پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی عالمی سازش؟

0
  • 106
    Shares

فیس بک پر ایک تحریر نظر سے گزری جو مبینہ طور پر فیس بک کی ایک مشہور معقولیت پسند مذہبی شخصیت کی دیوار سے نقل شدہ تھی۔ تحریر کچھ یوں تھی:

“کیا یہ ایک اتفاق ہی ھے کہ چھ ممالک [جرمنی ،کنیڈا ، امریکہ، فرانس ، انڈیا ،برطانیہ] کے جو سفیر عراق کی تباہی کے وقت بغداد میں تعینات تھے ، وھی لیبیا کی تباہی کے وقت طرابلس میں اور شام کی تباہی کے وقت دمشق میں تعینات تھے ، ان پانچ ممالک کے وھی سفیر آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد میں تعینات ہیں ؟

امید ھے کہ الباکستانی کسی قسم کی ،شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، لسانی یا صوبائی تعصب کی واردات کا شکار نہیں ھونگے ، یہی وہ جال لے کر شکاری آ پہنچے ہیں جنہوں نے شام میں شیعہ سنی فساد کا کھیل رچایا ، عراق میں بھی شیعہ سنی کا دانہ ڈالا ، لیبیا میں قبائلی تعصب کو بھڑکایا گیا ـ یہ چھ کے چھ مسلم دنیا کی کمزوریوں سے خوب آگاہ ہیں اور اپنے پتے کھیلنا خوب جانتے ہیں ـ ھم میں سے ہی کچھ لوگ چنے جائیں گے اور گھناونا کھیل کھیلا جائے گا ، کسی بھی واقعے میں ملزمان کے مذھب کو لے کر کبھی بھی پوری کمیونٹی کے خلاف اٹھ کھڑے ھونے کے نعروں کو پہلے مرحلے پر ھی شٹ اپ کہنے کی ضرورت ھے !”

ہم چونکہ بوجوہ  مذکورہ عالم صاحب سمیت اکثر جغادری دانشوروں اور علماء کی پوسٹیں براہ راست دیکھنے سے محروم رہتے ہیں اس لیے ان کا پروفائل ڈھونڈ کر تصدیق کی یہ پوسٹ واقعی انہی کی ہے۔ پوسٹ کوئی چھ سو مرتبہ “لائک” اور ڈھائی سو مرتبہ “شیئر” کی جا چکی تھی۔ اس کے علاوہ یقیناً کئی لوگوں نے اپنی دیواروں پر نقل بھی کی ہوگی۔

مذکورہ سفیروں کے متعلق مزید جاننے کیلئے متعلقہ ممالک کی سرکاری ویب سائٹس کا رخ کیا تو خاصی مایوسی ہوئی کیونکہ اس پوسٹ میں کیے گئے دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ انٹرنیٹ کے سرسری جائزے سے دستیاب ہونے والی معلومات کی روشنی میں ان چھ ممالک کے سفیروں کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

1۔ اسلام آباد میں اس وقت امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل (David Hale) ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے سے قبل وہ لبنان میں امریکی سفیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اس سے قبل وہ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے امریکہ کے خصوصی مندوب اور نائب مندوب رہے۔ 2005 سے 2008 تک وہ اردن میں امریکی سفیر تھے۔ انہوں نے مختلف حیثیتوں میں سعودی عرب، تیونس، بحرین اور اقوام متحدہ میں بھی کام کیا ہے اور واشنگٹن میں اسرائیل، فلسطین امور کے شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ تاہم ان کے عراق یا لیبیا میں تعینات رہنے کا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا۔

ڈیوڈ ہیل کا پروفائل دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

2۔ برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو (Thomas Drew) ہیں۔ 2006 سے 2008ء تک وہ پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کے ساتھ بطور پولیٹیکل کونسلر تعینات تھے۔ اس کے بعد وہ برطانیہ لوٹ گئے جہاں 2016ء تک وزارت داخلہ اور دفتر خارجہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ 2016ء میں انہیں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر مقرر کیا گیا۔ ان کے بھی عراق یا لیبا میں متعین رہنے کا کوئی ذکر نہیں ملا۔

تھامس ڈریو کا پروفائل یہاں دیکھیے۔

3۔ جرمن سفیر مارٹن کابلر (Martin Kobler) ہیں۔ یہ واقعی عراق اور لیبیا دونوں میں تعینات رہے ہیں۔

4۔ فرانسیسی سفیر مسز مارٹین ڈورینس (Martine Dorrance) ہیں۔ انہوں نے ہندوستان، انڈونیشیا، ایران، برازیل اور ملائیشیا میں مختلف حیثیتوں میں فرانس کی نمائندگی کی ہے تاہم عراق یا لیبیا میں کبھی بھی متعین نہیں رہی ہیں۔

مسز مارٹین ڈورینس کا پروفائل یہاں کلک کرکے دیکھیے۔

5۔ کنیڈین ہائی کشمنر پیری جوہن کیلڈروڈ (Perry John Calderwood) ہیں۔ ان کے کیریئر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

6۔ ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے (Gautam Bambawale) ہیں۔ انہوں نے مختلف حیثیتوں میں جرمنی، امریکہ، چین اور بھوٹان میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔ یہ بھی کبھی عراق یا لیبیا میں تعینات نہیں رہے۔

ان کا پروفائل یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ فالٹ لائنز کے حوالے سے عالم صاحب کے خدشات بجا اور نیت نیک ہی سہی، ان کی معلومات بظاہر  نادرست، دعوے گمراہ کن اور پوسٹ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مذہبی فرقہ واریت اور علاقائی و لسانی تنازعات کی وسیع بنیادیں موجود ہیں جن سے کوئی بے وقوف دشمن ہی فائدہ نہیں اٹھانا چاہے گا۔ تاہم یہ جھگڑے پیچیدہ تاریخی و سیاسی عوامل کے تحت وجود میں آئے جن کی صرف سازشی تھیوریوں کے ذریعے وضاحت ایک سہل پسندانہ اور خطرناک رویہ ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ پوسٹ سے اسی رویے کو تقویت ملتی ہے۔

لطف یہ ہے کہ مذکورہ عالم صاحب بزعم خویش اور معتقدین کی نظر میں ایک “باغی” اور معقولیت پسند عالم ہیں۔ انہوں نے روایت پرستی اور روایات کے خلاف باقاعدہ جہاد شروع کر رکھا ہے اور عنقریب کسی دن تحقیق  کی اہمیت و ضرورت اجاگر کرتے اور غیر ذمہ داری کی مذمت کرتے پائے جائیں گے۔ تاہم غالبا خود وہ سنی سنائی بات آگے پھیلا دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔

پس تحریر:

تحریر شائع کرنے کیلئے جمع کروانے پر مدیر محترم سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخصیت نے کوئی وضاحت جاری کی ہے۔ ان کا پروفائل دیکھنے پر یہ نیم وضاحتی نیم طنزیہ نوٹ نظر آیا جو غالبا کسی کے اعتراض کے جواب میں لکھا گیا ہے:

“امریکی سفیر دراصل ایک سیاسی شخص ہوتا ہے، ڈپٹی سفیر سب کچھ ہے آپ ذرا اس کی معلومات کھنگالیں، یہی حال باقی ایمبیسیز کا بھی ہے، اس وقت ان پانچ ممالک کے سینئر موسٹ افسر ایسے ہیں جو لیبیا عراق شام وغیرہ میں رہ کر آئے ہیں. لوگوں کی معلومات ادھوری ہیں، مجھے اصل میں سفارتکار لکھنا چاہئے تھا”

1۔ ٰیہ دعویٰ کہ امریکی سفیر ‘سیاسی شخص ہوتا ہے’ قطعی طور پر غلط ہے۔ ڈیوڈ ہیل کیریئر ڈپلومیٹ ہیں نہ کہ سیاسی شخصیت۔ ان کے پیشرو رچرڈ اوسلون بھی کیریئر ڈپلومیٹ تھے۔ دراصل پاکستان میں امریکہ کے آخری سیاسی سفیر جوزف فارلینڈ تھے جو 30 اپریل 1972 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

پاکستان میں امریکی سفراء کی مکمل فہرست یہاں ملاحظہ کیجئے۔

2۔ یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ امریکی ڈپٹی سفیر عراق، لیبیا یا شام میں رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ڈپٹی چیف آف مشن ڈیوڈ پراٹ ہیں۔ انہوں نے کانگو، سودان، انگولا، گنی بساؤ، اردن وغیرہ میں خدمات سرانجام دی ہیں۔

ڈیوڈ پراٹ کا پروفائل یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

3۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر رچرڈ کراؤڈر ہیں۔ وہ بھی عراق، لیبیا یا شام میں متعین نہیں رہے۔

رچرڈ کراؤڈر کا پروفائل یہاں دیکھیے۔ مزید تفصیلات ان کے لنکڈان پروفائل پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

4. جرمنی کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈاکٹر جینس جوکش ہیں۔ وہ 2009 سے 2011 تک وہ شام میں ضرور موجود تھے لیکن عراق یا لیبیا میں نہیں۔

ڈاکٹر جینس جوکش کا پروفائل یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔

فوری طور پر انہی تین ممالک کے ‘ڈپٹی سفیروں’ یا سینیر سفارت کاروں کی معلومات دستیاب ہیں جو عالم صاحب موضوف کے دعوے کی تردید کیلئے کافی ہیں۔ خدا معلوم ان کی معلومات کا سورس کیا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں تبھی دوسروں کو ‘معلومات کھنگالنے’ کا کہہ رہے ہیں۔ اگر ملک کے خلاف اتنی خطرناک سازش ہورہی ہے اور ان کے پاس اسکی معلومات موجود ہیں تو انہیں وہ پیش کردینی چاہیے۔ تاہم معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محض کسی کی بات سن کر تحریر لکھ دی جسے پبلکلی واپس لینے میں انہیں تامل ہورہا ہے۔ البتہ غلطی مان لینے کے فضائل پر وعظ امید ہے وہ کسی دن بلا تامل ارشاد فرمائیں گے۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: