کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

1
  • 224
    Shares

مابعد جدید دنیا میں کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا

آج سلیم احمد کی برسی پر دانش کے قارئین کے لئے تحفہ خاص۔  تحریر: عزیز ابن الحسن


ایک دفعہ سلیم احمد نے کسی انٹرویو میں کہہ دیا کہ ان کی تنقید کے مقابلے میں ان کی شاعری ان کا کمزور بچہ ہے۔ لہٰذا انہیں زیادہ عزیز ہے۔ مخالفوں نے شور مچایا کہ لو اب خود ہی مان گیے کہ ان کی شاعری کمزور ہے۔ اس پر سلیم احمد نے کمال فقرہ کہا: ’’میری شاعری میرا کمزور بچہ ہے مگر یاد رہے کہ یہ ہاتھی کا بچہ ہے اس پر چوہوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

سلیم احمد کی بہت سی جہتیں تھیں ڈرامہ نگاری، فلم نگاری، کالم نگاری، اسکپرٹ رائٹنگ وغیرہ۔ مگر ان کی دو جہتیں باقی جہات پر چھا گئیں، شاعر سلیم احمد اور نقاد سلیم احمد۔ پڑھنے والوں نے اپنے اپنے حسابوں ان کی تنقید یا شاعری پر کمزور بچے کا لیبل لگا رکھا ہے۔ آج شاعر اور نقاد کاہمارے ہاں جو مفہوم ہے، حقیقت یہ ہے کہ سلیم احمد ان دونوں سے بہت آگے تھے۔ ہم جس پہلو پر بھی بات کریں پورا سلیم احمد ہاتھ نہیں آتا۔ آج کے ادبی شعور کے پاس جو سلیم احمد ہے وہ ادھورا ہے اور ادھوری چیزوں سے سلیم احمدکو چڑ تھی۔ یہ ادھورا پن اتھلے پن سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی چیزوں کے ظاہر کو دیکھنا مگر ان کی تہہ میں موجود کلیت کو چھوڑ دینا۔ اجزائی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر جسم، ذہن، عقل، نفس یا پیٹ ہی کو کل انسانی حقیقت سمجھ کر فکر و فلسفہ کے محلات بنا دینا۔ اور اس کے فوق و تحت میں موجود اصلِ واحد سے صرف نظر کر لینا۔ اسے سلیم احمد ’’کسری آدمی کا سفر‘‘ کہتے ہیں۔ (۱)

اپنے ایک ابتدائی مضمون میں سلیم احمد نے اپنے چونکا دینے والے انداز میں اس کا ایک معیار قایم کر دیا تھا ’’ پورا آدمی‘‘ : ’’عورت کی طرح شاعری بھی پورا آدمی مانگتی ہے‘‘۔ (۲) کہنے کو تو سلیم احمد نے یہ معیار شاعری کے لیے قائم کیا تھا مگر حقیقت میں ان کے نزدیک یہ معیار ہر تخلیقی سرگرمی، ہر تہذیبی مظہر، ہر مذہبی واردات بلکہ کل ز ندگی کو پرکھنے کے لیے ضروری تھا۔ یعنی کوئی انسانی سرگرمی انسان کی تعریف وضع کرتے ہوئے کل حقیقت کے لمس آشنا ہوتی ہے کہ نہیں۔ سلیم احمد کے تمام کام  کو اگر یکجا کر کے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے گردوپیش کی زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے اندر ایک بھینگے پن کا احساس تھا جس کی وجہ سے اس کے رویوں اور فکر میںدراڑ آگئی ہے۔ سلیم احمد کی لڑائی اس کمی اور ادھورے پن سے تھی جس کا نمائندہ اس کے نزدیکـ’’ کسری آدمی‘‘ تھا۔

ان کی تنقید و شاعری اسی کسریت کے تجزیئے اور اس کی اسباب تلاش کرکے مکمل آدمی (۳) کا کھویا ہوا آدرش پانے سے عبارت تھی۔ انگریزی میں جس طرح ٹی ایس ایلیٹ کی تنقید اور شاعری ایک دوسرے کا پرتو ہیں اسی طرح اردو میں سلیم احمد کی تنقید اور شاعری ایک دوسرے کا کامل عکس اور تکملہ ہیں۔ آپ کسی طرف سے آئیں ٹھیک ہے، بشرطیکہ کہ آپ سلیم احمد کے اس بنیادی مسئلہ کو پا لیں۔ ورنہ یقین جانیں آپ سلیم احمد کی تنقید کے چٹخارے دار جملوں اور شاعری میں اینٹی غزل کے تجربوں سے تو آشنا ہوں گے سلیم احمد سے نہیں۔ سلیم احمد کو ادب و زندگی میں جس کلیت کی تلاش تھی، ہمارے نئے ادبی شعور میں اس کا احساس بہت کم پایا جاتا ہے۔ گنتی کے چند ناموں اور رویوں کو چھوڑ کر ہمارا ادبی شعور زندگی کی اس کلی وحدت کی ضرورت سے نہ صرف بیگانہ ہے بلکہ اس کی طرف ایک معاندانہ رویہ رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ سلیم احمد کو ہمارے نقادوں نے ٹکروں میں بانٹ کر دیکھا ہے۔ کسی کے نزدیک وہ شاعر اچھے تھے اور کسی کے نزدیک نقاد، مگر ان کی تنقید اور شاعری زندگی کے جس مرکز کی متلاشی تھی ہماری عمومی ادبی فکر میں چونکہ اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اس لیے سلیم احمد کے کام کو بہت کم سمجھا گیا ہے۔

سلیم احمد کی تنقید کے یوں تو کئی اہداف تھے مگر ان کی اصل لڑائی جدیدیت سے تھی بلکہ ادھوری جدیدیت(۴) سے۔ باقی رہا ترقی پسندی اور گروہوں میں بٹی اسلام پسندی اس سے ان کا اختلاف، تووہ بھی جدیدیت ہی کی بنیاد پر تھا۔ ترقی پسند انہیں جدیدیت پرست اور اسلام پسند قرار دیتے تھے۔ جدیدیت والے انہیں ترقی پسندوں کی طرح ادبی جمالیات اور فنی اقدار پر نظرئیے کو ہاوی کرکے آزاد تخلیقی وفور کو خطرے میں ڈالنے والا کہتے تھے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ ترقی پسندوں کے اشتراکی خیالات کے برعکس سلیم احمد کے ہاں اسلامی اقدار کا نظریہ ہاوی تھا۔ اور طرفہ تماشا یہ کہ اسلامی ادب والے بھی سلیم احمد کو رد کرتے تھے کیونکہ سلیم احمد ان کی طرح ادب کا وظیفہ مذہبی اموامر و نواہی کی تبلیغ نہیں سمجھتے تھے۔ یوں ادبی محاذ پر سلیم احمد اکیلے ہی چومکھی لڑتے تھے۔ ان کی پشت پر اگر کوئی تھا تو صرف ایک کوہ ہمالیہ: یعنی محمد حسن عسکری۔

تو سوال ہے کہ سلیم احمد کے ہاں جدیدیت بلکہ ادھوری جدیدیت کا کیا مفہوم ہے اور اس نے کس کس طرح ہمارے تہذیبی، ادبی اور حتیٰ کہ مذہبی وجود کو متاثر کرکے ان سب کو ٹکروں میں بانٹ کر رکھا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ عقل جو اپنی نہاد میں تالیفی نہیں تحلیلی ہوتی ہے، اس نے مکمل انسان کو عقلی آدمی، جبلی آدمی معاشی آدمی، نفسی اور روحانی آدمی کے اجزا میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہی جدیدیت کا طریق کار ہے۔ جدیدیت اور ادھوری جدیدیت میں سلیم احمد یہ فرق کرتے تھے کہ جدیدیت جہاں کل حقیقت کا انکار کرکے اپنے تجربے میں آنے والی اجزائی حقیقت کا اثبات کرتی ہے وہاں ادھوری جدیدیت محض انکار کی اسیر ہو جاتی ہے اور اثبات کی منزل پر نہیں پہنچ پاتی۔ (۵)

سلیم احمد جدیدیت کے نقاد تھے۔ سوال ہے کہ آج جبکہ فکر کی دنیا میں جدیدیت کے عظیم الشان روشن خیالی کے پراجیکٹ کے خاتمے کا نقارہ بج چکا ہے، (۶) آج سلیم احمد کی معنویت کیا ہے۔ آج کی مغربی فکر کی غالب آواز یہی ہے کہ اب ہم ماڈرن نہیں رہے، اب ہم پوسٹ ماڈرن ہوچکے ہیں۔ جدیدیت کے اختتام کی خبریں سنانے والوں میں بہت سے اختلاف ہیں مگر جدیدیت کا پر شکوہ محل جس بنیاد پر کھڑا تھا اس کے تعین اور اس کی بنیادی اینٹ کو اکھاڑ پھینکنے میں یہ سب متفق ہیں۔ جدیدیت کا مدارالمہام عنصر عقل (Reason) ہے، صرف و محض عقل۔ (۷) جدیدیت کے عقلی دور کے آغاز کے ساتھ ہی خدا، ایمان، مذہب اور مافوق الفطرت سے ہم آہنگی کا دور قصہ ماضی ہوگیا۔ اس کے بعد مغربی فکر کی تین چار صدیاں عقل کی فیصلہ کن برتری کی داستان ہیں۔ یہی روشن خیال منصوبہ تھا، اسی سے سائنس ممکن ہو ئی۔ اسی سے فرد کی آزادی اور حریت کا آغاز ہوا۔ جاگیرداری اور بادشاہت کا خاتمہ ہوا، امریکہ اور فرانس میں انقلاب آیا، لبرل جمہوریت کا بیج پڑا۔ صنعتی انقلاب نے ذرائع پیداوار بدلے، سمندری سفر کے راستے کھلے، یورپی استعماریت اور نوآبادیات نے پر نکالے۔ جدید میڈیکل سہولتیں پیدا ہوئیں، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور آیا۔ پھرآج پس نوآبادیاتی مطالعات اور اس کی آڑا میں مالیاتی اداروں کی نئی استعماری صورت نے جنم لیا۔ یہ سب جدیدیت کے سیاسی و سماجی اظہارات تھے، لیکن جدیدیت اپنی اصل میں ایک نئے علمی منہاج کا نام تھا: عقل اور اس کی لامتناہی صلاحیت اور حدود پر انسان کا یقین کامل۔ سلیم احمد کے پوری تخلیقی و تنقیدی سفر میں جس’’ کسریت‘‘ کا نہایت شدت سے ذکر ملتا ہے، اس نے اسی عقلیت پسندی( Rationalsion)کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔

جدیدیت یعنی انلائٹنمنٹ پراجیکٹ میں عقل کے پانچ اہم خصائص بتائے گئے تھے :۱۔ یہ ایک انفرادی صلاحیت ہے۔ ۲۔ یہ معروضی طور پر کام کرتی ہے۔ ۳۔ یہ حقیقت کو جاننے کی مکمل طور پر اہل ہے۔ ۴۔ یہ خودمختار ہے۔ ۵۔ اپنی نہاد میں کلی آفاقی ہے۔ (۸)

بیسویں صدی کے نصف اول تک کی ہاوی اینگلو امریکی روایت عقل کی ان پانچ خصوصیت پر متفق رہی ہے۔ مگر جس شے کو Continental Philosophy کہتے ہیں اس میں کانٹ کے تنقیدی منہاج نے عقل کے اس تصور پر ابتدا ہی سے یہ کہہ کر سوالیہ نشان لگا دیا تھا کہ عقل صرف چیزوں کے ظاہر(Phenomenon)کو جان سکتی ہے۔ باطنی حقیقت (Noumenon) کو نہیں۔ گویا عقلیت کی سب سے بنیادی خصوصیت، معروضیت، کو کانٹ نے چیلنج کر دیا تھا۔ اور عقل کی باقی چار خصوصیت کو ہیگل، نطشے اور ہائیڈگر نے یہ کہہ کر معرض خطر میں ڈال دیا کہ ارسطو نے عقل اور منطق کے تضاد سے پاک ہونے کے جو اصول اسکول ماسٹروں کے لیے بنائے تھے وہ اس لیے تھے کہ وہ بچوں کو خطائے فکری سے محفوظ رہنے کے طریقے سکھائیں۔ انہیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ (۹) یہ سب باتیں فلسفیوں کے کام کی نہیں ہے۔ فکر انسانی تو چلتی ہی تضاد اور جدل کے اصول پر ہے۔ ہیگل اور ہائیڈگر کے بیچ میں سب سے بڑا عقل مخالف فلسفی نطشے ہے۔ جو بیسویں صدی کے نصف اول کے بعد کے تمام مابعد جدید مفکروں کا متفق علیہ امام ہے۔ ان سب نے مل ملا کر عقل کو اس بلند والا ایوان سے نکال باہر کیا ہے، جہاں انلائٹنمنٹ کے فلسفیوں نے اسے بٹھایا تھا۔ ان مابعد جدید مفکرین کے چار اہم ترین نام مشیل فوکو، لیوتار، رچڑ رورٹی اور دریدا ہیں۔ یہ سب لوگ بہت سے باہمی اختلاف کے باوجود عقل کی معروضیت، اہلیت، خودمختاری، کلیت اور انفرادی صلاحیت ہونے کے یکساں طور پر انکاری ہیں۔ فوکو عقل، حق اور علم کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کی بات کرنا قطعاً بے معنی ہیں۔ اور یہ کہ’’عقل پاگل پن کی حتمی زبان ہے‘‘۔ (۱۰) ما بعد جدیددانشورو ں کا کہنا ہے کہ انلائٹنمنٹ پراجیکٹ کے خوش کن نعرے عقل، ترقی، جمہوریت، حریت، مساوات سب کے سب فریب ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ تہذیب کی رومانی خطابت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ عقل، علم اور اقتدار کی ملی بھگت ہے جس کے ذریعے لبرل جمہوری نظام نے باقی دنیا کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دو بہت بڑے پوسٹ ماڈرن نظریہ ساز لیوتار اور بودریلا دونوں امریکہ عراق جنگ کے شدید مخالفت اور اسے امریکہ کا ایک خود ساختہ منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ (۱۱)گذشتہ دو صدیوں کے غالب انفرادی اور اجتماعی فلسفے مارکسیت اور فرائیڈیت، جس نے ہمارے ہاں ترقی پسندی اور ایک مخصوص ادبی جدیدیت کی صورت اختیار کی، یہ بھی اسی انلاٹنمنٹ پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ ان سب کو اب مہا بیانے قرار دے کر رد کیا گیا ہے۔

تو پھر آج جبکہ کہ جدیدیت قصہ پارینہ بن چکی ہے کیا اب سلیم احمد کی ادبی و فکری معنویت بھی ختم ہوچکی ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ جب ہم جدیدیت کی جگہ لینے والی مابعد جدیدیت کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلیم احمد نظریوں کی جس کسریت اور یک رخے پن کے خلاف لڑتے رہے تھے وہ آج پس جدیدیت میں اسی طرح موجود ہے۔ عقل پرستی کی کئی صدیوں کے استبداد کے رد عمل میں مابعد جدید مفکرین نے عقل کے اقتدار کو چیلنج کرنے کے بعد کسی متوازن اور مستحکم طرز زندگی کا اثبات بالکل نہیں کیا۔ بلکہ انتشار، منفیت اور انکار کو اکیسویں صدی کا ہاوی ڈسکورس بنا کر پیش کیا ہے۔ باطن میں انسانی جوہر کا انکار اور خارج میں ریاست سمیت تمام اجتماعی اداروں اور حقیقت کے معروضی وجود کا استراد مابعد جدید مفکروں کا مشترک موقف ہے۔ انسانی جوہر، حق، سچ، علم، اقدار اور اخلاق جیسی عظیم انسانی وراثت اب تشکیک کی زد پر ہے۔ اس کا انکار کرنے والی بیسویں صدی کی اس غالب فکر کو Rick Roderik نے Self Under siegeکا عنوان دیا ہے۔ (۱۲)

پس جدیدیت مابعد الطبعیاتی طور پر اینٹی ریلسٹ ہے۔ یہ خارج میں کسی معروضی حقیقت کے اثبات کو بے معنی جانتی ہے۔ اس کے بجائے ایک سماجی لسانی ساختے کی تشکیل کی بات کرتی ہے۔ اور علمیاتی طور پر یہ Anti Rationalہے۔ اس کے نزدیک معروضی حقیقت اول تو ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی تو عقل یا کسی انسانی صلاحیت سے اسے جاننا ناممکن ہے۔ غور کیا جائے تو یہاں جدیدیت ہی کا ایک انداز کارفرما ہے۔ جدیدیت میں عقل کو کل مان کر باقی ہر شے کا انکار کیا گیاتھا۔ پس جدیدیت نے عقل سمیت ہر شے کو رد کرکے سماجی لسانی ساختے کی تشکیل کردہ ہنگامی و مقامی حقیقتوں کے سیال بے چہرہ تصور کو کل حقیقت کی جگہ دے دی۔ یہی کسری آدمی کا المیہ ہے۔ ماڈرن ازم میں اس نے جز کو کل بنایا۔ اور پس جدیدیت میں جز (عقل) کے ساتھ ساتھ کل ( معروضی حقیقت) کو بھی رد کر دیا۔

سوال ہے کہ کیا سلیم احمد کے ہاں اس مابعد جدید کسریت کا بھی کوئی علاج بھی ہے؟ جی ہاں، جس کی تفصیل تو بہت ہے مگر مختصراً بات یہ ہے کہ اپنے زمانے میں امام غزالی نے جو حل پیش کیا تھا وہی حل سلیم احمد کے ہاں بھی ہے۔ یعنی عقل کا اپنی حدود کے اندر اثبات کیا جائے(۱۳) مگر اسے اس سے بڑے حقائق کا ادراک کرنے والی کسی صلاحیت کے تابع رکھا جائے۔ جبکہ مابعد جدید مفکروں نے یہ کیا کہ انسانی سرگرمیوں کے مناسب رہنما کے طور پر عقل کو سرے سے نااہل جان کر رہنمائی کا فریضہ صرف احساس، جذبے جبلت اور ذاتی خواہش کے سپرد کر دیا ہے۔ (مابعد جدیدیت کا عقل کے بارے میں جو موقف ہے اور اس میں جو کمزوریاں ہیں انہیں امام غزالی کی المنقذمن الضلال کی روشنی میں رفع کیا جانا چاہیے)۔

یہاں سلیم احمد کا ایک مزاحیہ رنگ کا شعر مجھے بہت بر محل نظر آتا ہے۔ جس میں وجود کے حفظ مراتب کا حد درجہ ادراک اور احترام ملحوظ رکھتے ہوئے عقل کو ایک مناسب حال مشورہ دیا گیا ہے۔

نہ بولے عقل کچھ باتوں پہ دل کی
کہ حضرت عمر میں اس سے بڑے ہیں

اقبال نے بھی انہی معنی میں پاسبان عقل کو ہمیشہ دل کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ

عاشق عبث بدنام ہے ناصح عبث بدنام
دل کا اپنا کام ہے گردے کا اپنا کام

مگریقین جانیے پس جدیدیت نے تو عقل کو گردے جتنی اہمیت بھی نہیں دی۔

لیکن ’’اپنی حدود کے اندر کارآمد عقل‘‘ کا یہی وہ موقف ہے جس پر امام غزالی، اقبال اور سلیم احمد متفق ہیں۔

کلیت کے شعورپر مبنی کھوئی ہوئی اکائی کی تلاش کا یہ کام سلیم احمد اردو کی ایسی ادبی فضا کے اندر کر رہے تھے جب ان کے چاروں طرف جدیدیت کا گھمسان تھا : کبھی اشتراکی نظریات کی صورت میں، کبھی ادبی جمالیات کے نام پر اور کبھی مذہب کی عقلی تعبیرات کے نام پر۔ سلیم احمد کی آخری دنوں کی شاعری اور حریت اخبار میں چھپنے والے ان کے آخری دونوں کے کالموں کا ایک عجیب رنگ ہے جہاں ایک بے بس آدمی کی مجنونانہ بھاگ دوڑ نظر آتی ہے جس کے چاروں طرف دشمن آگ برسا رہا ہے، مگر اس آگ کی زد میں آنے والے اس سے بالکل بے خبر ہیں بلکہ کسی پکارنے والے کی آواز پر دھیان بھی نہیں دے رہے۔ سلیم احمد کے ستمبر ۱۹۸۲ء کے دو کالموں کے دو چھوٹے چھوٹے اقتباسات دیکھئے:

’’اور کبھی کبھی میں اپنی تنہائیوں میں خود سے کہتا ہوں:’’اندھوں کے شہر میں آنکھوں کا عذاب کون برداشت کر سکتا ہے۔ ’’دیکھنا‘‘ کبھی ایک رحمت تھا۔ میرے لیے وہ ایک لعنت بن گیا ہے۔ یہ کیسا وقت ہے کہ پتھروں کے درمیان اگر کوئی آدمی زندہ بھی تھا تو اب وہ پتھر بن جانے کی دعائیں مانگ رہا ہے کیونکہ پتھر کو کم ازکم کوئی اذیت تو نہیں ہوتی۔ کبھی میں اپنی اذیتوں کو اپنی زندگی کا نشان سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ چونکہ میں تکلیف میں ہوں اس لیے زندہ ہوں لیکن اس تکلیف سے کیا فائدہ جو ایک گونگے کرب کے سوا اپنے ہونے کا کوئی ثبوت نہ دے سکے۔ ‘‘

’’اے لوگو! میں تمہیں انتشار کی بشارت دیتا ہوں۔ یہ لفظ میں تمہاری لوح تقدیر پہ لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اور تمہارے شہر اور تمہاری بستیاں اور تمہاری اونچی اونچی بلڈنگیں اور تمہارے چمکتے دمکتے بینک اور تمہاری تفریح گاہیں اور تمہارے شبستان سب انتشار کی آندھیوں میں اڑنے والے ہیں۔ ۔ ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی ساری بے حسی اور شقاوت کے ساتھ خزاں کے زرد پتوں کی طرح تیز ہوائوں میں اڑ رہے ہو اور تمہارے گھروں کی بنیادوں اور دیواروں میں بگولے رقص کر رہے ہیں۔ میں خدا سے ایک ایسی آواز چاہتا ہوں جو انتشار کی زبان بول سکے۔ ہمارا وجود اب صرف انتشار ہی کی زبان سمجھ سکتا ہے‘‘۔ (۱۴)

یاد رہے کہ یہ ۱۹۸۲ء کے کالم ہیں۔ آج پاکستان اور خصوصاً کراچی کے حالات کے پس منظر میں یہ باتیں عبرانی پیغمبروں کے نوحوں اور پیش گوئیوں کا آہنگ لیے نظر آتی ہیں۔

اس صورت حال کا پورا تخلیقی اظہار تو ان کی طویل نامکمل نظم ’’مشرق‘‘ میں ہوا ہے۔ جس کا آغاز ایک ڈرامائی کیفیت کے ساتھ اپنے اندر صدیوں کا دکھ سمیٹے ہوئے:

کپلنگ نے کہا تھا:
’’مشرق، مشرق ہے
اور مغرب مغرب ہے
اور دونوں کا ملنا ناممکن ہے‘‘
لیکن مغرب، مشرق کے گھر آنگن میں آپہونچا ہے
میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں
میرا نوکر بی بی سی سے خبریں سنتا ہے
میں بیدل اور حافظ کے بجائے
شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں
اخباروں میں
مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ہیں
مجھ کو چگی داڑھی والے اکبر کی کھسیانی ہنسی پر
رحم آتا ہے
اقبال کی باتیں (گستانی ہوتی ہے)
مجذوب کی بڑہیں
وارث شاہ اور بلھے شاہ اور بابا فرید؟
چلئے جانے دیجے ان باتوں میں کیا رکھا ہے
مشرق ہار گیا ہے!
یہ بکسر اور پلاسی کی ہار نہیں ہے
ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگ آزادی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگ آزادی کی ہار نہیں ہے
ایسی ہار تو جیتی جاسکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)
لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے

قبلا خاں تم ہار گئے ہو!
اور تہمارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکو پولو
جیت گیا ہے
اکبر اعظم! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے
اور بڑا بھائی لکھا تھا
اُس کے کتے بھی اُن لوگوں سے افضل ہیں
جو تمہیں مہا بلی اور ظل اللہ کہا کرتے تھے

مشرق کیا تھا؟
جسم سے اوپر اٹھنے کی اک خواہش تھی
شہوت اور جبلت کی تاریکی میں
اک دیا جلانے کی کوشش تھی!
میں سوچ رہا ہوں، سورج مشرق سے نکلا تھا
(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)
لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے

’’میں ہار گیا ہوں‘‘
میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
’’میں ہار گیا ہوں‘‘
میں نے اپنے آئینے پر کالک مل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر ایک ایسا گہرا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کے لیے صدیاں بھی ناکافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں

مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے ایک غصہ دے دو
ایسی نفرت، ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں
میں بھی!!!

مگر چراغ نیم شب کی غزلوں میں اس کا عکس زیادہ شعری تجربے کے ساتھ آیا۔

غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں

یا پھر تیز ہوا کے شور والی غزل

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں
مجھ سے سنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں

کشتیوں والے بے خبر بڑھتے رہے بھنور کی سمت
اور میں چیختا رہا تیز ہوا کے شور میں

میری زبانِ آتشیں لو تھی مرے چراغ کی
میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

ان کا ایک عجیب شعر یوں ہے:

محلے والے میرے کار بے مصروف پہ ہنستے ہیں
میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

افسوس ہے کہ مابعد کی اردو تنقید نے سلیم احمد کو واقعی غبارے بنانے والا سمجھا ہے۔ (۱۵)


حواشی

۱۔            سلیم احمد، ’’کسری آدمی کا سفر‘‘، مشمولہ  نئی نظم اور پورا آدمی، کراچی، نفیس اکیڈمی، کراچی۱۹۸۹ء، ص ۹۹

۲۔            سلیم احمد، مشمولہ  نئی نظم اور پورا آدمی، کراچی، نفیس اکیڈمی، کراچی۱۹۸۹ء، ص ۱۷۔ اسی سے ملتی جلتی بات ان کے مضمون ’’جدید غزل‘‘ میں بھی ہے دیکھئے: سلیم احمد، ادھوری جدیدیت، لکھنو، مکتبہ دین و ادب، ۱۹۸۷ء، ص ۲۵، و مضامین سلیم احمد، مرتبہ جمال پانی پتی، اکادمی بازیافت، کراچی، ۲۰۰۹ء

۳۔            یوں تو سلیم احمد کا سارا تنقیدی سفر اس پر گواہ ہے مگر’’ پورا آدمی‘‘ کے تصور کا آغاز ان کے مضمون ’’نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ سے ہوتا ہے۔ سلیم احمد، نئی نظم اور پورا آدمی، کراچی، نفیس اکیڈمی، کراچی۱۹۸۹ء

۴۔            سلیم احمد کے ہاں جدیدیت کی تنقید تو ان کی ہر تحریر میں ہے مگر انہوں نے ادھوری جدیدیت کو جدیدیت سے جدا اپنے مضمون ’’ادھوری جدیدیت‘‘ میں کیا ہے۔ سلیم احمد، ادھوری جدیدیت، لکھنو، مکتبہ دین و ادب، ۱۹۸۷ء، ص ۱۷، و مضامین سلیم احمد، مرتبہ جمال پانی پتی، اکادمی بازیافت، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۶۹

۵۔            دیکھئے: محولہ بالا حاشیہ

۶۔            اس موضوع پر بے شمار کتابیں آچکی ہیں مگر نمونے کے لیے ملاحظہ ہو:

Smith, Huston, Beyond The post Modern Mind, Lahore, Suhail Academy, 2001

Hicks, Stephen R. C., Postmodernism-Skepticism and Socialism from Rousseau to Foucault. Scholargy Publishing, Tempe, Arizona and New Berlin/Milwaukee, Wisconsin, 2004

  1. Hicks, Stephen R. C., Postmodernism-Skepticism and Socialism from Rousseau to Foucault. Scholargy Publishing, Tempe, Arizona and New Berlin/Milwaukee, Wisconsin, 2004, p 9.
  2. Hicks, Stephen R. C., Postmodernism-Skepticism and Socialism from Rousseau to Foucault. Scholargy Publishing, Tempe, Arizona and New Berlin/Milwaukee, Wisconsin, 2004, p 30 ff.

۹۔            ہیگل، نٹشے اور ہائیڈگر کے اس موقع کے تجزیے کے لیے دیکھئے: محولہ بالا ص ۲۷ و بعد

  1. Foucault, Michel., Madness and Civilization. Translated by Richard Howard. Random, 1965, p 95
  2. Lyotard, Jean-François, Postmodern Fables, University of Minnesota Press, 1997, pp 47-75
  3. Roderick, Rick, The Self Under Siege: Philosophy in the 20th Century, (1993) http://rickroderick.org/300-guide-the-self-under-siege-1993/ [19-Sep-13 7:44:08 AM]

۱۳۔         دیکھئے: غزالی، المنقذمن الضلال، تلاش حق (اردو ترجمہ) از ڈاکٹر خالد حسن قادری، پہلا باب ’’اسبابِ استدلال باطل‘‘، علماء اکیڈمی، لاہور ۱۹۸۴ء، خصوصاً ص

۱۴۔         طاہر مسعود نے سلیم احمد کی کالم نگاری کی انفرادیت اور ان کالموں میں موجود کرب کا جائزہ اپنے مضمون ’’اردو کالم نگاری اور سلیم احمد‘‘ میں لیا ہے۔ یہ دونوں اقتباسات اسی سے لیے گئے ہیں۔ دیکھئے: روایت نمبر۳، بیاد سلیم احمد، مرتبین محمد سہیل عمر، جمال پانی پتی، مکتبہ روایت، لاہور، ۱۹۸۶ء، ص ۴۲۴

۱۵۔         یہ تمام اشعار سلیم احمد کے آخری شعری مجموعے چراغ نیم شب سے ہیں۔ خوش قسمتی سے سلیم احمد کی نظم ’’مشرق ہار گیا‘‘ اور محولہ بالا اکثر غزلیں وڈیوں کی صورت میں یو ٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔


سلیم احمد کی ایک تحریر یہاں ملاحظہ کریں       سلیم احمد کی ایک اور لازوال تحریر یہاں ملاحظہ کریں

سلیم احمد کا شخصی خاکہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت عمدہ مضمون ہے۔اردو میں سلیم احمد کی طرح بہت کم لوگ ہیں جنھوں نے اعلی درجے کی تنقید لکھنے کے ساتھ ساتھ خوب صورت شاعری بھی کی ہو۔مادیت پرستانہ نظام میں فرد کا بکھراو ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔سلیم احمد کی شاعری کے بنیادی میلانات میں ایک اہم میلان فرد کی داخلی زندگی کو یکجا کرنے سے عبارت ہے۔

    تو سکوں سے تھک گیا ہے اور بیتابی سے میں
    شوق ہے تجھ کو سفر کا اور مجھ کو گھر کا ہے

    میں تم یہ رات ہائے کوئی جاویداں نہیں
    جلدی سلیم پیار کرو لفظ مت گنواو

Leave A Reply

%d bloggers like this: