’’نینا مورے‘‘ اور کچھ یادیں: ایک تاثر —- خرم سہیل

0

برصغیر پاک و ہند میں اُستاد بڑے غلام علی خان کا طوطی بولتا تھا۔ کلاسیکی موسیقی میں انہیں وہ شہرت نصیب ہوئی، جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔ وہ قصور پٹیالہ گھرانے کے ایسے فن کار تھے، جن کے مداحوں میں عام سامعین سے لے کر حکمرانوں تک سب ہی شامل ہوا کرتے تھے، معروف بھارتی سیاستدان اور سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے کون واقف نہیں، وہ بھی ان کے احترام میں پیچھے چلتے تھے۔ ایسی قدردانی کم فنکاروں کو نصیب ہوئی۔ کلاسیکی موسیقی کے راستے پر، وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کے لیے مشعل راہ بھی، جس کی چاندنی میں سُر چمکتے دمکتے، نکھرتے اور بکھرتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد ایسی ہی شہرت پاکستان میں کسی کو نصیب ہوئی، تو وہ استاد نصرت فتح علی خان ہیں، جنہوں نے ایک دنیا کو اپنی گائیکی سے فتح کیا۔

ان دونوں شخصیات کی یاد ایک ساتھ اس لیے آئی کہ حال ہی میں کوک اسٹوڈیو سیزن 10 کی چوتھی قسط میں ایک پیشکش ’’نیناں مورے‘‘ کے نام سے تخلیق کی گئی ہے، اس میں دونوں عظیم شخصیات کے کام کو یکجا کیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ خوش قسمتی سے اس تخلیقی کاوش میں، پیش کاروں نے حق بھی ادا کر دیا، ورنہ کوک اسٹوڈیو میں کچھ عرصہ سے، جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اس تخلیقی پیشکش میں جاوید بشیر اور ان کے بھائی اکبر علی نے انتہائی خوبصورتی سے اس امتزاج کو نبھایا ہے۔ اکبر علی نے استاد بڑے غلام علی خان کی ٹھمری ’’نیناں مورے‘‘ کو جدید موسیقی کے آہنگ میں گایا ہے، جبکہ جاوید بشیر نے اپنے روحانی استاد نصرت فتح علی خان کی ایک دُھن’’من اٹکیابے پرواہ دے نال‘‘ کی حقیقی عکاسی کی ہے۔ ہمیشہ کی طرح وہ اس کوشش میں کامیاب دکھائی دیے ہیں۔ راحت فتح علی خان کو اس بات سے ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے، کیسے ایک گلوکار، جس نے کبھی استاد نصرت فتح علی خان سے تربیت نہیں لی، مگر وہ ان کی گائیکی سے اتنا قریب ہے، جبکہ دوسری طرف راحت فتح علی خان، دن بدن اس تربیت کے اثرات سے باہر نکلتے جا رہے ہیں، اسی سیزن میں ان کا گایا ہوا گانا’’سیونی‘‘ ایک مثال ہے۔ جاوید بشیر کی وجہ شہرت استاد نصرت فتح علی خان کی گائیکی سے نسبت اور میکال حسن بینڈ کے ذریعے صوفی شاعر شاہ حسین کے کلام کو اپنی گائیکی میں سمونے کی ہے، اس تخلیقی کاوش میںد ونوں چیزیں پھر سے یکجا ہوگئیں۔

معروف گٹارسٹ عامر ذکی کا کوک اسٹوڈیو میں، یہ آخری فنی معرکہ تھا، وہ اس میں بھی پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ گل محمد نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے سارنگی نواز ہیں، انہوں نے بھی اپنے فن کی پروز کو اور بلند کیا ہے۔ بغیر کسی شک وشبے کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سیزن کا یہ سب سے بہتر میوزک اسکور ہے، جس کو سن کر یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے، وہ گلوکاروں اورموسیقاروں کو خود ہی کرنا ہوگا، پروڈیوسرز اور میوزک ڈائریکٹرز کچھ نہیں کریں گے، کیونکہ اس ٹھمری اور قوالی کے امتزاج کا تجربہ اچھا ہوا ہے، تو اس کی وجہ یہ فنکار ہیں، جن کا یہ اپناذاتی رنگ ہے، جو اس میں بھی نمایاں ہے۔ کوک اسٹوڈیو کی انوویشن اور تخلیقی اُپج دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے، روحیل حیات والی تخلیقی بلندی کا تناسب گر رہا ہے، یہ بات موجودہ میوزک پروڈیوسرز بلال مقصود اور فیصل کپاڈیہ کو سوچنا ہوگی، کیونکہ کوک اسٹوڈیو کی تاحال مقبولیت، ایک مہلت کی طرح ہے اور مہلت کب ختم ہو جائے، کون جانے۔

اس تخلیقی کاوش کو سن کر کچھ یادیں عود آئیں، جن کو آپ سے بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ میرا بحیثیت طالب علم جامعہ کراچی میں داخلہ اور موسیقی کی دنیا میں میکال حسن بینڈ سے شناسائی ساتھ ساتھ ہوئی، یہ 12سال پہلے کی بات ہے۔ میکال حسن سے تو بہت عرصے بعد جاکر ذاتی تعلق بنا، مگر جاوید بھائی سے تو دوستی بہت جلدی ہوگئی تھی، شاید ان کی اور میرے مزاج کی مٹی ایک جیسی تھی۔ عملی صحافت سے وابستگی کے بعد، جب میں نے پہلی مرتبہ ان سے انٹرویو کیا تو وہ اس قدر گفتگو میں مگن ہوئے، اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میں ان سے پہلی بار مخاطب ہوں، اپنے والد کو یاد کرکے متعدد بار، ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ گئیں۔ کوک اسٹودیو کے سیزن 2 میں جب انہوں نے استاد نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا ایک گیت’’ہجے لتھا نہیں اوں اکھیاں دا چا‘‘ گایا تو میں نے ان کو فون کرکے کہا، یہ گیت آپ کو ایک ہزار سال تک زندہ رکھے گا۔ اسی طرح جب میری کتاب ’’سُرمایا‘‘ شایع ہوئی تو انہوں نے مجھے، موسیقی سے میری پیشہ ورانہ وابستگی، ریاضت اور لگن کی وجہ سے آدھے گائیک کا خطاب دیا۔ ان کے بھائی اکبر علی سے بھی انہی کے ذریعے سے واقفیت ہوئی۔ آج 8 سال بعد جاوید بھائی نے ایک بار پھر اسی توانائی کے ساتھ، اپنے روحانی استاد اور پسندیدہ صوفی شاعر کی نمائندگی کی ہے، تو اس بار میں نے ان کو فون کرنے کی بجائے یہ تحریر لکھ دی ہے۔

عامر ذکی کی رحلت کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا، ان کی یادیں میں بیان کرتا رہتا ہوں۔ اس سیزن میں، ان کی زندگی کا، وہ آخری منظر ہے، جس میں انہوں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کر رہے ہیں۔ روایتی موسیقی کے ساتھ، جدید ساز و آہنگ کس طرح ہونا چاہیے، وہ انہوں نے کر کے دکھایا ہے۔ اسے سن کرمجھے وہ اداس شامیں اور بے نور صبحیں یاد آرہی ہیں، جن میں عامربھائی اور میں محو گفتگو ہوا کرتے تھے۔ گل محمد سے شناسائی کو زیادہ وقت نہیں ہوا، کم گو اور کم عمرہونے کے باوجود، جب وہ سارنگی پر اپنی انگلیوں کا جادو جگاتا ہے تو احساسات کی زبان بولنے لگتا ہے، اس کی سارنگی میں سب سے زوردار تاثر وہ سوز ہے، جس میں ان کہی باتوں کا بیان ہے۔ اس گیت نے شاہ حسین کی یادکے ساتھ ساتھ، استاد بڑے غلام علی خان اور استادنصرت فتح علی خان کالہجہ بھی یاد دلوا دیا۔

عامر ذکی اور جاوید بشیر کے ساتھ گزارے دنوں کی یادیں، سنہری روشنی بن کر میرے ماضی میں دمکتی ہیں اور میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں، ان ہنرمندوں کے ساتھ، مجھ ناچیز نے کچھ وقت گزارا ہے، جب جب بھی اس طرح کی کوئی تخلیقی کاوش سماعت کرتا ہوں، تو وقت میری انگلی پکڑ کر مجھے وہیں لے جاتا ہے، جہاں ہم بیٹھے ایک دوسرے سے مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جاوید بھائی اپنے والد کی یادوں میں، بہت دور نکل جاتے ہیں، حتیٰ کہ بہت سارے آنسو بھی ان کا راستہ نہیں روک پاتے اور دوسری طرف عامر ذکی، جنہوں نے اپنا ایک سیلف پورٹریٹ مجھے دے دیا، جوکسی مداح لڑکی نے بنا کر انہیں دیا تھا، مجھے شاید اس لیے دے دیا ہوگا تاکہ ایک حسین یاد اور پرچھائی کو میں محفوظ رکھ سکوں، جس طرح اس گیت میں انہوں نے دل کے کسی نہاں خانے سے اٹھنے والی ہوک کو محفوظ کر دیا، ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: