ وہ عر ش چھو سکتی۔۔۔۔ دائیں طرف والا دروازہ عبور کرتے وقت میں اپنے پانچ سالہ بچے کی انگلی تھامے ہوئے تھا کہ اس کرخت آواز نے میرے قدم روک لیے۔
”تم ایک بچہ اندر لے جا سکتی ہو۔“
میں بات نہیں سمجھ سکی۔۔۔ وہ پھر چلایا” ایک صرف ایک “
” ایک ہی تو ہے۔“
”یہ۔۔۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی میرے ابھرے ہوئے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبائی۔۔۔ یا یہ۔۔۔۔“ اس کا اشارہ میرے بیٹے کی طرف تھا۔۔۔ ” انتخاب کا حق تمہیں دیا“ وہ خباثت سے ہنسا اور میرے بیٹے کو زبردستی میرے پہلو سے نوچ لیا۔

Led by the light of Faith serenely beaming,
With glowing hearts by His cradle we stand.
So led by light of a star sweetly gleaming,
Here came the wise men from Orient land.
The King of Kings lay thus in lowly manger;
In all our trials born to be our friend.

میرے لیے آنے والا کوئی اور تھا۔ اِس نے اس ننھے وجود کو مجھ سے الگ کیا۔ صرف یہ جاننے کے لیے کہ ایک نوزائیدہ بچہ کھائے پیئے بغیر کتنے دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔

Truly He taught us to love one another;
His law is love and His gospel is peace.
Chains shall He break for the slave is our brother;
And in His name all oppression shall cease.
Sweet hymns of joy in grateful chorus raise we,
Let all within us praise His holy name.

چار دن گزر گئے۔ مجھے اُسے صرف گود میں لینے کی اجازت تھی۔ اُس مقامی لیڈی ڈاکٹر ہائیدی شنائیدر نے اُس ننھے سے نڈھال وجود کو مجھے سونپتے ہوئے میرا ہاتھ کپڑے میں لپٹی کسی چیز پر رکھا۔

He knows our need, to our weakness is no stranger,
Behold your King! Before Him lowly bend!

میری نگاہوںمیں سوال تھا۔
” میں سنبھال لوں گی بس اتنا ہی کر سکتی ہوں اِس کی تکلیف کم کر دو۔“ اُس کی نیلی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
میں وہ انجکشن ہاتھ میں لیے سوچتی رہی لیکن اتنا وقت نہ تھا، سو خاموشی سے اُسے اپنی بیٹی کے ننھے بازو میں اتار دیا۔۔۔۔۔۔“
”کیا میری بیٹی مجھے معاف کر پائے گی؟۔۔۔۔۔۔۔“
ایرینا الیگزینڈر
نو جنوری انیس سو پنتالیس

بلا تخصیص ہر روہنگیا بدن میں اترتے تیز دھار چھرے گواہ ہیں۔۔۔۔۔۔ نروان صرف بدھا کا نصیب تھا۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں اس سرزمین سے تہذیب نے جنم لیا۔۔۔۔۔۔۔ آج اُسی تہذیب کے اعلیٰ معیار کے دعوی دار۔۔۔ اِسی سر زمین پر خون کی آبیاری کرتے ہوئے سروں کی فصل کاشت کررہے ہیں۔۔۔ خائف نہیں ہیں۔۔۔…….

اِس نیم تاریک کمرے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھے ہوئے یہ لوگ اِسی طرح بے حسی سے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہے تھے، یہاں ہمیں غسل کے لیے لایا گیا تھا۔۔۔ اچانک ہی وہ دبلا پتلا نوجوان چلانے لگا، اُس کے ننگے بدن پر سرخ دھاریاں نمودار ہوئیں۔ وہ اپنے جسم کو بے تحاشا کھجا رہا تھا۔ شاید وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو وقت کی چال کو وقت سے پہلے بھانپ لیتے ہیں۔ اُس کی آنکھیں مجھے باہر اُبلتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ اُن سے خون پھوٹ رہا تھا۔ وہ بری طرح چلاتے ہوئے بند دروازے کی طرف لپکا، لیکن دو قدم چل کر ہی ڈھیر ہو گیا۔ اُس کا بدن تشنج کا شکار تھا۔ مجھے بھی اپنی سانسیں سینے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ میری جلد جلنے لگی۔ پھیپھڑوں میں جیسے آگ بھر گئی تھی۔ باقی سب بھی دیوانہ وار کھانس رہے تھے۔۔۔ قے کرتے ہوئے۔۔۔ جلتی آنکھوں کو نوچتے ہوئے۔ اپنے ہی بدن سے خارج ہونے والی غلاظتوں میں لوٹتے ہوئے۔۔۔ چٹخی ہوئی جلد سے پھوٹتے خون کو چاٹتے ہوئے، ایک ایک سانس کے لیے لڑتے اور ہارتے ہوئے۔۔۔

موت ایک ایسابھیانک تجربہ ہے جس سے سب کو گزرنا پڑتا ہے۔۔۔ و ہ جو اپنی طبعی عمر پوری کرکے آسودگی کے ساتھ آ نکھیں موند لیتے ہیں۔۔۔ وہ بھی جنہیں قبل از وقت اس تجربے سے زبردستی گزرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی جو دوسروں کے لیے موت کاشت کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک نہ دن ایک انھیں بھی یہ فصل کاٹنی ہوگی۔۔۔۔ میں نے آخری بار اِس کاغذ کو دیکھنا چاہا، لیکن میری نظریں دھندلا گئیں۔ مجھے بھی اِس درد صحیفے میں اپنے حصے کا باب رقم کرنا تھا، لیکن میںنے نہیں کیا۔۔۔ میں جانتا ہوں ہر مذہب کے صحیفے ہر زمانے میں تحریف کا شکار ہوتے رہے ہیں، یہ بھی ہوگا۔۔۔ وقت نوحے ضرور لکھے گا، لیکن وہ بے اثر ہوں گے۔۔۔ وقت دیکھے گا کل کسی اور زمین پر بارود بویا جارہا ہوگا۔۔۔۔ سروں کی فصل کاشت ہوگی۔۔۔۔۔۔ کل عذاب رُتوں کی داستانیں کہنے والے کوئی اور ہوں گے۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر بھی۔۔۔ میں نے کاغذ کو تین ٹکڑوں میں بانٹا اور سانسیں ٹوٹنے سے پہلے ہر ٹکڑا نگل لیا۔۔۔۔۔۔ مجھے اِس صحیفے کو اپنے ساتھ ہی دفنانا تھا، کسی روشن صبح کی اُمید میں۔۔۔ کاش۔۔۔ اے کاش۔۔۔ آنے والے کل کوئی اور منظر دکھلائے۔۔۔ لیکن میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں درد وہ مذہب ہے جو اپنی اساس نہیں بدلتا۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔

”میرا ہاتھ اس بوسیدہ ادھڑی ہوئی دیوار سے ٹکرایا تو یکایک جیسے میری ریڑھ کی ہڈی میں ٹھنڈک اُتر آئی، وہ جگہ بہت عجیب سی تھی۔ آبادی میں ہونے کے باوجود آبادی سے الگ تھلگ۔۔۔ کچھ کہتی ہوئی، کچھ بتاتی ہوئی۔۔۔ ایک پر اسرار سے سکوت میں تہہ در تہہ لپٹی ہوئی۔۔۔ اُس کی ویرانی اور خاموشی اعصاب شکن تھی۔۔۔۔۔۔ درو دیوار سے پھوٹتی مبہم سرگوشیاں۔۔۔۔۔۔ آہیں، چیخیں اور سسکیاں میرے کان جھنجھنانے لگے۔۔۔ اچانک مجھے یوںلگا جیسے کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اِس لمحے میں دھکیل دیا ہو۔ منظر واضح ہونے لگا۔۔۔ آگ کے الاؤ کے گرد تھرکتے، گاتے شراب کے نشے میں دھت لمبے کوٹوں میں ملبوس ہیولے۔۔۔ کچی سر د زمین میں کمر تک گڑ ا ہوا وہ لاغر بدن جو بھاری بوٹوں کی زد میں تھا۔۔۔۔۔۔ قہقہے، گھٹی گھٹی چیخیں۔۔۔۔۔۔ منظر بدلتا ہے۔۔۔۔۔۔ قیدیوں کے جسم کے نازک ترین حصوں سے بندھی مخالف سمتوں میں تنی ہوئی ڈوریاں۔۔۔۔۔۔ اور وہی قہقہے۔۔۔۔۔۔ دنیا ترقی کرچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اسپتال کی اِس پرانی عمارت سے ٹپکتی منحوس اداسی، سنگ ِ مرمر کی بڑی سی میز نما سِل پر اَن دیکھے خون کے دھبے، لیبارٹری ریٹس کی جگہ استعمال ہونے والے کٹے پھٹے انسانی وجود۔۔۔۔۔۔ منظر پھر بدلتا ہے۔۔۔۔۔۔ بلا تخصیص ہر روہنگیا بدن میں اترتے تیز دھار چھرے گواہ ہیں۔۔۔۔۔۔ نروان صرف بدھا کا نصیب تھا۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں اس سرزمین سے تہذیب نے جنم لیا۔۔۔۔۔۔۔ آج اُسی تہذیب کے اعلیٰ معیار کے دعوی دار۔۔۔ اِسی سر زمین پر خون کی آبیاری کرتے ہوئے سروں کی فصل کاشت کررہے ہیں۔۔۔ خائف نہیں ہیں۔۔۔ خائف نہیں ہوتے۔۔۔۔ بے بسی کے حلق میں اُترتی انسانی غلاظتیں۔۔۔۔۔ انسان چاند چھو آیا ہے۔۔۔۔ کارپٹیڈ بمباری کی زد میں آئے ننھے ننھے وجود۔۔۔ مریخ پر کمند ڈالی جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ عقیدتوں کے سیاہ چولے میں مردہ عقیدے تعفن چھوڑ رہے ہیں۔
بھاری بوٹوں کی دھمک سے لرزتے درو دیوار۔۔۔ دل سینوں میں خون ہونے لگے۔۔۔ درد مذہب کی اَساس کیوں نہیں بدلتی؟۔۔۔ سیاہ ٹوٹے ہوئے پتھروں والا یہ ویران راستہ۔۔۔ اِس پر اٹکھیلیاں کرتے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے کیمروںکے سامنے کھڑے لوگ۔۔۔۔ کیا انھیں اِس راستے پر وہ پیر نظر نہیں آتے۔۔۔ پھٹے پرانے بوسیدہ بوٹوں میں دھنسے ہوئے پیر۔۔۔ نیلے پڑتے ہوئے۔۔۔ مڑی ہوئی انگلیوں والے۔۔۔۔ اپنے پیچھے لہو کی موٹی لکیر چھوڑتے ہوئے۔۔۔۔ لڑکھڑاتے، گھسٹتے ہوئے کچھ پوچھتے۔۔۔۔ سوال کرتے ہوئے۔۔۔۔ کہاں کہاں دیکھا جائے۔۔۔۔ یہ راستے تودنیا کے ہر خطے میں ہیں۔۔۔۔ ہر طرف نکلتے ہیں۔۔۔۔ ہر طرف۔۔۔۔ جہاں پیر فریادی ہیں۔۔۔۔ دجلہ و فرات کی وادی۔۔۔۔ میڑو پولیٹن شہروں میں۔۔۔۔ سکائی ریپرز کے درمیان۔۔۔۔ تنگ و تاریک پنجروں تک جہاں ہڈیاں خم کھاجاتی ہیں۔۔۔۔ قندہاری اناروں کے باغات۔۔۔۔ دیوارِ گریہ۔۔۔۔ اجنتا ایلورا کے غار۔۔۔۔ سیف الملوک۔۔۔۔ وہ پیر پوچھتے ہیں سوال کرتے ہیں۔۔۔۔

”ہم نے تو دنیا کو بہتر بنانے کے لیے اس درد مذہب کو چنا تھا، انگاروں پر چلنا منظور کیا۔ ہڈیوں سے ماس الگ ہونے پر کراہیں چپ چاپ اندر اتاریں۔ گمنامی کی موت قبول کی لیکن کیا ہوا؟ درد مذہب کا صحیفہ ضخیم تر کیوں ہوتا جارہا ہے؟ محبت کے رسول کہاں گئے؟ اس کنسنٹریشن کیمپ کی دیواریں پوری دنیا کے گرد کیوں پھیل گئیں؟ کوئی بتلائے کیا جواب دوں انھیں؟“

SONGWRITERS
ADAM, ADOLPHE

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: