یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو: طاہر عمیر

0
  • 18
    Shares

ناظرین! آج ہم موجود ہیں اپنے علاقے کے معروف سیاستدان اور ایم این اے جناب حاجی غلام رسول صاحب کے گھر۔۔ اور ہم یہاں اس لئے ہیں کیونکہ ہمیں خبر ملی ہے کہ حاجی صاحب نے قربانی کے لئے جانور خرید لیا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے اس بار انہوں نے قربانی کے لئے جو جانور خریدا ہے وہ نہ تو بکرا ہے نہ گائے نہ اونٹ۔۔۔ بلکہ یہ کوئی “عوام” نام کا جانور ہے۔ اس لئے یہاں سارے ملک کا میڈیا موجود ہے۔ اور ہم یہ پتہ چلانے آئے ہیں کہ یہ کیسا جانور ہے اور حاجی صاحب نے اسے ہی کیوں منتخب کیا ہے۔
آئیے پہلے آپ کو یہ دکھاتے ہیں کہ عوام نامی یہ جانور دکھتا کیسا ہے۔۔ یہ دیکھئے۔۔ یہ جو مجہول سا گھٹڑی نما وجود پڑا ہے یہ عوام ہے۔ یہ دو پایہ ہے۔۔ ویسے تو بہت بولتا تھا لیکن چونکہ زیادہ تر یہ فضول بولتا تھا اسلئے اب یہ بہت کم بولتا ہے حتی کہ اب تو اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر بھی نہیں بولتا۔ بس ہر وقت سر نیہواڑے اپنے اوپر افسوس کرتا رہتا ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔
چلئے حاجی صاحب سے اس بارے میں مزید پوچھتے ہیں
حاجی صاحب! یہ بتائیے کہ یہ آپ نے کتنے میں خریدا ہے؟
حاجی صاحب: بس جی دو نالیاں پکی کروائی تھیں۔۔۔ تین ہزار روپیہ دیا تھا اور ایک سرکاری نوکری کا وعدہ۔
اینکر: واو پھر تو کافی سستے پیکج میں مل گیا یہ۔
حاجی صاحب: نہیں اتنا بھی سستا نہیں۔ یہ تو بڑی عید (جنرل الیکشن) کی وجہ سے ریٹ اس نے بڑھا دیا ہے۔۔ چھوٹی عید (ضمنی الیکشن) وغیرہ پر تو اس سے بھی سستا مل جاتا ہے
اینکر: یہ کھاتا پیتا کیا ہے؟
حاجی صاحب: یہ کھانے کا شوقین تو بہت ہے لیکن کھانے میں اس کو کچھ خاص مرغوب نہیں ہے۔۔ لکڑ پتھر سب ہضم ہے۔۔ملاوٹ زدہ کھانوں سے لے کر۔۔ ہماری ٹھوکریں، گالیاں، دھکے، سب کچھ کھا پی لیتا ہے اور افف تک نہیں کرتا۔۔ پینے کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جوہڑ سے لے کر سیوریج تک کا گندہ پانی بھی پینے کو دو تو چپ چاپ پی لیتا ہے۔
اینکر: کافی صبر والا لگتا ہے
حاجی صاحب: او نہیں جی۔۔ صبر والا نہیں ہے۔۔ بس حرام کھانے کی عادت ہی اتنی ہوگئی ہے اسے کہ اب حلال کے لئے کوشش ہی نہیں کرتا
اینکر: حاجی صاحب! آپ کی باتوں سے تو ایک سوال پیدا ہوگیا ہے۔۔۔ کیا عید قربان پر اس کی قربانی جائز بھی ہے؟
حاجی صاحب: نا کیوں جائز نہیں ہے۔جب پورا سال اس کی قربانی دی جاسکتی ہے تو عید قربان پر کیوں نہیں دی جاسکتی۔۔ بلکہ عید پر قربان کرنے سے تو زیادہ ثواب ملتا ہے۔
اینکر: وہ تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی آپ کسی مولانا سے فتوی وغیرہ پوچھ لیں۔۔ ہوسکتا ہے کہ۔۔
حاجی صاحب: ناجی نا مولانا فتوی نہیں دے سکتا ہے اس کی قربانی کے بارے میں۔۔
اینکر: کیوں نہیں دے سکتا؟
حاجی: کیونکہ اس کی کھال اسی کے مدرسے میں تو جانی ہے۔۔ ویسے بھی جب میں نے کہا کہ پورا سال اس کی قربانی دی جاتی ہے تو یہ ہم سیاستدان تھوڑی ہیں جو اسے قربان کرتے رہتے ہیں۔۔ ہمارے ساتھ اور بہت سے سرمایہ داروں کے علاوہ مولوی صاحبان بھی تو ہیں جو اس عوام کی قربانی کا گوشت بڑے شوق سے تناول کرتے ہیں
اینکر: ہممم بات تو آپ کی درست ہے۔۔ کیا ہم آپ کی اجازت
سے اس سے ایک سوال کر سکتے ہیں؟
حاجی صاحب: ہاں جی کیوں نہیں۔۔ جو پوچھنا ہے پوچھو اس سے۔
اینکر: (عوام سے) : آپ کو قربان کیا جاتا رہا ہے اور کیا جارہا ہے۔۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ کہیں گے
عوام: (اثبات میں سر ہلا کر۔۔سرگوشی کے انداز میں)۔۔
میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں۔۔ کہ چھری تیز اور بوٹی چھوٹی رکھنا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: